Advertisement

پاکستان کی مضبوط نظریاتی بنیادیں

پاکستان کلمہ کی بنیاد پر قائم ہوا یہ ایک کلی حقیقت ہے اور ’’میری مرضی‘‘ کا شور محض افسانوی خیالات اور نقش بر آب اور ناپائیدار باتیں ہیں‘ پاکستان کیوں بنا؟ اس کی ضرورت کیوں پیش آئی‘ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو جہاں بہت سے حقائق سامنے آتے ہیں وہیں یہ منظر بھی ملتا ہے کہ کانگریس برطانوی حکومت سے پُرزور مطالبہ کر رہی تھی کہ برطانیہ کے جمہوری نظام اور مرکز میں اعلیٰ سرکاری ملازمتوں کے لئے مقابلے کے امتحانات کا فریم ورک نافذ کر دیا جائے مقصد یہ تھا کہ یہ دونوں صورتیں ہندو رَاج قائم کرنے میں کلیدی کردار اَدا کر سکتی تھیں۔ مسلم قیادت کو برطانوی راج کے آغاز ہی میں یہ احساس ہو گیا تھا کہ مغربی جمہوریت ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے سمِ قاتل کی حیثیت رکھتی ہے جہاں ہندوئوں کی بھاری اکثریت ہے۔ کونسلوں کے انتخابات نے اُس کے خدشات درست ثابت کر دیے تھے۔ یوپی، جس کی مسلم آبادی 14 فی صد تھی، اُس کی کونسلوں میں ایک بھی مسلمان ممبر منتخب نہیں ہو سکا تھا۔ مولانا الطاف حسین حالیؔ نے ’حیاتِ جاوید‘ کے نام سے ایک معرکہ آرا کتاب لکھی جس میں سرسیّد احمد خان سے متعلق لکھا‘ سرسیّد احمد خان گورنرجنرل لیجسلیٹو کونسل کے رکن کی حیثیت سے مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ میں سرگرداں رہے بر صغیر میں جیسے جیسے حالات تبدیل ہوتے رہے مسلمانوں میں یہ احساس بھی پختہ ہوتا رہا کہ انہیں اَپنی انفرادی اور اِجتماعی زندگی میں کون کون سی تبدیلیاں لانا ہوں گی یہ کیسا اتفاق ہے اور حقائق کہ پاکستان چودہ اور پندرہ اگست 1947کی نصف شب بارہ بجے وجود میں آیا اسلامی کیلنڈر کی رو سے پاکستان ستائیسویں رمضان کی شب معرض وجود میں آیا اور عام تصور کے مطابق ستائیسویں رمضان لیلۃ القدر ہوتی ہے۔ پہلا یومِ آزادی ستائیسویں رمضان کو منایا گیا جو جمعۃ الوداع کا دن تھا۔ گویا یہ مبارک ترین لمحات تھے۔ اور آج ہم 86 واں یوم پاکستان بھی رمضان المبارک میں دیکھ رہے ہیں‘ چھبیسویں رمضان چودہ اگست قیامِ پاکستان کے حوالے سے اہم دن تھا۔
مولانا مودودیؒکہتے تھے کہ اگر مرگی کے مریض میں زندگی کا احساس معلوم کرنا ہوتو جب اسے دورہ پڑے تو اس کے منہ کے قریب شیشہ لے جائیں اگر اس کے منہ سے سانس کی صورت میں ہوا نکلے تو شیشہ دھندلا جائے گا‘ یوں اس کی زندگی کے بارے میں امید مل جائے گی‘ بالکل اسی طرح رمضان المبارک بھی ہر مسلمان کے لیے ایک لٹمس ٹسٹ ہے‘ کہ ہم اس ماہ مبارک میں اپنی ذاتی زندگی میں اور معاشرے میں بھلائی اور بہتری کے لیے اجتماعی زندگی میں خود کو کس قدر ایک مفید مسلمان کے طور پر پیش کرتے ہیں‘ اگر اس ماہ مبارک میں بھی ہمارے اندر ذرہ بھر بھی اسلام کے بنیادی تقاضوں کی کوئی صورت نہیں ملے تو سمجھ لیجیے کہ مسلم معاشرے کی موت ہوگئی ہے اور اگر ہمارا شیشہ دھندلا جائے تو زندگی کی امید باقی تصور کی لی جائے‘ پاکستان ایک اسلامی نظریاتی ریاست ہے‘ غزہ کے حالیہ حالات پر جس طرح پاکستان کے اندر سے رد عمل آیا ہے‘ اس نے ایک امید دلا دی ہے کہ پاکستان مسلم ممالک کے لیے اور مسلم معاشروں کے لیے ایک لیڈنگ رول ادا کرنے کی صلاحیت رکھنے والا ملک ہے تاہم اس کی لیڈر شپ ہارے ہوئے قافلے کی سپہ سالار ہے‘ عوام میں مسلم ممالک کی قیادت کرنے کی صلاحیت‘ قربانی کا جذبہ اور تڑپ موجود ہے‘ یہی پیغام اصل میں ہمارے لیے امید کا پیغام ہے اور یوم پاکستان کا بھی یہی پیغام ہے‘ جس تقریب میں بانی پاکستان نے حلف لیا اس تقریب میں مسلم لیگی کارکن الٰہی بخش نے تلاوت کرتے ہوئے سورۃ النصر کی آیات تلاوت کیں‘ یہ کیسا اتفاق؟ قیام پاکستان ایک لاثانی فتح اور تاریخی کامیابی تھی‘ جس کی بنیاد 23 مارچ کو رکھی گئی‘سورۃ النصر سے متعلق سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کی روایت ہے کہ یہ نازل ہونے والی آخری سورۃ تھی یہ حقائق ہیں اور محض ’’میری مرضی‘‘ کے کھیل کی طرح افسانوی باتیں نہیں ہیں‘ آج 23 مارچ ہے اور پوری قوم 86 واں یوم پاکستان اس صورتِ حال میں منا رہی ہے کہ وطن عزیز کو پھر بدترین دہشت گردی کا سامنا ہے‘ اور ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی و عملداری کے سوال اٹھ رہے ہیں اور قومی سیاسی منظر پر سیاست دانوں کی ایک دوسرے سے مخاصمت جاری ہے اسی کے باعث ملک بدترین سیاسی عدم استحکام سے دوچار ہے۔ اس تناظر میں آج یوم پاکستان پہلے سے بھی زیادہ جوش و جذبے سے منانے کی ضرورت ہے اور موجودہ صورتحال ہماری قومی سیاسی قیادتوں سے ملک کی سلامتی کو درپیش چیلنجوں سے عہدہ برا ہونے کے لئے اپنے ذاتی سیاسی اختلافات و مفادات فراموش کرنے اور قومی یکجہتی کی فضا ہموار کرنے کی متقاضی ہے۔
آج یوم پاکستان کے موقع پر جس عزم صمیم کے ساتھ پوری قوم اور عساکر پاکستان ملک کی سالمیت کے خلاف دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے گھنائونے ایجنڈے کو ناکام بنانے کیلئے کمربستہ ہیں ہم بھی اپنے جری جوانوں کے شانہ بشانہ ہے اور دہشت گردی کی جنگ میں سرخروئی کے متمنی ہیں‘ ہمارے لیے سری نگر کی وادی سے اٹھنے والی آزادی کی لہر اور غزہ کی چیخیں‘ بہت بڑا سبق ہیں کہ ہماری ایٹمی قوت اور بے پناہ صلاحیت آخر سری نگر اور غزہ کی مدد کیوں نہیں کر سکتی ۔ آج ملکی و قومی مفادات اور فہم و ادراک سے عاری سیاست کے اسیر ہمارے قومی سیاسی قائدین کے ہاتھوں جس طرح جمہوریت اور آئین کا مردہ خراب ہو رہا ہے‘ وہ گہرے غور و تفکر کا متقاضی ہے جس کیلئے قومی سیاسی قیادتوں کو بہرصورت ایک میز پر بیٹھ کر اپنے پیدا کردہ سیاسی اور آئینی مسائل کی گتھیاں سلجھانا ہوں گی۔ قومی ریاستی اداروں کو رگیدنے کی پالیسی اور ملک کو خانہ جنگی کی جانب دھکیلنے کی روش ترک کرنا ہو گی۔ اسی طرح حکومتی اتحاد میں شامل سیاسی قائدین کو آئین و قانون کی پاسداری و عملداری ملحوظ خاطر رکھنا ہو گی۔ ہمارے لئے دوسرا بڑا چیلنج دشمن کی پھیلائی دہشت گردی ہے جس کا ہماری سکیورٹی فورسز بے مثال قربانیاں دیتے ہوئے کافی حد تک قلع قمع کر چکی ہیں ۔ تاریخ نے یہ ثابت کیاکہ مسلمانوں کا 23 مارچ 1940ء کافیصلہ درست تھا۔مسلمان تو بہت دور کی بات ہے ہندو برہمن تو دیگر ذات کے ہم مذہبوں کو بھی اپنے پہلو میں بٹھانے تک کو برداشت نہیں کرتا۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ مسلوں کو برداشت کر لے جنہیں وہ ملیچھ اچھوت اور ناپاک تصورکرتاہے۔ مسلمانوں نے کم و بیش ایک ہزارسال تک پوری دنیا بشمول ہندوستان میں حکومت کی۔ پاکستان میں شامل علاقوں سے لیکر افغانستان، نیپال، بھوٹان، سری لنکا، انڈونیشیا اور ملائشیا تک اور دوسری طرف برماکے نواح سے ایران کے سرحدی قصبوں تک کا وسع و عریض علاقہ مسلمانوں کے زیرنگیں رہا۔مگر اس دوران بھی مسلمانوں نے ہندوؤں کے ساتھ بہترین حُسنِ سلوک روا رکھا۔ 23 مارچ1940ء ہندوستان کی تاریخ کا وہ دن ہے جس نے اس خطہ ارضی کی تاریخ کے دھارے کومنزل آشنا کردیا۔ لاہورکے گلستان اقبال میں قائداعظم محمدعلی جناح کی زیرصدارت ایک لاکھ سے زائد فرزندان توحید جمع ہوئے، صدارتی خطبہ میں بابائے قوم نے فرمایا کہ:’’اسلام اور ہندودھرم محض دو مذاہب ہی نہیں بلکہ دو مختلف معاشرتی نظام ہیں،یہ لوگ باہمی شادی بیاہ نہیں کرتے نہ ہی ایک دسترخوان پر کھانا کھاتے ہیں۔
میں واشگاف الفاظ میں کہتاہوں کہ وہ مختلف تہذیبوں سے واسطہ رکھتے ہیں اور ان تہذیبوں کی بنیادایسے تصورات اور حقائق پررکھی گئی ہے جونا صرف ایک دوسرے کی ضد ہیں بلکہ اکثرمتصادم ہوتے رہتے ہیں۔ انسانی زندگی سے متعلق مسلمانوں اور ہندئوں کے خیالات و تصورات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلمان اور ہندو اپنی اپنی قربانی کی تمنائوں کے لیے مختلف تواریخ سے نسبت رکھتے ہیں۔
ان کے تاریخی ماخذ مختلف ہیں۔ان کی رزمیہ نظمیں ان کے مشاہیر اور ان کے قابل فخر تاریخی کارنامے سب کے سب مختلف اورجداجدا ہیں۔ اکثراوقات ایک قوم کی نابغہ روزگار ہستی دوسری قوم کی بدترین دشمن واقع ہوتی ہے۔ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کے اس فکرانگیز خطاب کے بعد شیربنگال مولوی فضل حق نے قراردادلاہور کے نام سے مسلمانوں کا متفقہ دستورالعمل پیش کیا جس پر آنے والے دنوں کی جدوجہدکی بنیادرکھی گئی۔قرارداد لاہور کے مطابق:’’اس ملک میں کوئی دستورقابل عمل نہ ہوگاجب تک کہ جغرافیائی اعتبار سے متصلہ علاقے الگ الگ خطے بنادیے جائیں اور ہندوستان کے شمال مغرب اور شمال مشرق کے جن علاقوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں ان کو علیحدہ ریاست کا درجہ دے دیا جائے جس کے اجزائے ترکیبی خود مختاراور مقتدر ہوں اور ملک کی اقلیتوں کے حقوق کی موثر ضمانت فراہم کی جائے‘‘۔اس اجتماع میں موجود کل مسلمانوں نے اس قرارداد کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ اس کے بعد فلسطینی مسلمانوں کے حق میں بھی ایک قرارداد پیش کی گئی جسے پورے جلسے نے اسی طرح منظور کیا جس طرح قرارداد پاکستان کو منظور کیاتھا۔ پاکستان کی تخلیق اسی قراردار کے نتیجے میں ہوئی گویا دو قومی نظریہ پاکستان کے لیے مادرنظریہ کی حیثیت رکھتا ہے دوقومی نظریہ آج بھی اپنے اثبات کی جنگ لڑ رہاہے اب وہ دن دور نہیں جب پاکستان سے بچے کھچے پسماندگان دورغلامی راندہ درگاہ ہوں گے اور سیکولرازم کی موت کاپروانہ بھی اسی سرزمین اولیاء سے جاری ہو گا اورمغربی تہذیب کے دلدادہ سودی نظام کے پناہی اور آزادی نسواں کے نام پرعورت کا استحصال کرنے والوں کے لیے یہ سرزمین ابدی قبرستان بنے گی۔بہت جلدپس طلوع آفتاب پاکستان کے خالق نظریے کے وارثان حقیقی اس مملکت کی مسند اقتدار پر براجمان ہو چکیں گے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور اپنی تحریر، تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ bisaat.mag@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔
error: