پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ جدہ میں نئے پاکستانی قونصلیٹ کی عمارت کا ڈیزائن پاکستانی، اسلامی اورسعودی فن تعمیر کا امتزاج ہے۔ یہ بات انھوں نے سنیچر 10 جنوری 2026 کو جدہ میں نئے پاکستانی قونصلیٹ کی عمارت کی افتتاحی تقریب میں بطور مہمان خصوصی کہی۔ انھوں نے سابق قونصل جنرل جدہ خالد مجید کی کوششوں کی تعریف کی اور سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے فراہم کیے گئے تعاون کو سراہا جس کے باعث یہ منصوبہ پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو مؤثر قونصلر خدمات فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ عمارت اور سہولیات کا جائزہ لینے کے بعد نائب وزیرِاعظم نے منصوبے کی تکمیل پر اطمینان کا اظہار کیا اور جلد از جلد تمام انتظامی اور قونصلر خدمات نئی چانسری عمارت میں منتقل کرنے کی منظوری دی۔
تقریب نہایت سادگی اورپُر وقاراندازسے منعقد ہوئی۔ جس میں سعودی وزارت خارجہ کی مکہ شاخ کے ڈائریکٹر جنرل فرید بن سعد الشہری سعودی عرب میں پاکستان کے سفیراحمد فاروق، سعودی معززین، قونصل جنرل پاکستان جدہ سید مصطفیٰ ربانی، او آئی سی میں پاکستان کے اسسٹینٹ سیکریٹری جنرل سنائس اینڈ ٹیکنالوجی آفتاب کھوکھر، پاکستانی کمیونٹی کے نمایاں افراد اور قونصل خانے کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ تقریب کا آغاز قاری محمد آصف کی آیات ربانی کی تلاوت و ترجمہ سے ہوا ۔ اس کے بعد سعودی عرب اور پاکستان کے قومی ترانے ہوئے۔ قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا۔ انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نئی چانسری عمارت اور اس کی جدید سہولیات کمیونٹی کو بہتر اور مؤثر خدمات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرے گی۔ سفیر پاکستان محمد فاروق نے اپنے خطاب میں کہا کہ نئی عمارت کا افتتاح سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کی گہرائی اور تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے دونوں ممالک کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انھوں نے پاکستان ساتھ ہم آہنگی اورمسلسل ہمائت پرمملیکت کا شکریہ ادا کیا۔
قبل ازیں نئی چانسری عمارت میں قومی پرچم لہرایا گیا، شجرکاری کی گئی، ربن کاٹا گیا، یادگاری تختی کی نقاب کشائی ہوئی اور پاکستان و سعودی عرب کی ترقی اور خوشحالی کے لیے دعائیں کی گئیں۔ اس موقع پر منصوبے کی خصوصیات پر مشتمل ایک مختصر ویڈیو رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ جس کے مطابق قونصلیٹ کی نئی عمارت کا کل رقبہ 18 ہزار 400 مربع میٹر ہے جبکہ عمارت 5 ہزار 200 مربع میٹر پر تعمیر کی گئی ہے۔ اس کی چار منزلیں ہیں۔ یہ ایریا 8 ہزار 770 مربع میٹر ہے۔ پہلی دو منزلیں قونصل خدمات کے لیے مختص ہیں، دو بڑے ہال اور پبلک ویٹنگ ایریا ہوں گے۔ تیسری منزل آفس ایریا کے لیے جبکہ چوتھی منزل حج مشن کے لیے ہے۔ یہاں آرکائیوز بھی محفوظ کیے جائیں گے۔ یہ پروجیکٹ گرین بلڈنگ اور انوائرنمنٹ فرینڈلی ہے۔ ہوا اور روشنی کا اہتمام ہے۔ سمارٹ کنٹرول سسٹم اور سعودی قوانین کے مطابق تمام بنیادی سہولتیں اس میں موجود ہیں۔ ئی عمارت جدہ کے رحاب ڈسٹرکٹ میں ایک سال کی مختصر مدت میں تعمیر کی گئی۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کے مغربی خطے میں تقریباً 18 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں اورجدہ قونصلیٹ مملکت میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے لیے اہم رہا ہے۔ 1985 میں پاکستانی سفارت خانہ جب جدہ سے ریاض منتقل ہوا توقونصلیٹ نے کام شروع کیا تھا۔ تقریب میں اسٹیج سیکریٹری کے فرائض ہیڈ آف چانسری غلام حسین نےادا کئے۔
نئی پاکستانی قونصلیٹ اسلامی اورسعودی فن تعمیر کا امتزاج ہے، اسحاق ڈار
















