Advertisement

صدر مادورو کا اغوا

ٹرمپ کے دوسرے دور اقتدار کے شروع ہوتے ہی دنیا اتھل پتھل ہوگئی ہے ۔ یہ اندازہ تو سب کو تھا کہ ٹرمپ کا انداز جارحانہ ہے ۔ تاہم ابتدائی اندازہ یہی تھا کہ اس کے اثرات امریکا تک ہی ہوں گے مگر جس طرح سے ٹرمپ نے پوری دنیا میں جارحانہ طرز عمل اختیار کیا ہے ۔ دنیا بھر کے تجزیہ کاروں میں شاید ہی کوئی ایسا فرد ہو جو یہ دعویٰ کر سکے کہ اس کا اندازہ اس کو تھا ۔ جو کچھ ٹرمپ نے غزہ میں کیا ، اسے یہ کہہ کر نظر انداز کیا جاسکتا ہے کہ یہودی لابی امریکا میں بہت مضبوط ہے ۔ مگر ٹیرف وار کے نام پر جو کچھ ہوا، اس کے بعد دنیا میں جو معاشی سونامی آیا ، امریکا خود بھی اس کا شکار ہوا۔ وینزویلا میں جس طرح سے مادورو کو اغوا کرکے نیویارک پہنچایا گیا ، اس نے تو انتہا ہی کردی ۔ دنیا بھر میں آخر یہ سب ہو کیا رہا ہے ۔ آئیے اس سوال کا جواب بوجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ جب اس سوال کو جواب ہم تلاش کرلیں گے تو ہمیں پاکستان میں Gen Z کے اٹھائے جانے والے طوفان کو بھی سمجھنے میں آسانی ہوجائے گی ۔
دنیا میں موجودہ طوفان کے کھُرے ہمیں ٹرمپ کی انتخابی مہم سے اٹھانے پڑیں گے ۔ سب سے پہلے تو ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے کہ اسپیس ایکس کا مالک ایلون مسک ٹرمپ کے ساتھ ساتھ ہے ۔ یہ صرف ایلون مسک نہیں تھا بلکہ وہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کا نمائندہ تھا ۔ امریکا میں انتخاب لڑ نا مالی طور پر ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے ۔ اس کے لیے ہر سیاسی جماعت چندہ جمع کرنے اور لابی کرنے کے لیے مختلف کمیٹیاں بناتی ہے جنہیں Political Action Committees یا PAC کہا جاتا ہے ۔ کہنے میں یہ PAC آزاد ہوتی ہیں اور سیاسی جماعت کا ان پر کنٹرول نہیں ہوتا ۔ تو ٹرمپ کی چندہ جمع کرنے والی PAC کی قیادت ایلون مسک کررہا تھا اور بے دریغ پیسے خرچ کررہا تھا ۔ جو فرد بھی امریکا کے انتخابات سے ذرا سی بھی دلچسپی رکھتا ، وہ جانتا ہے کہ امریکی انتخابات میں swinging states کی بڑی اہمیت ہے ۔ یہ وہ ریاستیں ہیں جن کے ووٹ فیصلہ کن مانے جاتے ہیں ۔ ان swinging states میں ووٹوں کی خریداری کے لیے ایلون مسک نے منڈی لگائی ہوئی تھی کہ جو بھی ریپبلکن کو وو ٹ دے گا ، اسے 34 ڈالر دیے جائیں گے ۔ آخر میں یہ بولی سو ڈالر فی ووٹر تک پہنچ گئی تھی ۔ یہ بالکل ویسی ہی صورتحال تھی جیسا کہ پاکستان میں اسمبلی میں وزیر اعظم کے انتخاب کے موقع پر دیکھی جاتی ہے ۔ عرف عام میں اسے پاکستان میں ہارس ٹریڈنگ کہا جاتا ہے ۔ جب امریکا میں اس پر آواز اٹھائی گئی کہ یہ تو دھاندلی کے مترادف ہے تو کہا گیا کہ یہ تو ایلون مسک کا ذاتی فعل ہے اور ریپلکن کا اس میں کوئی قصور نہیں ۔
تو جناب جب ایلون مسک ڈالر لٹا رہے تھے تو یہ صرف ان کا پیسہ نہیں تھا بلکہ یہ PAC کا پیسہ تھا جس میں سارے ہی وہ لوگ شامل تھے جن کے کاروباری مفادات ہیں ۔ ان میں آئل اینڈ گیس انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے بھی شامل تھے ، فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے بھی اور دفاعی ساز و سامان بنانے والی انڈسٹری کے لوگ بھی تھے۔ جب ان سب کی سرمایہ کاری کامیاب ہوگئی اور ٹرمپ جیت گیاتو انہوں نے اپنی فرمائشی فہرست اس کے سامنے رکھ دی ۔ ایک کاروباری فرد کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ اس کا کوئی حریف نہ ہو اور کاروبار پر اس کی اجارہ داری ہو ،جس طرح ٹرمپ کو بھارت اور تھائی لینڈ کے معاملے میں استعمال کرکے اسلحہ بیچا گیا اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ ٹرمپ بھی ایک کٹھ پتلی ہے ۔ اسے دنیا کے منظر نامے پر رہنے کا شوق ہے ۔ وہ اس وقت اپنے آپ کو ہرکولیس سمجھ رہا ہے ۔ اس کی ڈوریاں پیچھے سے امریکی کمپنیاں ہلا رہی ہیں ۔ جیسے ہی ٹرمپ ادھر ادھر ہونے کی کوشش کرتا ہے ، ایپسٹین فائلز کا غوغا شروع ہوجاتا ہے اور وہ پھر سے دبک جاتا ہے ۔
اب ہمارے لیے دنیا کا منظر نامہ سمجھنا آسان ہوگیا ہے ۔
دراصل ہم آج پھر اٹھارویں اور انیسویں صدی کے اُس دور میں واپس پہنچ گئے ہیں جب ولندیزی، ہسپانوی اور برطانوی ملٹی نیشنل کمپنیاں دنیا کے وسائل پر قبضے کی جنگ لڑ رہی تھیں ۔ایک وقت آیا تھا کہ ان کمپنیوں کے مالکان کو اندازہ ہوگیا تھا کہ آپس میں لڑنے سے انہیں ہی نقصان ہوگا ۔ اس لیے انہوں نے آپس میں دنیا کا بٹوارا کرلیا تھا ۔ اس بٹوارے میں کیک کا بڑا حصہ روتھس شیلڈ کے حصے میں آیا تھا ۔
اس کے بعد وسائل پر قبضے کی یہ جنگ دوبارہ بیسویں صدی کے شروع میں لڑی گئی ۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم برپا کی گئیں ، ان دونوں جنگوں کے درمیان 1929 کی عظیم کساد بازاری بھی پیدا کی گئی ۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد دوبارہ بٹوارا ہوا، جس میں کچھ پرانے کھلاڑی میدان سے باہر اور کچھ نئے حصہ دار سامنے آئے ۔
پھر کسی کو سونے ، کسی کو کسی اور دھات پر اجارہ داری دی گئی تو کسی کو ادویات سازی پر ، کسی کو پٹرولیم پر ، کسی کو بحری جہاز رانی پر ، کسی کو کیڑے مار ادویات پر تو کسی کو کھاد پر اجارہ داری دی گئی وغیرہ وغیرہ ۔ اور یوں پوری دنیا نے نئے آقاؤں کے تحت زندگی شروع کردی ۔ دیکھنے میں امریکی اور یورپی ممالک کے شہری آزاد تھے مگر عملی طور پر پوری دنیا میں صورتحال یکساں ہی تھی ۔
اب پھر سے بٹوارے کی نئی جنگ ہے ۔ وینزویلا دنیا میں سب سے زیادہ تیل کے ذخائر رکھتا ہے ، دنیا میں موجود لیتھیم کا 60 فیصد ارجنٹائن ، بولیویا اور چلی کے مثلث میں پایا جاتا ہے ۔ اسی خطہ میں تانبہ اور سونے کے ذخائر بھی موجود ہیں ۔ اسی خطہ میں امیزون کے جنگلات بھی ہیں جنہیں دنیا کے پھیپھڑے کہا جا تا ہے اور اسی خطہ میں تازہ پانی کے دنیا کے 31 فیصد ذخائر موجود ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اب دنیا کے آقاؤں کی realignment ہو رہی ہے ۔ جب شیر بوڑھا ہو جاتا ہے تو نیا جوان شیر اسے للکارتا ہے اور پھر بوڑھے شیر کی نہ صرف راجدھانی نوجوان شیر کے قبضے میں آجاتی ہے بلکہ اس کا حرم بھی ۔ کچھ ایسا ہی انسانی بادشاہت کے کھیل میں بھی ہوتا ہے ۔ پرانے بادشاہ رخصت ہوں گے اور نئے بادشاہ کمان سنبھالیں گے ۔ یہ بات پھر سے سمجھ لیں کہ یہ امریکا ، روس یا چین کی جنگ نہیں ہے بلکہ ان ممالک میں موجود ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جنگ ہے ۔ اس سے ان ممالک کے عوام یا سیاست دانوں کا کچھ لینا دینا نہیں ہے ۔ البتہ ان ممالک کے حکمراں ضرور ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ہرکارے کے طور پر کام کرتے ہیں ۔
رہی یہ بات کہ جس طرح سے مادورو اور ان کی اہلیہ کو اغوا کرکے نیویارک پہنچایا گیا ، یہ سب کچھ امریکا اور دنیا دونوں کے لیے نیا نہیں ۔ پانامہ کے جنرل نوریگا نے امریکا کو للکارا تھا اور اسی طرح انہیں جنوری 1990 میں اغوا کرکے امریکی ریاست میامی پہنچا دیا تھا ۔ نوریگا پر بھی یہی فرد جرم عاید کی گئی تھی جو مادورو پر عاید کی جارہی ہے ۔ نوریگا کو 40 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی ۔ بعد ازاں اچھے چال چلن کی بنیاد پر نوریگا کی سزا میں سے 17 برس کی تخفیف کردی گئی ۔ نوریگا کو 2010 میں فرانس منتقل کردیا گیا جہاں پر اسے منی لانڈرنگ کے الزامات پر سنائی گئی سزا کے سات برس قید میں گزارنے تھے مگر فرانس نے نوریگا کو 2011 میں ہی ملک بدر کرکے پانامہ منتقل کردیا جہاں پر وہ اپنی موت تک نظربند رہا ا ور 2017 میں نوریگا کی موت برین ٹیومر کے سبب ہوگئی ۔ عدالت میں سماعت سے قبل نوریگا پر ایک الزام یہ بھی آیا تھا کہ وہ سی آئی اے ایجنٹ تھا اور اس نے سی آئی اے اور امریکا سے 3 لاکھ 22 ہزار ڈالر وصول کیے تھے ۔ سماعت کے دوران نوریگا نے کہا کہ درحقیقت اس نے سی آئی سے ایک کروڑ ڈالر لیے تھے اور اسے یہ بتانے کی اجازت دی جائے کہ اس نے اس بھاری رقم کے بدلے سی آئی اے کے لیے کیا خدمات سرانجام دیں ۔ تاہم عدالت نے یہ کہہ کر نوریگا کو اس موضوع پر بات کرنے سے روک دیا کہ اس کا نوریگا پر لگائے گئے الزامات سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ امریکا میں انصاف کی صورتحال اور آزاد عدالتی نظام کو ڈاکٹر عافیہ کیس سے بہ خوبی سمجھا جا سکتا ہے۔
رہی یہ بات کہ وینزویلا روس کا اتحادی تھا ، یہاں پر چین کے بھی مفادات تھے تو یہ سب کیا کررہے تھے اور اب کیا کررہے ہیں ۔ اس کا آسان ترین جواب یہی ہے کہ یہاں پر پھر سے اسی طرح کی بندر بانٹ ہورہی ہے جس طرح سے دوسری جنگ عظیم کے بعد ہوئی تھی ۔ ایسے میں کسی پیادے کی قربانی سے کچھ نہیں ہوتا ۔یہ سب کرنے سے پہلے روس اور چین دونوں کو مطلع کردیا گیا تھا ۔ اب روس اور چین کی کسی اور طرح تلافی کردی جائے گی ۔ ویسے وینزویلا ایک آزاد ملک تھا جس پر امریکا کا کوئی جغرافیائی دعویٰ نہیں تھا جبکہ تائیوان پر چین کا اور یوکرین پر روس کا جغرافیائی دعویٰ موجود ہے ۔ اگر یہی حرکت چین تائیوان میں اور روس یوکرین میں کرے تو اب کسی کو کیا اعتراض ہوگا سوائے چائے کی پیالی میں طوفان اٹھانے کے ۔ روس اور چین تو یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ہی ملک میں کارروائی کی ہے ۔ اور پھر عدالت کے ذریعے ویسے ہی مطلوبہ نتائج حاصل کرلیے جائیں گے جس طرح سے امریکا نے ڈاکٹر عافیہ کیس اور نوریگا کیس میں حاصل کیے ۔ مادورو نہ تو پہلا کیس ہے اور نہ آخری ۔ ابھی اس طرح کے کلائمکس اور آئیں گے ۔ پہلے دنیا میں دسیوں برس میں کوئی تبدیلی آتی تھی ، پھر یہ تبدیلی ہر برس آنے لگی اور اب تو یہ معاملات مہینوں اور ہفتوں تک جا پہنچے ہیں ۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور اپنی تحریر، تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ bisaat.mag@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔
error: