اس وقت جس چیز نے مغربی دنیا میں بھونچال برپا کیا ہوا ہے ، وہ ایپسٹین فائلز ہیں ۔ یہ ایک امریکی مالیاتی مشیر جیفری ایپسٹین کی ای میلز پر مبنی ریکارڈ ہے جو اب پبلک کیا گیا ہے ۔ یہ اہم ترین سوال ہے کہ آخر اس میں ایسا ہے کیا جس نے پوری مغربی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ ہم ایپسٹین فائلز کے بارے میں اب تک جو جانتے ہیں ، اسے انتہائی اختصار کے ساتھ دیکھیں تو یہ ہے کہ ایف بی آئی نے تقریبا 30 لاکھ سے زاید صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کی ہیں ۔ ان فائلوں میں ایک لاکھ 80 ہزار تصاویر اور 2 ہزار ویڈیوز بھی شامل ہیں ۔ جو ایپسٹین کی جیل کی زندگی ، اس کی نفسیاتی رپورٹ اور اہم شخصیات کے ساتھ ای میلز پر مشتمل ہیں ۔ جاری کردہ مواد کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی روزانہ صرف ایک فائل ، ایک وڈیو اور ایک تصویر دیکھے تو جاری کردہ صفحات مکمل دیکھنے میں پونے آٹھ ہزار سال لگیں گے ، دو ہزار وڈیوز دیکھنے میں تقریبا پانچ سال لگیں گے اور ایک لاکھ 80 ہزار تصاویر دیکھنے میں 50 ہزار سال لگیں گے ۔ ایپسٹین فائلز کا مجموعی ڈیٹا 60 لاکھ فائلز پر مشتمل ہے ۔ تاہم ایف بی آئی نے اس کے نصف حصے کو ہی پبلک کرتے ہوئے اسے حتمی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اب مزید کوئی دستاویز پبلک نہیں کی جائے گی ۔
ان دستاویزات سے جو خاکہ بنتا ہے وہ یہ ہے کہ ایپسٹین نے ایک جزیرہ خریدا ہوا تھا جہاں پر وہ راگ رنگ کی محفلیں سجاتا تھا ۔ ان محفلوں میں انتہائی بااثر افراد شریک ہوتے تھے ۔ ان محافل میں سیکس کے بھی مواقع موجود ہوتے تھے اور پرانی شراب کے بھی دور چلتے تھے ۔ صرف سیکس کے ہی مواقع موجود نہیں تھے بلکہ ان بااثر افراد کو خوش کرنے کے لئیے کمسن بچے اور بچیاں بھی موجود ہوتے تھے جن پر جنسی تشدد کیا جاتا تھا ۔ بات یہیں تک محدود نہیں تھی کہ ان کمسن بچے اور بچیوں پر جنسی تشدد کیا جاتا تھا بلکہ اتنا کیا جاتا تھا کہ وہ مربھی جاتے تھے اور انہیں جزیرے پر ہی خاموشی سے دفن کردیا جاتا تھا ۔ ان سیکس پارٹیوں میں بچیوں کو لانے کے لیے ایک پورا نیٹ ورک تشکیل دیا گیا تھا ۔ ٹین ایجرز کو پیسوں کا لالچ دے کر لاتے تھے ۔ جبکہ کمسن بچیوں کو ان کے ماں باپ سے باقاعدہ خریدا جاتا تھا یا پھر انہیں اغوا کرکے لایا جاتا تھا۔
یقینا یہ سب انتہائی خوفناک ہے ۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں ایسا ہونا بلکہ ہوتے رہنا اور بھی شرمناک ہے ۔ مگر پھر بھی سوال تو ہے کہ اس میں ایسا کیا ہے جس پر اتنا شور شرابا ہے ۔ سیکس پارٹیاں اور مہنگی شراب مغرب تو مغرب ، ایشیا میں بھی عام بات ہے ۔ دبئی کی پورٹا پورٹی پارٹیاں تو اب میڈیا کی زینت بن چکی ہیں ۔ خود پاکستان میں رحیم یار خان اور دیگر مقامات پر عرب شیوخ کی خواہشات سے کون واقف نہیں ہے ۔ گھر سے بھاگ جانے والے اور والی ، اغوا ہونے والے بچوں کے اعداد و شمار دیکھیں تو دل کٹنے لگتا ہے ۔ ان سب کی اکثریت قحبہ خانوں ہی کی زینت بنتی ہے ۔ کراچی میں ہی ہاکس بے ٹرک اسٹینڈ پر جا کر ذرا گہرائی میں تو دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ کمسن چھوٹوں کے ساتھ ڈرائیور استاد کیا کچھ کرتے ہیں ۔ پیڈو فائلنگ تو یورپ میں اتنی عام بات ہے کہ جرمنی اور دیگر یورپی ممالک سے پولینڈ لوگ اسی مقصد کے لیے جاتے تھے اور یہ باقاعدہ سیکس ٹورزم کہلاتا تھا ۔ خود پاکستان میں عمران خان ، شہباز شریف ، نواز شریف اور زرداری سمیت کس کے اسکینڈلز کی بازگشت نہیں سنائی دیتی ۔ نیب کے سابق سربراہ کی آڈیو لیک بھی موجود ہے ، ججوں اور جنرلوں کی وڈیو لیک بھی موجود ہیں ۔ زیادہ پرانی بات نہیں ہے کہ کراچی میں ڈیفنس کے علاقے میں فلیٹ سے ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش برآمد ہوئی تھی جس کے بارے میں کرائم رپورٹرز نے بتایا کہ اس کی موت جنسی درندگی کی وجہ سے ہوئی تھی اور اس میں سندھ کے ایک بااثر پیر کے سپوت ملوث ہیں ۔ پھر اس کیس کو ہی دبا دیا گیا ۔ قصور کی معصوم زینب کا کیس بھی زیادہ پرانی بات نہیں ہے ۔ ٹھیک ہے کہ کمسن بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی تعلق قانونی طور پر جرم ہے مگر ڈارک ویب پر جا کر تو دیکھیں کہ ان کمسن پھولوں کے ساتھ کیا کچھ ہو رہا ہوتا ہے ۔ تو پھر اس کی بیخ کنی کیوں نہیں کی جاتی ۔
جناب یہ مت بولیے گا کہ کسی کو علم نہیں ہوتا کہ ڈارک ویب پر کون کیا کر رہا ہے ۔ وہاں پر ہر چیز راز میں ہے ۔ ایپسٹین فائلز میں جتنی بھی ای میلز اور کمپیوٹر پر موجود تصاویر، ویڈیوز ایف بی آئی نے جاری کی ہے ، یہ سب کچھ ایپسٹین نے تو نہیں دیا ہے ۔ یہ سب کچھ سی آئی اے اور ایف بی آئی نے گوگل اور دیگر سرورز رکھنے والے اداروں سے حاصل کیا ہے ۔ ایک لفظ بھی جو ہم اپنے کمپیوٹر پر لکھتے ہیں ، چاہے وہ ڈلیٹ ہی کیوں نہ کردیا جائے ، جو بھی ای میل کرتے ہیں یا وصول کرتے ہیں ، چاہے وہ بھی ڈلیٹ ہی کیوں نہ کردی جائے ، ان کمپنیوں کی ہارڈ ڈرائیو میں ہمیشہ کے لیے موجود رہتی ہے ۔ اسی طرح ہم سوشل میڈیا پر بھی جو کچھ دیکھتے ہیں یا سرفنگ کرتے ہیں ، وہ بھی محفوظ رہتا ہے ۔
ایپسٹین نے اپنے مواد کو محفوظ رکھنے کے لیے اور اپنے کمپیوٹر کی ہارڈ ڈرائیو سے ہٹانے کے لیے اپنے تئیں چالاکی کی اور سب کچھ اپنے آپ کو ای میل کرکے اس مواد کو کمپیوٹر سے ڈلیٹ کردیا کرتا تھا ۔ اب اس کے پاس سے ایسی کوئی چیز برآمد نہیں ہوتی تھی جو قابل اعتراض ہو ۔ مگر یہ سب کچھ ای میل کی سہولت فراہم کرنے والے ادارے کے پاس موجود تھا جو اب پبلک کیا جا رہا ہے ۔ تو جناب اسی طرح ڈارک ویب پر لائیو شو کرنے والوں سے لے کر تماشائیوں تک سب کا ریکارڈ موجود ہے ۔ بس نہ پکڑنے ، انہیں سہولت دینے اور فری ہینڈ دینے کے لیے یہ سب بہانے کیے جاتے ہیں ۔ آخر مجرموں کو پکڑنے کے بجائے انہیں سہولت کیوں دی جاتی ہے ،یہ بھی مت بولیے گا کہ امریکا میں قانون کی حکمرانی ہے اور اب پتا چل گیا ہے تو ملزمان کے گرد گھیرا تنگ کردیا گیا ہے ۔ ایپسٹین فائلز دسیوں برس سے ایف بی آئی کے پاس موجود تھیں مگر علامتی کارروائی کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیا گیا ۔ وہاں پر بھی وہی حال ہے جو وطن عزیز کا ہے ۔ یعنی کورٹ یہی کہتی ہے کہ کیا لکھ دوں صاحب یا کیا فیصلہ دوں۔ وہاں پر بھی یہی کچھ ہے ۔ اگر یقین نہ آئے تو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا کیس دیکھ لیں ۔ مختلف امریکی ریاستوں میں امیگرنٹ کے خلاف کریک ڈاؤن میں بلاوجہ گولی مار کر قتل کرنے کی وڈیوز دیکھیں اور ان پر امریکی عدالتوں اور انتظامیہ کے فیصلے بھی دیکھیں ۔ اب حال میں ہی مادورو کے خلاف امریکی عدالت میں سماعت کی کارروائی بھی دیکھ لیجیے گا ۔ جس طرح وینزویلا کے صدر مادورو کو اغوا کرکے امریکا پہنچایا گیا ، بالکل اسی طرح پانامہ کے جنرل نوریگا کو بھی اغوا کرکے امریکی عدالت میں پیش کیا گیا تھا ۔ امریکی عدالت میں پیشی سے قبل کہا گیا کہ نوریگا سی آئی اے کا ایجنٹ تھا اور اس نے سی آئی اے اور امریکا سے 3 لاکھ 22 ہزار ڈالر وصول کیے تھے ۔ سماعت کے دوران نوریگا نے کہا کہ درحقیقت اس نے سی آئی اے سے ایک کروڑ ڈالر وصول کیے تھے اور اسے یہ بتانے کی اجازت دی جائے کہ اس بھاری رقم کے بدلے نوریگا نے سی آئی اے کے لیے کیا خدمات سرانجام دیں ۔ مگر عدالت نے نوریگا کو اس موضوع پر مزید بولنے سے روکتے ہوئے کہا کہ اس کا نوریگا پر عاید فرد جرم سے کوئی تعلق نہیں ۔
سوال اب بھی وہیں موجود ہے کہ ایپسٹین فائلز میں ایسا کیا ہے کہ مغربی دنیا میں تھرتھری دوڑی ہوئی ہے ۔ اب تک جو میڈیا میں اس حوالے سے آیا ہے ، اس میں تو ایسا کچھ نہیں ہے جو وہاں پر عام نہ ہو ، بات بس قوت خرید کی ہے ۔
ایپسٹین کی ابتدائی زندگی پر نگاہ ڈالیں تو شروع میں وہ کوئی کامیاب انسان نہیں تھا ۔ اس نے Courant Institute of Mathematical Sciences کو جوائن تو ضرور کیا تھا مگر ڈگری حاصل کیے بغیر ہی چھوڑ دیا تھا ۔ تدریس کےلیے درکار ضروری قابلیت کے بغیر ہی اس نے 21 برس کی عمر میں Manhattan کے ڈالٹن اسکول میں بطور استاد کام شروع کردیا تھا ۔ یہ نوکری دلانے میں اس کے یہودی گھرانے کا پس منظر کام آیا تھا ۔ استاد کی اس نوکری کے دوران ہی اس پر کمسن بچیوں کے ساتھ نامناسب سلوک کے الزامات لگنا شروع ہوگئے تھے ۔ اپنے تین سالہ تدریسی کیریئر کے بعد اس نے مشہور مالیاتی ادارے Bear Stearns کا رخ کیا ۔ یہاں بھی نوکری دلانے میں یہودی اثر و رسوخ کام آیا ۔ یہاں سے ایپسٹین کی اس ترقی کا سفر شروع ہوا ، جو بہت سارے لوگوں کے لیے قابل رشک تھا ۔ اس کے بعد ایپسٹین نے اپنی ذاتی مالیاتی مشاورتی فرم قائم کی ۔ بااثر افراد خصوصا سربراہان مملکت اور بینکاروں کو قابو کرنے کے لیے اس نے ایک جزیرہ خریدا جہاں پر وہ سیکس پارٹیاں کیا کرتا تھا ۔ جزیرہ اس لیے چنا گیا کہ وہاں پر عام افراد کی کوئی آمد و رفت نہیں ہوتی ۔
امریکی سینیٹ کمیٹی اور کانگریس کمیٹی میں طلبی ہمیشہ سے طلب کیے جانے والوں کے لیے خوفناک خواب رہا ہے ۔ مگر ایپسٹین کی قوت کا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کانگریس کمیٹی میں طلبی کے دوران بھی سوالات کرنے والے ارکان کانگریس پر اثر انداز ہوتا رہا ۔ 14 نومبر 2025 کی سی این این ، واشنگٹن پوسٹ اور 15 نومبر 2025 کی گارجین کی رپورٹ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ 27 فروری 2019 میں ٹرمپ کے ایک سابق اٹارنی مائیکل کوہن کی سماعت کے موقع پر ریپبلکن رکن کانگریس Stacey Elizabeth Plaskett کو اس نے نہ صرف مطلوبہ سوالات پوچھنے کی ہدایت کی بلکہ بعد میں کام ہونے پر Good work کا پیغام بھی بھیجا ۔ واضح رہے کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب ایپسٹین کو سزا ہوچکی تھی ۔ پاکستان میں بھی ریاض ملک کے بارے میں ٹی وی پروگرام میں ایسا ہوچکا ہے اور ریاض ملک کے وفادار اینکر پروگرام کے دوران مسلسل اس کے ساتھ رابطے میں رہے ۔
ایپسٹین کی قوت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے بھارتی سربراہ نریندر مودی کی اسرائیلی سربراہ نیتن یاہو سے ملاقات طے کی ۔ اور ملاقات کے دوران تعلقات کو مضبوط کرنے کے بہانے مودی کو اُس محفل میں ناچنے اور گانے پر بھی مجبور کیا ۔ اسی طرح اسرائیلی سیاستداں اور سابق جنرل یہود بارک کو جب وائٹ ہاؤس میں اذن باریابی میں ناکامی ہوئی تو ایپسٹین کی ایک فون کال نے اسی روز چند گھنٹے کے بعد اس ملاقات کو ممکن بنادیا ۔
پھر سے وہی سوال کہ کیا ایک سیکس پارٹی میں شرکت اتنی اہم تھی کہ سارے سربراہان ایپسٹین کے اشارے پر ناچ رہے تھے ۔ اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ کمسن بچیوں کے ساتھ سیکس کی وڈیوز کی بناء پر یہ سارے لوگ ایپسٹین کے اشاروں پر ناچنے پر مجبور تھے ۔ مگر مودی کی تو ایسی کوئی نہ تو وڈیو موجود ہے اور نہ ہی ایسی کسی تقریب میں شرکت کے شواہد موجود ہیں ۔ وہ تو ایشیائی اور غیر یہودی لوگوں کو کمتر سمجھتا تھا اور انہیں ایسی محفلوں کے قابل ہی نہیں سمجھتا تھا تو پھر مودی جی کیوں اسرائیل میں جا کر اس بڑھاپے میں گائے بھی اور ناچے بھی ۔
اگر صرف یہی بات تھی کہ ایپسٹین سب کو بلیک میل کررہا تھا تو جس طرح بعد میں اسے دوران قید راستے سے ہٹا دیا گیا ، یہ کام پہلے بھی کیا جاسکتا تھا ۔ کہا گیا کہ ایپسٹین نے قید کے دوران خودکشی کرلی تھی مگر اس کی موت کے فوری بعد ہی یہ بات سامنے آگئی تھی کہ اسے گلا گھونٹ کر مارا گیا ہے ۔ جس طرح بے نظیر بھٹو پر حملے کے فوری بعد ہی جائے وقوعہ کو فوری دھو کر تمام ثبوت مٹا دیے گئے تھے ۔ بالکل اسی طرح ایپسٹین کی موت کے بعد بھی سارے ثبوت ختم کردیے گئے تھے ۔ آپ وکی پیڈیا پر ایپسٹین کو سرچ کریں تو وجہ وفات کے سامنے گلا گھونٹنا یا پھانسی لکھا ہوا آئے گا ۔
آخر ایپسٹین میں ایسا کیا تھا کہ سب اس کے سامنے لرزہ بر اندام رہتے تھے ؟ چاہے وہ ولی عہد ہوں ، شہزادے ہوں ، بینکار ہوں ، سیاستداں ہوں یا کوئی اور بااثر شخصیت ۔ جزیرے پر پارٹیاں اور عیاشیاں تو ایسے ہی تھیں جیسے کسی بزنس میٹنگ کے موقع پر ڈنر کا اہتمام بھی کیا جائے ۔ ایپسٹین فائلز میں آپ کو بہت سے ایسے لوگوں کے ساتھ روابط بھی نظر آئیں گے جو کبھی ان پارٹیوں میں شریک ہی نہیں ہوئے ۔
ایپسٹین میں ایسا کیا تھا کہ ایک وقت میں وہ دنیا کی بااثر ترین شخصیت تھا ۔ آئیے اس کا کھوج لگانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یہ تو ہم دیکھ ہی چکے ہیں کہ ایپسٹین کا تعلق کسی بااثر گھرانے سے نہیں تھا اور نہ ہی اس کے والدین دولت مند تھے ۔ بس اس کا ایک ہی پس منظر ہمیں نظر آتا ہے اور وہ یہودی ہونا ہے ۔ مگر بڑے ہونے کے ساتھ ہی اس میں صہیونیت کا عنصر بھی پروان چڑھتا گیا ۔ صہیونی انتہائی مذہبی ہوتے ہیں مگر ایپسٹین قطعا مذہبی نہیں تھا ۔ شروع سے ہی وہ اوباش طبعیت کا مالک تھا ۔ مذہبی نہ ہونے کے باوجود اس کے جزیرے پر ایک عبادت گاہ موجود تھی ۔ اس کے جزیرے پر آنے والے افراد بھی قطعی طور پر مذہبی نہیں تھے کہ انہیں کسی عبادت گاہ کی ضرورت محسوس ہوتی ہوگی ۔ اصل میں یہ کوئی کلیسا نہیں تھا بلکہ ایک مندر تھا ۔ فائلز میں تو اس مندر کی تفصیلات موجود نہیں ہیں مگر اس جزیرے پر جانے والے افراد کے مطابق یہ شیطان کی عبادت کے لیے مخصوص مندر تھا ۔ جسے عرف عام میں Synagogue of Satan کہا جاتا ہے ۔
اب پھر وہی سوال کہ اس میں اچنبھے کی کیا بات ہے ۔ امریکا اور یورپ میں جگہ جگہ یہ Synagogue of Satan موجود ہیں ۔ ہیلووین پارٹیوں میں اور ٹرانس جینڈرز کی پریڈ میں لوگ عمومی طور پر شیطان کا روپ دھارتے ہیں ۔ یہ بات صحیح ہے مگر ایپسٹین شیطان کا صرف ماننے والا ہی نہیں تھا بلکہ شیطان کی حاکمیت کے لیے ایک سرکردہ شخص تھا ۔
ایپسٹین فائلز سے متعلق اب تک جو کچھ بھی سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا پر آیا ہے ، اُس سے جیفری ایپسٹین کی جو تصویر بنتی ہے وہ یہ ہے کہ اس نے اپنے تعلقات کو استعمال کرکے خوب دولت کمائی اور پھر اُس دولت کو ضرب دینے کے لیے اس نے ایک جزیرہ خریدا جہاں پر عیاشی کا ہر سامان مہیا کیا اور یوں وہ دنیا کی ایلیٹ کلاس کے لوگوں کو بلیک میل کرکے مزید دولت کماتا رہا ۔ دولت کمانے اور مطلب براری کے اس ماڈل پر پاکستان سمیت پوری دنیا میں ہزاروں افراد عمل کرتے ہیں ۔ وڈیو لیکس تو ہمارے ہاں بھی آتی رہی ہیں ۔
ذرا سی گہرائی میں جا کر دیکھیں تو جیفری ایپسٹین کی یہ تصویر اصل ہر گز نہیں ہے بلکہ اس کی اصل تصویر سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے ایک اوباش جیفری ایپسٹین کی تصویر لوگوں کے سامنے پیش کی جارہی ہے ۔ بات یہ نہیں ہے کہ ایپسٹین ایسا نہیں تھا ۔ بالکل ایسا ہی تھا وہ مگر یہ اس کے کردار کے لیے ضروری تھا ۔ ایپسٹین فائلز کو ذرا توجہ اور غور سے دیکھیں تو ہمیں اس کے دو رخ دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ پہلا رخ اس کا شیطان کے پجاری کا ہے جبکہ اس کا دوسرا رخ دنیا پر حکمرانی کا ہے ۔
ہم ان دونوں پہلوؤں کو تفصیل سے دیکھتے ہیں ۔ شیطان کا پہلا اور آخری مقصد یہ ہے کہ انسان اللہ کی ہدایت سے منہ موڑ کر ہر وہ حد توڑ دے جو اللہ نے قائم کی ہے ۔ جب جب اللہ کی قائم کردہ حد توڑی جائے ، شیطان بے انتہا خوش ہوتا ہے ۔ پہلے وہ چھوٹی موٹی بغاوت پر اکساتا ہے ، پھر غیرازدواجی تعلقات تک پہنچ جاتا ہے ، جب یہ حد بھی ٹوٹ جائے تو ہم جنسیت کا وبال لاتا ہے ، یہ حد بھی ٹوٹ جائے تو گھر کے محترم رشتے بھی تڑوادیتا ہے ، یہ حد بھی ٹوٹ جائے تو معصوم بچوں کی قربانی کرواتا ہے ، ان پر ظلم کے پہاڑ تڑواتا ہے ۔ جیسے جیسے ان معصوم بچوں کی چیخیں بلند ہوتی ہیں ، شیطان کے قہقہے تیز ہوتے جاتے ہیں ۔ یہ نہیں کہ ان سب سے اسے لذت ملتی ہے بلکہ اسے معلوم ہے کہ اس نے یہ سب کرنے والے انسانوں کو جہنم کے گڑھے میں دھکیل دیا ہے ۔ اس سے وہ اولاد آدم سے انتقام لیتا ۔ یہ اس کی کامیابی کے قہقہے ہوتے ہیں ۔ آپ ایپسٹین فائلز کو دیکھیے کہ کیا ہورہا ہے ۔ شیطان کی عملی طور پر پوجا، راگ رنگ کی محفلیں ، سیکس پارٹیاں ، معصوم بچیوں کے ساتھ درندگی ، ان کی قربانی اور ان کا بار بی کیو بنا کر پارٹی کرنا ۔ شیطانی عملیات کرنا ۔ جیسا کہ غلاف کعبہ کے آیات والے حصے منگوانا، وغیرہ وغیرہ ۔ ایپسٹین کے بینک اکاؤنٹ کا ٹائٹل ہی بعل دیوتا کے نام پر بعل ہے ۔
اب دوسرے پہلو کو دیکھیں ۔ ایپسٹین عملی طور پر پوری دنیا چلا رہا تھا ۔ وہ پاکستان تک کے انتخابات میں دلچسپی لیتا تھا ۔ وہ روس اور امریکا سمیت پوری دنیا میں field placement کر رہا ہے ۔ وہ بل گیٹس سے دنیا سے آبادی کے خاتمے کے منصوبے پر بات کررہا ہے ۔ وہ بل گیٹس سے کورونا وائرس کی وبا پھیلنے سے قبل اس موضوع پر بات کررہا ہے ۔ وہ دنیا میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کے لیے بھارت اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کرواتا ہے ۔ وہ اسرائیل کی شیطنیت کو مضبوط کرنے کے لئیے مسلی مدد کرواتا ہے، ایک اور اہم بات پر غور کریں کہ اس کے جن لوگوں سے بھی تعلقات تھے ، یا جنہیں وہ احکامات جاری کرتا تھا کہ دنیا میں کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے ۔ دیکھنے میں یہ سب دنیا کے مالکان میں سے ہیں ۔چاہے یہ وال اسٹریٹ کے بینکر ہوں ، امریکی و دیگر سربراہان ہوں یا دیگر مملکتوں کے ولی عہد یا پھر بل گیٹس اور ایلون مسک جیسے افراد ۔ یہ سب لوگ وہ ہیں جو مختلف مناصب پر فائز ہیں جو احکامات پر عملدرآمد کرتے ہیں ، تو دنیا میں تبدیلی آجاتی ہے ۔ مگر یہ لوگ وہ نہیں ہیں جو اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کے لیے براہ راست شیطان سے رابطے میں ہیں یا کوشاں ہیں ۔ اس کو ہم ایک مثال سے سمجھ سکتے ہیں ۔ دیکھنے میں نیسلے کمپنی کا سی ای او اس کا سربراہ ہے ۔ مگر حقیقت میں وہ سربراہ نہیں ہے بلکہ اونچے درجے کا ایک ملازم ہے ۔ وہ نہ تو کمپنی کی پالیسیاں بناتا ہے اور نہ ہی انہیں تبدیل کرنے کا اختیار رکھتا ہے ۔ اس کے اوپر ایک بورڈ آف ڈائریکٹرز بھی ہے جو سی ای او کو بھی تبدیل کرنے کا اختیار رکھتا ہے اور پالیسیاں بناتا ہے ، بنیادی فیصلے کرتا ہے ۔ مگر یہ بورڈ آف ڈائریکٹر بھی کمپنی کے حقیقی مالکان نہیں ہے ۔ حقیقی مالکان تو پس پردہ رہتے ہیں اور وہی اس بورڈ آف ڈائریکٹر کو ہدایات جاری کرتے ہیں ۔ پھر یہ بورڈ آف ڈائریکٹر سی ای او کو ہدایات جاری کرتا ہے جن پر عملدرآمد ہوتا ہے ۔
یہاں پر ایپسٹین بورڈ آف ڈائریکٹر کا کردار ادا کررہا تھا جو مختلف اداروں کے سی ای اوز کو ہدایات جاری کررہا تھا اور ان کے کام کی نگرانی کررہا تھا ۔ اس سے اوپر کے مالکان کا تو کہیں پر نام ہی نہیں ہے ۔ حقیقی مالکان ہیں وہ ڈیڑھ سو blue blood خاندان جو دنیا پر حکمرانی کر رہے ہیں ۔ جو دنیا بھر کے مرکزی بینکوں ، بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹ ، انشورنس کمپنیوں ، اسلحہ ساز کمپنیوں ، جہاز راں کمپنیوں ، ادویہ ساز کمپنیوں ، تیل و گیس کے ذخائر ، سونے اور دیگر دھاتوں کے ذخائر ، معدنیات کے ذخائر وغیرہ وغیرہ کے مالکان ہیں ۔ ان کا تو کہیں پر کوئی ذکر ہی نہیں ہے ۔
جب ریس کا گھوڑا کام کے قابل نہیں رہتا تو اسے گولی مار دی جاتی ہے ۔ کچھ یہی حال ایپسٹین کا ہوا ۔ جب مالکان کو اندازہ ہوا کہ اب معاملات محکومین کی نظر میں آگئے ہیں تو نہ صرف اسے راستے سے کامیابی سے ہٹا دیا گیا بلکہ سارے کا سارا ملبہ بھی اس پر ڈال دیا گیا ۔ بالکل اسی طرح جب کوئی طیارہ کسی حادثے کا شکار ہوتا ہے تو سارے کا سارا ملبہ پائلٹ پر ڈال کر طیارہ ساز کمپنی سے لے کر انتظامیہ تک سب دودھ کے دھلے بن جاتے ہیں ۔
عیاشی ، درندگی کو ایک طرف رکھیں کہ اب تو ایپسٹین ختم ہوچکا ہے ۔ اس میں زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا ہے کہ اس خوفناک جرم میں شامل دیگر کرداروں کو عبرتناک سزائیں دی جائیں اور متاثرین کو بھاری بھرکم معاوضہ دلوایا جائے ۔ یہ سب انفرادی طور پر متاثرین تھے ۔ مگر دنیا بھر میں جنگوں ، وباؤں کے پھیلاؤ ، آبادی میں کمی کے لیے جو ہدایات جاری کی گئیں اور جن پر من و عن عمل بھی کیا گیا ، ان کی طرف بھی تو نگاہ ڈالی جائے ۔ یا لوگوں کو چسکے کی طرف ڈال کر سب گنگا نہا جائیں گے ۔
سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ایپسٹین محض ایک کردار تھا ، اس طرح کے نہ جانے کتنے کردار اب بھی مصروف عمل ہیں، جن کی انگلی کے اشارے پر یہ سارے حکمراں ناچ رہے ہیں ۔ یہ سب شیطان کے پیروکار ہیں اور اس دنیا پر شیطان کی براہ راست رہنمائی میں شیطان کی حاکمیت کے لیے کوشاں ہیں ۔ روز ایک پھیلتا ہوا فتنہ جس پر نہ صرف سب خاموش ہیں بلکہ عملی طور پر مددگار بھی ، کا مطلب صرف اور صرف شیطان کو خوش کرنے کے لیے اللہ کی حدوں کو توڑنا ہے ۔
اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے۔ ہشیار باش ۔
ایپسٹین فائلز: اصل کھلاڑی کون ہیں؟ چشم کشا انکشافات















