Advertisement

چاچا کرکٹ: قوم کی توجہ کا منتظر

‎کیا واقعی، جی ہاں چاچا کرکٹ ایک غریب آدمی تھا، سوشل سینٹر کی طرف رواں دواں میں نے اشفاق بھائی کو جب یہ بتایا تو وہ چند لمحوں کے لیے حیرت زدہ رہ گیا، میں تو اسے ایک خوشحال انسان سمجھتا تھا،مجھے بھی یہ بات متحدہ عرب امارات کے معروف صحافی اور دنیا بھر کی صحافی برادری کے لیے رول ماڈل جناب سہیل خاور صاحب کی زبانی معلوم ہوئی (رول ماڈل اس لیے جناب خاور صاحب صحافت کو خدمت اور کاروبار کو ذریعہ معاش بنائے ہوئے ہیں اور آج آپ کا شمار ایک کامیاب کاروباری شخصیت کے طور پر ہوتا ہے )
‎میں نے جواب دیا۔
‎اس سے پہلے کہ بات آگے بڑھے آپ کو بتاتا چلوں پاکستان سوشل سینٹر شارجہ متحدہ عرب امارات میں پاکستان کا ایک قابل فخر ادارہ ہے ۔
یہ ادارہ جناب خالد حسین چوھدری کی زیر صدارت ، جناب عمران اسلم ، جناب فراز احمد صدیقی ، حافظ عبدالروف اور کلچرل ہیڈ محترمہ صائمہ نقوی اور دیگر قابل قدر افراد کی معاونت سےمتحدہ عرب امارت میں بسنے والے پاکستانیوں کی مسلسل راہنمائی ، خدمت ، امارات و پاکستان کے قومی دنوں کی مناسبت سے پروگرامز کا انعقاد، عید میلادالنبی ﷺ اور دیگرمواقع پر پروقار تقریبات کے ساتھ پاسپورٹ شناختی کارڈ کی تجدید کے علاوہ دیگر شاندار خدمات سرانجام دے رہا ہے ۔ اشفاق بھائی کے ساتھ پاکستان سوشل سینٹر شارجہ جانے کا مقصد بھی پاسپورٹ کی وصولی ہی تھا، واپس آتے ہیں صوفی عبدلجلیل کی طرف ۔
‎سہیل خاور صاحب کی کم و بیش تین دہائی قبل صوفی عبدلجلیل سے پہلی ملاقات ابو ظہبی میں ھوئی ،اور انہوں نے روزنامہ جنگ کے لیے ان کا انٹرویو کیا ، جس میں انہوں نے دنیا بھر میں پاکستان کا پرچم بلند کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
‎سہیل صاحب نے اس وقت کے وزیر اطلاعات جناب مشاہد حسین سید تک یہ خواہش پہنچائی ، شاہ جی کی خصوصی شفقت سے ان کو بنگلہ دیش کے لیے ویزہ لگوا کر دیا گیا ،اس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے ماھانہ وظیفہ بھی مقرر کر دیا لیکن ٹکٹ اور رھائش کا بندو بست چاچا کرکٹ خود کرتے تھے ، مزدوری کرتے اور اور جمع پونجی دوروں پر لگا کر پاکستان کا پرچم بلند کرتے رھے ، لیکن اپنا ذاتی گھر نہ بنا سکے ۔
‎ زندگی بھر محنت مزدوری کے دوران اپنے اس خواہش کی آبیاری کی ” دنیا بھر میں پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند کیے ، ان کی خواہش تھی کہ دنیا بھر کے کرکٹ کے میدان پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونجیں ، اور پھر اپنے خون پسینے کی کمائی خرچ کرکے انہوں سوہنی دھرتی سے اپنی لازاول محبت کا حق اد کردیا ، دنیا بھر میں نہ صرف سبز حلالی پرچم بلند کیا بلکہ کرکٹ کے میدان پاکستان زندہ باد ، پاکستان پائندہ باد کے نعروں سے آباد کردییے ، سہیل خاور کو دبئی میں مقیم معروف صحافی جناب طاہر منیر طاہر نے بتایا کہ آج عمر کے اس حصہ میں جب انہیں آرام کی ضرورت ہے وہ اپنے ذاتی گھر سے بھی محروم ہیں ، دو کمروں پر مشتمل کرایہ کے گھر میں ایک درجن سے زائد مکینوں کے ساتھ رہنے پر مجبور ہیں۔( طاہر منیر طاہر نے ‎صوفی عبدلجلیل کی درخواست پر ان سے ملاقات کی تھی)
‎اس قدر سادہ اور کسمپرسی کی حالت دیکھ کر طاہر منیر طاہر کے دل پر گہرا اثر ہوا۔ ایک لمحے کو انہیں یوں لگا جیسے قوم کا پرچم تھامنے والے ہاتھ خود بے سہارا ہیں۔ طاھر منیر طاھر نے صرف زبانی اظہار افسوس پر اکتفا نہیں کیا بلکہ عبدالشکور مرزا کے ساتھ مل کرعملی قدم اٹھانے کا فیصلہ بھی کیا اور عملی کوششوں کا آغاز کردیا ، آپ کی محنت رنگ لائی اور مخیر حضرات کے تعاون سے دس مرلے زمین خالد وسیم ایڈووکیٹ نے دی اسی پر بس نہیں طاہر منیر طاہر نے اپنی جانب سے ایک لاکھ روپے بھی بھیجے تاکہ وہ اپنے گھر کی تعمیر کا آغاز کر سکیں۔یہ صرف مالی مدد نہیں، بلکہ ایک اعتراف ہے کہ جو لوگ قوم کا نام بلند کرتے ہیں، وہ ہماری توجہ اور قدر کے مستحق ہیں۔
‎چاچا کرکٹ کی زندگی ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ شہرت ہمیشہ آسائش نہیں لاتی۔ بعض اوقات سب سے اونچے نعرہ لگانے والا دل ہی سب سے زیادہ خاموش دکھ سہہ رہا ہوتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے قومی جذبے کی علامتوں کو صرف نعروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ ان کے لیے عملی طور پر بھی آسانیاں پیدا کریں۔ کیونکہ جو شخص ساری دنیا پاکستان کا پرچم بلند کرے، اسے کم از کم اپنی چھت تو میسر ہونی چاہیے۔۔طاہر منیر کی محبت کا اظہار اس بات کی علامت بھی ہے کہ معاشرے میں ابھی بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنے محسنوں اور نمائندہ شخصیات کو تنہا نہیں چھوڑتے۔
‎چا چا کرکٹ ہمیں یہ سبق دیتا ھے کہ اصل محبت مفاد کی محتاج نہیں ہوتی۔ وہ نہ کسی عہدے کے طالب رہے، نہ کسی انعام کے۔ انہوں نے صرف اپنے وطن کے نام کو سربلند کرنے کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔
‎ایسی شخصیات قوم کا اثاثہ ہوتی ہیں۔ آئیے ہم اپنے قومی ہیروز کو صرف نعروں تک محدود نہ رکھیں بلکہ عملی طور پر بھی ان کی قدر کریں۔ کیونکہ جو لوگ دنیا بھر میں پاکستان کا پرچم بلند کرتے ہیں، وہ دراصل ہمارے اجتماعی وقار کے محافظ ہوتے ہیں ھمیں ایسے لوگوں کو صرف اسٹیڈیم کی رونق سمجھ کر نہیں بھول جانا چاھیے بلکہ ان کی زندگی کے عملی مسائل کو بھی سمجھنا چاہیے ۔
‎جو ھاتھ پوری دنیا میں پاکستان کا پرچم بلند کرے وہ ھاتھ کمزور نہیں مضبوط ھونا چاھیے قدم بڑھائیں اور مل کر پاکستان کی شان ، پاکستان کی آن کا ساتھ دیں ، میں ملتمس ہوں حکومت پاکستان ، سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور کرکٹ بورڈ سے برائے کرم چچا جان کی ہر ممکن مدد کی جائے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور اپنی تحریر، تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ bisaat.mag@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔
error: