ابھی بساط کی کاپی تیار ہی ہوئی تھی کہ رات گئے ایک ہولناک اطلاع ملی کہ گل پلازہ میں پھر آگ لگ گئی ہے ابتدائی طور پر رپورٹس کچھ اس طرح آئیں جیسے معمولی سی آگ ہے ، پھر دوافراد کی جان جانے کی تصدیق ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے بلڈنگ بھی تباہ ہوگئی اور ہلاکتوں میں بھی اضافے کی رپورٹس اگئیں۔
اس سانحے کے ساتھ ہی وہی سب کچھ ہوا جو ہوتا ہے ۔یعنی بیانات کے توپخانے چل پڑے ۔ ایک بات پر سب متفق ہیں کہ حکومت نالائق ہے، اور ہمیشہ ہوتی ہے، مئیر اور وزرا دیر سے پہنچے ، یہ بھی ہوتا ہے ۔ لیکن کچھ امور پر اب سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ان کا تعلق حکومت سے براہ راست بھی ہے اور معاشرے کا حصہ ہونے کے ناتے ہر شہری سے بھی ہے ۔سب سے اہم بات اس قسم کی عمارتوں میں حفاطتی انتظامات کو یقینی بنانا۔یہ ذمہ داری حکومتی اداروں کی ہے ،دراصل پورا معاملہ ٹاؤن پلاننگ کے گرد گھومتا ہے ۔ ٹاؤن پلاننگ درست ہوگی تو عمارتوں کی تعمیر درست ہوگی حفاظتی انتظامات پورے اور مناسب ہونگے۔
اس معاملے میں موجودہ سابق اور مستقبل کی حکومتوں کو ایک بات پر اتفاق کرنا ہوگا کہ شہریوں کی جان کے معاملے کو رشوت،بدعنوانی اور بے ضابطگی سے پاک کرنا ہوگا،ان معاملات میں پیسے لے کر سرٹیفیکیٹ جاری کرنے کا رویہ ختم کرنا ہوگا۔ اسی طرح مارکیٹوں میں دکاندار اور ان کی انجمنیں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں،بجلی کے کنکشنوں میں خود انجینئرنگ نہ کریں ، کنڈے نہ لگائیں ، کم لوڈ منظور کروا کر زیادہ آلات استعمال نہ کریں جیسے دو کلوواٹ منظور کرواکر زیادہ اے سی، زیادہ لایٹیں استعمال کرنا۔پانی کے کنکشن محفوظ بنانا ،لیکیج روکنا، اے سی کا پانی محفوظ طریقے سے ڈرین کرنا اور مارکیٹ میں جتنی بڑی دکان لی ہے اتنا ہی سامان دکان میں رکھنا دس فیٹ چوڑی اور بیس فیٹ لمبی دکان میں چالیس بائی چالیس کا مال بھرنا بھی معمول ہے پھر مارکیٹ میں راستے بند ہوتے ہیں شارٹ سرکٹ ہوتے ہیں، بہتا پانی عمارت کے ڈھانچے میں سرایت کرکے اسے کمزور کردیتا ہے اور وہ کوئی جھٹکا،آگ ،تیز بارش وغیرہ برداشت نہیں کر پاتی۔
بہت سے دکاندار جنریٹر کے لئی پیٹرعل فکانوں کے اندر رکھتے ہیں ، یہ بھی خطرناک ہے۔ہوسکتا ہے لوگ کہیں کہ یہ وقت ایسی باتوں کا نہیں،لوگ مشکل میں ہیں، لیکن ہمارے خیال میں یہی وقت مناسب ہے، کیونکہ سارا نظام گل سڑ چکا ہے۔ ایک لفظ بہت استعمال ہوتا ہے اسٹیک ہولڈرز ، تو تمام اسٹیک ہولڈرز متفقہ فیصلہ کریں کہ جو ہوچکا سو ہو چکا، اب غلط نہیں ہوگا۔
اب پھر واپس حکومت کی طرف آتے ہیں ، بنیادی ذمہ داری بھی اسی کی ہے ، اکثر حکمرانوں کے منہ سے یہ سننے میں آتا رہا ہے کہ برداشت نہیں کیا جائے گا، اجازت نہیں دی جائے گی۔ اب کہا جاتا ہے کہ زیرو ٹالرنس کی پالیسی ہے لیکن یہ زیرو ٹالرنس ہے کہاں، صرف اختلاف رائے پر، غلطی کی نشاندہی پر اور چوری پکڑے جانے پر ، حکومتوں کا یہی رویہ ہے، اب ایسے تمام امور ، جن میں شہریوں کے جان ومال کا مسئلہ ہو زیرو ٹالرنس ہونا چاہئیے۔کوئی سرٹیفکیٹ رشوت کے عوض نہ دیا جائے ۔ باقاعدہ معائنے جاری رکھے جائیں، کلیرنس سرٹیفکیٹس کا اجراء، معائنہ وغیرہ سب ڈیجیٹل ہونا چاہئے۔
اسی طرح سارا نظام ڈیجیٹل اور شہریوں کی دسترس میں ہونا چاہئیے۔اس واقعے کے فورا بعد حکومت کی شامت آگئی،مئیر شہر سے باہر ہونے کا عذر کرتے رہے۔ حالانکہ ملک سے باہر ہونا بھی عذر نہیں، لمحے لمحے دنیا کے ہرکونے سے رابطہ ہوسکتا ہے، اس معاملے میں عام شہری یعنی خریداروں کا ذکر گول ہے ، دکانیں سو ہوں تو خریدار دس ہزار ہوتے ہیں ، مارکیٹ ان کے تحفظ کو مد نظر رکھ کر بنانی چاہئیے، اسوقت صرف دکانوں، مال اور دکانداروں کی بات ہورہی ہے،شہری کی نہیں ،اسے مارکیٹ تک پہنچنے کے لئیے سڑک کی ضرورت ہے اور سڑکیں ادھڑی ہوئی ہیں، یہی سڑکیں فائر بریگیڈ کو بھی درکار ہیں، لیکن اسے راستے نہیں ملے، شہریوں کے لئیے بھی راستے نہیں ان کی جان بچانے کے لئیے بھی راستے نہیں، فائر بریگیڈ کو پانی نہیں ملا ، شہریوں کو بھی نہیں ملتا۔تو ذمہ داری کا بڑا بوجھ حکومت ہی پر ہے۔
ادی طرح شہر کی کئی عمارتوں میں شاپنگ کمپلیکس ہیں اور پارکنگ لاٹ میں دکانیں، یا گودام ہیں ، شہری سڑک پر گاڑی پارکنگ والے کے حوالے کرنے پر مجبور ہے۔ اب حسب معمول معاوضوں کی بات ہوگی ۔ اس میں بھی اب ڈیجیلائزیشن ضروری ہے، دیکھا گیا ہے کہ جس۔ طرح زلزلے کے بعد لوگوں نے کلیم کئیے تھے اور اپنے نقصان سے زیادہ مال لےگئے تھے اسی طرح ہونا تو یہ چاہئیے کہ ٹیکس کے گوشواروں کے مطابق معاوضہ دیا جائے، لیکن اس وقت یہ کرنا زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہوگا۔
اب جس کو اس کے دعوے کے مطابق جتنا مال معاوضے میں دیا جائے اسی اعتبار سے مستقبل میں ٹیکس وصول کیا جائے۔یہ بات اسلئیے کہی گئی ہے کہ ہمارا تاجر چھوٹا یا بڑا تنخواہ دار طبقے کی طرح ٹیکس نہیں دیتا، تنخواہ دار اس لئیے کہ وہ مجبور ہے، اسےٹیکس کاٹ کر تنخواہ دی جاتی ہے۔ یہ پورا ایک چکر ہے ،حکومت اور حکومتی اہلکار کرپٹ، تاجر ٹیکس بچانے والے، شہری آسانی کے متلاشی،تو پھر چیزیں خراب ہی ہوتی جائیں گی۔ اصلاح چاہیے تو سب کو ٹھیک ہونا پڑے گا ۔
گل پلازہ کی آگ،پورا نظام سڑ چکا
















