Advertisement

افغانستان: پانچ عشروں سے جنگ میں کیوں ؟

افغانستان کے بارے میں ایک مفتی صاحب کی پوڈ کاسٹ ایک واٹس اپ گروپ میں دیکھی تو ایک فلم نظروں کے سامنے گھوم گئی، سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا ہے، آپ بھی کچھ حصہ دیکھیں۔مختلف بیانئیے آتے رہے ،قوم یقین کرتی رہی
1،پہلا بیانیہ ،افغانستان دوست نہیں ، پاکستان کو تسلیم نہیں کیا تھا، ڈیورنڈ لائن کا بھی تنازعہ ہے ۔
2، دوسرا بیانیہ ، روس افغانستان کے راستے گرم پانیوں تک پہنچنا چاہتا ہے بے گھر افغان ہمارے بھائی ہیں ، ان کی مدد کی جائے۔
3، تیسرا بیانیہ ، افغان مجاہدین پاکستان اور دنیا کا تحفظ کررہے ہیں۔ یہ مجاہدین پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں،دنیا ہمیں (پاکستان) کو مدد دے ،اسلحہ اور مال بھی۔ اور خوب جمع بھی کیا گیا۔ اس دور مین افغان مہاجرین کے لیے آنے والے بٹر آئل کے ڈبے باقاعدہ سرکاری یوٹیلٹی اسٹورز پر فروخت ہوتے تھے اور ڈھٹائی کا یہ عالم تھا کہ ڈبوں پر لکھی عبارت بھی جوں کی توں لکھی رہتی تھی، only for afghan refugies
4، چوتھا بیانیہ ، افغانستان میں جہاد نہیں ہورہا، یہ دہشت گرد ہیں ،اوراب بیان آگیا ہے کہ جہاں پاو انہیں ماردو،
چوالیس سالہ صحافت میں افغانستان جاکر بھی دیکھا ہے پاکستان میں ان کی خیمہ بستی میں بھی رہا دیکھی، ان مہاجر بچون اور بروں کو محنت مزدوری کرتے بھی دیکھا۔
افغانستان کے حوالے سے پاکستان
جنرل ضیاءالحق کا دور جہاد کا دور تھا،بے نظیر نواز شریف کے ادوار نیم دروں نیم بروں ادھا تیتر ادھا بٹیر،
پھر آئے حضرت جنرل پرویز مشرف، یہ دور کمال کا رہا کشمیری مجاہد ان کے پہلے سال کے دوران مجاہد رہے دوسرے سال وہ بھی آدھا تیتر آدھا بٹیر رہے پھر غدار، دہشت گرد اور” جہاں پاو انہیں مارو” بنادئیے گئے، اسی دور میں ٹی ٹی پی تخلیق کی گئی ،ٹی ٹی پی برصغیر ،پھر پنجاب اور مزید ٹکڑے دریافت ہوئے ۔
اب حقائق بھی جان لیں
افغانستان کی پہلی مزاحمت بالکل اصلی اور عوامی تھی ،سارے یونیورسٹیوں اور مدارس کے طلبہ اور عام نوجوان تھے، انجینئر حکمتیار سمیت درجنوں رہنما انجینئر نگ کے طلبہ تھے،ابتدائی تمام مزاحمت پاکستان اور ان مجاہدین نے کی، اس وقت ہنری کسنجر نے ماننے سےانکار کیا کہ روس کو افغانستان سے نکالا جاسکتا ہے۔لیکن جب روس کے قدم پاکستان اور مجاہدین نے روک دئیے، تو امریکا بہادر کودا، فنڈز اور اسلحہ دیا پروپیگنڈا مشینری کھول دی گئی اور افغان مجاہدین میں پھوٹ ڈلوا دی گئی،ایک دوسرے کے لئیے کھڑے ہونے والوں میں تصادم شروع ہوگئے، اس دوران سفید ریچھ (روس) اتنا زخمی ہوا کہ واپسی کا فیصلہ کرنا پڑا جب روس نے واپسی کا فیصلہ کیا تو افغان مجاہدین نےافغانستان پر کنٹرول حاصل کیا ،یہاں سے امریکا اور اس کے نوکروں کی مداخلت شروع ہوئی ، اگر مجاہدین کو خود کچھ کرنے دیا جاتا تو خرابی نہ ہوتی انہیں بیرون افغانستان سے کنٹرول کرنا شروع کیا گیا اور اس کا بہت نقصان ہوا۔ کچھ دھڑے گڈ کوپ کچھ بیڈ کوپ قرار پائے، جب بہت فساد ہوگیا ایک دوسرے کی مدد کرکے لڑوالیا تو امن کی سوجھی، طالبان تخلیق کئیے گئے، پھر جنگ ہوئی پھر طالبان فتحیاب ہوئے، حکمتیار صرف یہ کہہ کر افغانستان سے نکل گئے کہ وہ پاکستان سے نہیں لڑ سکتے، یعنی طالبان پاکستان کی پروڈکٹ ہیں اور ہم پاکستان سے نہیں لڑیں گے،( یہ میزبانی کا حق ادا کیا گیا ، یعنی افغان احسان فراموش نہیں )۔افغانستان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا تھا، جی ایسا ہوا تھا ، لیکن پاکستان کی جانب دے تو دوتین افغان حکومتوں کو تسلیم نہیں کیا گیا تو پھر شکوہ ختم اسکور ہمارا زیادہ ہے ،اور تسلیم نہ کرنے کے باوجود سرحدی تنازعات کے ساتھ مال تجارت کی آمد ورفت جاری ہے ،کیا ہوا اگر اس سے مہنگائی ہوجاتی ہے دونوں طرف کے حکمرانوں کو تو فرق نہیں پڑتا۔
آگے چلیں جب یہی طالبان بامیان کے بت توڑنے لگے اور امریکا بہادر ناراضگی پر اتر آئےتو ان طالبان کے خلاف مہم شروع کی گئی، مجاہدین سے دنیا کی جان چھڑانے والے طالبان بھی دہشت گرد قرار پائے اور انہیں افغانستان کی حکمرانی سے محروم کردیا گیا۔ اب وہاں امریکی ایجنٹوں کی حکمرانی ہوگئی ۔
اگلا مرحلہ جانئیے، یہاں تک کی صورتحال یہ رہی کہ پہلی مرتبہ روس افغانستان میں داخل ہوا تو پاکستان ،امریکا ،سعودی عرب سمیت ساری دنیا اس کے خلاف رہی اور دس سال بعد بمشکل اسے افغانستان سے نکالا جاسکا، پاکستان کے سارے علماء سیاسی رہنماؤں کی اکثریت اس عمل میں ساتھ تھی ، یہ جملہ مشہور ہوا کہ روس کو افغانستان سے اس لئیے نکالا جاسکا کہ پیچھے پاکستان تھا ،اور فلسطین اس لئیے آزاد نہیں ہورہا کہ اس کی سرحد پر پاکستان نہیں، اس میں یہ جملہ نہیں تھا کہ کشمیر کی سرحد پر بھی تو پاکستان ہے وہ کیوں آزاد نہیں ہوا۔ دوسری مرتبہ طالبان کو ہٹانے میں پاکستان ،امریکا اور ساری دنیا ساتھ تھی، اس کے بعد یہی موجودہ طالبان اور آج کے دہشت گردامریکا سے تنہا لڑتے رہے ،ان کی پشت پر پاکستان تھا نہ امریکا ، سعودی عرب تھا نہ امارات اور نہ یورپ، لیکن دس کے بجائے بیس سال میں امریکا پٹ پٹ کر نکلنے پر مجبور ہوگیا ،اور اسی امارت اسلامیہ افغانستان سے مذاکرات کرکے وہاں سے بھاگتے ہوئے اپنا اسلحہ پاکستان اور اسلام کے دشمن گروہوں کے حوالے کرگیا ، جو آج طالبان اور پاکستان دونوں کے لئیے دردسر بنے ہوئے ہیں، افغان امارت پاکستان پر اور پاکستان طالبان پر الزام عاید کررہا ہے کہ وہ بدامنی کے ذمہ دار ہیں ، لیکن اصل کھلاڑی امریکا ہے جو بیس سال افغانوں سے پٹ کر وہان سے بھاگاہے۔اور جہاں سے بھاگا یہی فساد کے بیج بوکر بھاگا۔ ویتنام، عراق اور افغانستان سب سامنے ہیں۔
اب یہ بتائیں کہ ہم عوام کس کی مانیں، ہمارے سارے علماء یا ان کی اکثریت افغان جہاد اور پھر طالبان کی حامی تھی،اب وہ والے پیچھے چلے گئے ہیں اور نئے آگے آئے یا لائے گئے ہیں،اب وہ گڈ کوپ،بیڈ کوپ ہوگئے ہیں۔
تو بھائی لوگو افغان جیسے پہلے تھے ویسے ہی ہیں ، ہمارے اور ان کے پاس ایک جیسے علما ہیں ان سے دونوں طرف کے مقتدر طبقے مرضی کا بیان دلوا سکتے ہیں ، یہ کھیل 1979 سے چل رہا ہے ،اور صرف افغانستان میں نہیں ساری دنیا میں کھیلا جارہا ہے۔مزید جانئیے 1960 میں امریکا کو پاکستان کی ضرورت تھی 1958 میں ایوب خان لائے گئے ، کسی خان کا امریکا میں ایسا استقبال نہیں ہوا جیسا ایوب خان کا ہوا تھا۔ یعنی دوسال قبل سے تیاری تھی ،79 میں روس افغانستان میں داخل ہوتا ہے ،دوسال قبل جنرل ضیاءالحق آجاتے ہیں ، 2000 میں امریکا کو افغانستان میں داخل ہونا تھا،1999 میں جنرل مشرف آجاتے ہیں، یعنی پہلے سے تیاری ہوتی ہے۔ اب بھی ہم افغانوں کو،سعودی ایران کو ،یمنی سعودی عرب کو اور ہر مظلوم یا امریکا کا ہر شکار اپنے ہی پڑوسی کو برا کہتا اور لڑتا ہے ۔ آج بھی سمجھ لیں تو ریورس گئیر لگ سکتا ہے،ورنہ داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور اپنی تحریر، تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ bisaat.mag@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔
error: