Advertisement

کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا اینجاست

نرم لہجے اور مٹھاس بھری آواز نے پھر سماعتوں پہ دستک دی۔
کل آپ آرہی ہیں نا ؟
اور شرکت کے ارادے کو مزید تقویت بخشی۔
یہ بساط انٹرنیشنل جریدے کی راشدہ انجم صاحبہ تھیں۔جنہوں نے بساط کے تحت منعقدہ مقابلہ مضمون نویسی کے نتائج کے اعلان اور تقریب انعامات کے عنوان سے چنیدہ افراد کو مدعو کر کے ایک یادگار محفل بعنوان ۔۔۔۔
بساط کے ساتھ ایک شام سجائی اور ہمیں بھی اس میں شرکت کا یادگار موقع فراہم کیا۔
جنوری کی خنک شام کو گرمئی گفتار سے دلآویز حدت بہم پہنچائی۔
رومیصاء عبد المہیمن نے تلاوت کلام ربانی سے آغاز کر کے نشست کی خوبصورت اور فی البدیہ میزبانی انجام دی۔
نشست کی صدارت مشہور و معروف محققہ،جامعہ کراچی کی سابق استاد،کئی کتابوں کی مصنفہ ،ماہر تعلیم محترمہ نگار سجاد ظہیر صاحبہ نے کی۔
سب سے پہلے شرکاء کا تعارفی سیشن تھا،جو اپنی جگہ انتہائی دلچسپ رہا۔ایڈیٹر بساط اور تقریب کی میزبان محترمہ راشدہ انجم صاحبہ نے اپنے بجائے رسالہ بساط کا مختصر تعارف کروایا۔کہ بساط ایک تحقیقی رسالہ ہے جو 20 سال سے پابندی سے شائع ہو رہا ہے اور اس کے تیسرے شمارےکی تحقیقاتی رپورٹ پر زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔
حقیقتاً ہر فرد راشدہ انجم کی محنت سے تیار کی ہوئی مالا کا انمول موتی محسوس ہو رہا تھا۔ ۔۔نشست میں موجودگی کا بنیادی حوالہ تحریر تو تھا ہی لیکن اکثر خواتین تعلیم و تعلم سے وابستہ تھیں،کوئی اپنا میگزین نکال رہی تھیں۔کوئی پی ایچ ڈی اور صاحب کتاب تھیں ۔کوئی کئی زبانوں پر لکھنے پر عبور رکھتی تھیں،کسی کو بلوچوں کے مسائل پر گہرا شعور حاصل تھا۔ تعارف کے دوران بےتکلفانہ سوال وجواب کا سلسلہ جاری رہا جس سے اندازہ ہوا کہ تعلیم یافتہ حساس ،باشعور خواتین کس کس میدان میں جانفشانی سے سرگرم عمل ہیں۔
جن روزو شب میں ہر شخص وقت کی کمی کا شکوہ کناں ہے وہیں امور خانہ داری کی تمام ذمہ داریوں کے ساتھ لکھنا پڑھنا، معاشرتی سرگرمیوں کے لئیے وقت نکالنا کمال ہی ہے۔
مزید بہت کچھ سننے اور سنانے کو جی چاہتا تھا لیکن محدود وقت تیزی سے گزرتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔
لہذا ذہن یہ شعر ہی دہراتا رہا
بھلا گردش فلک کی چین دیتی ہے کسے انشاء
غنیمت ہے جو ہم صورت یہاں دوچار بیٹھے ہیں
تعارف کی بات طویل ہوگئی آئیے اب انعام یافتگان کا ذکر ہو جائے۔
جریدہ بساط کے تحت ایک تحریری مقابلہ منعقد کیا گیا تھا جس کا عنوان تھا ’’امن سب کے لیے‘‘
منصفہ کے فرائض نگار سجاد ظہیر صاحبہ نے ادا کئے۔
پہلے انعام کی حقدار قرار پائیں
ڈاکٹر عظمی علی اختر جو ڈی ایچ اے کالج فار ویمن میں لیکچرار ہیں۔
اے پی ایس کے شہید بچوں پر ان کی ایک معرکہ آراء کتاب بھی پبلش ہو چکی ہے۔
دوسرا انعام دو خواتین کو دیا گیا۔
رومیصاء عبدالمہیمن جو ایک عالمہ، اردو،انگریزی اور عربی تحریر پر عبور رکھنے والی بہترین لکھاری ہیں۔
روبینہ قریشی ۔۔۔ایک حساس مصنفہ جو صاحب کتاب بھی ہیں۔
تیسرے انعام کی مستحق
خیرالنساء بلوچ ٹھریں۔بہت عمدہ لکھاری ہیں اور پاکستان کے المناک مسائل پر گہری نگاہ رکھتی ہیں۔
نشست کا سنہری حصہ پاکستان کے مسائل اور تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی حالات پر تبادلہ خیال تھا ۔عالمی استعمار کا بڑھتا ہوا غرور اور فرعونیت۔مستقبل کے اندیشے۔بڑی طاقتوں کی اسٹریٹیجی، ان اندھیروں میں امید اور جدوجہد کا دامن نہ چھوڑنے کا جذبہ۔
بہت کچھ پرمغز نکات سامنے آئے۔ صاحب صدر چہرے پہ سجی مسکراہٹ کے ساتھ شریک گفتگو رہیں۔۔شریک نہ ہو سکنے والی ساتھیوں کی یاد بھی شریک محفل تھی ۔۔یہی وہ لمحات تھے کہ محفل برخواست کرنے کو دل نہیں چاہتا تھا۔بعد میں بھی دامن دل وہیں کھنچا جاتا ہے۔اردو دانوں کے لئے فارسی سے شغف لازم ہے۔۔اس لئیے فارسی میں کیفیت کا اظہار اچھا رہے گا۔
کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا اینجاست
(محفل کی) رعنائی دل کا دامن کھینچتی ہے کہ مقام تو بس وہی ہے۔
میزبان کی طرف سے پیش کئے گئے عصرانے اور گرما گرم خصوصی چائے کا لطف سوا تھا۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور اپنی تحریر، تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ bisaat.mag@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔
error: