Advertisement

اسلامی بینکاری: غیر سودی یا سودی

ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی عالمی شہرت یافتہ بینکر اور ماہر معاشیات ہیں۔ آپ نے ۲۰۰۲ء سے لے کر آج تک پاکستان میں رائج اسلامی بینکاری کی حقیقت عیاں کرنے کے لیے متعدد مقالے تحریر فرمائے ہیں۔ ان کی کتاب ” اسلامی بنکاری، غیر سودییا سودی اور استحصالی” اس پورے کام کا نچوڑ پیش کرتی ہے اور دو اور دو چار کی طرح ثابت کرتی ہے کہ اسلامی بینکاری غیر سودی نہیں بلکہ سودی اور استحصالی ہے۔ اسلامی بینک کاری کا کاروبار سودی نقش پا پر چل رہا ہے اور اسلامی بینک سودی بینکوں سے بھی زیادہ استحصالی بن چکے ہیں۔
کتاب میں وہ المناک تاریخ بیان کی گئی ہے جس کے ذریعے پاکستانی عدالتوں نے اس ضمن میں کیے گئے حکومتی فیصلوں کی تصدیق کرتے ہوئے ملک میں جاری سودی نظام کو مستحکم کیا اور اسلامی بینکاری کو اس کا ایک ذیلی حصہ بنایا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ علمائے کرام کے ایک حلقے نے اس کے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور نہ صرف متوازی نظام بینکاری اور اسلامی بینکوں کے سودی کاروبار کو جائز قرار دیا بلکہ اپنے دار العلوم سے اسلامی بینکوں کو کارکنوں کی فوج ظفر موج فراہم کرتے رہے ۔
اسلامی بینک کاری کے تمام کاروبار کو اس بنیاد پر سودی قرار دیا جا سکتا ہے کہ جس شرح پر وہ اپنے سرمایہ کاروں سے ”منافع “ وصول کرتے ہیں اور جس شرح پر وہ اپنے کھاتے داروں کو ادائیگی کرتے ہیں اس کی بنیاد لیبور LIBOR اور اسٹیٹ بینک کے پالیسی ریٹس سے متعین کی جاتی ہے۔ وصول یابیوں اور ادائیگیوں میں اصل کاروبار سے سے حاصل شدہ شدہ شرعی نفع یا نقصان کا حصہ تعلق نہایت مبہم ہے۔ یہ ان عقود (مثلاً ( مشارکت اور مضاربت) کو بھی سودی جال میں پھنساتا ہے جو فی نفسہ شرعی احکامات سے مطابقت رکھتے ہیں۔ اسلامی بینک کو دی گئی ادائیگی اور حاصل شدہ رقوم میں اس حد تک حلال کا عنصر شامل ہو گا جس حد تک وہ حلال عقود سے حاصل ہو لیکن یہ مقدار حرام کاروبار سے حاصل شدہ منافع سے خلط ملط ہو گی اور شرح ادائیگی اور وصول یابی ایک سودی پیمانے لیبور LIBOR سے متعین ہو گی لہذا کسی معنوں بھی اسلامی بینکوں کو غیر سودی بینک نہیں کہا جا سکتا۔
ڈاکٹر صدیقی اسلامی بینکوں کو استحصالی اس بنیاد پر کہتے ہیں کہ پچھلے ۳۳ برسوں میں ان بینکوں کے کھاتے داروں کو دی گئی ادائیگیاں عام کمر شل بینکوں کے مقابلہ میں بہت کم رہی ہیں اور یوں اسلامی بینک کھاتے داروں کا بڑے پیمانے پر استحصال کر رہے ہیں۔ بقول ڈاکٹر صدیقی یہ استحصال سرمایہ دارانہ نظام کی کار فرمائی کا نتیجہ ہے اور محض سود کو ختم کرنے سے استحصال کو رفع نہیں کیا جا سکتا۔ بقول ڈاکٹر سود کا خاتمہ سرمایہ دارانہ نظام کا کے انہدام کا ایک جزو ہو سکتا ہے لیکن جب تک پورے اسلامی نظام معاشرت اور ریاست قبول نہیں کیا جاتا استحصال جاری رہے گا اور بقول ڈاکٹر صدیقی مقاصد شریعت حاصل نہ ہو سکیں گے۔
کتاب میں ۲۰۰۲ء ( جب اسلامی بینکوں کے قیام کی اجازت دی گئی تھی) سے ۲۰۲۵ ء تک کی پیش رفت کی المناک داستان تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔ اس منفی پیش رفت کی بنیادی وجہ ڈاکٹر صدیقی کے مطابق یہ ہے کہ پاکستان کی اشرافیہ معیشت میں بیشتر پالیسیاں طاقت ور طبقوں کے مفاد کو فروغ دینے کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ یہ منفی پیش رفت اس وقت سے جاری ہے جب جسٹس تنزیل الرحمان کی رپورٹ کو جو ۱۹۹۱ء میں شائع ہوئی تھی سرد خانے کے سپرد کیا گیا۔ اس کے بعد ۲۰۰۲ء میں متوازی نظام بینکاری قائم کیا گیا جس میں روایتی کمرشل بنکوں اور اسلامی بینکوں کو مساوی عمل کی اجازت دی گئی۔ اس متوازی نظام کی وکالت اس نظام کے قطعی حرام ہونے کے باوجود یہ علما کرتے رہے۔ وہ آج تک اس حرام نظام کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ پروفیسر خورشید نے اصولا ڈاکٹر صدیقی کے متوازی نظام اور اس میں شامل اسلامی بینکنگ پر اعتراضات کی تصدیق کی ۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلامی بینک کاری عالمی سرمایہ دارانہ زری مارکیٹوں (global money markes) کا ایک جزو ہے جس کے ذریعہ مسلمانوں کے اربوں کھربوں ڈالر ہر سال سامراجی مراکز میں منتقل کیے جاتے رہتے ہیں۔ اسلامی بینکوں کے قومی نظام پر عالمی سود اور سٹے کی مارکیٹیں حاوی ہیں۔ یہ بات صرف پاکستان کے لیے نہیں ملائشیا، ترکی اور خلیجی ممالک کے اسلامی بینکاری کے نظاموں کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔
ڈاکٹر صدیقی نے کئی ایسی پروڈکٹس کا ذکر کیا ہے جس میں سودی عنصر کی شمولیت کو ان علما نے جائز قرار دیا ہے۔ کئی اسلامی بینکوں نے بیع مؤجل اور مشارکتی عہدوں کی ایسی شکلیں متعارف کرائی ہیں جن میں سود شامل ہے۔
اسی طرح وفاقی شرعی عدالت نے اپریل ۲۰۲۲ء کے فیصلے میں اسلامی بینکوں کی بہت سی ایسی سودی پراڈکٹس کو سود سے پاک قرار دیا ہے جس کا کوئی جواز نہیں۔
اسلامی بینکوں کی سودی پراڈکٹس کو غیر سودی قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ ۲۰۲۷ء کے آخر تک سود سے نجات کا حکومتی اعلان بالکل بے معنی ہے کیونکہ ۲۰۲۷ء کے آخر تک تمام بینکوں کو یہ سودی پراڈکٹس استعمال کرنے کی اجازت دے دی جائے گی۔ یہ پورے بینکاری نظام میں سودی کاروبار کو جواز فراہم کرنے کا طریقہ ہے۔ سودی نظام کے انہدام کا طریقہ نہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی دی ہوئی تجاویز پر تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر خورشید نے ایک پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کی سفارش کی تھی۔لیکن ان پر عمل مہ کہا جاسکا، شاید ارادہ ہی نہ تھا۔
معیشت کو اسلامی بنانے کے لیے ڈاکٹر صدیقی نے ٹیکس کے نظام کی اصلاح، کرپشن کے خاتمے، انسانی وسائل کی ترقی، ترسیلات اور برآمدات کے نظام کی تطہیر اور آئی ایم ایف کے پروگرام کی ترتیب نو وغیرہ پر تجاویز دی ہیں لیکن یہ صدا بہ صحرا ہے۔ ان تجاویز پر کوئی عمل نہیں کرے گا۔ یہ تجاویز پاکستان کی حکومت کو دی گئی ہیں اور پاکستان کی حکومت سرمایہ کی حکومت ہے۔
سرمایه داری کسی فرد یا گروہ یا اشرافیہ کی حکومت نہیں۔ سرمایہ حرص و ہوس کی ایسی تجسیم ہے جو اپنی بڑھوتری کے لیے دولت، اجسام اور محنت سے مستقل گزرتا رہتا ہے۔ یہاں عدالت بھی سرمایہ کی ہے۔ مقننہ بھی سرمایہ کی ہے، انتظامیہ بھی سرمایہ کی ہے ،ایسے میں سود کا فی العمل خاتمہ غیر ریشنل irrational فعل ہے کیونکہ سود اور سٹہ بڑھوتری سرمایہ (accumulation & valorisation) کا موثر ترین ذریعہ ہیں۔ پورا عالمی نظم معیشت جس میں یہ پاکستانی سرمایہ پیوست ہونے کی شدید خواہش اور جذبہ رکھتا ہے ، سودی ہے ، سودی اور سٹہ بازی کے مارکیٹوں کے تابع ہے۔ ان ان حالات میں عالمی نظام کے ایک مفتوحہ علاقے میں سودی کاروبار ختم کرنے کی امید رکھنا دیوانے کا خواب ہے۔
حکومت کو سرمایہ دارانہ تعقل یعنی ریشنلٹی کے احکام کو رد کرنے پر مجبور صرف طاقتور مزاحمتی تحریک کو چلا کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ کم از کم فی الحال نہ علماء سے یہ توقع کی جاسکتی ہے نہ عوام سے۔ علماء سامراجی سرمایہ داری سے پچھلی دو صدیوں سے سمجھوتا کیے ہوئے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دہر یہ ریاست اور اس کے دستور کے وفادار ہیں اور سرمایے کے اقتدار کو چیلنج کرنے کی ذمہ داری قبول کرنے پر تیار نہیں۔ رہے عوام تو ان میں مخلصین دین کی تعداد جو سودی نظام کو رد کرتے ہیں محدود ہے۔ مخلصین دین غیر منظم اور منتشر ہیں اور ریاستی جدوجہد کو شجر ممنوعہ سمجھتے ہیں۔
جب تک مخلصین دین کو منظم نہیں کیا جائے گا اور محلہ اور بازار کی سطح پر ایک غیر سودی معیشت قائم نہ کی جائے گی سودی عملداری کی تحدید نہ ہو گی اور امتناع سود اور سٹہ کی ایک موثر مزاحمتی تحریک برپا نہ کی جاسکے گی۔ اس تحریک کا بنیادی ہدف پاکستانی معیشت کو عالمی سودی اور سٹے کی مارکیٹوں کی پیوستگی سے نجات دلانا ہو گی۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور اپنی تحریر، تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ bisaat.mag@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔
error: