Advertisement

86واں یومِ پاکستان،عافیہ اور آسیہ اندرابی

اس برس یوم پاکستان کے موقع پرایک حیرت انگیز مماثلت سامنے آئی، پہلے سوچتے رہے کہ 23 مارچ کی مناسبت سے کچھ لکھا جا ئے، قوم کو قرارداد پاکستان یاد دلائی جائے ، لیکن روز مرہ کی مصروفیات نے قلم کو اس طرح جکڑ کر رکھا کہ بروقت کچھ نہیں لکھ سکے، لیکن جوں ہی قلم سنبھالا 86 کا ہندسہ سامنے آیا ،قرارداد پاکستان کے 86 ویں برس کا ہندسہ، عافیہ کی 86برس کی سزا کا ہندسہ اور اب عافیہ کی طرح ایک اور خاتون ، عزیمت کا پہاڑ تحریک حریت کشمیر کی رہنما آسیہ اندرابی کو تین مرتبہ عمر قید کی سزا سنا دی گئی، آسیہ اندرابی کے ساتھ دو مزید خواتین کو تیس تیس برس کی سزائیں سنائی گئی ہیں ، کشمیر جو پہلے ہی دونسلوں کے لئیے عمر قید کے مساوی سزا بنا ہوا ہے یہاں کے لوگ 2019 سے سے مکمل قید میں ہیں اس سے قبل بھی سخت پابندیوں میں تھے۔
اگر عمر قید کی سزا کے امریکی معیار کو دیکھیں تو وہاں بھی ایک عمر قید پچیس برس پر مشتمل ہے اور اگر نریندر مودی کے گیارہ برسوں کو دیکھیں تو آسیہ اندرابی کی سزا بھی 86 برس ہی بنے گی یہ اور بات ہے کہ ذیابیطس اور دیگر بیماریوں کے ساتھ بدترین قید خانوں میں ایک عمرقید بھی گزاری جاسکے گی یا نہیں۔ اب یہ اتفاق ہے کہ 86 ویں یوم پاکستان کے موقع پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا 23واں یوم پاکستان قید میں گزرگیا عافیہ نے اپنی سزا پر وہی کہا جوآج آسیہ اندرابی نے کہا، جو حضرت یعقوب علیہ السلام نے کہا کہ میں اللہ کے سامنے اپنا معاملہ رکھتا ہوں، اور خدا کی قسم جس نے اللہ کو اپنا معاملہ دیدیا وہ ضرور کامیاب رہا اور رہے گا۔
اس 86 کے ہندسے کا اتفاق بھی عجیب ہے ابھی ہم سوچ رہے تھے کہ اس سال یوم پاکستان پر ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو بھی عزم واستقامت پر سلامی دی جانی چاہئیے ، ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے امریکی قید میں 23 مرتبہ یوم پاکستان گزارا ہے۔حکومت اور حکمران طبقہ ایسا کرے یا نہ کرے قوم تو عافیہ کی استقامت پر سلامی دیتی رہے گی، اور افسوسناک امر یہ ہے کہ جس طرح ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ بے حسی کا رویہ رکھا گیا ہے وہی رویہ اب پاکستانی حکمرانوں آسیہ اندرابی کے ساتھ بھی ہے خصوصا پانچ اگست 2019 کے بعد سے تو پی ٹی آئی، پی ڈی ایم کی عبوری حکومت اور اب مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کا آسیہ اندرابی، تحریک حریت کشمیر اور ڈاکٹرعافیہ صدیقی کے ساتھ ایک ہی رویہ ہے، عافیہ صدیقی کے معاملے سے تو ایک اعتبار سے حکومت دستبردار ہی ہوچکی ہے اس معاملے سے جان چھڑانا چاہتی ہے یا انتظار میں ہے کہ خدانخواستہ عافیہ جیل ہی میں دنیا سے رخصت ہوجائے، رویہ تو کشمیر کے ساتھ بھی یہی ہے لیکن کھل کر بولنے کی ہمت نہیں ہوسکی ،ورنہ چاہتی تو یہی ہے کہ کشمیر کے معاملے سے بھی جان چھوٹ جائے۔
پاکستان اور پاکستانی قوم کے ساتھ تو معاملہ ہی عجیب ہے، حکمرانوں نے پچاس ساٹھ برس تک قوم کو بتایا گیا کہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے، پاکستان کی شہ رگ ہے،لیکن ملک کی شہ رگ دشمن کے پنجوں میں دیکھ کر بھی حکومتی ایوانوں میں کوئی ہلچل نہیں ہوئی ، بلکہ الٹا کشمیر کی جدوجہد کرنے والوں ہی کو پابند سلاسل کردیا گیا ۔کشمیر کی جدوجہد آزادی کو رفتہ رفتہ دہشت گردی بنادیا گیا،مجاہدین دہشت گرد بنادئیے گئے،کشمیریوں پر مظالم پر آواز اٹھانا جرم بنا دیا گیا ،اور اس کام میں تمام حکمران ٹولہ شامل ہے۔
کوششیں تو عافیہ کے لئیے بھی ایسی ہی کی گئیں ، پہلے اسے امریکی شہری کہا گیا، پھر اس پروپیگنڈے کو فروغ دیا گیا کہ عافیہ نے کچھ تو کیا ہوگا۔لیکن جب عدالتی کارروائی ہوئی جرم ثابت نہ ہوسکنے کے باوجود عافیہ کو 86 برس کی سزا دے دی گئی ،پھر بھی پاکستانی حکمرانوں کے سرپر جوں تک نہ رینگی ، وہ تو بھلا ہو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کا جنہوں نے وزیر اعظم اور کابینہ کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس کردیا لیکن اس کے بعد نیا گیم شروع ہوگیا اور لارجر بنچ پھر بنچ ٹوٹنے کا عمل شروع کردیا گیا،اب اگلی تاریخ کا انتظار ہے ۔
اسی قسم کے کھیل کشمیر کے بارے میں بھی کھیلے گئے اور اب کشمیر لٹکا ہوا ہے ،دونوں معاملات حکمرانوں کے گلے کی ہڈی بنے ہوئے ہیں قوم کی خواہش کچھ اور ہے۔ اور حکمرانوں کے عزائم کچھ اور، لیکن وہ یہ بھول رہے ہیں کہ عافیہ کو نظر انداز کرکے وہ اپنا وقار کھورہے ہیں اور کشمیر سے بے وفائی کرکے اپنی قوم اور قائد اعظم سے غداری کررہے ہیں۔ عافیہ صدیقی، آسیہ اندرابی اور دیگر خواتین کی 80 اور 86برس کی سزائیں دراصل ہماری قومی غیرت پرسوال ہیں،عافیہ اور آسیہ اندرابی دو خواتین ہی نہیں ہیں،بلکہ دوقومی نظرئیے کی علامت ہیں آج ایک بار پھر نظریہ پاکستان اور دوقومی نظرئیے کو ازسر نو تازہ اور زندہ کرنے کی ضرورت ہے ،حکمران عافیہ کے معاملے کو بھی دوقومی نظرئے کے تناظر میں دیکھیں یہ مسلم قوم کے ساتھ دوسری اقوام کے غیرمنصفانہ اور مجرمانہ حملوں اور رویوں کے زمرے میں آتا ہے ،قرارداد پاکستان کے 86 ویں برس قوم عزم نو کرے اور قدم بڑھائے ان شااللہ عافیہ بھی آئے گی اورکشمیر بھی آزاد ہوگا۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور اپنی تحریر، تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ bisaat.mag@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔
error: