بنگلا دیش میں شہید عبدالمالک نے اپنے خون سے جس گلستان کی آبیاری کی تھی وہ ایسا برگ وبار لایا کہ مطیع الرحمٰن نظامی سے لے کر عبدالقادر ملا تک درجنوں لوگ اس راہ پر چلے اور آج ان کو نہیں تو ان کی نسلوں کو اس کا پھل مل رہا ہے، یہ پھل دنیاوی مال و دولت نہیں ہے شہدا کے خاندانوں کے لئیے پلاٹ اور بنگلے بھی نہیں ہیں یہ اس تحریک کی ترقی کامیابی اور سرخ روئی ہے جو سید مودودی نے بپا کی تھی، جن لوگوں نے اس راہ میں جانیں نذر کیں وہ تو یقینا اللہ کے وعدے کے مطابق بہترین حالت میں ہونگے، لیکن ان کی تحریک کو بنگلا دیش میں جو پذیرائی ملی ہے وہ یہ بتانے کے لئیے کافی ہے کہ لاٹھی گولی، سختیاں پھانسیاں تحریکوں کا راستہ نہیں روک سکتیں،بلکہ قرآن نے وعدہ کیا ہے کہ ” تم ہی غالب رہوگے، اگر تم مومن ہو “
اور بنگلا دیش جماعت اسلامی نے ثآبت کردیا کہ موقف پر مضبوطی کے ساتھ جمے رہنے اور سختیوں کو صبر سے جھیلنے کا پھل اچھا ہی ہوتا ہے۔
گزشتہ پندرہ بیس سال کی سختیوں کے بعد جب ایک زوردار ہوا چلی اور شیخ مجیب کی بیٹی کو ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا تواسوقت یہ خیال کسی کو بھی نہیں تھا کہ جماعت اسلامی بنگلا دیش انتخابی میدان میں کوئی انقلاب لانے والی ہے ،لیکن بنگلادیش کے 13 ویں قومی پارلیمانی انتخابات میں جماعت اسلامی نے جتنی نشستیں ایک جماعت کے طور پر حاصل کی ہیں، وہ اس سے پہلے کبھی نہیں حاصل کی تھیں۔
جماعت اسلامی پر یہ الزام رہا ہے کہ اس نے بنگلہ دیش کی آزادی کی کھلی مخالفت کی اور اس کے بعض رہنما پاکستانی فوج کے معاون کے طور پر مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث رہے۔ لیکن اسی تاریخ کے ساتھ اس بار جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ میں مرکزی اپوزیشن جماعت کی نشست سنبھالنے جا رہی ہے۔ پہلی بار آزاد بنگلہ دیش کی تاریخ میں دارالحکومت ڈھاکا سے جماعت اسلامی کوئی نشست جیتنے میں کامیاب ہوئی۔
مجموعی طور پر اس انتخاب میں جماعت اسلامی کے امیدواروں نے 68 پارلیمانی نشستیں جیتی ہیں جبکہ اتحادیوں کی نشستیں ملا کر جماعت اسلامی کے زیر قیادت اتحاد کُل 77 نشستوں کے ساتھ مرکزی حزب اختلاف کے طور پر پارلیمنٹ میں بیٹھ رہا ہے۔ اس عمل نے جماعت اسلامی کے خلاف سارے سرکاری پروپیگنڈے مسترد کرئیے ہیں۔
یہ تو ڈھاکا یونیورسٹی کے پہلےشہید عبدالمالک کی قربانی کاثمر تھا، لیکن کراچی یونیورسٹی میں مغربی پاکستان یا باقی ماندہ پاکستان کے پہلے شہید حافظ محمد اسلم کی قربانی کا ثمر بھی تو ملنا چاہئیے، اور یہ ضرور ملے گا ان شاء اللہ سید مودودی نے تو کہا تھا کہ مجھے اس بات کا اس طرح یقین ہے کہ اس ملک میں اسلامی نظام نافذ ہوکررہے گا، جس طرح مجھے یہ یقین ہے کہ آج رات کے بعد کل سورج طلوع ہوگا اور صبح ہوگی، تو پھر ہاکستان کو بھی اسلامی نظام کی برکتیں ملیں گی اور حافظ اسلم کے خواب کو بھی تعبیر ملے گی۔ آج کل ایک نظم حکومت سے باہر حتی کہ حکومت والوں میں بھی مقبول ہے کہ ” میں نہیں مانتا ، میں نہیں مانتا”
یہ نظم تو آج کے چھپے مارشل لاء کے بارے میں ہے اور حافظ اسلم تو 1980 کے عشرے کے کھلم کھلا مارشل لاء کے بارے میں نعرے لگایا کرتے تھے، ” یہ گھور اندھیرا ،ظلمت کا ڈیرا نہیں بھئی نہیں،
اسی طرح انہوں نے جامعات میں غنڈہ راج کو بھی مسترد کیا تھا، مارشل لا والوں نے طلبہ یونینوں پر پر پابندی کے لئیے بیرون ملک سے ڈاکٹر افضل درآمد کئیے تھے اور وہ اپنا کام دکھا گئے، اور اسی مقصد کے لئیے جامعات میں لسانی ،علاقائی اور فرقہ پرست تنظیموں کی داغ بیل ڈالی گئی ، اسلامی جمعیت طلبہ کو نکالنے کے لئیے ان کو ایک بھی کیا لیکن کئی کئی رنگ برنگی پارٹیوں ، سرخ و سفید کے ملغوبےبھی جمعیت کو شکست نہ دے سکے بلکہ جس سال 26 فروری 1981 کو حافظ اسلم کو شہید کیا گیا اس سال ایم کیو ایم کی مادر تنظیم اے پی ایم ایس او ،پی ایس ایف، لبرلز، پنجابی، پشتون، اور سندھی وبلوچ قوم پرستوں اور موقع پرستوں کے ساتھ مل گئی تھی لیکن اس سال جمعیت تاریخ میں سب سے بڑے فرق سے کامیاب ہوئی تھی، جامعات میں طلبہ اس زمانے میں باشعور تھے کیونکہ طلبہ یونینوں پر پابندی نہیں تھی ،اسی شعور کو چھیننے کے لئیے،نظریہ پاکستان کو بھلانے کے لئیے طلبہ یونینوں پر پابندی لگادی گئی۔ 3 دسمبر1981 کی جامعہ کراچی اور این ای ڈی دونوں جگہ حافظ اسلم اورجمعیت کے کارکنوں کی قربانیوں کا ثمر ملا تھا ، لیکن نظریات کی راہ روکنے والے یہ عقدہ کھول چکے تھے کہ نظریات کا راستہ قوم پرستی شخصیات اور بے ہودگی سے روکا جاسکتا ہے ،اگر اس میں سرکاری سرپرستی نہ ہوتی تو یہ بھی ملکی سیاست میں بھی اسی طرح شکست کھاتے جیسے حافظ اسلم کے بعد کھائی تھی ، اس لئیے اے پی ایم ایس او کے بطن سے ایم کو ایم نکالی گئی، اس کو تقویت دینے کے لئیے پی پی آئی ،پنجابی پختون اتحاد بنایا گیا، پھر سندھی قوم پرستی کو ہوا دی گئی، غرض قوم کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا،اور اب جامعات ملک کو متبادل قیادت دینے سے قاصر ہیں،کیونکہ اب وہ نرسری ہی نہ رہی جہاں سے سیاسی قیادت مستقبل کے حکمران اور رہنما نکلتے ہیں البتہ اسلامی جمعیت طلبہ موجودرہی جہاں سےحافظ اسلم جیسے ہیرے تیار ہوتے ہیں اور یہی کام بنگلا دیش میں بھی ہوا شہید عبدالمالک کا مشن مطیع الرحمٰن نظامی، عبدالقادر ملا اور دیگر لے کر چلتے رہے قافلہ کبھی رکا نہیں تھما نہیں اور اب بھی رکا نہیں ہے بلکہ ان کاعزم اب بھی یہی ہے کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے، جماعت اسلامی بنگلا دیش کی کامیابی منزل نہیں نشان منزل ہے ،اور یہ بہت بڑا نشان ہے پچاس سال سے حکومت اور اسکے سارے بھونپو جس پارٹی کو غدار کہتے تھے آج اس پارٹی نے 77 سیٹیں جیتی ہیں، اگر سرکار کا موقف درست تھاتو ساڑھے تین کروڑ بنگلا دیشی بھی غدار قرار پاتے ہیں، اور اس تناظر میں پاکستانی سرکار اور ان کے بھونپووں کی کیفیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کبھی وہ جماعت کو امریکی ایجنٹ کہتے تھے پھر وقت آیا تو ایبسلوٹلی ناٹ والوں سمیت ساری پارٹیاں امریکی کاسہ لیسی کرتی نظر ائیں موجودہ حکومت کے تو کیا کہنے، لیکن ایبسلوٹلی ناٹ والے بھی ٹرمپ سے آس لگائے بیٹھے ہیں۔
اب پاکستان میں اسلامی نظرئیے کا راستہ روکنے والوں نے ہرجتن کرلئیے اب وہ ہرطرح ناکام ہوچکے اب اے ٹیم اور بی ٹیم کا بیانیہ بھی پٹ چکاہے،اب ایک بار پھر مغرب کے بیانئیے مسترد ہونگے ،مشرق ہی سے سورج طلوع ہوتا ہے مشرق ہی سے طلوع ہوگا، آج بھی حافظ اسلم کا وہ دائرے میں طلبہ کو جمع کرکے نعرے لگانا یاد ہے ،وہ آوازیں گونجتی ہیں۔
اک بات سنو بھئ !!!!
کیا بھئی کیا ؟؟؟
بھئی نہیں بتلاتے !!!
کیوں بھئی کیوں !!!
یہ رو پڑیں گے!!!
رونے دو!!!!
جمعیت جیتی واہ بھئ واہ—–
اب یہ روئیں چلائیں چیخیں تڑپیں دیوار پہ لکھا سب کو نظر آرہا ہے حافظ اسلم اور جمعیت اور جماعت اسلامی کے سیکڑوں کارکنوں کی قربانی رنگ لانے کو ہے،
بس رکو نہیں تھمو نہیں ،
معرکے ہیں تیز تر —
ذرا بھی تم رکے کہیں جو لمحہ بھر
طویل ہو نہ جائے پھر کہیں تمہارا یہ کٹھن سفر—
بس اب رکنا نہیں ہے ادھر ادھر کی آوازوں پر بھی کان نہیں دھرنے سید مودودی کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا وقت قریب ہے۔
حافظ اسلم کی قربانی بھی رنگ لائے گی
















