اُسے روک دو، ظلم جو بھی کرے
اُسے ٹوک دو، جو بھی خائِن بنے
دعا بھی کرو تاکہ رب سے ڈرے
نصیحت میں حکمت سے تم کام لو
بدل دو نظام اب مِرے ساتھیو
دیانت کا آغاز اوپر سے ہو
بھلائی شروع اعلیٰ افسر سے ہو
ہر اقدام اللہ کے ڈر سے ہو
ہمیشہ اُسی کے غضب سے ڈرو
بدل دو نظام اب مِرے ساتھیو
نہیں بُھوکا سوئے کوئی رات کو
ہمیشہ سُنا جائے حاجات کو
نہ دو فوقیت تم کسی ذات کو
جو ہو متقی تر، معزز وہ ہو
بدل دو نظام اب مِرے ساتھیو
نہ دے اب کسی کو بھی دھوکا کوئی
نہ ہو اب کسی سے بھی بالا کوئی
چلے اب نہ قانون بے جا کوئی
ملے عدل و انصاف ہر ایک کو
بدل دو نظام اب مِرے ساتھیو
کوئی حق نہ مارے کسی کا کبھی
نہیں ہو فرائض سے پہلو تہی
رہیں سب ہی رشوت سے اب دُور ہی
دیانت سے ہر کام بر وقت ہو
بدل دو نظام اب مِرے ساتھیو
تعصب سے دل کو کرو پاک تم
جو نفرت ہو، اس کو کرو چاک تم
ہو تم عبد، کرلو یہ اِدراک تم
تو پھر عبد ہونے کو ثابت کرو
بدل دو نظام اب مِرے ساتھیو
بدل دو بُری اپنی عادات کو
ہر اک سمت پھیلاؤ حسنات کو
بہت اہمیت دے دو خدمات کو
خلوص و محبت سے مِل کے رہو
بدل دو نظام اب مِرے ساتھیو
ہو خوش حال یہ ملک، پُھولے پَھلے
کہَیں ہم کہ ہم پر کبھی قرض تھے
سدا اِس پہ اللہ کی رحمت رہے
ہر اک شر سے ہر پَل یہ محفوظ ہو
بدل دو نظام اب مِرے ساتھیو
















