Advertisement

انقرہ میں یوم یکجہتیٔ کشمیر

انقرہ سفارت خانۂ پاکستان، انقرہ میں 5 فروری کشمیر یکجہتی دن کے موقع پر کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی، جس میں مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کیا گیا۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد پاکستان اور ترکیہ کے قومی ترانے بجائے گئے، جبکہ ایک خصوصی ڈاکیومنٹری کے ذریعے کشمیر کی جدوجہد، تاریخ اور موجودہ صورتحال کو پیش کیا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترکیہ پاکستان پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کے چیئرمین اور جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (AK Party) کے رکنِ پارلیمنٹ، علی شاہین نے ترکیہ کی غیر متزلزل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا کشمیر کی جدوجہد، کبھی تنہا نہیں ہوگا۔ بطور ترک بھائی ہم ہمیشہ اپنے پاکستانی بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔ کشمیر اگرچہ جغرافیائی طور پر اناطولیہ سے دور ہے، مگر روحانی اور اخلاقی طور پر ہمارے لیے صفر فاصلے پر ہے۔‘
علی شاہین نے بھارت کی کشمیر پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے، مگر کشمیر میں انسانی حقوق، آزادی اظہار، آزادی صحافت اور قانون کی حکمرانی کو مکمل طور پر پامال کر کے اس خطے کو ایک اوپن ایئر جیل بنا دیا گیا ہے۔ ایسی جمہوریت دنیا کے لیے کوئی قابلِ قبول مثال نہیں ہو سکتی۔‘
انہوں نے صدر رجب طیب اردوان کے تاریخی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے صدر کے مطابق کشمیر ترکیہ کے لیے چناق قلعہ (Çanakkale) ہے۔ جس طرح برصغیر کے مسلمانوں اور پاکستانی عوام نے جنگِ چناق قلعہ میں ترک قوم کا ساتھ دیا، آج ہم کشمیر کو اپنا چناق قلعہ سمجھتے ہیں اور کشمیری و پاکستانی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

اگر آپ بھی ہمارے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور اپنی تحریر، تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ bisaat.mag@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔
error: