پہلے اہل نظر اور سخن فہم لوگ نظام کی خرابی پر کہا کرتے تھے کہ: ’ہر شاخ پہ اُلو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا‘۔ لیکن اب سب بدل گیا ہے جب سے گلشن کی جگہ کنکریٹ کے شہری گلشنوں نے لی ہے اور باغ اجاڑنے کا کام اُلوؤں کی جگہ بلدیاتی اداروں نے لے لیا ہے،اب ہر ادارےپر ایک الو کی جگہ ڈھکن رکھا ہوا ہے ،اور ان ڈھکنوں کو جب تک زور لگا کر ہلایا نہیں جاتا یہ کوئی حرکت نہیں کرتے کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے، یہ کام بھی ننھے ابراہیم ہی کو کرنا پڑا۔
پھر گٹر کا ڈھکن نہیں تھا، پھر ایک معصوم جان گئی،اب سب ملزم اور مجرم کی تلاش میں ہیں ، مئیر صاحب نے ایک دودن دباو برداشت کیا پھر ابراہیم کے گھر جاکر معافی بھی مانگ لی ، یہ تو انہوں نے اچھا کیا ، لیکن کیا نظام کی اصلاح کے حوالے سے کچھ کرنے کا عزم کیا ہے ، اپنے مخالف کے ٹاؤن کو فنڈ دینے کا ارادہ کیا ہے ، مخالفین کی یونین کونسل کو یا مخالف کونسلر کو فنڈز دینےکا فیصلہ کیا ہے ،اور فیصلہ بھی کیوں فیصلہ تو قانون کے مطابق موجود ہے کہ ہر یوسی، ہر ٹاؤن، ہر کونسلر کو فنڈز دئیے جائیں ، یہ دیتے نہیں ، پھر معاملات کیسے چلیں گے ۔ بچہ جان سے گیا اور ایک دن سے کم وقت میں ہزاروں ڈھکن لا کر حاضر کر دئیے گئے، بلکہ لگا بھی دئیے گئے۔ ایک ہی دن میں ہزاروں ڈھکن !!!! کمال سے بھی بڑا کمال ، واٹر بورڈ والے تو کہتے تھے کہ دستیاب نہیں ہیں فنڈز نہیں ہیں اب ایک جھٹکے میں اتنے ڈھکن ؟ اور الزام دوسروں پر۔ اور تو اور خود کے ایم سی کے ذمہ دار نے اس اسٹور والے کو ذمہ دار قرار دیدیا جس کے سامنے حادثہ پیش آیا ، شہری ذمہ داریوں کے حوالے سے تو یہ بات ٹھیک ہے لیکن اصل ذمہ دار تو کے ایم سی ،واٹر بورڈ اور ریڈ لائن منصوبے والے ہیں، کم از کم وہ تو یہ بات نہ کریں ، ہاں اسٹور والوں کو بلدیاتی اداروں کی کارکردگی اور استعداد کا تو علم ہے پھرتو خود ہی لگا دینا چاہئیے تھا۔
ہم دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ کیس داخل دفتر ہی ہوجائے گا اور نہ ہوا تو بھی کسی کو سزا نہیں ہوگی، سزا تو معصوم ابراہیم کو ،اس کے ماں باپ کو اور شہریوں کو بار بار ملتی ہے۔
گزشتہ کئی برس سے ہم توجہ دلاتے رہے ہیں کہ کراچی کا شہری نظام جان بوجھ کر تباہ کیا جارہا ہے ، شہر کے اختیارات کی تقسیم ہی ایسی کی گئی ہے کہ لوگ اپنے مسائل کے حل کیلئے دردر کی ٹھوکریں کھاتے ہیں اور کئی کئی چکر کے بعد پتا چلتا ہے کہ آپ غلط جگہ پہنچے ہیں ،یہ علاقہ کے ایم سی کے کنٹرول میں نہیں ہے یہاں کنٹونمنٹ کا سکہ چلتا ہے ،اور اس کا دفتر کہیں دور ہے۔ شہر کا بہت بڑا حصہ کنٹونمنٹ کے کنٹرول میں ہے وہی وہاں سے ٹیکس وصول کرتا ہے، ایک اور بڑا حصہ ڈی ایچ اے کے پاس ہے اور وہاں ڈی ایچ اے کے قوانین چلتے ہیں، باقی بچا کھچا کے ایم سی کے پاس ہے، یہ باتیں تو کے ایم سی یا بلدیہ عظمی کراچی سے تعلق رکھنے والے ذمہ داران بتاتے رہتے ہیں، لیکن اس کے آگے کی کہانی بڑی دردناک ہے، شہری تینوں میں سے کسی بھی علاقے میں رہتے ہوں وہ شہری ہیں اور کم وبیش سب ہی ٹیکس ادا کرتے ہیں،لیکن جب ان کے مسائل حل کرنے کا وقت آتا ہے تو انہیں تھانے کی طرح حدود کے تعین کے چکر میں ڈال دیا جاتا ہے ، یہ سڑک کے ایم سی کی ہے ،گٹر کی خرابی واٹر بورڈ ٹھیک کرتا ہے لیکن علاقہ کنٹونمنٹ کا ہے اس لیے اجازت اس کی درکار ہوگی،اور اجازت سائل کو لینی ہوگی، یہ معاملہ صرف ان تین اداروں کی حدود کا نہیں ہے ،کے ایم سی کے اندر بھی یہی چل رہا ہے ، یہ کام ٹاؤن کرتا ہے ،وہ کام یوسی کی ذمہ داری ہے ،اور فلاں کام کے ایم سی کا ہے،بجٹ اوپر سے آنا چاہئیے ،لیکن ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچی جاتی ہے، ٹاؤن والے یوسی کو اس کا فنڈ اس لئیے نہیں دیتے کہ وہ دوسری پارٹی کے پاس ہے ،اور کے ایم سی دوسری پارٹی کے ٹاؤن کو فنڈ نہیں دیتی ، سارا دباؤ یوسی پر ہوتا ہے اور اس کو کے ایم سی اور ٹاؤن فنڈز نہیں دیتے ،اور یوسی کے کونسلرز ہی میدان میں ہوتے ہیں انہی سے شکایات کی جاتی ہیں ان ہی کو مسائل حل کرانے ہوتے ہیں۔ یہ یوسی والے ہروقت نشانے پررہتے ہیں۔
دنیا میں چھوٹی سے چھوٹی بلدیاتی اکائی کا ذمہ دار اپنے علاقے کا گورنر،وزیراعلی وغیرہ کی طرح ہوتا ہے اس پر ذمہ داریاں ہوتی ہیں تو اسے بجٹ اور اختیار بھی ملتا ہے،اور یہ نیچے بھی جاتا ہے، لیکن پاکستان،اور اس کے سب سے بڑے شہر کراچی کا حال ہی نرالا ہے ،اور اب تو یہ بات سمجھ لینی چاہئیے کہ کراچی کو تباہ کرنے میں ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی وغیرہ سے زیادہ ان کا ہاتھ ہے جنہوں نے ان دونوں پارٹیوں کو شہر پر مسلط کیا ،یہ خود تو ڈی ایچ اے یا کنٹونمنٹ کے جزائر میں رہتے ہیں یا اسلام آباد میں ، انہیں یہاں کی صورتحال کا حقیقی ادراک ہی نہیں ہوتا، سارا کام محض رپورٹس پر چلتا ہے ۔
تین سالہ ابراہیم کی موت نے اس سارے نظام کا ڈھکن کھول دیا ہے اور ایک ایک ادارے پر رکھا ڈھکن بے نقاب ہوگیا ہے۔کراچی کے اداروں کا کنٹرول صوبائی حکومت کو دینے والے کردار بھی سامنے ہیں اور ان محکموں کی کارکردگی بھی، ایک دن میں جو ہزاروں ڈھکن ابراہیم کی موت کے بعد جادو سے حاضر ہوگئے وہ پہلے کیوں روک کر رکھے ہوئے تھے ، واٹر کارپوریشن والے اس کا جواب نہیں دے سکیں گے ، اور دے بھی نہیں سکتے کیونکہ اس کا جواب سب جانتے ہیں ، جن افسروں کو لوگ ڈی جی، سی ای او اور چئیرمین کے ناموں سے جانتے ہیں ان کی اوقات اس سسٹم کے سامنے چپراسی سے زیادہ نہیں، اور عوام کے سامنے افسر بنے پھرنے والے یہ لوگ ایک خاص مقام پر اپنی بے عزتی کروانے میں کامیابی سمجھتے ہیں، بلکہ ان عہدوں پر ان ہی راستوں سے پہنچتے ہیں، گٹر کے ڈھکنوں کا معاملہ تو اتنا سنگین ہوگیا کہ اسسٹنٹ کمشنر، ڈی سی اور دیگر افسران بھی سرگرم نظر آئے۔یا نظر آنے کی کوشش کرنے لگے ، اس کی وجہ عوام کا غصہ، تھا وہ سیاسی دباؤ سے اتنا متأثر نہیں ہوتے ، لیکن سوشل میڈیا اورعوام کے غصے نے اسے بھی متحرک کردیا جس کی ذمہ داری گٹر کے ڈھکن نہیں ہیں۔
حکمراں طبقے کی کیفیت تو یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی رہنما اور رکن قومی اسمبلی شہلا رضا دو عشرے قبل اپنے دوبچوں سے اسی گٹر اور نالے والے واٹر بورڈ کی وجہ سے محروم ہوچکی تھیں لیکن سترہ برس کے مکمل کنٹرول کے باوجود ان کی پارٹی یہ نظام ٹھیک نہ کرسکی۔ خود موجودہ ڈپٹی مئیر کے علاقے میں یکے بعد دیگرے دوبچے گٹر میں گرکر جاں بحق ہوئے لیکن کچھ نہ کیا جاسکا۔ تو اب کیا ہوگا۔ کیا شہر کا بیڑا غرق کروانے والے واپسی کا سفر شروع کرنے پر تیار ہیں ؟ اگر تیار ہیں تو خود شروع کردیں ورنہ جلد یابدیر ڈھکن تو سب ہی اٹھائے جائیں گے۔
کراچی پر ڈھکن راج
















