Advertisement

جزیرہ عرب کے قدیم ترین آثار قدیمہ کی تبوک میں دریافت

تبوک کا منطقہ تاریخ میں عرصہ دراز سے اہمیت کا حامل رہا ہے۔ ہزاروں سال کے عرصے پر محیط مختلف ادوار میں بے شمار انبیا کے آثار یہاں پائے جاتے ہیں۔ 2025 میں تبوک کے شمال مغرب کی جانب ایسے آثار قدیمہ پائے گئے ہیں جن کے بارے میں دعوی کیا جا رہا ہے کہ یہ خطہ عرب کی قدیم ترین انسانی آبادی تھی۔ اس کا زمانہ 10,500سال سے لے کر 11,000سال پرانا بتایا جا رہا ہے۔ اس کا سلسلہ قدیم تہذیبوں بین النہرین ( موجودہ عراق/ Mesopotamia) ، مشرقی بحرہ روم (شام ، اردن ، لبنان ، فلسطین ، / Levant) اور اناطولیہ (ترکی) سے ملایا جا رہا ہے۔ ان تہذیبوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ وہ مقامات ہیں جہاں قدیم بدوی ثقافت سے شہری رہن سہن نے جنم لیا تھا۔یہ آثار وادی دم میں مسیون (Masiyon) کے مقام پر پائے گئے ہیں۔ اس کے قریبی علاقوں میں کئی دیگر قدیم اشیا بھی اس سے پہلے دریافت ہو چکی ہیں۔
سعودی آثار قدیمہ کمیشن کے تحت یہ کھدائی جاپان کی Kaznazawa یونیورسٹی کی شراکت سے کی گئی ہے جس میں نیوم Neom کی اتھارٹی کا تعاون شامل رہا ہے۔ واضح رہے کہ منطقہ تبوک کا ایک تہائی حصہ سعودی حکومت کی جانب سے نئے تعمیر ہونے والے نیوم میں شامل کیا جا چکا ہے۔ اس دریافت کا اعلان آثار قدیمہ کمیشن کے Antique Center کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عجب العتیبی نے کرتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا کی قدیم بستیوں میں سے ایک ہے۔ یہ دور دس ہزار برس سے پہلے پر مشتمل ہے جو Neolithic Period کہلاتا ہے۔ یہ جگہ 1978 سے آثار قدیمہ کے پاس رجسٹر تھی لیکن 2022 میں کی جانے والی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ یہ خطہ عرب کی قدہم ترین یادگار ہے۔ مئی 2024 تک کھدائی کے 4 دور جاری رکھے گئے۔ اس مقصد کے لئے جیالوجی کی کئی جدید تکنیک استعمال کی گئیں۔ جن میں Stratgegraphic layers . Classifying artefacts. Analysing organic samples شامل تھیں۔ ان معلومات کے ذریعے قطعی طور پر درست تاریخ کا تعین کیا گیا۔ گرینائٹ کی بنی ہوئی نیم دائرے کی عمارات دریافت کی گئیں جن میں رہائشی عمارتیں ، ذخیرہ کرنے کی جگہیں اور شاہراہیں شامل ہیں۔ شکار کرنے کے آثار اور زراعت کے ثبوت بھی موجود ہیں۔ یہاں پائی گئی اشیا میں چاقو ، تیروں کے دھاتی حصے ، زرعی آلات ، اجناس پیسنے کے اوزار ، چکنی مٹی کے برتن ، تزئین و آرائش کی اشیا ، انسانوں اور جانوروں کے ڈھانچے شامل ہیں۔ کچھ پتھروں پر جیومیٹری کے طرز کے نشانات بھی موجود ہیں۔ سعودی کمیشن کے ذمہ داران کے خیال میں ان کے ملک میں انسانوں کی آبادکاری میں اس خطے نے اہم کردار ادا کیا ہو گا۔ دنیا میں انسانی تہذیب کے فروغ میں اس دریافت کی حیثیت کا تعین کرنا بھی ضروری ہے۔
وادی دم تبوک کے شمال مغرب میں واقع ہے اور یہاں پر پتھروں پر کندہ Rock Art کے کئی نمونے ملتے ہیں۔ ان میں گائے اور بتوں کی تصویریں پائی جاتی ہیں جو یہاں پر کسی قدیم تہذیب کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اس جگہ کو Open Air Temple کا درجہ دیا جاتا ہے جہاں لوگ پہاڑوں کے دامن میں کھلے آسمان تلے پر اپنے معبودوں کی پرستش کرتے تھے۔ یہ آرٹ زمین سے 5 میٹر بلندی پر واقع ہے۔ اس راک آرٹ کی قطعی تاریخ کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔ لگتا ہے کہ یہ آرٹ نہایت مہارت اور اس وقت کی جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے بنایا گیا تھا جو ہزاورں سال گزرنے کے باوجود محفوظ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ آرٹ کچھ خراب ہوا ہے لیکن اب بھی مناسب حالت میں موجود ہے۔ وادی دم کی جگہ پر ایک ڈیم بنانے کی تجویز ہے تاکہ وادیوں میں تیز بارشوں سے آنے والے سیلابوں کو روکا جا سکے۔ پہاڑوں سے آنے والا سیلابی ریلا اپنے راستے میں آنے والی ہر شے کو تباہ کر دیتا ہے۔ اس مقصد کے لئے ابتدائی منصوبہ بنا لیا گیا ہے۔
تبوک میں زمانہ
قبل از اسلام کی تہذیبیں
کئی قوموں اور تہذیبوں نے جنم لیا اور اپنے انجام کو پہنچ گئیں۔ ان قوموں کے بے شمار آثار تیما ، البدع اور تبوک کے علاقوں میں ملتے ہیں۔ مدین (Midian) کی تہذیب بارہ صدی قبل مسیح میں موجود تھی۔ اس کا اثرورسوخ تبوک ، تیما اور البدع کے ساحلی علاقوں تک تھا۔ اس کا ذکر قرآن اور بائبل میں ملتا ہے۔ اس دور میں انبیا کی آمد ہوئی۔
ایک اور قوم Edomites کے نام سے تھی جس کی نسبت حضرت یعقوب (ع) کے بھائی اسوء (Esou) کی طرف کی جاتی ہے۔ اس قوم نے اردن اور اسرائیل کے کچھ علاقوں پر حکومت کی۔ ان کا مقابلہ اسرائیلیوں سے رہتا تھا۔ ان کی سلطنت کا نام Edom کہا جاتا ہے۔ ان کا زمانہ چھٹی صدی قبل مسیح سے پہلی صدی قبل مسیح کے درمیان میں تھا۔ اسی عرصے میں درج ذیل تہذیبیں بھی پائی جاتی تھیں۔
دادن تہذیب (Dedanites) کا مرکز العلا کے قریب تھا۔ اس قوم کا ذکر بائبل میں ملتا ہے۔ اس میں کئی نبی بھی پیدا ہوئے۔ ان کی زبان یہودیوں کی عبرانی سے ملتی جلتی تھی۔ یہ زبان تحریر بھی کی جاتی تھی اور اس کے نسخے اب بھی موجود ہیں۔ یہ لوگ زراعت اور تجارت میں ماہر تھے۔ دور دراز کے علاقوں سے ان کے تجارتی روابط قائم تھے۔اس کو لحیان کی تہذیب (Lihyanites) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ نبطی سلطنت تبوک کے علاقوں میں موجود تھی۔ اس کا زمانہ پہلی صدی قبل مسیح تھا۔ اس کے آثار تبوک کے کئی علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ اس کا دور کئی سو سال جاری رہا۔
قریہ کی کھدائی میں
دریافت ہونے والی اشیا
قریہ کے علاقے میں آثار قدیمہ موجود ہیں۔ زمانہ قبل از اسلام کی دس کلومیٹر لمبی دیوار ہے جو شہر کے گرد تعمیر کی گئی تھی۔ اس کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ دفاعی نقطہ نظر سے بنائی گئی تھی۔ اس کے اندر ایک بڑے رقبے پر اینٹوں کے بنانے کے لئے انتظام موجود تھا۔ عمارتوں کے نشانات اور زراعت کے آب پاشی کے آثار بھی دیوار کے قریب موجود ہیں۔ قریہ سے عینونہ کے درمیان کئی مقامات پر تیسری صدی قبل مسیح کے آثار موجود ہیں۔ عینونہ کے قریب خریبہ کے مقام پر Lueke Kome کے نام سے بندرگاہ تھی جہاں پر رومن جنرل Aelius Gallus اپنی فوجوں کے ساتھ 25 قبل مسیح میں اترا تھا۔ قریبی علاقوں وادی شرما ، وادی دیسہ ، وادی صدر ، وادی طیب اسم اور مقنع میں ہزاروں سال پرانے آثار موجود ہیں۔
قریہ کی مشہور دیواروں کی دریافت سے قبل اس مقام پر پتھروں سے بنا ہوا ایک قدیم مقبرہ پایا گیا تھا۔ اس میں بارہ معززین کے مجسمے تھے جن میں مرد ، عورت اور بچے شامل تھے۔ ان کے ساتھ ایک ہزار موتی پائے گئے ۔ آٹھ گلے کے ہار جو پکی مٹی کے بنے ہوئے ہیں۔ خوبصورت برتن ، موتی اور ان کے خول ، ہاتھی دانت ، ہڈیاں اور قیمتی پتھر بھی موجود تھے۔ جن میں agate , hematite , amazonite , transparent quartz , green stone , turquoise , lapis lazuli شامل ہیں۔ مختلف قسم کے تحائف تھے جو نقش و نگار اور رنگوں سے مزین تھے۔ Iron Age کے دوران یہ آبادی بڑا تجارتی مرکز بن گئی اور شمال اور جنوب عرب کے درمیان رابطے کا بڑا ذریعہ تھی۔
عینونہ کے آثار قدیمہ
ساحل سمندر پر واقع اس جگہ پر کھدائی کے نتیجے میں کئی مقامات پر قدیم اشیا پائی گئیں۔ یہ سازو سامان ساحل سمندر کے قریب اور زمینی علاقوں میں موجود تھا۔ Neolithic اور Calcolithic ادوار کے آلات دریافت کئے گئے۔ زرعی نظام کے حصے ، پتھروں کے دائرے ، نعشوں کو دفن کرنے کا سامان ، آگ جلانے کی بھٹیاں ، قلعے اور بستیوں کے آثار بھی پائے گئے ہیں۔ چٹانوں پر بنائے گئے نقش و نگار اور قدیم تحریروں کی موجودگی ایک مضبوط تہذیب کی نشاندہی کرتی ہے۔
روآفہ کے آثار قدیمہ
تبوک کے شمال مغرب میں 115 کلومیٹر کے فاصلے پر روآفہ ( Ruaphah) کے مقام پر دوسری صدی قبل مسیح کے دور کا ٹمپل موجود ہے۔ یہ عبادت گاہ خاص طور پر تیار کئے گئے پتھروں سے تعمیر کی گئی اور اس پر نبطی اور لاطینی زبانوں کی تحریریں موجود ہیں۔ ان میں کچھ پتھر سعودی دارالحکومت ریاض کے نیشنل میوزیم میں بھی محفوظ ہیں۔
کلوہ Kilwa کے مقام پر
قدیم اشیا کی دریافت
چٹانوں اور پہاڑوں پر پائی جانے والے Rock Art کے بے شمار نمونے یہاں پائے گئے۔ ان میں انسانوں ، پہاڑی جانوروں اور مویشیوں کی تصویریں شامل ہیں۔ پتھر کے بنائے ہوئے اوزار ، کلہاڑیاں ، چھینی ، ڈرل ان مقامات پر موجود تھے۔ کلوہ کے اطراف میں 6 سے 7 ہزار سال پرانی تہذیب کے آثار پائے جاتے ہیں۔بعض ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق یہاں پر 50 ہزار سال قبل انسانوں کی موجودگی کے ثبوت مل سکتے ہیں۔
جبل لوز کے قریب
پائے جانے والے آثار
ماسل حمیت Masil Hameyt تبوک شہر سے 200 کلومیٹر کے فاصلے پر اونچے پہاڑوں کے درمیان واقع ہے۔ جبل لوز کے پہاڑوں کے دامن میں کھدائی کے دواران پتھروں سے بنی قدیم عمارات کی باقیات موجود ہیں۔ سات حصوں پر مشتمل یہ تعمیرات گرینائٹ سے بنائی گئی ہیں۔ ان میں چار ملحقہ کمرے ، ایک احاطہ اور کمروں کو ملانے والا ایک طویل راستہ جنوب کی جانب سے موجود ہے۔ یہاں پر برتنوں کے حصے ، ہڈیاں اور جلی ہوئی کچھ اشیا بھی پائی گئی ہیں جن سے زمانہ قدیم کی تہذیب کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ضباء کے جنوب میں واقع الازلام قلعہ
تبوک شہر سے شمال مغرب کی جانب دو سو کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر یہ قلعہ موجود ہے۔ مملوک دور میں بنایا گیا یہ قلعہ سلطان محمد قلاوون کے حکم پر بنایا گیا۔ اس کا مقصد سمندر کے قریبی راستوں پر حاجیوں کے بحفاظت سفر کا انتظام اور ان کو سہولیات کی فراہمی تھی۔ اس طرح کے کئی قلعے اور مسافر خانے حاجیوں کے لئے قائم کئے گئے تھے۔ اس کو محفوظ رکھنے کے لئے حکومت کی جانب سے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
بیسویں صدی عیسوی
کے دور کے قلعے
1930 میں موجودہ سعودی مملکت کے قیام کے بعد تبوک کے گردونواح میں سیکورٹی کے نقطہ نظر سے کچھ قلعے بنائے گئے۔ ضبا کے ساحلی مقام پر کنگ عبدالعزیز قلعہ تبوک شہر سے 200 کلومیٹر کے فاصلے پر 1933 میں تعمیر کیا گیا۔ اس کے لئے پتھر المویلہ اور برقان جزیرے سے لائے گئے۔ اس کے بعد ان کو لائم سٹون سے بدل دیا گیا۔ اس میں ایک بڑا چوکور احاطہ بنایا گیا ہے جس کے گرد کمرے تعمیر کئے گئے۔ اس میں چار مینار موجود ہیں جو ایک دائرے کے تین چوتھائی پر مشتمل ہیں۔ شمالی جانب ایک مسجد تعمیر کی گئی ہے۔ سعودی محکمہ آثار قدیمہ نے اس کو ایک میوزیم میں تبدیل کر دیا ہے جہاں پر اس خطے کی تاریخ کو بہترین ترتیب سے پیش کیا گیا ہے۔
1940 میں تبوک شہر سے 250 کلومیٹر کے فاصلے پر حقل کے ساحلی مقام پر شاہ عبدلعزیز کے حکم پر ایک قلعہ تعمیر کیا گیا۔ یہ قلعہ حقل کے پرانے حصے میں موجود ہے۔ اس کا رقبہ 900 مربع میٹر ہے اور اس کی اونچائی 5 میٹر سے کچھ زیادہ ہے۔ اس کی تعمیر میں خلیج عقبہ کے سمندر کے قریبی علاقوں میں پایا جانے والا لائم سٹون استعمال کیا گیا ہے۔ اسئ کی چھت لکڑی ، پام کے تنوں اور مٹی سے بنائی گئی پے۔ یہ اب بھی مناسب حالت میں موجود ہے اور سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہے۔ اس کے قریب ساحل سمندر کے کنارے ایک بڑا پارک تفریح کا اچھا مقام ہے جہاں پر پام اور کجھور کے گھنے درخت ہیں۔ میں نے دوستوں کے ساتھ کم از کم دس مرتبہ اس مقام کی سیر کی ہے۔ اس کے قریب چند پرانی دکانیں ہیں جن میں سے ایک دکان میں ایک بنگالی نے کچوری ، پراٹھے اور چائے کا اسٹال بنا رکھا ہے۔ اس کے ہاتھ کی بنائی ہوئی چیزوں میں خاص ذائقہ ہے اور ہم بہت شوق سے ان گرما گرم چیزوں کا لطف اٹھاتے تھے۔ اس جگہ سے آگے چلیں تو حقل کی کئی کلومیٹر طویل کورنش آجاتی ہے۔ اس کورنش پر فیملی کے ہمراہ کئی مرتبہ پکنک منائی ہے اور سمندر کے صاف پانی میں نہایا بھی ہے۔
یہ مضمون ڈاکٹر عبداللہ محسن کے زیر تکمیل سفرنامہ’’مسجد نبویؐ سے مسجد الرسولؐ تک‘‘ میں شامل ہے ۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور اپنی تحریر، تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ bisaat.mag@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔
error: