راجا محمد ریاض ایک معروف سماجی و کاروباری شخصیت ہیں جو اپنی محنت، ایمانداری اور خدمتِ خلق کے جذبے کی بدولت نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ وہ سعودی عرب جدہ میں مقیم ہیں اور ان کا تعلق پاکستان سے ہے۔ ان کی زندگی جدوجہد، تجربات اور کامیابیوں کا حسین امتزاج ہے۔
راجا محمد ریاض کی پیدائش 1968 میں آزاد کشمیر کے ضلع پونجھ کے علاقے راولاکورٹ میں ہوئی۔ 8ویں تک تعلیم کے بعد 1979 میں اسلام آباد آ گئے۔ وہاں مختلف جگہوں اور ریسٹورینٹس میں کام کیا، کوکنگ سیکھی اور بحیثیت کک کام کیا۔ 1983 میں کویت آ گئے اور 3 سال کام کرکے 1986میں سعودی عرب جدہ پہنچے۔ یہاں آ کر بھی وہ ہی سفر جاری رہا۔ مختلف کام کئے۔ ٹیکسی بھی چلائی، ریسٹورینٹ بھی کئے، اپنا بزنس بھی کیا۔ راجا ریاض محنت اور جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ زندگی کے مختلف مراحل میں انہوں نے کئی چیلنجز کا سامنا کیا مگر کبھی ہمت نہیں ہاری۔ وقت کے ساتھ ساتھ اپنے تجربات کو نکھارا۔
تعلیم کے شوق نے عمر کی پروا نہیں کی اور راجا ریاض نےسعودی عرب آکر 1993 میں پاکستان انٹرنیشنل اسکول العزیزیہ جدہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ پھر2009 میں انٹر(ایف اے) کیا۔ پڑھائی کے شوق کےسفرکو جاری رکھتے راجا ریاض نے 2024 میں بی اے کا امتحان دیا اور 2025 ٘میں کراچی یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ اگرچہ انہوں نے عملی زندگی میں زیادہ وقت محنت اور ہنر سیکھنے میں گزارا۔ ان کی اصل تعلیم تجربے اور عملی میدان سے حاصل ہوئی۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ’’اصل تعلیم وہ ہے جو انسان کو خود مختاری اور عزتِ نفس سکھائے۔ اس کے باوجود انھوں نے نصابی تعلیم کو بھی اہمیت دی ‘‘۔
راجا محمد ریاض نے مختلف شعبوں میں کام کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ لیکن انہوں نے ریسٹورینٹ کے میدان میں مہارت حاصل کی، جہاں ان کی محنت اور دیانتداری نے انہیں ممتاز مقام عطا کیا۔ بعدازاں وہ کوکنگ کے شعبے سے بھی وابستہ ہوئے اور یہاں بھی انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے ایک منفرد پہچان بنائی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’کھانا صرف ذائقہ نہیں بلکہ محبت کا اظہار ہے۔ سعودی عرب میں کفیل کے نام پرکاروبارشروع کیا۔ لیکن جب حکومت کی طرف سے یہ سہولت دی گئی کہ آپ اپنا کمرشل لائسنس لے سکتے ہیں پھر الحمداللہ 3 سال قبل اپنا سی آر بنوایا اور اپنے دوسرے بیٹے علی ریاض راجا کے ساتھ ملکراپنا بزنس شروع کیا اور سارے بزنس کی دیکھ بھال علی ریاض ہی کرتے ہیں۔ ریسٹورینٹ کے میدان میں کچھ اضافہ کرنے کا پروگرام ہے۔ باقی کنسٹرکشن حوالے سے جوبزنس ہے وہ اللہ کے فضل و کرم سے بہت اچھا چل رہا ہے۔ ‘‘
راجا ریاض کی سماجی خدمات بھی بہت ہیں ۔
راجا محمد ریا ض نے اپنی کامیابی کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لیے بھی خدمات انجام دیں۔ وہ ضرورت مندوں کی مدد کرنے اور نوجوانوں کو محنت، ہنر اور دیانت داری کی ترغیب دینے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف ذاتی کامیابی نہیں بلکہ اپنی کمیونٹی کی ترقی بھی ہے۔ سماجی طورسے ان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ پہلے جموں و کشمیرکمیٹی اوورسیز (جےکےسی او) کے جنرل سیکریٹری اور اب وائس چیئرمین ہیں۔ اس کے علاوہ انویسٹرفورم اور قومی یکجہتی فورم کے بھی رکن ہیں۔ بنیادی طور پر ان کا تعلق جماعتِ اسلامی پاکستان سے ہے اور جدہ میں جماعت کی ذیلی تنظیم سماجی رابطہ کمیٹی کے تحت جماعت کے بہت سے کام سرانجام دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان قونصلیت جدہ کے تعاون سے پاکستان ویلفئیر سوسائٹی کے تحت پندرہ روزہ فری میڈیکل کیمپ میں بھی بےلوث خدمات انجام دیتے ہیں۔
ان کی شخصیت میں سادگی، اخلاص اور مثبت سوچ نمایاں ہے۔ وہ ہمیشہ دوسروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور نئی نسل کو پیغام دیتے ہیں کہ کامیابی صرف قسمت نہیں بلکہ محنت، صبراور ایمان کا نتیجہ ہے۔
سپاس گزاری: راجا محمد ریاض نے جدہ میں قونصل جنرل اسلامی جمہوریہ پاکستان محترم جنرل خالد مجید کی ہمت اورکاوشوں کی دل کی گہرائیوں سے تعریف کرتے ہیں اوران کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں کمیونٹی کی دیرینہ خواہش اور ضرورت کے مطابق قونصلیٹ کی نئی بلڈنگ اپنی نگرانی میں مکمل کرائی کہ جس کو دیکھ کرسر فخر سے بلند ہوجاتا ہے۔ یہ بلڈنگ ہم سب کی ہے اور سب کا دل خوش اورسر فخر سے بلند ہونا چاہیے۔ دوسرا قابل تعریف قدم ” سچے موتی” کےعنوان سے جو پروگرام شروع کیا ہے اس مثال قونصلیٹ کی تاریخ میں نہیں ملتی ہے۔
راجا محمد ریاض کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ اگر انسان خلوصِ نیت سے محنت کرے تو کامیابی خود راستہ بناتی ہے۔ ان کا سفر ہر اُس نوجوان کے لیے رہنمائی کا چراغ ہے جو اپنے خوابوں کو حقیقت بنانا چاہتا ہے۔
محنت، لگن اور کامیابی کی پہچان:راجا محمد ریاض
















