Advertisement

شاہ جہان مسجد

مغل بادشاہ شاہ جہان کو بادشاہِ تعمیرات بھی کہا جاتا تھا کیونکہ اس نے اپنے دور میں ایسی ایسی عمارتیں تعمیر کروائیں جو فنِ تعمیرات کی دنیا میں اپنی مثال آپ ہیں۔ ان عمارتوں میں قلعے، مساجد اور مقبرے وغیرہ شامل ہیں۔ لاہور اور دہلی میں تعمیر کئے گئے قلعے، دہلی کی جامع مسجد اور محبت کی لازوال یادگار تاج محل ان اہم تاریخی عمارتوں میں شامل ہیں جنہیں مغلیہ دور کی تعمیرات کا اعلیٰ شاہکار قرار دیا جاتا ہے لیکن مغل بادشاہ شاہ جہان نے کراچی سے 98 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ٹھٹھہ میں شاہ جہان مسجد تعمیر کروا کر مغلیہ طرزِ تعمیر کا ایک منفرد اور اعلیٰ ترین نقش چھوڑا ہے جو رہتی دنیا تک قائم رہے گا اور شاہ جہان بادشاہ کے تعمیرات کی دنیا میں کمال فن کی یاد دلاتا رہے گا۔
شاہ جہان بادشاہ نے ٹھٹھہ کے لوگوں کیلئے یہ مسجد تحفے کے طور پر تعمیر کروائی تھی کیونکہ ان کی جوانی میں جب انہیں ان کے والد شہنشاہ جہانگیر نے جلاوطنی پر مجبور کر دیا تھا تو شاہ جہان نے ٹھٹھہ میں آکر پناہ لی تھی جو اس وقت سندھ کا دارالحکومت ہوا کرتا تھا، یہاں وہ ٹھٹھہ کے لوگوں کے حسن وسلوک سے بہت متاثر ہو کر جب واپس دہلی گیا تو اس نے اس وقت سندھ کے گورنر میر عبداللہ کو حکم جاری کیا کہ ٹھٹھہ میں کم سے کم وقت میں ایک شاندار مسجد تعمیر کروائی جائے اور اِسے وہاں کے عوام کیلئے بطور تحفہ پیش کیا جائے۔
1643 عیسوی میں شاہ جہان مسجد کی تعمیر کا کام شروع ہوا اور 1647 میں یہ شاندار مسجد پایۂ تکمیل کو پہنچ گئی۔ اس وقت اس مسجد کی تعمیر پر نو لاکھ روپے کی لاگت آئی تھی جو شاہی خزانے سے ادا کی گئی۔ یہ ایک منزلہ مسجد ہے، یہ مسجد تعمیراتی حسن کا واقعی ایک اعلیٰ شاہکار ہے، یہ مسجد کل 51850مربع فٹ رقبے پر محیط ہے۔ ایک وقت میں 20ہزار لوگ اس مسجد میں نماز ادا کر سکتے ہیں۔ وادیٔ مہران کی سرزمین پر شاہ جہان بادشاہ کی تعمیر کردہ یہ مسجد ایک عظیم الشان جامع مسجد ہے اور ہر طرح سے اپنی مثال آپ ہے۔ مغلیہ دور میں عام طور پر سنگِ مر مر کا استعمال ہوا کرتا تھا لیکن اس مسجد میں سنگِ مرمر کا بالکل استعمال نہیں کیا گیا بلکہ لال پتھروں کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس مسجد میں کوئی مینارہ نہیں ہے، البتہ گنبد بہت زیادہ ہیں۔ دنیا کی واحد مسجد ہوگی جس میں اتنی بڑی تعداد میں گنبد موجود ہیں، 93گنبد مسجد میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ ایک بڑا گنبد جو نمازیوں کے مرکزی ہال کا ہے، باقی مسجد کے دوسرے حصوں میں بہت عمدہ ترتیب کیساتھ موجود نظر آتے ہیں۔ اسی طرح مسجد میں 33 محرابیں ہیں، عام مساجد میں تین گنبدوں کا طرزِ تعمیر ہوا کرتا ہے لیکن اس مسجد میں اس طرز کو نہیں اپنایا گیا۔
اس مسجد میں محرابوں کی تعمیر کچھ اس طرح سے کی گئی ہے کہ اگر ایک محراب سے آواز دی جائے تو وہ آواز پوری مسجد میں گونجے گی یعنی صوتی نظام لاجواب ہے، اس مسجد میں دیواروں پر نیلے رنگوں کے ٹائلوں سے جو سجاوٹ کی گئی ہے وہ پورے برصغیر میں کہیں اور نظر نہیں آتی۔ مسجد میں ٹائل آرٹ ورک نے مسجد کے اندرونی حصے کی خوبصورتی میں شاندار اضافہ کیا ہے۔ یہ نیلے رنگ کے ٹائلز غالباً ہالہ سے منگوائے گئے تھے، لال اینٹوں اور نیلے رنگ کے ٹائلوں کا حسین امتزاج مسجد کی خوبصورتی کا سبب مانا جاتا ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ مسجد کے صحن میں ایک وسطی حصے میں حوض بنایا جاتا ہے جہاں نمازی حضرات وضو کرتے ہیں لیکن شاہ جہان مسجد میں صحن کے وسط کے بجائے دروازے سے داخل ہوتے ہی مشرقی طرف حوض موجود ہے تاکہ نمازی وضو کر سکیں۔ مسجد کا صحن 52X30 میٹر بتایا جاتا ہے۔
مسجد میں ہوا اور روشنی کیلئے دیواروں میں نہایت کشادہ اور جالی دار روشن دان بنائے گئے ہیں جو طاق کا کام بھی دیتے ہیں اور روشنی اور ہوا بھی ان سے باآسانی گزر سکتی ہے۔ ان روشن دانوں کی ترتیب بھی ایک خاص انداز میں رکھی گئی ہے جس کی بدولت مسجد کے کسی بھی حصے میں چلے جائیں ہوا اور روشنی کی کمی کا احساس نہیں ہوتا۔
مسجد کی مضبوطی کی غرض سے اس کی بنیادیں بارہ سے پندرہ فٹ گہری رکھی گئی ہیں اور اس میں پہاڑی پتھر استعمال کیا گیا ہے۔ مسجد میں تین جانب سے داخلے کیلئے پانچ دروازے بنائے گئے ہیں جن میں ایک مرکزی دروازہ، دو چھوٹے دروازے اطراف میں ہیں جبکہ ایک دروازہ شمالی اور جنوبی دیواروں کی طرف ہے۔ مسجد میں روشنی کا معقول انتظام ہے، پبلک ایڈریس سسٹم اور لاؤڈ سپیکر بھی نصب ہیں، صدر دروازے پر فارسی کے اشعار کندہ ہیں جس میں شاہ جہان کا نام بھی لکھا ہے۔
عالمی ورثوں میں شامل ہونے کی منتظر یہ شاہ جہان مسجد 1993سے یونیسکو کی عارضی فہرست میں شامل ہے لیکن اسے فائنل لسٹ میں شامل کروانے کیلئے ہماری حکومت کو ہل جل کرنا ہوگی۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور اپنی تحریر، تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ bisaat.mag@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔
error: