دنیا میں ہر پندرہ سے اٹھارہ برس میں ایک نئی نسل تیار ہوجاتی ہے ،اسے مختلف نام دئیے جاتے ہیں، آجکل یا کم وبیش دس بارہ سال سے جین y جین زی اور اب جین الفا کے نام زیادہ آنا شروع ہوئے ہیں ،ہر دور کا الگ رجحان ہوتا ہے اب سے کوئی دس بیس برس قبل، صرف نوجوان کی اصطلاح استعمال کی جاتی رہی ہے، تحریک پاکستان، پاکستان میں مختلف سیاسی شخصیات اور پارٹیوں کی مہمات میں بھی نوجوان ہی سب سے آگے رہتے تھے، لیکن قیادت ہمیشہ تجربہ کار اور جہاں دیدہ لوگوں کے پاس رہی، اس سے قطع نظر کہ تحریکوں کے مقاصد کیا تھے اور وہ حاصل ہوئے یا نہیں یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے کہ تمام ہی تحریکوں میں نوجوان ہی آگے آگے رہے۔اگر تحریک ایجنڈا نہیں فطری اور قیادت ایجنٹ نہیں حقیقی تھی تو نوجوان کام آئے اور اگرمعاملہ برعکس تھا تو نوجوان استعمال ہوئے۔
اب سے دس پندرہ سال قبل قاضی حسین احمد، مسلم لیگ کے نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے بھی نوجوانوں کو راغب کیا ، اسی کی دیکھا دیکھی عمران خان نے بھی نوجوان کے بجائے یوتھ کا لفظ استعمال کیا اور یوتھ کے لیڈر بن گئے ، ان کے مخالف عمران خان کے پیروکاروں کو “یوتھیا ” کہہ کر مذاق اڑاتے ہیں ، یا تضحیک بھی کرتے ہیں۔
اس موضوع پر تبصرے سے قبل ذرا اس حقیقت کا جائزہ لے لیں کہ یہ جین کا معاملہ یا جنریشنز تھیوری کہاں سے آئی ہے ، یہ تھیوری ایک امریکی مصنف، ڈرامانگار، تھیٹر ڈائریکٹر اور لیکچرر ولیم اسٹراس اور اس کے معاون نیل ہوو نے مشترکہ طور پر پیش کی ، اس معاملے میں کارل مینھم کے 1928 کے ایک مضمون کو اس تھیوری کی بنیاد بھی کہا جاتا ہے، تاہم زیادہ ٹھوس اور مکمل کام ولیم اسٹراس اور نیل ہوو نے کیا اسلئیے انہیں ہی اس تھیوری کا بانی قرار دیا جاتا ہے،یہ جاننے کے بعد کہ تھیوری پیش کرنے والے امریکی تھے اور انہوں نے امریکی معاشرے کوسامنے رکھتے ہوئے یہ تھیوری پیش کی ،اس تھیوری کے تضادات بھی تھیوری پیش کرنے والوں کے تضادات کا اظہار ہیں کیونکہ مصنف بیک وقت ڈراما ، تھیٹر ، لیکچر سب کچھ تھا تو اس میں اتار چڑھاو، سنسنی وغیرہ بھی فطری چیز ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ چند دہائیوں بعد معاشرتی، سیاسی اور معاشی اقدار اور طریقے بدلنے کے ساتھ سیاست، معیشت اور معاشرت بھی بدل جاتی ہے اسلئیے انہوں نے تقریبا بیس سال کا عرصہ ایک جنریشن کے لئیے مقرر کیا جو کم و بیش ساری دنیا کے لئیے ہے لیکن اس سارے نظرئیے اور تھیوری کو ساری دنیا پر یکساں منطبق نہیں کیا جاسکتا ۔ صرف ایک بات پر اتفاق کیا جاسکتا ہے کہ ساری تھیوری اور اس کا نچوڑ ہر اٹھارہ بیس سال بعد کی نوجوان نسل ہے اور ساری دنیا میں اتنے ہی عرصے میں نئی نسل جوان ہو جاتی ہے ، اب آپ اس کا نام اے بی سی والا رکھیں یا ایک دوتین والا نتیجہ وہی ہے، یعنی” نوجوان نسل”۔
یہ پہلو کسی طور اوجھل نہیں ہوناچاہئیے کہ پاکستان ،ایران، ترکی،بنگلا دیش ،افغانستان، مصر اور ایسے مسلم ممالک جہاں اسلامی معاشرہ،اقدار اور مذھب پرعمل کیا جاتا ہے اور وہاں اسلامی تحریکیں بھی وجود رکھتی ہیں ان پر امریکی تھیوری کا من وعن اطلاق نہیں ہوسکتا۔کچھ نہ کچھ فرق ہوجاتا ہے ، کیونکہ
اپنی ملت پرقیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
ترکی، اور ایران اور اب بنگلا دیش میں حکومتوں کی تبدیلی کے نتائج منصوبہ سازوں کے منصوبے کے عین مطابق نہیں آئے اسلئیے کچھ ردوبدل اور کتربیونت کی کوشش بھی کی گئی۔اب بنگلا دیش میں بھی سب کی نظر انتخابی نتائج پر ہے۔ظاہر ہے منصوبہ سازوں نے بنگلا دیش میں شیخ حسینہ واجد کا تختہ جماعت اسلامی کو بہت زیادہ آگے لانے کے لئیے تو نہیں الٹا ہوگا۔ لیکن اب اسے روکنے کے کھیل تو سامنے آچکے ہیں ۔ جتنا ہمارا نوجوان اسلام سے قریب ہوگا اتنا ہی اسے استعمال کرنا مشکل ہوگا،ہاں وہ تحریک کے کام آسکتا ہے۔ بس اس میں کام لینے والوں کے خلوص اور حکمت کی بھی بڑی اہمیت ہے۔
ایک خیال یہ ہے کہ دنیا بھر میں ساری تبدیلیوں انقلابات اور اکھاڑ پچھاڑ کی منصوبہ بندی اور نقشہ گری بھی یہی یوتھ کرتی ہے، جو سرے سے غلط ہے، تحریک پاکستان،جرمنی کی تقسیم اور اتحاد، افغانستان میں روس کی آمد اور اس کو نکالنا، پھر امریکا کا آنااور اس کو نکالنا،اور طالبان کا آنا جانا،ہر مہم میں نوجوان استعمال ہوئے یا کام آئے ۔
یہ تھیوری پیش کرنے والے امریکی بھی مختلف النوع کام کرنے والے تھے اسی لئیے ان ساری تحریکوں میں ڈراما، سنسنی خیزی اور اچانک موڑ سب ڈالے جاتے ہیں ۔ان کے نزدیک ریاستوں کے سفر میں ہر اسی سال بعد نسلوں میں ایک بڑی تبدیلی اتی ہے،اسے یہ لوگ نسلوں کا چوتھا موڑ کہتے ہیں، یعنی بیس بیس سال کی چوتھی نوجوان نسل،لیکن یہ ضروری نہیں کہ دنیا بھر میں ہر اسی برس بعد نسلوں کا چوتھا موڑ آجائے۔ بنگلا دیش میں تو چون برس بعد چوتھا موڑ آیا ، یہ بھی مقامی حالات اور خرابیوں کی شدت کے ساتھ نوجوانوں کی بڑی تعداد کی موجودگی پر منحصر ہے۔
ابن خلدون کا ریاست کے بارے میں نظریہ تو 120 برس کا ہے انہوں نے ریاست کی تعمیر کے چالیس برس رکھےہیں، استحکام کے چالیس،اور زوال کے چالیس برس رکھے ہیں ، ان لوگوں نے اسی برس رکھ دئیے۔
آجکل پاکستان میں جین زی انقلاب کا چرچا ہے ،اس کے بارے میں ہماری رائے ہے کہ کوئی جین انقلاب نہیں آرہا ، جو کچھ بھی ہوگا وہ منصوبہ سازوں کے منصوبے کا حصہ ہوگا ،نوجوانوں کو جو دکھایا جاتا ہے وہ نہیں ملتا ، یا وہ حاصل کرنے نہیں دیا جاتا، جیسے، 1969میں ایوب خان کی آمریت کا خاتمہ جمہوریت کے نام پر کیا گیا،لیکن وہ پاکستان کو دولخت کرنے اورباوی ماندہ پاکستان کوایک متفقہ آئین دینے کے بعد دم توڑ گئی اور ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ اٹھا، لیکن کیا اس کا مقصد یہی تھا، اس کے منصوبہ سازوں نے جو سوچا وہ سامنے بھی آگیا ، نظام مصطفٰی کے مطالبے اور نعرے کو جنرل ضیاءالحق لے اڑے، نوے دن کے وعدے پر گیارہ سال حکمرانی کرگئے۔ 1977 کی تحریک نظام مصطفٰی کے بعد 1986 میں کنٹرولڈ جمہوریت سامنے آئی جو آج تک چل رہی ہے اب اس کا ایک ایک پہلو منصوبہ سازوں کے مکمل کنٹرول میں ہے ،صرف تحریک پاکستان میں نوجوان کام آئے، باقی ہر تحریک میں استعمال ہوئے۔ عمران خان کی یوتھ میں ابھی جان باقی ہےلیکن اس یوتھ کو جس مقصد کے لئیے استعمال کرنا تھا وہ حاصل ہوگیا ،اس یوتھ اور قوم کا تبدیلی کا خواب تو ہوا ہو گیا۔
اب پاکستان میں پھر جین زی انقلاب کی باتیں ہورہی ہیں ، یہ اے بی، سی، یا جی ایچ کیو کچھ بھی ہوسکتا ہے نتائج کے اعتبار سے جین زی انقلاب نہیں ہوگا۔
زمینی حقائق یہ ہیں کہ جین زی کی بڑی تعداد عمران خان کی دیوانی ہے لیکن کوئی ٹھوس نظریہ نہیں ہے، ایک بہت بڑی تعداد اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی کے پاس ہے اور اس کے پاس نظریہ و مشن بھی ہے اور متحرک قیادت بھی،اس کے علاوہ پیپلز، پارٹی مسلم لیگ،دیگر پارٹیوں کے پاس بھی نوجوان ہیں لیکن منصوبہ سازوں نے لسانی بنیادوں پر، فرقہ وارانہ بنیادوں پر اور قوم پرستی کی بنیاد پر بھی نوجوانوں کو تقسیم کررکھا ہے ، گویا پاکستان میں اس ملک کے قیام کے نظرئیے کے مطابق کسی ممکنہ انقلاب کی راہ کھوٹی کرنے کا مکمل انتظام ہے۔اب مقابلہ نوجوانوں کو کام میں لانے اور استعمال کرنے والوں میں ہے، فی الحال استعمال کرنے والوں کا کنٹرول زیادہ مضبوط ہے،کسی حقیقی انقلاب کے لئیے نظریے سے ہم آہنگ نوجوانوں کی بھاری تعداد اور مضبوط نظریاتی قیادت کی ضرورت ہے،اور نوجوانوں کی یہ تقسیم ختم کرکے دینی فکر عام اور راسخ کرنے کی ضرورت ہے۔
نوجوان کام آتے ہیں یا استعمال ہوتے ہیں
















