Advertisement

گلبرگ : کراچی کا مثالی ٹاؤن

طویل عرصے بعد جب کراچی میں بلدیاتی انتخابات ہوئے تو ایسا لگتا تھا کہ جماعت اسلامی ایک بار پھر شہر کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت بن کر ابھرے گی لیکن فیصلہ سازوں نے فارم 47 استعمال کرکے حافظ نعیم کومئیر بننے سے روک لیا، لیکن یہ تو ایک بہتا ہوا دریا ہے، اس کی موجیں کب رکتی ہیں ، حافظ نعیم مئیر کے بجائے امیر بن گئے ،فارم 47 کے ہلے میں ایک نشست حافظ نعیم کو دینے کی کوشش کی لیکن وہ اسے ٹھکراکر آگے بڑھ گئے ،کراچی پر پی ٹی ائی کے منحرفین کے تعاون سے مئیر مسلط کردیا گیا۔ لیکن یہ موجیں رکنے والی تو نہ تھیں شہر کے نو ٹاؤن پھر بھی جماعت اسلامی نے جیت لئے، ان ہی میں سے ایک گلبرگ ٹاؤن بھی ہے،اگرچہ پورے شہر میں کام صرف جماعت اسلامی کے ٹاؤنز میں ہورہا ہے لیکن حافظ نعیم الرحمٰن نے خود گلبرگ ٹاؤن کو کراچی کا ماڈل ٹاؤن قرار دیا ہے۔ اس کی شہرت ہم نے بھی سوشل میڈیا پر دیکھی تو وقت لے کر ٹاؤن چئیر مین نصرت اللہ سے ملنے چلے گئے۔ ابھی ٹاون کا کوئی ترقیاتی کام نہیں دیکھا تھا، بس ٹاؤن کے دفتر ہی پہنچے تھے کہ ایسا لگا یہ کسی بڑی کارپوریٹ کمپنی کے دفاتر ہیں ، ایسا تو باہر سے لگا لیکن اندر پہنچ کر تو سب کچھ بدلا ہوا تھا ،ایک اجاڑ ویرانے کو ایسا تبدیل کیا ،گویا جنگل میں منگل، لیکن اب تیزرفتاری سے پورے ٹاؤن کے جنگل میں منگل نظر آنے لگا ہے، اب لگ بھگ کوئی ڈیڑھ پونے دوسال کا عرصہ بچا ہے۔
ابھی ہماری گفتگو شروع نہیں ہوئی تھی کچھ دفتری امور نمٹائے جارہے تھے ہم خاموشی سے نصرت اللہ کا انداز کار دیکھ رہے تھے، ٹھیکیداروں سے نمٹنے کا انداز مختلف، اسٹاف سے پیار محبت سے گفتگو اور ہدایات بڑی خوبی سے کررہے تھے ایک افسر کو سرزنش بھی اس انداز سے کی کہ ان کی سینیارٹی کا احترام بھی ملحوظ رکھا اور توجہ بھی دلائی ، اگر گلبرگ کو مثالی ٹاؤن کہا گیا تو بلاشبہ نصرت اللہ ایک مثالی ناظم ہیں۔
نصرت اللہ سے گفتگو کرتے ہوئے ہم نے کہا آپ نے دفتر تو اچھا بنا لیا ہے تو انہوں نے بتایا کہ یہ اب بنا ہے پہلے تو ٹاؤن کی سڑکوں گلیوں پر توجہ دی گئی،پرانی گاڑیوں کی مرمت کی گئی ، انہوں نے بتایا کہ ایک عجیب روایت ہے شہری اور شہری ادارے اسکولوں، مسجدوں، پارکوں اور اسپتالوں کے ساتھ ہی کچرا کنڈی بنادیتے ہیں ،ہم نے اسے ختم کرنے کی ٹھانی اور خاطر خواہ کامیابی ہوئی۔
گزشتہ دنوں حافظ نعیم صاحب نے دورہ کیا تو خود کہا کہ گلبرگ ٹاؤن کی کارکردگی پورے کراچی میں نمایاں ہے ،انہوں نے سمن آباد پرائمری ہیلتھ کیئر یونٹ کا افتتاح اور عزیز آباد میں نعمت اللہ خان مرحوم کے نام سے سڑک کا سنگِ بنیاد بھی رکھا تھا۔ کچھ ماہ قبل یہاں بہادر یار جنگ ماڈل اسکول کا افتتاح کیا گیا، واٹر ہارووسٹنگ کے کئی منصوبے مکمل کیے جاچکے ہیں، اور آج ایک بہترین ہیلتھ کیئر فسیلٹی عوام کے لیے کھول دی گئی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا تھا کہ سندھ حکومت ٹاؤنز اور یوسیز کو اختیارات منتقل نہیں کر رہی، اس کے باوجود محدود وسائل میں ہمارے 9 ٹاؤنز کی کارکردگی مثالی ہے۔
پانی اور سیوریج کے مسائل کے حوالے سے سوال پر نصرت اللہ نے کہا کہ واٹر اینڈ سیوریج ہمارا دائرہِ کار نہیں، اس کے باوجود ہم نے عوامی مشکلات کے پیشِ نظر 20 کروڑ روپے کے ترقیاتی کام مکمل کروائے تاکہ عوام کو ریلیف ملے۔ سیوریج کارپوریشن اپنا کام نہیں کر رہا، لیکن ہم نے اپنی سطح پر ممکنہ اقدامات کیے ہیں تاکہ مسائل حل ہوں۔
اس سوال پر کہ مزید کیا کیا کام آپ نے اور آپ کی ٹیم نے کئیے ہیں چیئرمین گلبرگ ٹاؤن نصرت اللہ نے کہا کہ حلف اٹھانے کے وقت ٹاؤن کی بیشتر گاڑیاں ناکارہ اور کچرے کی حالت میں موجود تھیں، تاہم قلیل عرصے اور محدود وسائل کے باوجود گلبرگ ٹاؤن انتظامیہ نے 25 گاڑیاں مرمت کے بعد دوبارہ سڑکوں پر اتار دی ہیں۔
مزید تین گاڑیوں کی رینویشن مکمل ہوچکی ہے۔ بلدیاتی نظام کی بہتری کے لیے دستیاب وسائل کو درست سمت میں بروئے کار لایا جا رہا ہے تاکہ صفائی ستھرائی اور دیگر بلدیاتی خدمات کو مؤثر بنایا جا سکے۔
چیئرمین نصرت اللہ نے مزید بتایا کہ حالانکہ صفائی ستھرائی سندھ سالڈ ویسٹ کا کام ہے مگر عوام کی پریشانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے گلبرگ ٹاؤن نے اپنے ذرائع سے گاڑیاں مرمت کروائی تاکہ صفائی ستھرائی کے عمل کو مزید بہتر کیا جا سکے انہوں نے بتایا کہ ٹاؤن میں صفائی اور سروس ڈیلیوری کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے گاڑیوں اور مشینری کو مستقل فعال رکھا جارہا ہے اور عوام کو بلدیاتی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے گی۔
بات یہ ہے کہ ہم فنڈز اور اختیارات مانگ ضرور رہے ہیں لیکن اس کا رونا رو کر بیٹھ رہنے والے نہیں۔اس لئیے یو سی 7 بلاک 3 میں 12 انچ قطر کی تین ہزار رننگ فٹ پانی کی لائن کی تبدیل کردی گئی۔ جماعت اسلامی کے منتخب نمائندوں کی جانب سے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے بلا تعطل جاری رہیں گے۔یہ لائن تقریبا 70 سالوں کے بعد تبدیل کی جا رہی ہے تاکہ یو سی مکینوں کو پانی کی فراہمی سے متعلق درپیش مسائل سے مستقل نجات مل سکے۔
گلبرگ ٹاؤن کی تمام یوسیز میں عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے واٹرلائن کی تبدیلی یو سی 7کا دیرینہ مطالبہ تھا حالانکہ واٹر اور سیوریج بوڑد کا کام ہے ہمارے زمرے میں نہیں آتا بارہا واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور اعلی حکام کو درخواست کرنے کے باوجود کوئی کام نہ ہوا تو گلبرگ ٹاؤن نے اپنے فنڈز سے لائنوں کی تبدیلی کا عمل شروع کر دیا جس سے ہزاروں لوگ مستفید ہوں گے۔
سرکاری اسکولوں سے متعلق بات پر ٹاون ناظم نصرت اللہ گویا ہوئے’’ گلبرگ ٹاؤن نے 4 اسکولوں میں کمپیوٹر لیبز کے قیام کا منصوبہ بنایا اور یہ بہت کامیاب رہا، ان لیبز کا قیام، طلبہ کو جدید تعلیم سے ہم آہنگ کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔ یہ گلبرگ ٹاؤن میں محکمہ تعلیم کی جانب سے ٹیکنالوجی ایمپاورمنٹ پروگرام ہے، جس کا بنیادی مقصد سرکاری تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل سہولیات کا فروغ، جدید کمپیوٹر لیبز کا قیام اور طلبہ کی آئی ٹی استعداد میں اضافہ کرنا تھا۔ اس پروگرام کو ٹیکنالوجی کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ جب ہم نے یہ تقریب کی تو پرنسپلز میں بھی کمپیوٹرز تقسیم کیے گئے‘‘۔
جماعت اسلامی ایک جانب بنو قابل پروگرام چلارہی ہے اور ہمارے ٹاؤنز اسکولوں میں کمپیوٹر لیب بناکر دے رہے ہیں ،آج کے اس دور میں جدید کمپیوٹر لیبز کا قیام اور طلبہ میں لیپ ٹاپ کی تقسیم محض سہولت نہیں بلکہ ایک روشن اور باوقار مستقبل کی بنیاد ہے۔
ابتدائی گفتگو میں کچرا کنڈیوں کا ذکر تھا ،اس کی کیا تفصیل ہے ؟ اس بارے میں بیان کرتے ہوئے نصرت اللہ نے بتایا کہ:
رابعہ بصری اسکول، بلاک 17 فیڈرل بی ایریا اس کی ایک مثال ہے دوسرے علاقوں میں بھی اس کی تقلید کی جانی چاہئیے۔اس کی تزئین و آرائش کے بعد اسکول کے طلبہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ یہاں کچرا نہ ڈالیں۔ گلبرگ ٹاؤن کی جانب سے کچرا کنڈی ختم کر کے اسکول کے فٹ پاتھ اور باونڈری وال کو نہایت خوبصورتی سے بحال کر دیا گیا ہے۔ عوام سے درخواست ہے کہ اس سلسلے میں تعاون کریں اور علاقے کو صاف رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ چیئرمین گلبرگ ٹاؤن نے طار بار کہنا پڑتا ہے کہ شہر سے کچرا اٹھانا سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی ذمہ داری ہے، اور اگر کسی علاقے میں کچرا نہ اٹھایا جائے تو عوام کو چاہیے کہ وہ متعلقہ ادارے سے رابطہ کریں۔ ٹاؤن کی جانب سے اب تک 35 میں سے 28 کچرا کنڈیاں ختم کی جا چکی ہیں، جو ایک بڑی کامیابی ہے۔ گلبرگ ٹاؤن نے عوامی مفاد میں یہ ذمہ داری خود نبھائی،سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ہم اپنے عوام کو تنہا اور بے یارو مددگار نہیں چھوڑ سکتے۔
نصرت اللہ نے کہا کہ ہم دعووں پر یقین نہیں رکھتے ہمارا کام سامنے اور سب کو نظر آرہا ہے ، یہ ہماری جنونی ٹیم ہے جو دن رات ٹاؤن کو نکھار رہی ہے۔ ہم منظم طریقے سے کام کررہے ہیں،ہماری رپورٹ بھی ظاہر کررہی ہے کہ ہم نے اپنے وسائل اور درپیش مسائل کا پہلے جائزہ لیا،پھر منصوبہ بنایا اور اللہ کا نام لے کر میدان عمل میں اتر گئے۔ہم نے جدت پر مبنی منصوبے بنائے ہیں،جن میں تعلیم، باغات ،عمارات، سڑکیں،مکینکل اور برقیات کے شعبے، فراہمی ونکاسی آب (اگرچہ ہمارا کام نہیں)
مالیات، محصولات،کتب خانے ،اور باغات ان سب پر توجہ ہے،جماعت اسلامی کے ہر ٹاؤن کی طرح گلبرگ کی جانب سے بھی جامعہ کراچی کے لئیے ایک بس کا انتظام کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ چھ پارکس میں اوپن ائیر جم کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔عزیز اباد بلاک 8 اور روشن باغ سودائٹی میں ماڈل محلے سب کے سامنے ہیں۔ جدید تقاصون کے مطابق جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق تربیتی ورکشاپ، شائننگ اسٹارز ٹیلنٹ فیسٹ،شجر کاری اور پانی کی قلت کا شکار شہر میں بارش اور وضو کے پانی کا ذخیرہ کرکے دوبارہ استعمال میں لایا جارہا ہے۔گلبرگ ٹاؤن نے تعلیم کارڈ کے اجرا کا انقلابی اعلان بھی کیا ہے، ٹاؤن کے سرکاری اسکولوں کی تزئین و آرایش ،اس کے ساتھ ساتھ پارکس میں جھولوں فواروں کی تنصیب بھی کی گئی ،فلاور شو بھی منعقد کئیے گئے، علاقے میں نالوں کی صفائی اور حفاظتی اقدامات کئیے گئے،اور یہ بس نہیں ہے،
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ہم ٹیم ورک کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، ہمارے وائس چیئرمین محمد الیاس ہیں، ہم سرکاری افسران کے ساتھ مل کر ہم آہنگی کے ساتھ کام کررہے ہیں۔اس کے علاوہ آٹھوں یوسیز کے چیئرمین اور وائس چیئرمین اور کونسلرز میدان میں ہماری اصل قوت ہیں۔
گلبرگ ٹاؤن کے بارے میں اس ملاقات کے بعد جو تاثر قائم ہوا اور جو کام یہاں کی سرگرم ٹیم کررہی ہے اسے دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ اس کا عزم ہے
خون دل دے کے نکھاریں گے رخ برگ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے
اس ملاقات کے موقع پر انجینئر صابر احمد بھی موجود تھے، ماہنامہ بساط کی کاپی نصرت اللہ کو پیش کی گئی انہوں نے بساط کو ٹاؤن کی کارکردگی رپورٹ “روشنی کاسفر” پیش کی، لیکن گلبرگ ٹاؤن کی کارکردگی اب رپورٹس کی محتاج نہیں،اب یہ ہر گلی محلے میں نظر آرہی ہے، اللہ انہیں اور کامیابیاں عطا کرے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور اپنی تحریر، تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ bisaat.mag@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔
error: