Advertisement

پاکستان میں ترکیہ کی ڈرون فیکٹری

دنیا ایک غیر معمولی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ طاقت کے توازن دوبارہ سے ترتیب دیے جا رہے ہیں، نئے اتحاد سامنے آرہے ہیں، اور اس ہلچل میں دو برادر ممالک—پاکستان اور ترکیہ—اپنے دیرینہ رشتے کو نہ صرف مزید مضبوط بنا رہے ہیں بلکہ دفاع اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی تاریخ بھی رقم کر رہے ہیں۔ سال 2025 انہی دو قوموں کی دوستی کا ایسا درخشاں سال بن چکا ہے جس نے ماضی کے تمام ادوار کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
دسمبر 2025 کے پہلے ہفتے میں ترک میڈیا کے معتبر اداروں ’سؤزجو‘، ’انادولو‘ اور ’بلومبرگ HT‘ نے ایک ایسی خبر شائع کی جس نے عالمی دفاعی حلقوں کو چونکا دیا: ترکیہ پاکستان میں جدید ترین ڈرون فیکٹری قائم کر رہا ہے۔ یہ فیصلہ صرف ایک صنعتی سہولت کا قیام نہیں بلکہ اس بات کا اعلان ہے کہ پاکستان اور ترکیہ مستقبل کی جنگی ٹیکنالوجی میں ایک دوسرے کے سب سے قابلِ اعتماد شراکت دار بن چکے ہیں۔ یہ منصوبہ اکتوبر 2025 سے جاری مسلسل مذاکرات کے بعد اب حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
پاکستان اور ترکیہ کا تعلق جذباتی محبت، باہمی اعتماد اور مشترکہ تاریخ کا ایسا حسین امتزاج ہے جو کسی موقع پرستی یا وقتی مفادات کا مرہونِ منت نہیں۔ خلافتِ عثمانیہ کے دور سے لے کر کشمیر، فلسطین، شام اور افغانستان کے اہم موڑ تک—دونوں ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترک صدر رجب طیب ایردوان سے لے کر بائکار کے چیئرمین سلجوق بائرکتار تک، ہر سطح پر پاکستان کے لیے ایک خاص محبت پائی جاتی ہے۔
ترکیہ نے دنیا کے درجنوں ممالک میں ڈرونز فروخت کیے ہیں، مگر فیکٹری کا قیام کسی اور ملک میں نہیں بلکہ پاکستان میں کیا جا رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ اعتماد ہے جو پچھلے پندرہ برسوں میں دفاعی تعاون سے پیدا ہوا۔ ملگیم جنگی بحری جہاز، F-16 اپ گریڈ، مشترکہ ڈرون ٹیکنالوجی، اور اب پانچویں جنریشن فائٹر جیٹ KAAN پروگرام میں پاکستان کی شمولیت—یہ وہ سنگِ میل ہیں جنہوں نے ترکیہ کو اس نتیجے پر پہنچایا کہ پاکستان صرف ایک خریدار نہیں بلکہ حقیقی دفاعی پارٹنر ہے۔
پاکستان میں قائم ہونے والی اس نئی فیکٹری میں دنیا کے تین انتہائی جدید ڈرون تیار ہوں گے: بیکٹر TB2، ہیوی کلاس اکنجی، اور مستقبل کی اسٹیلتھ جیٹ ٹیکنالوجی پر مبنی کزل ایلما۔ ان ڈرونز کے اہم پرزے ترکیہ میں بنیں گے مگر حتمی تیاری، ٹیسٹنگ اور ڈیلیوری پاکستان میں ہوگی۔ اس سے پاکستان نہ صرف اپنے دفاعی اخراجات میں نمایاں کمی لا سکے گا بلکہ اسے وہ سب سے قیمتی تحفہ ملے گا جسے دنیا ٹیکنالوجی ٹرانسفر کہتی ہے۔
پاکستان آج بھی TB2 استعمال کر رہا ہے، مگر جب یہی ڈرون مقامی طور پر تیار ہوں گے تو مرمت، آپریشن اور اپ گریڈ کا وقت ہفتوں سے گھٹ کر چند گھنٹوں تک محدود ہو جائے گا۔ اکنجی جیسے ہیوی ڈرون کی مقامی اسمبلنگ پاکستان کو خطے میں ایک ایسا برتری مقام فراہم کرے گی جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ کزل ایلما—جو جیٹ انجن، اسٹیلتھ صلاحیت اور مستقبل کی ائیر وارفیئر ٹیکنالوجی کا مجموعہ ہے—اس کے چند حصے 2026 کے بعد پاکستان منتقل ہونا شروع ہو جائیں گے۔ یہ فیصلہ پاکستان کی دفاعی تاریخ کا ایک ایسا موڑ ہوگا جس کے اثرات آنے والی نسلیں محسوس کریں گی۔
پاکستان کے لیے یہ فیکٹری محض دفاعی خود کفالت نہیں بلکہ معاشی ترقی کا در بھی کھولتی ہے۔ جب پاکستان اپنی سرزمین پر یہ ڈرون تیار کرے گا تو وہ مستقبل میں انہیں افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیائی ممالک کو برآمد کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کر لے گا۔ یوں پاکستان پہلی مرتبہ مسلم دنیا میں ڈرون حب بننے کی پوزیشن میں ہوگا۔ دفاعی آلات کی برآمدات پاکستان کی اقتصادیات میں نئے راستے کھول سکتی ہیں۔
اس تاریخی خبر کے ساتھ یکم سے 4 دسمبر 2025 کے درمیان یہ بھی سامنے آیا کہ ترکیہ پاکستان کے توانائی شعبے میں 30 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ ترک تیل و گیس کمپنی TPOC نہ صرف پاکستان کے پانچ بڑے کنسیشن بلاکس میں سرمایہ لگا رہی ہے بلکہ گہرے سمندر میں آف شور ڈرلنگ بھی کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ IESCO، FESCO اور GESCO کی ممکنہ نجکاری میں ترک کمپنیوں کی شمولیت پاکستان کی توانائی لائن لاسز اور ترسیلی نظام کو جدید بنانے میں سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
پاک ترکیہ تجارتی تعلقات بھی اسی رفتار سے مضبوط ہو رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کو 1.2بلین ڈالر سے بڑھا کر 5 بلین ڈالر تک لے جانے کا ہدف رکھا ہے۔ آٹوموبائل، دفاع، سائبر سیکیورٹی، پیٹرولیم، تعمیرات، الیکٹرونکس اور زرعی ٹیکنالوجی—ان تمام شعبوں میں ترک سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے۔ یورپ، وسط ایشیا اور افریقہ تک رسائی ترکیہ کے تعاون سے پاکستان کے لیے پہلے سے زیادہ ممکن ہو گئی ہے۔
اس بڑھتی ہوئی قربت نے خطے میں ایک نیا اسٹریٹجک توازن پیدا کر دیا ہے۔ بھارت کے دفاعی حلقے اس پیش رفت پر نہایت تشویش میں مبتلا ہیں۔ اکنجی اور کزل ایلما جیسے ڈرونز کی موجودگی رافیل پروگرام کے برعکس ایک نیا توازن قائم کرتی ہے۔ پاکستان کی سرحدی نگرانی اس سے کئی گنا مؤثر ہو جائے گی۔ ایران اور افغانستان کے ساتھ سرحدی تحفظ، دہشت گردی کے خلاف حکمتِ عملی اور وسط ایشیا تک زمینی رسائی—یہ سب اب ایک نئی اور مضبوط جہت اختیار کر رہے ہیں۔
قطر، آذربائیجان، پاکستان اور ترکیہ کا بڑھتا ہوا دفاعی تعاون مسلم دنیا میں ایک ایسے محور کو جنم دے رہا ہے جسے مستقبل کا ’’مشترکہ مسلم دفاعی بلاک‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ اس فیکٹری کے قیام کے بعد پاکستان اس اتحاد کا سب سے مضبوط ستون بن سکتا ہے۔
2026 کا سال پاکستان کے لیے مزید دو بڑی تبدیلیاں لے کر آ سکتا ہے: جزوی کزل ایلما پروڈکشن کا آغاز اور آف شور گیس ڈرلنگ کے ابتدائی نتائج۔ اگر یہ منصوبے کامیاب ہوتے ہیں تو پاکستان دفاعی اور اقتصادی دونوں میدانوں میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کرے گا۔
آخر میں یہ حقیقت قابلِ فخر ہے کہ پاکستان میں ترکیہ کی ڈرون فیکٹری صرف ایک صنعت نہیں، صرف ایک دفاعی منصوبہ نہیں، بلکہ ایک اعتماد کا اعلان ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ جب دنیا خاموش رہتی ہے تو بھائی ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ جب بڑے ممالک منہ موڑتے ہیں تو دوست راستہ دکھاتے ہیں۔ پاکستان اور ترکیہ کا یہ سفر آنے والے برسوں میں نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کا مقدر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستان ترکیہ بھائی چارہ تاریخی بھی ہے اور ابدی بھی۔اور اب یہ بھائی چارہ آسمانوں میں پرواز کرنے والی ٹیکنالوجی کی صورت نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور اپنی تحریر، تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ bisaat.mag@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔
error: