Advertisement

قوم کی بیٹی کی رہائی کی جدوجہد کا نیا عزم

امریکی جیل میں گذشتہ 23سال سے قید پاکستانی قوم کی مظلوم بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی جدوجہد بھی مسلسل جاری ہے ،کئی لمحات ایسے آئے کہ محسوس ہونے لگا کہ اب خدانخواستہ عافیہ امریکی جیل ہی میں مرجائے گی ، لیکن اللہ رب العزت کی طرف سے کچھ ایسے حالات پیدا ہوئے کہ اچھی امیدیں بھی پیدا ہوئیں، پاکستانی حکومت نے 22 برس میں پہلی بار عافیہ سے ان کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی ملاقات کروائی، امریکی وکیل کلائیو اسٹافورڈ اسمتھ نے عافیہ کی رہائی کا بیڑا اٹھالیا، گزشتہ دنوں ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے شدید بے چینی کے عالم میں ایک اجلاس بلایا ، انہوں نے حکومتی رویے اور ٹال مٹول کا گلہ کیا کہ دیکھئے کہ ارباب اختیار کے نزدیک ایک عام ”پاکستانی شہری“ کی کیا وقعت ہے؟ایسے میں وہاں موجود احباب نے ہمت بندھائی اور ان کو مایوس نہ ہونے کا مشورہ دیا، اللہ کے بھروسے پر نئے ولولے کے ساتھ کھڑے ہونے کی بات کی، اجلاس کے شرکاءنے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پوری قوم اپنی بیٹی عافیہ کی رہائی اور وطن واپسی چاہتی ہے اور 23 برس سے جدوجہد کرنے والی ڈاکٹر فوزیہ نے ملک بھر سے  والنٹیئرکاکنونشن طلب کیا اور ایک بار پھر فکاوٹوں اور خدشات کے باوجود اللہ کی تائید سے یہ کنونشن منعقد ہوگیا۔ڈاکٹر فوزیہ مایوس تو نہیں تھیں بلکہ انہوں نے اس طرح عافیہ والنٹئیرز میں نیا حوصلہ نئی روح پھونک دی اور ملک بھر میں موجود عافیہ موومنٹ کے والنٹیئرز نے تیاری شروع کردی۔
بالآخر یکم فروری کی تاریخ آگئی، کنونشن میں شرکت کے لئے ایک دن قبل پنجاب، بلوچستان،کے پی کے، اندرون سندھ سے عافیہ موومنٹ کے ورکرز پہنچنا شروع ہوئے جبکہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا سے اسکالر و پروفیسر صادق محمد یعقوب بھی خصوصی مہمان کی حیثیت سے پہنچے۔ کنونشن میں جماعت اسلامی کے سینئر رہنما محمد حسین محنتی، پاکستان رائٹس موومنٹ کے چیئرمین و سابق سینٹر مشتاق احمدخان، پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور، سابق گورنر سندھ محمد زبیر،مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی رہنما ندیم اعوان، اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس کے وکیل عمران شفیق ایڈووکیٹ، ڈاکٹر عافیہ کے مشہور جہاں ترانے”استقامت کو تیری سلام عافیہ“ کے خالق نعیم الدین نعیم، سمیت کالم نویس، صحافی و تاجری برادری اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعدادبھی شریک تھی۔پنجاب خلیل احمد آسی، عبداللہ منصور، حافظ محمد زبیر، ملک محسن اعوان، ثمینہ شفیع اپنے وفد کے ہمراہ اور خیبرپختونخواہ سے خان صدیق اپنے وفد کے ہمراہ شریک ہوئے جبکہ اندرون سندھ اور بلوچستان سے بھی وفود نے شرکت کی۔
تلاوت قران پاک کی سعادت پروگرام کے آرگنائزر فرخ شاہ خان نے حاصل کی اور امام حسین ہمدم نے نعت رسول مقبول ﷺ پیش کی۔ نظامت کے فرائض معروف صحافی، ٹی وی، ریڈیو پریزینٹر خلیل اللہ فاروقی اور پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما عزیز فاطمہ نے انجام دئیے، دونوں کے انداز نے مجمع کو مسحور کردیا ،اور والنٹیئرز میں نیا حوصلہ اور عزم بیدار کردیا۔ عافیہ موومنٹ کے گلوبل کوآرڈینیٹر محمد ایوب نے کنونشن کی غرض و غایت اور تعارفی گفتگو کی ۔ عافیہ موومنٹ کی چیئر پرسن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے ابتدائی گفتگو میں اپنے،عافیہ صدیقی اور عافیہ موومنٹ کے بارے میں بتایا،اور بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا ، عافیہ پر مظالم کی روداد پیش کی ، جس کو دیکھ کر ہر آنکھ اشک بار ہوگئی۔
ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ، ایک ماہر تعلیم، ایک ماں، پاکستان کی ایک بیٹی، 22 سال سے زائد عرصہ سے اس جرم کی پاداش میں قید ہیں جو انہوں نے کیا ہی نہیں۔ڈاکٹر فوزیہ نے پاکستانی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے اپیل کی کہ عافیہ کووطن واپس لانے کا وقت آگیا ہے۔وہ اس قوم کی بیٹی ہے،وہ بے گناہ ہے اور اس کی رہائی کو یقینی بنانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم عافیہ کی آزمائش کے سفر میں ایک انتہائی اہم موڑ پر کھڑے ہیں، تاریخ ہر چیز پر نظر رکھے ہوئے ہے، وہ ہر ایک کے عمل کو دیکھ رہی ہے۔اور جب ہمیں امید ہے تو ہم ان لوگوں سے درخواست کرتے ہیں جو رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں وہ ایسا کرنا بند کر دیں۔کیونکہ اب اس کی حد ہو گئی ہے عافیہ نے بدترین انسانی تشدد برداشت کیا۔ عافیہ کی بے گناہی ثابت ہو چکی ہے، اس کے باوجود وہ قید ہے کیونکہ جن لوگوں نے اس کی حفاظت کی قسم کھائی تھی انہوں نے رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں،بہر حال عافیہ رہائی کی جدوجہد ہرصورت جاری رہے گی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق امیر جماعت اسلامی سندھ محمد حسین محنتی نے کہا کہ جماعت اسلامی شروع دن سے عافیہ کاز میں صدیقی خاندان کے ساتھ ہے دونوں بچوں کی واپسی میں بھی جماعت اسلامی کی کاوشیں سب کے سامنے ہیں۔ اور جب جب پکارا جائے گا۔
جماعت اسلامی کے لوگ آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے اپنے خطاب میں عافیہ پر مظالم پر افسوس کا اظہار کیا اور توجہ دلائی کہ اگر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ عافیہ کو لے ائیں تو یہ پاکستان کے وقار میں اضافے کا سبب بنے گا۔سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے خطاب کرتے ہوئے عافیہ سے ملاقات کا حوسلہ بھی فیا اوگ اس کی بے گناہی کا ثبوت بھی دیا اور رہائی جدوجہد میں اپنے ہرممکن تعاون کا یقین دلایا اور اعلان کیا کہ ان شاءاللہ یہ سال عافیہ کی رہائی کا سال ہوگا۔ حکومت عافیہ کی رہائی کا راستہ آسان بنائے، مشکلات پیدا نہ کرے،مرکزی مسلم لیگ سندھ کے صدر ندیم اعوان نے کہا کہ کہ عافیہ پر مظالم کے خاتمے کا وقت آگیا ہے، امت کا اتحاد عافیہ کو واپس لانے کا سبب بنے گا۔ اسلام آبادسے خصوصی طور پر آئے ہوئے ڈاکٹر عافیہ کے وکیل عمران شفیق ایڈووکیٹ نے کیس کی تفصیل ،رکاوٹوں اور پیشرفت سے آگاہ کیا، انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس اعجاز اسحاق خان کے انصاف کے جذبہ کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ توہین عدالت کے حوالے سے ان کے فیصلے اب بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں اور بروئے کار لائے جاسکتے ہیں عمران شفیق نے کلائیو اسمتھ کو بھی زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ وکیل ہونے کے ناتے میں جانتا ہوں کہ کلائیو اسٹافورڈ اسمتھ نہایت مضبوط مقدمہ لے کر چل رہے ہیں۔کنونشن کے دوران کلائیو اسمتھ کی ویڈیو اورگفتگو کا اردو ترجمہ بھی پیش کیا گیا ، جس سے والنٹیئرز کے حوصلوں میں اضافہ ہوا۔پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کراچی کے صدر عبدالحاکم قائد نے بھی پرجوش خطاب میں کہا کہ عافیہ آئے گی اور آپ ہی کی جدوجہد سے آئے گی۔
نماز اور کھانے کے وقفے کے بعد تقریب پھر شروع ہوئی اور نہایت پرجوش انداز میں کارروائی جاری رہی۔ والنٹیئر ز، صحافیوں، سماجی کارکنوں اور عافیہ رہائی کی جدوجہد میں تعاون کرنےوالوں میں سرٹیفیکیٹ اور شیلڈز تقسیم کی گئیں، ان میں جئیو کے طارق ابوالحسن، دی نیوز کےجمال خورشید،جنگ کے آصف متین ،ایکسپریس نیوز کے مظفر جیلانی، امت کے چیف ایڈیٹر ،علی حمزہ اور دیگر شامل تھے، کلائیو اسمتھ،اور اسلام اباد کے شاہد شمسی کا ایوارڈ فرخ شاہ خان نے وصول کیا ۔
تقریب کے دوران وقفے وقفے سے عافیہ سے متعلق سوالات پوچھے گئے اور درست جواب پر فوری انعامات بھی دئیے گئے۔
تقریب میں اس وقت بہت زبردست جوش وخروش پیدا ہوگیا جب معروف تحریکی شاعر نعیم الدین نعیم نے اپنا نیا ترانہ ”امت کے پاسبانو ، غیرتمند نوجوانو، لانا ہے عافیہ کو ، گھر سے قدم نکالو“ سنایا ،شام ساڑھے پانچ بجے کنونشن کے اختتام پر ملک کی ترقی،قوم کی خوشحالی اور ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لئے دعا بھی کی گئی۔
اس موقع پر کنونشن کے شرکا اور ہزاروں آن لائن سپورٹرز نے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی جدوجہد جاری رکھنے کا عہد کیا جبکہ سینکڑوں رضاکاروں نے اپنے خون سے دستخط کر کے عہد کیا کہ ”عافیہ کی واپسی تک جدوجہدجاری رکھیں گے“۔ اس موقع پر متفقہ قرارداد بھی منظور کی گئی۔اور وطن واپسی پر عافیہ سے خصوصی ملاقات کے لیے 3 خصوصی وی آئی پی پاسز بھی تقسیم کیے گئے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور اپنی تحریر، تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ bisaat.mag@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔
error: