Advertisement

86 برس کا سفر : ایک جائزہ

قیام پاکستان کی قرارداد آج سے86 سال قبل منظور کی گئی‘ ان86 برسوں کا سفر کچھ یوں ہے کہ اب ہندوستان پہلے سے زیادہ ہندو ریاست ہے لیکن کیا پاکستان بھی حقیقی معنوں میں وہی مسلم ریاست ہے جس کا خواب برصغیر کے مسلمانوں نے دیکھا تھا۔ 23 مارچ ہمارے لیے ایک تاریخی دن ہے‘ 86 سال پہلے منٹو پارک (اقبال پارک) لاہور میں ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے‘ کون کون سے رہنما اس وقت اسٹیج پر موجود تھے، قرارداد کس نے پیش کی۔ ان کا تعلق کس خطے سے تھا، وہ اکثریتی صوبہ تھا۔آج وہ کہاں ہے۔کیا پاکستان کی حدود میں ہے اور کیسے کیسے لوگ تھے۔ تحریک پاکستان کے رہنما اور ان کے خاندان کے لوگ کہاں ہیں؟ اب پاکستان میں جو خاندان مسندوں پر بیٹھے ہیں اور اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں ان سے تعلق رکھنے والا کیا 1940ء کے نمایاں لوگوں میں بھی کوئی تھا یا نہیں؟۔ آج جو بڑے صنعت کار ہیں، اشرافیہ ہیں، کیا ان کے آباؤ اجداد میں سے کوئی اس روز اسٹیج پر تھا؟ ہمارے محققین اورا علی تعلیمی اداروں میں یہ تحقیق ہونی چاہیے کہ یہ بڑے خاندان پاکستان بن جانے کے بعد تحریک پاکستان کے مقاصد کے حصول کی جدجہد میں شامل کیوں نہیں ہوسکے۔ جن خاندانوں نے قرارداد پاکستان کا خاکہ تیار کیا اس میں رنگ بھرا وہ آہستہ آہستہ منظر سے کیوں ہٹتے چلے گئے؟ کیا یہ کوئی عالمی منصوبہ تھا؟ بھارت نے دل سے پاکستان کو کبھی تسلیم نہیں کیا لیکن دو قومی نظریہ وہاں آج بھی پوری طرح فعال ہے۔ مسلمانوں پر خوشحالی کے دروازے آج بھی بند ہیں عام مسلمان وہاں آج بھی باعزت روزگار سے محروم ہے‘ اور دیگر اقلیتیں بھی غیر محفوظ ہیں۔ بھارت آج تک پاکستان کا دشمن ہے‘ کبھی سرحدوں کی خلاف ورزی کرتا ہے‘ کبھی کلبھوشن جیسے جاسوس بھیجتا ہے‘ اور مسلسل وہ کراچی کے بعد اب بلوچستان میں بد امنی پیدا کرکے پاکستان میں بے چینی پیدا کرنا چاہتا ہے‘ اور پاکستان کو کمزور کرنے پر تلا ہوا ہے۔ ہمارے ہاں یہ تحقیق کیوں نہیں ہوتی کہ بھارت نے کیوں مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی تحریک کو تقویت پہنچائی؟ بھارت سے خطرے کے پیش نظر ہمارا دفاعی بجٹ ہماری بساط سے زیادہ ہوتا ہے۔ سفارتی بجٹ بھی شہریوں کے پیٹ کاٹ کر بنایا جاتا ہے مگر ہم سفارتی محاذ پر کس قدر کامیاب ہیں‘ اس پر بھی پارلیمنٹ میں ایک ٹھوس بحث ہونی چاہیے۔ ان86 برسوں میں بھارت کے ساتھ تین جنگیں ہوئیں، ابھی گزشتہ سال مئی میں معرکہ حق ہوا جس میں بھارت کے رافیل زمین بوس ہوئے اور آج تک وہ شکست کے زخم چاٹ رہا ہے‘ معرکہ حق میں پوری قوم اور فوج نے بنیان المرصوص بن کر دشمن کی جارحیت کا مقابلہ کیا تھا مگر افسوس کہ 23 مارچ 1940ء کا سبق بھول رہے ہیں‘ تاریخ سے مفاہمت کے جس معاہدے پر دستخط کیے تھے اور برصغیر کے مسلمانوں کے مستقبل کیلئے جو عہد کیے گئے تھے وہ آج کے حکمرانوں کے علم میں بھی نہیں ہیں۔23 مارچ ہم سب کا دن ہے۔ ریاست کا، مملکت کا دن ہے، حکمرانوں کا نہیں۔ یہ ہمارے ان خوابوں کا دن ہے جو ہمارے اکابرین نے سوسال پہلے دیکھے تھے اور جن کی تعبیر کے حصول کیلئے قائد اعظم کی قیادت میں پورے جنوبی ایشیا میں تحریک پاکستان چلائی گئی تھی۔ اب ملک میں ’اظہار خیال‘ کی قدر نہیں اور جمہوریت کا نعرہ لگانے والے بھی ہیں‘تاریخ سے کیا گیا معاہدہ 86 سال کی گرد ہٹانے کیلئے آواز دے رہا ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان پکار رہا ہے‘ کہ ملک میں اسلامی نظام حیات کب نافذ ہوگا‘ ہم تعلیم، صحت، صنعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی میں کب ترقی کریں گے، ملک کے دیانت دار محنت کش عوام کا مقدر کب سنورے گا؟ کیا دہشتگردی، غربت، بدحالی اور اظہار پر پابندیاں ہی قوم کا مقدر ہیں۔ 23مارچ کی روح یہی ہے۔ہمارے ازلی مکار دشمن بھارت نے ہمیں تسلیم نہیں کیا اور مسلسل ہمیں عدم استحکام میں مبتلا رکھنا چاہتا ہے۔ اس نے پاکستان کی سلامتی پر اوچھا وار کرنے کی نیت سے ہماری جانب سپرسانک میزائل داغا اور ہمارے دفاعی حصار کو جانچنے کی کوشش کی تھی تاہم افواج پاکستان نے بھارت کا سازشی چہرہ اقوام عالم میں بروقت بے نقاب کرکے اس کے ہاتھوں علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات سے آگاہ کر دیا تھا۔ یوم پاکستان کا پیغام ہے کہ ملک کی سلامتی کے حوالے سے گہرے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ ارضِ وطن میں دہشت گردی کے علاوہ جہالت کا آسیب کب ختم ہوگا؟۔ مکار دشمن بھارت نے افغانستان کے اندر بھی نقب لگانے کی کوشش کی ہے اور پاکستان پر وار کرنے کے ہر عمل کی وہ سر پرستی کر رہا ہے۔ دہشت گرد حملوں کیلئے کابل حکومت کی بھی سرپرستی کر رہا ہے۔ اس تناظر میں یوم پاکستان اور قرارداد پاکستان کے پیغام پر پہلے سے بھی زیادہ جوش و جذبے سے عمل کی ضرورت ہے۔ موجودہ صورتحال ہماری قومی سیاسی قیادتوں سے ملک کی سلامتی کو درپیش چیلنجوں سے عہدہ براء ہونے کیلئے ذاتی سیاسی اختلافات و مفادات فراموش کرنے اور قومی یکجہتی کی فضا ہموار کرنے کی متقاضی ہے۔ ملک کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ کی حیثیت سے دشمنانِ پاکستان و اسلام کی ہر سازش کا منہ توڑ جواب دیتے رہنے کیلئے تجدید عہد کی ضرورت ہے۔
آج ریاست پاکستان کو جن اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے ان سے وسیع تر قومی اتحاد کے ذریعے ہی عہدہ برآ ہوا جا سکتا ہے۔ قومی سیاسی قیادتوں کو بہرصورت ایک میز پر بیٹھ کر اپنے پیدا کردہ سیاسی اور آئینی مسائل کی گتھیاں سلجھانا ہوں گی اور سیاسی اسیروں کو رگیدنے کی پالیسی اور ملک کو خانہ جنگی کی جانب دھکیلنے کی روش ترک کرنا ہو گی۔ اسی طرح حکومتی اتحاد میں شامل سیاسی قائدین کو آئین و قانون کی پاسداری و عملداری ملحوظ خاطر رکھنا ہو گی۔ افغانستان کی تبدیل شدہ صورت حال میں دہشت گردی کی اٹھنے والی نئی لہر ملک کی سول اور عسکری قیادتوں سے مکمل طور پر یکجہت ہونے کی متقاضی ہے۔ ہمیں اس وقت بڑا مسئلہ سیاسی عدم استحکام کا بھی درپیش ہے جو قیام پاکستان کے مقاصد سے ہرگز مطابقت نہیں رکھتا۔ بانیان پاکستان اقبال و قائد نے تو برصغیر کے مسلمانوں پر انگریز اور ہندو کے مسلط کردہ استحصالی نظام سے انہیں خلاصی دلانے اور انہیں اقتصادی استحکام اور مذہبی آزادیوں سے ہمکنار کرنے کیلئے ایک خطہ ارضی کا خواب دیکھا اور اس کیلئے انتھک جدوجہد کی۔ یہ ایک جدید اسلامی جمہوری فلاحی ریاست کا تصور تھا جسے قائد اعظم نے تو حقیقت کے قالب میں ڈھال کر دکھایا مگر ان کے انتقال کے بعد مفاد پرست طبقات نے سب کچھ فراموش کردیا ہے‘ مگر تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ہم بطور قوم متحد ہوجائیں اور اپنے مسائل کا خود حل تلاش کریں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور اپنی تحریر، تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ bisaat.mag@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔
error: