نام کتاب : چھوٹے صوبے
مصنف : ڈاکٹر الطاف بشیر ویلمی
پاکستان میں انتظامی مسئلہ ہمیشہ زیر بحث رہا ہے،اس پر مختلف آرا آتی رہی ہیں ،ڈاکٹر الطاف بشیر ویلمی پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں ،وہ سندھ میڈیکل کالج کی طلبہ یونین کے صدر بھی رہے ہیں ،انہوں نے پاکستان کے انتظامی مسائل کاحل پیش کرنے کی کوشش کی ہے،اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ
پاکستان کے موجودہ 4 صوبے اپنے رقبے اور آبادی کے لحاظ سے بہت بڑے ہیں۔ پنجاب (UP کے بعد) آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ اتنے بڑے صوبے کا انتظام صحیح طور پر چلانا ممکن نہیں۔ اس لیے میں نے اپنی کتاب ”چھوٹے صوبے“ میں تجویز کیا ہے کہ پاکستان میں صوبوں کی تعداد 4 سے بڑھا کر 21 کردی جائے۔
انہوں نے جائزہ پیش کیا ہے کہ بلوچستان کا رقبہ پاکستان کے رقبے کا 40 فیصد ہے۔ دشوار گزار پہاڑوں پر مشتمل اتنا بڑا صوبہ، ایک انتظامی یونٹ کے طور پر چلانا ممکن نہیں۔ اس لیے کتاب ”چھوٹے صوبے“ میں مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان میں 4 نئے انتظامی یونٹ تشکیل دیے جائیں۔
اسی طرح 200 سے زیادہ ممالک میں صرف چند ایسے ممالک ہیں جن کی آبادی ہمارے صوبہ پنجاب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے یہ موازنہ صوبوں سے نہیں بلکہ ملکوں کی آبادی سے کیا ہے۔ مثلاً
INDIA, CHINA, USA, INDONESIA, BRAZIL, BANGLADESH, JAPAN, RUSSIA, NIGERIA, MEXICO
سے۔ اس لیے اپنی کتاب ”چھوٹے صوبے“ میں تجویز دی ہے کہ خطے میں 10 نئے صوبے تشکیل دیے جائیں۔ ڈاکٹر الطاف بشیر ویلمی کا کہنا ہے کہ آزادی کے وقت انڈیا میں 14 صوبے اور پاکستان میں 4 صوبے تھے، انڈیا میں اس وقت 28 صوبے اور 8 یونین ٹیرٹیریز ہیں۔ جبکہ پاکستان اس کے برخلاف، اس معاملے میں جمود کا شکار ہے۔ لہٰذا ہمارا مطالبہ ہے کہ وقت کے تقاضوں کے پیش نظر پاکستان میں 21 نئے صوبے تشکیل دیے جائیں۔ ہماری کتاب ”چھوٹے صوبے“ میں اسی موضوع پر سیر حاصل دلائل دیے گئے ہیں۔
انڈیا میں رقبہ آبادی، جغرافیہ اور عوامی اُمنگوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے صوبے تشکیل دیے گئے ہیں۔
انڈیا میں صوبوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ
28+سے50
انڈیا میں انتظامی ضروریات اور عوامی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے صوبوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ کیا جاتا رہا ہے۔ آزادی کے وقت صوبوں کی تعداد 14 تھی جو بڑھ کر 28+8 ہوگئی ہے۔
نئی تجاویز کے مطابق مستقبل قریب میں نئے صوبوں کی تعداد 50 سے تجاوز کرسکتی ہے، جبکہ ہماری سوئی 4 صوبوں پر اٹکی ہوئی ہے۔ اس لیے ہم نے اپنی نئی تصنیف ”چھوٹے صوبے“ میں تجویز دی ہے کہ پاکستان میں 21 نئے صوبے تشکیل دیے جائیں”۔
ڈاکٹر الطاف بشیر کی کتاب اس موضوع پر ایک اچھا اضافہ ہے، اس موضوع کے ہر پہلو پر سنجیدگی سے تبادلہ خیال کی ضرورت ہے۔
تبصرہ کتب: 4 سے 21 صوبے
















