Advertisement

مسائل کا حل، جنگ یا مذاکرات

دنیا بھر کے ممالک، سیاستدان اور سمجھدار لوگ طویل تلخ تجربات کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سنگین سے سنگین مسئلے کا حل جنگ نہیں ، مذاکرات ہیں ، امریکا جیسا ملک جو بزعم خود سپر پاور ہے بیس برس افغانستان میں سر پھوڑنے کے بعد مذاکرات کرکے طالبان سے محفوظ راستہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا، آجکل کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اپنی دوسری انتخابی مہم میں جنگ مخالف ہی نظر آئے لیکن اقتدار سنبھالتے ہی ان کا نقطہ نظر بدل گیا اور انہیں ہر مسئلے کا حل جنگ ہی میں نظر انے لگا،ٹرمپ یہ سب کس کے اشارے پر کررہے ہیں،جنگوں سے امریکا کے کیا مفادات ہیں ،کس کس مسئلے پر پردہ پڑ گیا ہے ایپسٹین فائلز پیچھے رہ گئیں، فلسطین کہاں گیا ،اسرائیل کے اسی برس کے مظالم پر پردہ پڑ گیا،یہ سب تو خود الگ الگ موضوعات ہیں ،لیکن ہم تو کسی اور بات پر حیران ہیں کہ پاکستان نے اتنی بڑی جنگ رکوانے کے لئیے ثالثی کی پیشکش بھی کردی اورقدم بھی بڑھادیا، اور یہ بہت بڑا قدم ہے دنیا میں پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا ہے ، لیکن سوال یہ ہے کہ افغانستان کے ساتھ معاملات طے کرنے میں جنگ ہی کو اول و آخر راستہ کیوں قرار دیا گیا ہے، ایران امریکا تنازعے میں پاکستان جو بالواسطہ سفارتکاری کی گئی ہے ایسی ہی سفارتکاری پاک افغان تنازعے میں ہوسکتی ہے، بلکہ ملک کی سیاسی جماعتیں اور علمائے کرام بھی یہی کوشش کرسکتے تھے بلکہ ایسے رابطے ہوئے بھی تھے لیکن یہاں پاکستان کی جانب سے ان سے لاتعلقی کا اظہار کردیا گیا۔یقینا ایسی رابطہ کاری میں یہی بیان دیا جاتا ہے، لیکن امن کے لئیے پیش رفت بھی تو جاری رہتی ہے ، اس معاملے میں ایسا نہیں ہوا بلکہ اسلحہ کی جنگ اور سوشل میڈیا کی جنگ دونوں جاری ہیں۔
اس روئیے سے تو ایسا لگتا ہے کہ پاکستان امریکا کے ساتھ بھی دوستی میں مخلص نہیں، اسے امریکا کو بھی یہی پیغام دینا چاہئیے تھا کہ جنگ ہی ہر مسئلے کا حل ہے مذاکرات کی ضرورت نہیں۔ کیا اس کا یہ مطلب لیا جائے کہ پاکستان تیل کی سپلائی اور بین الاقوامی آمدورفت میں رکاوٹوں کی وجہ سے ایران امریکا جنگ کا خاتمہ چاہتا تھا اس لئیے ثالثی شروع کردی، یا یہ کہ امریکا نے درپردہ درخواست یا ہدایت کی تھی ، لیکن اب یہ بات کھل کر کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر مذاکرات ایران امریکا، طالبان امریکا اور روس و یوکرین مسائل مذاکرات سے حل ہوسکتے ہیں تو پاکستان اور افغانستان کے معاملات ہی جنگ سے کیوں حل ہونے چاہئیں۔ ہمارا خیال ہے کہ افغانستان سے جنگ میں تو پاکستان کو ایسی کوئی مشکل پیش نہیں آرہی تھی جیسی ایران پر امریکی حملے کے بعد ہورہی تھی اس سے بھی اسی خیال کو تقویت ملتی ہے کہ پاکستان سے سفارتکاری کے لئیے کہا گیا اور افغانستان سے جنگ کے لئیے دباؤ ڈالا گیا ہے۔
اس صورتحال کے کچھ اور پہلو بھی ہیں اگر اسے صرف جنگ سمجھا جائے تو بھی یہ متفقہ اور مسلمہ بات ہے کہ جنگیں ہمیشہ تباہی لاتی ہیں تو یہ تباہی مسلم علاقوں ہی میں کیوں،دوسرا پہلو یہ ہے کہ امریکی حملے کے بعد ایران کا ردعمل ایک آزاد اور خود مختار ملک والا تھا،لہذا ساری دنیا کو امریکا پر سفارتی دباؤ ڈالنا چاہئیے تھا، یک اور پہلو یہ ہےکہ افغانستان، پاکستان، ایران اور دیگرعرب ممالک میں کلمہ ایک مشترک چیز ہے لہذا ان کے درمیان کسی تنازعے کی صورت میں مذاکرات بہترین راستہ ہوسکتے ہیں۔لیکن اسرائیل اور امریکا دنیا بھر میں خصوصا فلسطینیوں کے ساتھ اسی کلمے کی بنیاد پر ظلم روارکھے ہوئے ہیں،ان ممالک کا کسی اسلامی ملک سے تنازعہ ہو تو مذاکرات صرف اسی صورت ہوتے ہیں جب انہیں برابر کا نہ سہی کوئی بھی جواب ضرور مل جائے ،اور ایران نے برابر ہی کا جواب دیا،دنیا بھر میں امریکی حملوں فوجی کارروائیوں اور جنگوں کے فروغ میں کردار ادا کرنے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ امریکا جغرافیائی اعتبار سے دنیا کےکسی ملک کی پہنچ میں نہیں ہے اس لئیے امریکی حکام بڑی آسانی سے دنیا میں جنگیں چھیڑ دیتے ہیں ،اپنے ان عزائم اورمفادات کے لئیے امریکا دنیا بھر میں حلیف تلاش کرتا ہے اور اس کا بھی سب کو علم ہے کہ یہ حلیف یا دوست جنگوں کے نام پر نہیں بنائے جاتے، یہ امداد کے نام پر بنتے ہیں،دو پڑوسیوں کو آپس میں لڑاکر ایک کی حفاظت کا ذمہ لیا جاتا ہے معاہدے کئیے جاتے ہیں اور اپنا اسلحہ بیچا جاتا ہے،ایک نامعلوم یا غیر مرئی دشمن گھڑا جاتا ہے یا حقیقتا ایسا پودا کاشت کیا جاتا ہے جو بعد میں اختیار سے باہرہوجائے تو اس کے خاتمے کی بھی مہم چلائی جاتی ہے اس میں بھی ایک دو ملکوں کو لپیٹ میں لیا جاتاہے، ایران پر امریکی حملے کے بعد جوابی کارروائی سے ہونے والی جنگ میں یہ تمام عوامل موجود تھے ، چونکہ ایران براہ راست امریکا کو نشانہ نہیں بناسکتا اس لئیے اس نے پڑوسی ممالک میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچایا گیا ،امریکا نے اس سے بھی فائدہ اٹھایا اور اسے عرب ایران لڑائی میں تبدیل کرنا چاہا،لیکن اسے کامیابی نہیں ہوئی، توقع ہے کہ پاکستانی حکومت مذاکرات کی تجاویز میں پڑوسی ممالک پر حملے نہ کرنے کی شرط کے علاوہ یہ تجویز بھی شامل کروائےگی کہ امریکا اپنی فوجی تنصیبات یا مفادات ایران کے پڑوسی ممالک سے ہٹا لے،تاکہ ایران کو ان ممالک سے نہ الجھنا پڑے،ہمیں پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے اس حوالے سے دوٹوک پالیسی کا انتظار رہے گا کہ مسائل کاحل جنگ ہے یا مذاکرات۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور اپنی تحریر، تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ bisaat.mag@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔
error: