Advertisement

نوجوان دورحاضرہ میں وقت کی قدر کریں، پروفیسرڈاکٹرمحمد شبی ہاشمی

بین الاقوامی شہرت یافتہ ریسرچ اسکالر پروفیسر ڈاکٹر محمد شبی ہاشمی ایجوکیشنل ایڈوائزر حکومت کازقبستان جن کا تعلق صوبہ بہار سے ہے، عمرہ کیلیے تشریف لائے جہاں ان سے ملاقات کا خصوصی اہتمام کیا گیا۔مجلس کے منتظم سید اعجاز الحق نے بساط انٹرنیشنل میگزین کے نمائندہ خصوصی سید مسرت خلیل کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر ہاشمی نے فرمایا کہ ہمارے نوجوان دور حاضرہ میں وقت کی قدر کریں اور اسکی اہمیت سمجھتے ہوئے زندگی کا اصول بنالیں اسکے بعد ہی اعلی مقام ملینگے۔ مزید فرمایا کچھ اہم نقطہ پر اگر ہم سب ابھی سے عمل کرنا شروع کر دیں تو حالات میں نمایاں تبدیلی جلد از جلد دیکھنے کو ملےگا۔ اپنے بچوں کی شادی قانونی وقت ہوتے ہی فوری کر دیں ذرا بھی تاخیر نہ کریں، بے حساب برائیاں ہماری سوسائٹی سے ختم ہو جائے گی اور مستقبل بھی روشن ہوگا۔ جہیز جیسی لعنت کو ترک کریں کم خرچ میں شادی کی تکمیل ہو۔ اعلی تعلیم کے ساتھ ساتھ بنیادی دینی تعلیم کو فرض سمجھ کر ہر ایک والدین اپنے بچوں کو ضرور بنیادی تعلیم دلائیں دانشور شخصیات اسکا باضابطہ مفت بندوست کرائیں۔ قوم کا ہر بچہ اس لائق بن جائے کہ اپنے والدین کا جنازہ خود پڑھا سکے اور والد یا بھائی اس لائق ہو سکے کہ اپنے بچوں / بھائی بہن کا نکاح پڑھ سکیں۔ اخلاقیات اور معاملات میں صداقت کی سخت ضرورت ہے ہر استاد اپنے بچوں کو امانت و دیانت داری، پابندیوں کے ساتھ تعلیم دیں تاکہ ایک خوشگوار سوسائٹی تیار ہو سکے۔ موجودہ این آر آئی بہاری سے درخواست کی کہ اپنی جائز ڈیمانڈکو آگے بڑھاتے ہوئے وزیر اعلی تک عاجزانہ پیغام بھیج کر این آر ائی بہاری کے لئیے الگ محکمہ یا وزارات قائم کرنے کی درخواست کریں جیسا کہ دوسری ریاستوں میں ہے اور لوگ مستفید ہو رہے ہیں اسی طرز پر بہار میں بھی ہونا چاہئے۔ اس سے مستقبل کی پریشانیاں دور ہونگی ۔ یاد رکھیں نسل ہی اصل ہے ملک ریاست سوسائٹی ،اپنا گھر اور مستقبل سب کچھ آپ پر ہی منحصر ہے۔ کافی تعداد میں اہم شخصیتوں نے حصہ لیا جس میں خاص مقیم منتظم کی حیثیت سے اجلاس میں مسعود اعظم خان، سید طالب احمد، سید اعجاز الحق ، شیخ عبداللہ نصیر الدین عمری مدنی وغیرہ وغیرہ تھے۔ ارکان نشست نے پروفیسر، اسکالر ، ڈاکٹر شبی ہاشمی کا قیمتی وقت دینے پر شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹرمحمد شبی ہاشمی اور ان کے فرزند نے میزبانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بے شمار خوشیوں کا اظہار کیا۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور اپنی تحریر، تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ bisaat.mag@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔
error: