بانیِ پاکستان،قائدِ اعظم محمد علی جناح ؒ کی یاد میں ہر سال آپ کی پیدائش و وفات کے دن ،حکمران اپنا پیغام دیتے ہیں اور شعرا وادبا منظوم و منثور خراجِ عقيدت پیش کرتے ہیں، رسائل و اخبارات خصوصی مضامین شائع کرتے ہیں جو کہ اچھا عمل ہے، لیکن عملاََ ہم قائدِ کو بھول ہی جاتے ہیںکہ آپ نے کون سے رہنما اصول دیے؟ کیا ہدایات دیں، جن پر عمل کر کے ہم وطن کو تعمير و ترقی کی منزل سے آشنا کر سکتے ہیں۔یہ منزل اسلامی ریاست کو قائم کرناتھا۔
قائد اعظمؒ نے فرمایا تھا:ـ “یاد رکھو دنیا کی تمام مشکلات کا حل اسلامی حکومت کے قیام میں ہے ۔اسی مقصد کی خاطر؛میں لندن کی پرسکون زندگی کو چھوڑ کر عظیم مفکر علامہ اقبال رح کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر ہندستان آگیا ہوں۔ان شا اللہ ایک ایسی فلاحی اور مثالی مملکت قائم ہو گی،جس کی بنیاد لا الہ الا اللہ پر ہو گی،اور دنیا اس کی تقلید پر مجبور ہو جائے گی۔ “فرمان قائد اعظم رح،نئی دہلی میں انٹرویو ۔26 نومبر 1946
بانیِ پاکستان کے ایسے ڈیڈھ سو زیادہ بیانات ریکارڈ میں موجود ہیں جن میں آپ نے اسلامی ریاست کے قیام کا کہا تھا۔
دنیا میں واحد پاکستانی قوم ہے۔ جس نے اپنی تاریخ اور فکر و نظریہ کو بھلا دیا ہے۔یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ میں نے ”پاکستانی قوم“ کی اصطلاح ،مولانا حسین احمد مدنی کے نظریہ ”قومیں اوطان سے بنتی ہیں“اسلام اور متحدہ قومیت مصنف مولانا حسین احمد مدنی۔کی مطابق استعمال کی ہے۔نہیں ۔پاکستانی قوم سے مراد پاکستان میں رہنے والے مسلمان مراد ہے۔اس میں کافر شامل نہیں ہیں۔کافروں کی یہاں حثیت ایک ذمی کی ہے۔کیونکہ پاکستان مسلمانوں نے کافروں سے چھوڑوایا ہے۔پاکستان کی تحریک کا نظریہ یہ تھا کہ”قومیں مذہب،دین اور نظریہ سے بنتی ہیں“یہ نظریہ علامہ اقبال ، قائد اعظم ،مولانا شبیر احمد عثمانی ، مولانا ظفر احمد انصاری ،مولانا سید ابو اعلی مودودی نے پیش کیا۔مولانا مدنی کے نظریہ کا توڑ علامہ اقبال نے اشعار میں اور مولانا موودودی نے نثر میں کیا ۔مولانا مودودی نے کانگریس اور مدنی فکر پر علمی و عقلی تنقید کی جو ”مسئلہ قومیت“کتاب میں موجود ہے کہ ہم نے کس لیے یہ علیحدہ وطن بنایا تھا، کس لیے لاکهوں جانوں کی قربانیاں دیں،کس لیے اپنی عزتوں کو نیلام ہوتے دیکھا تھا،کس لیے کھربوں ڈالروں کی املاک کو تباہ ہوتے دیکھا؟
یہ جان و مال اور عزت و آبرو کی قربانی مسلمانوں نے اس لیے دی تھی تاکہ ہم مسلمان اپنے دین اسلام کے مطابق زندگی گزار سکیں۔اپنے دین کے مطابق اپنی اسلامی ریاست قائم کر سکیں۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کی تحریک مسلمانوں نے شروع کی اور اس کے لیے ہر قسم کی قربانی بھی مسلمانوں نے دی، کافروں کے غیظ و غضب کا شکار ہوئے۔
مسلمانوں نے جان و مال اور عزت و آبرو سب کچھ داو پر لگایا تاکہ ایک علیحد وطن مسلمانوں کاہو جس میں وہ اپنی مرضی سے اپنے دینِ ادلام کے مطابق بسر کر سکیں۔اس تحریک کی مخالفت ہندوؤں نے،عیسائیوں نے ، سکھوں نے، قادیانیوں مرزئیوں نے،خدا بےزار اور مذہب بےزار ، منافقوں اور کافروں نے کی۔مسلمانوں کو ہر قسم کا جانی و مالی نقصان پہنچایا اور اب بھی پہنچا رہے ہیں۔
مسلمانوں نے ان ابتلاؤں و آزمائشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور علیحدہ وطن حاصل کر کے دم لیا۔کافروں کو اپنے منہ کی کھانی پڑی۔ مسلمان اپنے عظیم قائد کی رہنمائی میں کامیاب و کامران ہوئے۔
قائد اعظمؒ کے متعلق ہی علامہ اقبال ؒ نے فرمایا تھا:
نگہ بُلند ، سخن دل نواز ، جان پُر ُسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
قیامِ پاکستان کے بعد قائد اعظمؒ کی مہلت ِ زندگی کم تھی وہ پاکستان کو عملاََ اسلامی ریاست میں نہ ڈھال سکے البتہ ان کے جانشین قائدِملت لیاقت علی خان قراردادِ مقاصد کو دستور کا بنیادی خاکہ کے طور میں دستور ساز اسمبلی سے 12 مارچ 1949کو پاس کروا کر قائد اور اقبال کا وعدہ پورا کردیا۔ابھی کام باقی تھا کہ اسلامی ریاست کے دشمنوں نے انہیں شہید کر دیا۔ان کے بعد چودھری محمد علیؒ نے کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے۔اس کے بھٹو اورضیاألحق کچھ دستوری کام کیا۔
قائدِاعظمؒ نے پاکستان کی سلامتی اور بقا کے لیے درج ذیل ہدایت و رہنمائی فرمائی تھی۔آپ نے فرمایا ”پاکستان کی بقا اسلام میں ہے۔ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں“
اسلاميہ کالج پشاور،13جنوری 1948
ابھی کام باقی ہے۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سچے ،سُچے اور کھرے مسلمان وفاداروں کا فرض ہے کہ وہ قائد اعظمؒ اور علامہ اقباؒل کی تعلیمات کی روشنی میں وطن کی تعمیر ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور کافروں کی سازشوں کو ناکام بنا دیں۔
قائد ؒ کی یاد میں
















