بنگلا دیش جو گزشتہ ڈیڑھ سال سے طلبہ کی قیادت میں برپا انقلاب اور حسینہ واجد کے ہندوستان فرار کی وجہ سے شہ سرخیوں میں رہا ہے، وہاں 12 فروری کو ہونے والے انتخابات غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ اب جب کہ انتخابات میں گنتی کے چند دن ہی باقی رہ گئے ہیں انتخابات کی گہما گہمیاں اپنے عروج پر ہیں اور دنیا بھر کی نگاہیں ان پر لگی ہوئی ہیں۔ 2024 میں شروع ہونے والے والی طلبہ کی زبر دست قربانیوں سے بھر پور احتجاجی تحریک اب کامیابی کے اگلے مرحلہ میں داخل ہو رہی ہے۔ نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس کی سربراہی میں قائم عبوری حکومت اپنے وعدہ کے مطابق انتخابات منعقد کرواتو رہی ہے لیکن ابھی تک یقین نہیں آرہا کہ ان انتخابات کو ہونے دیا جائے گا۔ اگر انتخابات ہو بھی گئے تو کیا یہ شفاف اور منصفانہ ہوں گے ؟۔ ہندوستان جس نے بنگلہ دیش میں برسہا برس کثیر سرمایہ کاری کی ہے کیا وہ انتخابی نتائج کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لے گا؟۔ امید ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں مشرقی افق سے روپہلی صبح کے آغاز کا سورج نمودار ہو گا۔
بنگلہ دیش جس کی آبادی تقریبا ساڑھے سترہ کروڑ ہے آبادی کے لحاظ سے دنیا کا آٹھواں بڑا ملک ہے۔ بنگلہ دیش میں 13 ویں قومی پارلیمانی انتخابات 12 فروری 2026 کو منعقد ہوں گے ، جن کے ساتھ آئینی اصلاحات پر ریفرینڈم بھی ہو گا۔ ان آئینی اصلاحات میں پارلیمان کا ایوان بالا کا قیام بھی شامل ہے جس کا انتخاب متناسب نمائندگی کی بنیاد پر ہو گا۔ ملک بھر میں مجموعی طور پر 2,568 کا غذات نامزدگی جمع کروائے جاچکے ہیں، الیکشن کمیشن کے لئے امیدواروں کی دوہری شہریت بڑا مسئلہ ہے کیوں کہ بنگلہ دیش کے با اثر افراد میں دہری شہریت رکھنے کا رواج عام ہے۔ وزیر اعظم کے متوقع امیدوار ، طارق رحمن اور ڈاکٹر شفیق الرحمن نے ڈاکٹر محمد یونس سے تازہ ملاقات کی ہے۔ بی این پی اور جماعت اسلامی کے سربراہوں نے ہیلی کاپٹر پر ملک کے طول و عرض کے دورے شروع کر دیئے ہیں۔ ملک میں 6748 پولنگ اسٹیشنوں کو انتہائی حساس قرار دے کر پولس اہل کار تعینات کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔
پارلیمان کی ان 300 نشستوں پر ہونے والے ان انتخابات میں کانٹے کا مقابلہ بی این پی ( نشان، چاول کی بالی ) اتحاد اور جماعت اسلامی (نشان ترازو) کی قیادت میں بننے والے دس جماعتی اتحاد میں ہو گا جب کہ 15 سال تک بلا شرکت غیرے اقتدار پر براجمان حسینہ واجد کی عوامی لیگ پر پابندی ہے۔ دنیا بھر سے انتخابات کو مانیٹر کرنے والے نمائندے اور مبصرین کی ڈھاکا آمد شروع ہو چکی ہے۔ یورپین یونین نے بنگلا دیش کے 64 اضلاع میں انتخابات کی مانیٹرنگ کے لئے 56 آبزرور تعینات کر دیئے ہیں جو انتخابی عمل کا جائزہ لیں گے اور رپورٹ مرتب کریں گے۔ امریکا کے انٹر نیشنل ری پبلیکن انسٹیٹیوٹ اور نیشنل ڈیمو کریٹک انسٹیٹیوٹ کے نمائندے بھی انتخابات کے مشاہدہ کے لئے ڈھاکا آنے والے ہیں۔
25 دسمبر 2025 کو 17 سال کی جلا وطنی کے بعد 60 سالہ طارق رحمان کی واپسی ہوئی ہے اور انہوں نے اپنی والدہ کے انتقال کے بعد بنگلا دیش نیشلسٹ پارٹی کی چئیر مین شپ سنبھال لی ہے۔ بھارتی اور مغربی میڈیا انہیں بنگلہ دیش کے مستقبل کے وزیر اعظم کے طور پر پیش کر رہا ہے لیکن رائے عامہ کے نئے سروے کچھ اور ہی منظر پیش کر رہے ہیں۔ انٹر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف لا اینڈ ڈپلومیسی ( اور ان کے شرکاء) کے تازہ ترین سروے (جو 12 جنوری 2026 کو جاری کیا گیا ہے ) میں جماعت اسلامی اور بی این پی کا فرق صرف 1.1 فی صد کا رہ گیا ہے۔ اس سائنٹیفک سروے (جو 21 نومبر تا 20 دسمبر 2025 کیا گیا) کے مطابق بی این پی کی مقبولیت 34.7 فی صد ، جماعت اسلامی کی 33.6 فیصد ، این سی پی کی 7.1 فی صد ، اسلامی اندالون کی 3.1 فی صد اور دیگر پارٹیز کی 4.5 فی صد پر ہے۔ اس اعتبار سے جماعت اور این سی پی کا اتحاد 40.7 فی صد پر جب کہ بی این پی 34.7 فی صد پر ہے۔ اس سروے کے مطابق جو 64 اضلاع اور 295 حلقہ ہائے انتخاب کے 22،174 پر مشتمل شماریاتی اصولوں کے مطابق سیمپل پر کیا گیا ہے جماعت و این سی پی کے اتحاد کا پلڑابی این پی سے پورے چھ فی صد بھاری ہے۔ تاہم انتخابی حلقوں کے گنجلک نظام اور مختلف حلقوں میں مختلف پارٹیوں کی اکثریت کی وجہ سے نتائج کے بارے میں حتمی رائے نہیں دی جا سکتی۔ یہ بات البتہ طے ہے کہ انتخابات کے حتمی نتیجہ میں اب تک رہنے والے 17 فیصد غیر جانب دار سوئنگ ووٹرز اور نوجوانوں کا بہت بڑا کردار ہو گا۔
بنگلہ دیش کے طلبہ اور نوجوانوں کی مجموعی فضا سخت بھارت مخالف ہے اس لئے کہ پاکستان کے مظالم کا تذکرہ تو انہوں نے درسی کتب میں پڑھا لیکن حسینہ واجد کے دور حکومت میں بھارت کی بالا دستی و چیرہ دستی کے تو وہ سب عینی گواہ ہیں۔ ہندوستان مخالف جذبات کی آگ پر 18 دسمبر 2025 کو شریف عثمان بن ہادی کے قتل نے بھی جلتی کا کام کیا ہے۔ ہادی کے تاریخی جنازہ میں لاکھوں افراد کی شرکت کے ہفتوں بعد بھی اب تک بھی ماہر روز شاہ باغ ڈھاکہ کے دروبام ہزاروں نوجوانوں کے نعرہ تکبیر ، ” دلی یاڈھاکا ؟ ، ڈھاکا ڈھاکا !” اور “ہم سب ہادی ہیں” کے پر شگاف نعروں سے گونجتے ہیں۔ جواں سال شریف عثمان بن بادی کے تازہ گرم لہو کے اثرات انتخابی نتائج پر ضرور پڑیں گے اور قاتلوں کا یوم حساب قریب ہے۔
یوں تو ہر انتخابات میں نوجوانوں کی اہمیت غیر معمولی ہوتی ہے لیکن بنگلہ دیش کے ان انتخابات میں طلبہ اور نوجوانوں کی اہمیت دو چند ہے اس لئے بھی یہ انتخابات در اصل ان ہی کی لازوال جدوجہد کا ثمرہ ہیں، اس لئے بھی کہ بنگلا دیش میں 15 سے 29 سال کے نوجوان آبادی کا 27.96 فی صد ہیں۔ ملک کی کل آبادی کی اوسط (Median) عمر 29 سال ہے۔ اس پر مستزاد ملک کی 42.6 فی صد آبادی شہروں میں رہتی ہے اور شرح خواندگی 77.9 فیصد ہے۔ حسن اتفاق سے بنگلا دیش کی یونیورسٹیوں میں طلبہ یونینوں کے انتخابات حال ہی میں ہوئے۔ دارالحکومت کی سب سے بڑی اور قدیم ڈھاکا یونیورسٹی، جہانگیر نگر یونیورسٹی اور جگن ناتھ یونیورسٹی میں ہی نہیں چاٹگام ( نیا نام چائو گرام ) اور راج شاہی کی یونیورسٹیوں میں بھی اسلامی چھاتر و شبر کے پینلز نے پہلی بار اتنی شاندار تاریخی لینڈ سلائڈ کامیابی حاصل کی ہے۔ 20 جنوری کو شاہ جلال یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سلہٹ کی طلبہ یونین کے انتخابات ہیں، ان انتخابات کو اس خوف سے کہ یہاں بھی شبر جیتے گی پہلے ملتوی کیا گیا تھا لیکن اب طلبہ کے احتجاج کے بعد اسے مقررہ تاریخ پر ہی کروانے کا اعلان کیا گیا ہے اگر چہ بی این پی کی طلبہ تنظیم اسے رکوانے کے لئے تا حال الیکشن کمیشن کا گھیراؤ کئے ہوئے ہے۔ طلبہ یونینوں میں اسلامی چھاتر و شبر کی یہ بے مثال کامیابیاں نوجوانوں اور جین زی میں جماعت اسلامی کی مقبولیت کانا قابل تردید ثبوت ہیں۔ جولائی انقلاب کے طلبہ رہنمائوں کی قائم کردہ نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی ) کی جماعت اسلامی کی قیادت میں بننے والے انتخابی اتحاد میں شمولیت سے جماعت اسلامی کی کامیابی کے امکانات پر ایک اور مہر تصدیق ثبت ہو گئی ہے۔ بی این پی کے قائدین کا کہنا ہے کہ طلبہ یونینوں کے انتخابات کے نتائج کا قومی انتخابات کے نتائج پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ ان کی یہ بات کہاں تک درست ہے۔
ڈھاکا کے روز نامہ امار دیش کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان عوامی لیگ کے زوال کے بعد بی این پی کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے لیے بے چین ہے۔ پارٹی کی چیئر پر سن خالدہ ضیا کے جنازے میں بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی ڈھاکا میں شرکت اور ان کے تعزیتی پیغام میں احترام کا مظاہرہ یہ پیغام دیتا ہے کہ بھارت اب بی این پی کو اقتدار میں دیکھنا چاہتا ہے۔ تاہم بھارت کی غیر تحریری شرط یہ ہے کہ بی این پی کو جماعت اسلامی کا ساتھ چھوڑنا ہو گا۔ بھارتی میڈیا اس سیاسی مرضی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جماعت اسلامی کے خلاف مہم چلا رہا ہے۔ وہ جماعت کو پاکستان نواز اور اینٹی انڈیا ” قوت کے طور پر پیش کر رہے ہیں تاکہ بی این پی ان سے دور رہے اور عالمی برادری جماعت کو تسلیم نہ کرے۔ بنیادی طور پر ، جماعت کو الگ تھلگ کرنے کی یہ حکمت عملی دہلی کی نیبر ہڈ فرسٹ پالیسی کا حصہ ہے ، جہاں وہ اپنی ناپسندید و طاقت کو اخلاقی طور پر کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ کالعدم عوامی لیگ نے اگر چہ انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے لیکن توقع ہے کہ وہ اور دیگر تمام لبرل، سیکولر اور ہندوستان نواز حلقے اپنا وزن بی این پی کے پلڑے میں ڈالیں گے۔ بی این پی نے عوامی لیگ کے بعض سابق رہنمائوں کو انتخابی امید وار بھی بنایا
بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے جلسوں اور جلوسوں میں عوام کی بہت بڑی تعداد شریک ہو رہی ہے۔ جماعت اسلامی جو گزشتہ پندرہ سال سے پابندی کی وجہ سے منظر عام سے عملاً غائب رہی اب جب اسے اپنی طاقت کے اظہار کا موقع ملا ہے تو عوام کی پذیرائی کا ہر منظر قابل دید ہوتا ہے۔ حد نگاہ سے بھی دور تک بل کھاتی سڑکوں اور گلیوں میں پھیلے ہوئے سروں سے سجے ان کامیاب جلسوں کے باوجود جماعت اسلامی کا دوسری جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی غیر معمولی کوشش یقینا قابل تعریف ہے۔ قابل تحسین بات یہ ہے کہ جماعت جلسوں کے بجائے سائنٹیفک سر ویز کو فیصلہ سازی کی بنیاد بنارہی ہے۔ ہماری معلومات یہ ہیں کہ امید واروں کے حتمی فیصلہ کے لئے بھی جماعت خود اپنے وسائل لگا کر سرویز کروا رہی ہے۔ جماعت اسلامی نے اپنی انتخابی حکمت عملی تیار کرنے میں انتہائی فراست اور بالغ نظری کا مظاہرہ کیا ہے۔ جماعت اسلامی کی قیادت میں اتحاد میں دینی جماعتوں کے ساتھ ساتھ لبرل اور سیکولر پارٹیز کی شمولیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ جماعت نے اپنے روایتی انداز سیاست میں لچک پیدا کی ہے۔ اس بار جماعت نے اچھی شہرت والے عام افراد ( جو جماعت کے رکن بھی نہیں ہیں) کو بھی ٹکٹ دیئے ہیں۔ جماعت نے اس انتخابات میں پہلی مرتبہ غیر مسلم امیدوار ، جناب کرشنا نندی کو بھی ٹکٹ دیا ہے۔ غالباً اس لئے اقلیتوں ، ہندو اور عیسائی برادری کے لوگ بڑی تعداد میں جماعت اسلامی کی کھل کر حمایت کر رہے ہیں امیر جماعت اسلامی نے 2 جنوری کو رائٹر کو دیئے گئے انٹرویو میں تمام جماعتوں (بشمول بی این پی) کے ساتھ یونٹی اور قومی حکومت میں شمولیت پر آمادگی کا عندیہ دیا ہے۔ جماعت اسلامی کے اس مصالحانہ و ذمہ دارانہ رویہ سے یہ تاثر ختم ہو رہا ہے کہ جماعت ایک انتہا پسند تنظیم ہے جس کے ساتھ سب کا کام کرنا مشکل ہے۔ بلا شبہ بنگلا دیش جماعت اسلامی نے انتخابات اور گورننس کے سسٹم کو اچھی طرح سمجھ کر اس کے حساب سے ایک عملیت پسند حکمت عملی ترتیب دی ہے۔
انتخابات کے ضمن میں تازہ ترین اہم خبر یہ ہے کہ ملک کی ایک بڑی مذہبی جماعت اسلامی اندولن بنگلہ دیش نے جماعت اسلامی کی قیادت میں بننے والے انتخابی اتحاد سے نکلنے اور 13 ویں پارلیمانی انتخابات آزاد حیثیت میں لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسلامی اندولن بنگلہ دیش کے ترجمان غازی عطا الرحمان نے ایک پر یس کا نفرنس کے دوران بتایا کہ ان کی پارٹی انتخابات میں 268 حلقوں سے آزاد حیثیت میں حصہ لے گی۔ واضح رہے کہ2024 کے اواخر میں اسلامی اندولن ، جماعت اسلامی اور دیگر دینی جماعتوں نے فروری کے عام انتخابات سے قبل جولائی چارٹر کے نفاذ کے مطالبے پر ایک اتحاد تشکیل دیا تھا جو بعد میں انتخابی اتحاد میں تبدیل ہو گیا تھا۔ انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد اس اتحاد میں نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی)، لبرل ڈیمو کریٹک پارٹی (ایل ڈی پی ) اور امار بنگلہ دیش پارٹی (اے بی پی ) کی شمولیت کے بعد اتحاد 11 جماعتوں پر مشتمل ہو گیا تھا۔ اب اسلامی اندالون کے نکلنے کے بعد یہ دس جماعتی اتحاد ہو گیا ہے۔
اگر چه اسلامی اندالون بنگلہ دیش ( انتخابی نشان، ہاتھ کا پنکھا ) کے نام کے لغوی معنی اسلامی انقلابی جماعت کے ہیں، یہ دیوبندی فکر کے حامل جمعیتہ العلما ہند کے جانشین روایت پرست علماء کی سیاسی تنظیم ہے۔ دیوبندی مکتبہ فکر کی دوسری تنظیم جمیعت علما اسلام پہلے ہی چار سیٹوں کے عوض بی این پی سے اتحاد کر چکی ہے۔ اسلامی اندالون بنگلا دیش کی قیادت چار مونائی کے پیر ، 54 سالہ پیر سید رضا الکریم کر رہے ہیں ان کے چھوٹے بھائی سید فیض الکریم جماعت کے نائب امیر ہیں۔ اس جماعت کا قیام موجودہ امیر کے والد سید فضل الکریم نے 1987 میں کیا تھا۔ سید فضل الکریم نے جنوبی بنگلا دیش میں چار مونائی، باریسال کے مقام پر ایک بڑا مدرسہ، جامعہ رشیدیہ اسلامیہ بھی قائم کیا تھا جس کے فارغ التحصیل علما ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اسلامی اندالون بلاشبہ دینی اشوز پر جارحانہ موقف اور مزاحمت کی سیاست کی وجہ علماء، دینی حلقوں اور ملک کے بعض علاقوں میں مضبوط اثرات رکھتی ہے لیکن 3 سے 5 فی صد ووٹ رکھنے والی اس جماعت کی تنہا پرواز کے فیصلہ نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ شنید ہے کہ جماعت کے کرتا دھر تا دو بھائیوں میں ایک اتحاد کے حامی اور ایک سخت مخالف ہیں۔
بنگلا دیش میں سیاسی جماعتوں کی پوزیشن اور اسلامی اندالوں کے جماعت اسلامی کے اتحاد سے علیحدگی کے انتخابی نتائج پر کیا اثرات کو سمجھنے کے لئے نومبر 2025 میں امریکا کے انٹر نیشنل ری پبلیکن انسٹیٹیوٹ کا سروے بھی اہم ہے۔ اس سروے میں پوچھے گئے اس سوال کے جواب میں کہ انتخابات اگلے ہفتہ ہوں تو آپ کسے ووٹ دیں گے درج ذیل صورت حال سامنے آئی
بی این پی 33 فیصد
جماعت اسلامی 29 فیصد
نیشنل سٹیزن پارٹی 6 فیصد
اسلامی اندالون 5 فیصد
جاتیہ پارٹی 4 فیصد
دیگر پارٹیاں 3 فیصد
جواب نہیں دیا معلوم نہیں 20 فیصد
ہمارا اندازہ ہے کہ جماعت اسلامی کے اتحاد میں سیٹوں کی تقسیم کے لئے اس سروے کو سامنے رکھا گیا۔ اتحاد نے ابتدائی طور پر جماعت اسلامی کو 190، این سی پی کو 30، اسلامی اند الون کو 35 ، خلافت کے نام سے منسوب تینوں جماعتوں کو کل 29 سیٹیں، دیگر چھوٹی جماعتوں کو 16 سیٹیں دینا طے کیا تھا۔ اسلامی اندالون پارٹی کو ان سرویز کے مطابق اس کے حصہ بقدر جثہ سے زائد 35 سیٹیں دی گئی تھیں لیکن وہ نامعلوم کس بنیاد پر وہ 80 سیٹوں کا مطالبہ کر رہی تھی۔ اسلامی اندالون نے حتمی فیصلہ کے لئے ہونے والے اتحادی جماعتوں کے حالیہ سربراہ اجلاس کا بائی کاٹ کیا تھا اس کے باوجود جماعت اسلامی اور اتحاد کی دیگر جماعتوں نے وسعت قلبی مظاہرہ کرتے ہوئے ایک پریس کا نفرنس میں اپنے حصہ کی سیٹوں کو کم کرتے ہوئے اسلامی اندالون کے لئے 47 نشستیں چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔ اس پر یس کا نفرنس میں دس جماعتوں کے سر بر اہان کی بھر پور شرکت اور اظہار یک جہتی نے اتحاد میں پھوٹ کی خبروں کی ہو انکال دی۔ اسلامی اندالون کے اس انتہائی اقدام کے باوجو د امیر جماعت نے کارکنوں کو منفی تبصروں سے روک دیا ہے۔
یہ سوال تو بنتا ہے کہ اسلامی اندالون جس نے آج تک پارلیمان کی کبھی ایک نشست بھی نہیں جیتی اس نے اتحاد سے ملنے والی نسبتا محفوظ 47 نشستوں کے بجائے تن تنہا 268 نشستوں پر انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیوں کیا ؟۔ اس سلسلہ میں کئی آراء پائی جاتی ہیں۔ غالب رائے یہ ہے کہ اس کی بنیادی وجہ ان روایتی مولویوں کا جماعت اسلامی سے بغض ہے جس کی وجہ سے وہ جماعت اسلامی کی بالا دستی کو روکنے کے لئے کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہیں۔ ان مولویوں کی بی این پی کے ساتھ ساز باز کا الزام تو شاید درست نہ ہو لیکن انہیں خوب اچھی طرح معلوم ہے کہ ان کے اس عمل کے نتیجہ میں بی این پی مخالف ووٹ کی تقسیم کا فائدہ بی این پی کو ہی ہو گا۔ ایک رائے یہ ہے کہ اسلامی اندالوں کا اصل ہدف زیادہ سیٹیں نہیں زیادہ ووٹوں کا حصول ہے تا کہ انہیں متناسب نمائندگی کی بنیاد پر ایوان بالا یا سینیٹ میں زیادہ نشستیں مل سکیں۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ اعلان اتحاد سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے کا ہی ایک آخری حربہ ہے۔
اسلامی اندالون بنگلہ دیش کے جماعت اسلامی کے زیر قیادت اتحاد سے نکلنے کے بعد ان کو دی گئی 47 نشستوں کی تقسیم پر 10 اتحادیوں نے نظریں جمالی ہیں۔ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اکثریتی نشستیں جماعت اسلامی کو ملیں گی اور دوسرے نمبر پر این سی پی آئے گی کیونکہ این سی پی کی جڑیں ملک بھر میں ہیں۔
جماعت تقریباً 190 سے 200 نشستیں اپنے لیے رکھنا چاہتی ہے اور باقی نشستوں کے لیے دیگر جماعتوں سے مذاکرات کرے گی۔ داخلی سروے کے ذریعے ، جماعت نے تقریباً 170 سے 175 حلقوں کی نشاندہی کی ہے جہاں اسے یقین ہے کہ جیتنے کے اچھے امکانات ہیں۔ اس کے علاوہ، جماعت تقریباً 20 مزید نشستوں میں امیدوار کھڑا کرنا چاہتی ہے، جہاں پارٹی کے مطابق، اتحاد مضبوط امیدوار کھڑا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ تازہ ترین معلومات کے مطابق این سی پی کو 30، بنگلہ دیش خلافت مجلس ( جس کی قیادت مامون الحق کر رہے ہیں) کو 20، خلافت مجلس کو 10 ، لبرل ڈیمو کریٹک پارٹی کو سات ، امار بنگلا دیش پارٹی کو تین اور بنگلا دیش ڈویلپمنٹ پارٹی کو دو نشستیں دینے پر اتفاق کیا ہے۔ لبرل ڈیمو کریٹک پارٹی کے صدر کرنل (ریٹائرڈ) اولی احمد جنہوں نے ملک کی جنگ آزادی میں نمایاں کردار ادا کیا تھا، انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے ، اگر چہ ان کے بیٹے، عمر فاروق، چٹا گانگ -14 سے انتخابات لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ امار بنگلا دیش پارٹی کو متوقع طور پر تین نشستیں ملیں گی، جس میں چیئر مین مجیب الرحمٰن منجو فینی -2 سے اور جنرل سیکریٹری اسد الزمان بھو یان ( فواد ) باریسال – 3 سے انتخابات لڑیں گے۔ بنگلا دیش ڈویلپمنٹ پارٹی کو دو نشستیں مل سکتی ہیں، جس میں چیئر مین اے کے ایم انورال میمن سنگھ -9 سے اور سیکریٹری جنرل نظام الحق نعیم بھولا – 3 سے انتخابات لڑیں گے۔ چھوٹے جماعتیں جیسے بنگلہ دیش خلافت تحریک ، نظام اسلام پارٹی اور جے اے جی پی اے ہر ایک کو ایک یا دو نشستیں مل سکتی ہیں۔
ان انتخابات کے حتمی نتائج جو بھی ہوں بنگلا دیش کی نو دریافت شدہ جمہوریت میں جماعت اسلامی ایک موثر طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے جس کے معاشرہ کے ہر طبقہ میں گہرے اثرات ہیں، اس کے سب سے زیادہ اثرات طلبہ و طالبات اور نوجوانوں میں محسوس کئے جارہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے عروج کی وجوہات کو سمجھنے کے لئے گزشتہ پچاس، ساٹھ سال کے طویل صبر آزما سفر کو مد نظر رکھنا ضروری ہو گا۔ خیال رہے کہ اس ہی جماعت اسلامی کے وابستگان نے حسینہ واجد کے پندرہ سالہ دور استبداد میں ظلم و ستم کے کرب ناک طوفانوں کا مقابلہ کیا ہے جب اس کے صف اول کے تقریباً تمام قائدین کو پھانسی دے دی گئی، اس کے ہزاروں کارکنان جبرا غائب کر دیئے گئے یا جیلوں میں سڑتے رہے، سینکڑوں افراد نے جام شہادت نوش کیا لیکن ان کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی۔ جماعت اسلامی کے کارکنوں نے 1971 کی جنگ کے دوران اور اس کے بعد ایک اور خون کا دریا عبور کیا تھا۔
بنگلا دیش جماعت اسلامی کے طویل سفر اور اس کے نتیجہ میں ملنے والی کامیابی میں پاکستان کی جماعت اسلامی کے لئے بہت سے سبق ہیں۔ بنیادی بات تو یہ ہے کہ نظریاتی جماعتوں کے لئے حالات کی پروا کئے بغیر اپنے نظریہ ، نصب العین اور مقصد پر جمے رہنا ہی اصل کلید کامیابی ہے۔ بنگلا دیش میں جماعت کی کامیابی سیاسی جماعت کو تحریک اسلامی سے علیحدہ کرنے کی بحث کو بھی ختم کر دے گی۔ بعض لوگوں کا یہ اصرار کہ موجودہ حکمت عملی ہمیں کبھی کامیابی نہیں دلا سکتی غلط ثابت ہو گا۔ اصل سبق یہی ہے کہ وابستہ رہ شجر سے اور امید بہار رکھ۔ صبر و حکمت کے ساتھ دعوت دین کا ان تھک و مسلسل کام اور عوام الناس سے قریبی رابطہ ہی برگ و بار لا سکتا ہے۔ بنگلا دیش کے ان انتخابات کے نتائج جو بھی ہوں وہ خطہ میں ہندوستان کی بالا دستی کے خواب کو چکنا چور کرنے کے عمل کو تکمیل تک پہنچائیں گے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش تعلقات میں گرم جوشی کا نیا باب کھل جائے گا جس کے نتیجہ میں لا محدود امکانات کی راہ ہموار ہو گی۔
بنگلادیش : انقلاب سے انتخاب تک
















