ڈاکٹر غنی الاکرم سبزواری (سابق لائبریرین جامعۃ ام القری مکہ مکرمہ) جنھوں نے سربراہ لائبریری سایٔنش اینڈانفارمیشن سائنس کی حیثیت سے 11 سال(۱۹۶۲۔۱۹۷۵ء) کراچی یونیورسٹی اور بعد ازاں جامعہ ام القری میں ۲۷سال خدمت انجام دی۔ ۲۰۰۲ء میں ریٹائرمنٹ کے بعد کراچی واپس چلے گئے،جہاں سے امریکا منتقل ہوگئے۔ڈاکٹر صاحب کچھ عرِصہ قبل عمرے کی غرض سے مکہ مکرمہ تشریف لائے تو ان کے اعزاز میں دیے گئے عصرانہ میں راقم (جن کا موصوف تقریبا 65 سالہ تعلق ہے )سے تفصیلی بات چیت میں لائبریری و انفارمیشن سائنس کے بارے میں کہا کہ بر صغیر میں لائبریری کی روایت بہت پرانی ہے۔ لائبریرینز (امین مکتبہ)نے علم کی توسیع اور تحقیق میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔لائبریری و انفارمیشن سائنس ایک علم ہے جو عالمی جامعات کے نصاب میں شامل ہے۔ بر صغیر میں اس علم کی باقاعدہ تعلیم کی ابتدا سو سال قبل ء 1915 میں جامعہ پنجاب یعنی موجودہ پاکستان سے ہوئی تھی۔ آج یہ علم پاکستان کی متعدد جامعات کے نصاب کا حصہ ہے۔ لایٔبریرین کو باقاعدہ تعلیم دینے کی تاریخ پر بتایا کہ قیام پاکستان کے بعد ۱۹۵۶ء میں ڈاکٹر عبدالمعید (رح) نے پوسٹ گریجویٹ ڈپلوما جامعہ کراچی میں شروع کیا بعد ازاں دیگر جامعات نے بھی ڈپلوما کورس شروع کئے ۔ایم اے کی تعلیم باقاعد ہ کراچی یونیورسٹی میں 1962، پنجا ب یو نیورسٹی (1974ء )ِ، سندھ یو نیورسٹی (1976ء ) پشاور یو نیورسٹی (1982ء ) ‘ بلوچستان یو نیورسٹی (1983ء) ‘ اسلامیہ یو نیورسٹی بہاولپور (1983ء ) میں رسمی نظام تعلیم کے تحت شروع ہوئی۔علا مہ اقبال اوپن یو نیورسٹی ملک میں لائبریری و انفارمیشن سا ئنس میں ما سٹر پروگرام شروع کر نے وا لی سا تویں یو نیورسٹی ہے ۔جامعہ ام القری کی موجودہ کتب خانہ کے بارے میں کہا کہ مکہ مکرمہ عالمِ اسلام کا مرکز ہے اِسکی جامعہ میں تمام اسلامی ممالک کی زبانوں کا تحقیقی مواد اْن کی زبانوں میں جمع کیا جاناچاہئے۔ڈاکٹر سبزواری نے پاکستان میں کتب خانوں اور اس پیشہ کی خدمات میں محمد عادل عثمانی ؒ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوے ڈاکٹر نسیم فاطمہ اور ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی کی خدمات کو بھی بطور خاص سراہا۔ اپنی موجودہ مصروفیات کے سوال پر کہا کہ میں اس عمر میں بھی مستقل سفر کرتا ہوں اور پاکستان میں بھی چار ماہ گزارتا ہوں۔ دورانِ سفر تحریر و تحقیق کیلئے اپنا لیپ ٹاپ ساتھ رکھتا ہوں۔ پاکستان کے کئی بڑے شہروں کی جامعات کے کتب خانوں اور شعبہ لائبریری سائنس میں جاکر بھی اپنی علمی معلومات میں اِضافہ کا خواہشمند ہوتا ہوں وہاں جو بھی تحقیقی کام ہورہا ہے اْ س سے شناسائی حاصل کرتا رہتا ہوں ۔ نیز نوخیز عملہ کو تحقیق کی طرف مائل کرنے کے لئے ان کو اپنے سہ ماہی مجلہ Pakistan Library and Information Science Journal میں تحقیقی مقالات بھیجنے کی ترغیب دلاتا ہوں۔ہمارا یہ مجلہ 60 سال سے مسلسل شائع ہورہا ہے۔ہم اب تک لائبریری پروموشن بیوروسے 70 کتابوں سے زیادہ شائع کرچکے ہیں۔۔(لائبریری پروموشن بیورو1966ء میں قائم ہوا او2016ء میں اس کے پچاس سال مکمل ہوگئے )۔
اس ادارہ کہ تحت ’ کیابیت گئی قطرہ پہ…سوانخ۔ غنی الاکرم سبزواری کے علا وہ ’
- First Famous Facts of Muslim World by Ghaniul Akram Sabzwari
- Pakistan Library and Information Science Journal
مارکیٹ میں آچکی ہیں ۔۔۔
ڈاکٹر صاحب نے کراچی کی بزم اکرم کا قصہ بھی سناتے ہوے بتایاکہ میرے مکہ مکرمہ موجودگی کے دوران ہی شاگردوں نے بزمِ اکرم قائم کی ۔اِس کا مقصد علمِ لائبریری سائنس اور دیگر علوم کے تعلق سے ایک مجلہ جاری کرنا تھا جس میں ہر شعئبہ علم کے حضرات اپنی تحقیقی کاوشوں کو شائع کرسکیں۔ پروفیسرڈاکٹر نسیم فاطمہ اِس کی مدیر اعلیٰ ہیں اور وہ پابندی سے ہرسال یہ مجلہ شائع کرتی ہیں ۔اِس مجلہ میں لائبریرینز حضرات کے علاوہ دِیگر علوم کے محقیقین اپنے مقالات بھیجتے ہیں جو شائع کئے جاتے ہیں۔ اس میں شاعری، افسانے ، ڈرا مے ، سفرنامے ، سوانح، لطیفے ، دیگر علوم سے متعلق مقالات شائع ہوتے ہیں جس کے باعث یہ مجلہ خاصہ مقبول ہورہا ہے۔ ڈاکٹر سبزواری نے کہا کہ ہماری بدنصیبی کے ہمارے یہاں اہلِ اقتدار کو کتب خانوں کی تنظیم و ترقی کا قطعی خیال نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں تحقیق کا معیار بہت پست ہے۔گوہماری جامعات میں کتب خانے موجود ہیں لیکن وہ مالی امداد کو ترستے ہیںاور جدید موادحاصل نہیںکرپاتے۔ اسکولوں میں تو کتب خانوں کا تصورہی نہیں ہے۔ کالجوں کے کتب خانوں کاحال ابتر ہے۔ جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں کتب خانے تعلیمی اداروں میں قلب کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ترقی یافتہ ممالک میں کتب خانے قارئین اور محققین کو جدید اور تازہ علمی اور تحقیقی مواد فراہم کرتے ہیںجس کے باعث وہاں تحقیق عالمِ عروج پر ہے۔ایسے ہی پاکستان میں عوامی کتب خانے بھی بہت خستہ حالت میںہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں عوامی کتب خانوںکو عوام کی جامعات کہا جاتا ہے ۔ وہاں عوام الناس اپنی علمی اور تحقیقی حاجات عوامی کتب خانوں سے حاصل کرتے ہیں۔ رسمی تعلیم ختم کرنے کے بعد تحصیلِ علم ختم نہیں ہوتا ، علم اور تحقیق کے لئے عوام ، عوامی کتب خانوں سے فیضیا ب ہوتے ہیں۔ضرورت اِ س امرکی ہے ہمارے قائدیں کتب خانوں کی ترقی کے لئے قومی سطح پرلائبریری قانونLibrary Legislation نافذکریں تاکہ سلسلہ وار قومی کتب خانے سے لیکر تحصیل اور شہروں میں عوام کتب خانوں کا جال ابچھا یا جاسکے اور تعلیمی اداروں میں اسکول، کالج اور جامعات میں کتب خانوںکو معیاری اندازسے قائم کیا جاسکے۔نوبل پرائز پر کہا کہ ہماری تحقیق کا معیار یہ ہے کہ کل عالم اسلام کے دس حضرات کو یہ انعام ملا جن میں تحقیق میں صرف چار ہی ہیں باقی چھ کو سیاسی بنیاد پر دیاگیا جبکہ 186 یہودی اور 135عیسائیوں کو ملا۔ یہودی دنیامیں کتنے ہیں اور مسلمان کتنے ہیں ؟ ایک سروے میں دنیاکی سو جامعات کے نام دیئے گئے تھے جس میں اسلامی ممالک کی صرف ملیشیا کی ایک جامعہ کا نام تھا جبکہ اسرائیل کی چھ جامعات تھیں۔اِس سے اندازہ سے لگایا جاسکتاہے کہ ہم تعلیم وتحقیق میں بد ترین سطح پر ہیں۔ڈاکٹر سبزواری نے بتایا کہ انھوں نے ایک کتاب امریکہ میں رہتے ہوئے دوسال میں مرتب کی جس میں مسلمانو ں کی تحقیقات پر مبنی ایجادات اوراِنکشافات کو شائع کیا گیاہے۔
First Famous Facts of Muslim World World. 2012
کسی بھی علم میں تحقیق کی جائے تو پہلامحقق یا ایجاد کرنیوالا مسلمان ملتا ہے۔ 500سال تک یورپی جامعات میں مسلمانوں کی کتابوں کاترجمہ کرکے تعلیم وتحقیق کوفروغ دیا گیا۔ دراصل مسلمانوں نے ساتویں سے تیرھویں صدی عیسوی تک تحقیقات کیں اس کے بعد قلم رکھ دیا ، کتاب بند کردی اور عیش وعشرت میں مبتلا ہوگئے جس کے نتیجہ میں ہم آج دنیا میں کم ترین گردانے جاتے ہیں۔
















