Advertisement

گل پلازہ کا سارا نزلہ میونسپل کمشنر پر کیوں ؟

ایم اے جناح روڈ کراچی پر واقع قدیم گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد کئی روز گزر جانے پر بھی ریکوری اینڈ سرچ آپریشن جاری رہا اور اس دوران مزید باقیات برآمد کرلی گئیں۔ ہمارے ملک کے بیشتر حکام لاشیں نکالنے کے عمل کوریسکیو کا،عمل قرار دیتے ہیں ،اور بڑے اعتماد سے کہتے ہیں کہ ریسکیو کا مشکل عمل مکمل کیا ہے ، حانکہ وہ،عمارت سے سامان اور لاشیں۔ نکال رہے ہوتے ہیں۔اس مرتبہ بھی یہی کہا گیا ، بعد میں اسے ریکوری اینڈ سرچ آپریشن بنالیا گیا۔
ترجمان محکمہ صحت کے مطابق بدھ 22 جنوری تک جاں بحق افراد کی تعداد 67 ہوگئی تھی اورلاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا تھا۔ لاشوں اور جسم کے مختلف اعضا سے 45 ڈی این اے کے نمونے حاصل کیے گئے ، 8 افراد کی شناخت ڈی این اے سے مکمل ہوئی۔
جب ایسا حادثہ ہوتا ہے تو ناجائز فائدہ اٹھانے والے بھی کود پڑتے ہیں ان کو روکنے کے لئیے اور اصل حقداروں تک امداد پہنچانے کے لئیے تحقیق ضروری ہوتی ہے ۔اس میں دیر ہوتی ہے پھر احتجاج ہوتا ہے اور کبھی کروایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گل پلازہ کے متاثرین نے بھی شدید احتجاج کیا ۔
مظاہرے میں بڑی تعداد میں خواتین شریک تھیں، جنہوں نے ایم اے جناح روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر کے انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی روز سے وہ اپنے پیاروں کی باقیات اور دکانوں میں موجود قیمتی سامان و نقدی کی واپسی کے لیے چکر کاٹ رہے ہیں، لیکن پولیس اور رینجرز انہیں عمارت کے اندر جانے کی اجازت نہیں دے رہی، ان کی بے چینی فطری ہے،اسی مقام سے کچھ دور بوہری بازار میں آگ لگنے کے بعد پورا علاقہ پولیس کے محاصرے میں تھا اور گھر والوں اور صحافیوں تک کو اندر نہیں جا نے دیا گیا اور جب محاصرہ ختم ہوا تو محفوظ گھروں کا صفایا ہوچکا تھا پھر پولیس چیف نے تحقیقات کا حکم دیا اور اج تک کسی کا مال نہیں ملا۔
گل پلازہ کی متاثرہ خواتین نے بھی دہائی دیتے ہوئے کہا کہ ہماری زندگی بھر کی جمع پونجی اور اپنوں کی نشانیاں ملبے تلے دبی ہیں، ہمیں اندر کیوں نہیں جانے دیا جا رہا۔موقع پر موجود پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے سیکیورٹی وجوہات اور عمارت کی مخدوش حالت کا حوالہ دیتے ہوئے خواتین کو داخلے سے روکا۔ اس دوران مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان شدید تلخ کلامی اور دھکم پیل بھی دیکھنے میں آئی۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ عمارت کا ڈھانچہ آگ کی وجہ سے کمزور ہو چکا ہے اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کا اندر جانا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ اور ان کا کہنا بھی صحیح ہے ایسی حالت میں عوام کا حفاظتی انتظام اور تربیت کے بغیر ایسی عمارت میں جانا خطرناک ہوسکتا ہے۔
یہ بات بہرحال اپنی جگہ اہم ہے کہ جو کچھ ریکور کیا جارہا ہے وہ نقدی اور قیمتی اشیاء اصل مالکان کے حوالے کی جائیں۔
انتظامیہ کی جانب سے۔ ریسکیو 1122کو فائنل سرچ کا حکم دے دیا گیا، فائنل سرچ کے بعد گل پلازہ کی عمارت کو مسمار کر دیا جائے گا۔مارکیٹ کے دروازے بند ہونے کے بارے میں صدرگل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن تنویر پاستا کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کے راستے بند نہیں تھے، ایمرجنسی ریمپ بھی کھلا تھا، مسجد سے باہر جانے کے دو راستے بھی کھلے ہوئے تھے، بجلی بند نہ کرتے تو جو لوگ باہر نکلے وہ بھی نہیں نکل سکتے تھے۔ادھر تفتیشی حکام نے گل پلازہ آتشزدگی کی ابتدائی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کے باعث نہیں لگی بلکہ ممکنہ طور پر ماچس یا لائٹر سے لگی۔ حکام کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی رپورٹ عینی شاہدین اور متاثرین کے بیانات سے تیار کی گئی ہے۔ جس کے مطابق گل پلازہ میں آگ سب سے پہلے ایک مصنوعی پھولوں کی دکان میں لگی۔ جہاں اس وقت بچے موجود تھے اور کھیل رہے تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بچے دکان میں ماچس یا لائٹر سے کھیل رہے تھے۔ جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آگ دکان میں موجود سامان کو لپیٹ میں لینے کے بعد بجلی کی تاروں کے ذریعے دیگر حصوں میں پھیل گئی۔ آگ لگتے ہی عمارت میں موجود افراد نے باہر نکلنے کی کوشش کی تاہم خارجی راستوں پر دروازے بند ہونے کے باعث شدید بھگدڑ مچ گئی۔تحقیقات کے مطابق آتشزدگی کے وقت عمارت میں زیادہ تر دکانیں کھلی ہوئی تھیں جبکہ چھت کی جانب جانے والے راستے پر گرل نصب تھی جس سے انخلا میں مزید مشکلات پیش آئیں۔ آگ کے نتیجے میں عمارت میں نصب سی سی ٹی وی نظام تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ جس کی وجہ سے واقعے کی مکمل وڈیوز ستیاب نہیں ہو سکیں۔
سانحہ گل پلازہ کے بعد سندھ حکومت نے میونسپل کمشنر کراچی افضل زیدی کو عہدے سے ہٹا دیا اور ان کی جگہ گریڈ 19 کی خاتون افسر سمیرا حسین کو اضافی چارج دے دیا گیا ہے۔افضل زیدی 30 نومبر کو 3 سالہ ابراھیم کے گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے کے واقعے پر تنقید کی زد میں تھے۔ حکومت سندھ کے ذرائع کے مطابق گل پلازہ میں ہونے والی آتشزدگی میں بھی افضل زیدی کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں تھی۔ لیکن اگر یہی سبب ہے تو کراچی میں اب تک کی درجنوں آتشزدگی کی وارداتوں میں بھی حکومت سندھ اور مئیر کراچی کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں رہی ،تو کیا ان کے خلاف یہی کارروائی کی جانی چاہیے؟؟
بہر حال وقت کی گرد اس واقعے کو بھی بھلادے گی ،خرابی یہی ہے کہ لوگ ایسی باتیں یاد نہیں رکھتے ورنہ دوسرے کے بعد تیسرا واقعہ نہیں ہوتا ۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور اپنی تحریر، تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ bisaat.mag@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔
error: