آج 14 دسمبر 2025 کو اسلامی تحریکِ مزاحمت (حماس) کے قیام کو 38 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ یہ تحریک صرف ایک سیاسی یا عسکری تنظیم نہیں بلکہ فلسطینی مسئلے کی تاریخ میں ایک نمایاں عنوان اور صمود ، قربانی اور جدوجہد کی علامت بن چکی ہے۔
لفظ “حماس”، جو حرکت المقاومة الإسلامية کا مخفف ہے، معنوی طور پر جوش، حمیّت اور عزم کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ اقدار تحریک کی پہچان اور اس کے مشن میں واضح طور پر جھلکتی ہیں۔ حماس نے اسلامی شناخت اور فلسطینی قومی شعور کو یکجا کر کے اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمت کو اپنے مرکزی سیاسی و فکری موقف کا حصہ بنایا، جس نے اسے عوامی حمایت کے ساتھ عالمی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بنا دیا۔
تاریخی جڑیں
حماس کی فکری اور تنظیمی بنیادیں فلسطین میں اخوان المسلمون کی شاخ سے جڑی ہیں، جو 1950 کی دہائی سے غزہ میں سرگرم رہی۔ اس دور میں اخوان نے مساجد، اسکولز، اسپتالوں اور فلاحی اداروں کے ذریعے فلسطینی معاشرے میں نمایاں اثر قائم کیا۔
1967 میں اسرائیل کے غزہ اور مغربی کنارے پر قبضے کے بعد، زیادہ تر مسلح مزاحمت سیکولر فلسطینی گروہوں کے ہاتھ میں رہی، جیسے فتح اور پی ایل او۔ اس کے برعکس، اخوان نے ابتدا میں اسلامی بیداری اور سماجی خدمات پر توجہ مرکوز رکھی۔
1970 کی دہائی میں شیخ احمد یاسین نے المجمع الاسلامی قائم کیا، جو بعد میں حماس کی تنظیمی اور فکری بنیاد بن گیا۔ اسرائیل نے ابتدا میں اسے پی ایل او کے توازن کے طور پر برداشت کیا، لیکن جب اسلام پسندوں نے مسلح مزاحمت اپنائی تو یہ حکمت عملی الٹ پڑی۔
تاسیس: انتفاضہ کا نتیجہ
حماس کی باضابطہ بنیاد دسمبر 1987 میں رکھی گئی، جب پہلی فلسطینی انتفاضہ شروع ہوئی۔ اگرچہ تاریخ کے حوالے مختلف ہیں، عام طور پر 14 دسمبر کو یومِ تاسیس کے طور پر منایا جاتا ہے۔
ابتدائی دنوں سے ہی حماس نے خود کو اسلامی قومی تحریک کے طور پر پیش کیا، جو عقیدہ اور قومی شناخت کو یکجا کر کے اسرائیلی قبضے کے خلاف جہاد کو اپنا فریضہ سمجھتی ہے۔ پہلا منشور، جو غزہ میں تقسیم ہوا، اسرائیل پر نوجوانوں کی اخلاقیات کو تباہ کرنے کے الزامات لگاتا تھا اور مزاحمت کا بیانیہ واضح کرتا تھا۔
قیادت اور نمایاں شخصیات
حماس کی تاریخ میں چند اہم شخصیات کلیدی حیثیت رکھتی ہیں:
O شیخ احمد یاسین، بانی اور روحانی رہنما، 2004 میں شہید۔
O عبدالعزیز الرنتیسی، بانی رکن، 2004 میں شہید۔
O محمود الزہار اور دیگر بانی اراکین نے تنظیمی ڈھانچے کو مستحکم کیا۔
بعد کے سالوں میں خالد مشعل اور اسماعیل ہنیہ نے سیاسی قیادت سنبھالی، جبکہ محمد الضیف اور یحییٰ السنوار نے عسکری قیادت کی۔ 2024–2025 کے دوران حماس کو قیادت میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا، جس کے بعد ایک عبوری قیادتی نظام نے امور چلائے۔
فکری پہلو اور دستاویزات
حماس کا فکری موقف سنی اسلام اور فلسطینی قوم کے امتزاج پر مبنی ہے۔ 1988 کے ميثاق میں فلسطین کو اسلامی وقف قرار دیا گیا اور مسلح جدوجہد کو اولین اہمیت دی گئی۔
تاہم 2017 کے سیاسی دستاویز نے تحریک کو مزید لچکدار موقف اختیار کرنے کی جانب پیش کیا، جہاں یہ صیہونیت کو مرکزِ مخالفت قرار دیتی ہے اور 1967 کی سرحدوں پر عارضی فلسطینی ریاست کو قبول کرنے کی بات کرتی ہے، تاکہ سیاسی حقیقت کے مطابق اپنے موقف کو واضح کرے۔
کردار، اثر اور تنازع
حماس کا اثر دوہری کردار میں مضمر ہے:
ایک جانب، یہ تعلیم، صحت اور انسانی فلاح کی خدمات فراہم کرتی ہے۔
دوسری جانب، اس کا عسکری ونگ کتائب عزالدین القسام اسرائیل کے خلاف مسلح کارروائیوں میں سرگرم ہے۔
2006 کے انتخابات میں کامیابی اور 2007 کے بعد غزہ پر کنٹرول نے اسے فلسطینی سیاست کا اہم فریق بنایا، لیکن اس کے ساتھ حصار، انسانی بحران اور بین الاقوامی تنقید بھی جڑی رہی۔
موجودہ صورتحال
7 اکتوبر 2023 کے واقعات کے بعد غزہ پر شدید حملے ہوئے، جس میں ہزاروں افراد شہید اور شہر تباہ ہوا۔ حماس کو انسانی اور تنظیمی نقصان پہنچا، اور اگرچہ جزوی جنگ بندی ہوئی، فلسطینی مسئلہ آج بھی حل طلب ہے۔
اسلامی تحریکِ مزاحمت ’حماس‘ | آزادیٔ فلسطین کی جدوجہد اور قربانیوں کی بے مثال داستان















