Advertisement

علامہ اقبال کا نظریہ ادب و فن

زندگی اللہ تعالیٰ کی نعمت عظمی ہے۔ اورادب، زندگی کا وہ باب ہے جس سے دل کی دنیا میں انقلاب آتا ہے۔ ذہنوں کی کھیتی سیراب ہوتی ہے اور قوموں کو اپنی زندگی آپ جینے کا درس ملتا ہے۔ادب برائے ادب اور فن برائے اظہارذات کی بحثیں بے سود ہو گئی ہیں۔’’ادب برائے زندگی اور زندگی برائے بندگی‘‘ اقبال کا نام آتے ہی ذہن اس طرف یکسو ہوجاتا ہے۔اقبال زندگی کا شاعر ہے اورفن کواس کا خادم جانتا ہے۔ اقبال نے زندگی اور فن کے رشتے کی وضاحت یوں کی ہے۔
علم و فن از پیش خیران حیات
علم و فن از خانہ زادان حیات
اقبال کے نزدیک قوموں کی روحانی صحت کا دارومدار اس کے شعراء، آرٹسٹ ادیب کی حیات بخش صلاحیت پر ہوتا ہے۔ اگر ادیب، شعراء اپنی تخلیق کے ذریعے انسانیت میں زندگی کی روح پھونکنے کی بجائے ،بہت پست گھٹیا جذبات پیدا کریں تو یہ ادب فن کسی بھی قوم کے لئے چنگیز خان کے لشکروں سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔ اپنی نظم’’ہنروان بلند‘‘ میں اقبال نے ایسے ادب فن کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
عشق ومستی کا جنازہ ہے تخیل ان کا
ان کے اندیشۂ تاریک میں قوموں کے مزار
موت کی نقش گری ان کے صنم خانوں میں
زندگی سے ہنر ان برہمنوں کا ہے بے راز
چشم آدم سے چھپاتے ہیں مقامات بلند
کرتے ہیں روح کو خوابیدہ، بدن کو بیدار
ہند کے شاعر و صورت گروافسانہ نویس!
آہ بے چاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار
اقبالؒ جب زندگی اور فن میں ربط پیدا کرتے ہیں تو انسان کے اس ازلی منصب،اس کے حصول اور تکمیل کی ساری منزلیں پیش نظر رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک ہر فن کا مقصد زندگی کی تاریکیوں میں نور بھرنا، اور اسے زیادہ سے زیادہ مقصد زندگی کی تاریکیوں میں نور بھرنا، اور اسے زیادہ سے زیادہ حسین بنانا ہے۔ فرد اورمعاشرہ کو پستی سے بلندی کی طرف سے جانا اور اسے حیات ابدی کا شعور بخش کر انقلاب کی لذتوں سے آشنا کرنا ہے۔ فنون لطیفہ کے متعلق ان کے نقطۂ نظر بخوبی واضح ہو جاتا ہے۔ ؎
اے اہل نظر ، ذوق نظر خوب ہے لیکن
جو شے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ نظر کیا؟
مقصود ہنر سوز حیات ابدی ہے
یہ ایک نفس یا دونفس مثل شرر کیا
جس سے دل دریا متلاطم نہیں ہوتا
اے قطرۂ نیساں وہ صدف کیا وہ گہر کیا
شاعر کی نوا ہو کہ مغنی کا نفس ہو
جس سے چمن افسردہ ہو، وہ بادِ سحر کیا
بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں
جو ضرب کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر کیا
اقبال’’فن برائے زندگی‘‘کے قائل تھے مگر دوسروں کی طرح فن کی محض زندگی کی عکاسی یا نقالی اور مصوری نہیں سمجھتے بلکہ فن کو اخلاقیات کے تابع کرکے زندگی بخش قوت بنانا چاہتے ہیں۔
پروفیسر سید وقار عظیم اس حوالے سے رقمطراز ہیں۔
’’اقبالؒ دوسرے مفکروں کی طرح فن کو زندگی کی نقالی عکاسی یا مصوری نہیں کہتے ان کے نزدیک فن اور حیات کا یہ ربط اور تعلق اس سے کہیں زیادہ گہرا کہیں زیادہ استوار کہیں زیادہ بامعنی ہے۔ انسان کو ازل سے تخلیق اور ارتقاء کاجو منصب عالی عطا ہوا ہے۔ فنون اس کی بجا آوری اور تکمیل میں اس کے ممدومعاون بنتے ہیں۔انسان کی حسن آفرین فطرت زندگی کے نقوش کو واضح اور پائیدار بانے میں فنون کی شکل اختیار کرتی ہے‘‘۔
فن برائے زندگی کا نظریہ اقبالؒ نے اسلامی اخلاقیات سے اخذ کیا ہے۔اس اشتراکی نظریہ فن برائے زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ڈاکٹر سید عبداللہ اقبالؒ کے نظریۂ فن وادب کے متعلق لکھتے ہیں۔
’’اقبال کی رائے میں حسن کا صحیح معیار حیات اور اس کی قوت ہے اور فن نام ہے اور اک حسن اور تخلیق حسن کا اس لئے صحیح فن وہی ہے جو قوت حیات کی ترجمانی کرے اور آرزوئے حیات میں اضافہ کرے۔ جو فن زندگی کے حقیقی حسن کو اجاگر نہیں کرتا اور اس کے حسن کو جلا نہیں بخشتا وہ فن نہیں زوال فن ہے‘‘۔
اقبال ادب اور فن کے متعلق ایک اہم نقطہ نظریہ ہے کہ فن کو مفید اور کارآمد بنانے کے لئے فنکار کا انتہائی خلوص ضروری ہے۔جب تک فنکار کے فن میں اس کا خون جگرشامل نہ ہو اس کا دلوں پہ اثر کرنا مشکل امر ہے۔
رنگ ہو یا خشت و سنگ، چنگ ہو یا حرف و صوت
معجزۂ فن کی ہے خون جگر سے نمود
قطرۂ خون جگر ، سل کو بناتا ہے دل
خون جگر سے صدا سوز وسرور ہے سرود
نقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیر
نغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر
اقبالؒ کے نزدیک وہی ادب و فن قابل تحسین ہے جو قوت حیات کی ترجمانی کرے آرزوئے حیات میں اضافہ کرے۔ اگر ادب وفن کا مقصد انسان کو بلند سے بلند کرنا اس کی خودی کو مستحکم کرنا ہے تو یقینا محمود ہے اور اگروہ انسانیت کی ترقی میں رکاوٹ ہے اسے لذت کوشی، ذہنی عیاشی، سہل پسندی، رعونت، منفی خودی کا درس دیتا ہے تووہ مردود ہے۔ وہ پوری فنی عظمت و کمال کے ساتھ ادب اور فن کو اعلیٰ اقدارحیات کا ترجمان بنانا چاہتے ہیں۔
اقبالؒ نے فلسفہ خودی کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے۔
’’شخصیت یا مسلسل جدوجہد کی حالت انسان کا سب سے بڑا کمال ہے۔ جو شے شخصیت کو مسلسل جدوجہد کی طرف مائل کرتی ہے وہ ہمیں بقائے دوام کے حصول میں مدد دیتی ہے لہٰذا وہ اچھی ہے اورجو شے شخصیت کو کمزور کرے وہ بری ہے۔ گویا ہماری شخصیت جملہ اشیائے کائنات کے حسن و قبح کامعیار ہے۔ مذہب، اخلاق اور آرٹ سب کو اسی معیار پر پرکھنا چاہیے‘‘۔
اقبالؒ کے نزدیک ادب و فن کو بھی’’خودی‘‘ کے حوالے سے پرکھا جائے گا۔ اقبالؒ نے اس کی ترجمانی یوں کی ہے۔
سرود وشعر و سیاست، کتاب و دین وہنر
گہر ہیں ان کی گرہ میں تمام یک دانہ
ضمیرِ بندۂ خاکی سے ہے نمود ان کی
بلند تر ہے ستاروں سے ان کا کاشانہ
اگر خودی کی حفاظت کریں توعین حیات
نہ کرسکیں تو سراپا فسون و افسانہ

اگر آپ بھی ہمارے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور اپنی تحریر، تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ bisaat.mag@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔
error: