سال ۲۰۲۵ اور نومبر کا مہینہ تھا۔ جدہ میں موسم بہاراپنی پوری رعنائیوں کے ساتھ جلوے بکھیررہا تھا کہ 2021 سے 2025 تک قطر کے شہردوحہ میں ڈپٹی ہیڈ آف مشن اور منسٹر (سیاسی و قونصلر امور) کے طور پرخدمات انجام دینے والے پاکستان کی وزارت خارجہ کے ایک محنتی افسرسید مصطفی ربانی اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے جدہ پہنچے۔ ان ہی دنوں قونصلیٹ کی نئی چانسری بلڈنگ کا افتتاح بھی ہونے والا تھا۔ معمول کے مطابق وہ چند ہفتہ سابق قونصل جنرل ہردلعزیز خالد مجید صاحب کے ساتھ مصروف رہے پھرکمیوںٹی کی نمایاں شخصیات اوردیرینہ صحافتی تنظیموں پاکستان جنرنلسٹس فورم (پی جے ایف)، پاکستان اوورسیز جنرنلسٹس فورم (پی او ایم ایف)، یونائیٹیڈ جنرنلسٹس فورم (یو جے ایف) اور(پاک میڈیا جرنلسٹس فورم) کے عہدیداروں اور ممبران سے ملاقاتوں کاخوشگوار سلسلہ شروع ہوا۔ نو تعینات قونصل جنرل پاکستان سید مصطفی ربانی سے تعارفی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، پاکستانی کمیونٹی کو درپیش مسائل اور قونصلیت کی سہولیات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر قونصل جنرل سید مصطفی ربانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے مسائل کا حل ان کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے قونصلیٹ کے دروازے ہمہ وقت کھلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ، تاریخی اور مضبوط تعلقات پہلے ہی موجود ہیں، جنہیں مزید مستحکم کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ملاقاتوں کے دوران کمیونٹی ممبران اورسینئرصحافی امیرمحمد خان، شاہد نعیم، محمد عامل عثمانی، فوزیہ خان، مریم شاہد، اسد اکرم، سید مسرت خلیل، چودھری محمد ریاض گھمن، شعیب الطاف، ثناء شعیب، شباب بھٹہ، جہانگیرخان، سید فہد علی، حسن بٹ، نورالحسن گجراور دیگر نے خوشی اورامید کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ سید مصطفیٰ ربانی کی لگن، محنت اورکام سے سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے مثبت نتائج کی امیدیں وابستہ ہیں۔ 1999میں پشاور یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد مصطفیٰ ربانی نے اعلیٰ کارکردگی کے ساتھ تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کیں،جو قابل فخر بات ہے۔
قونصل جنرل کا منصب ایک بڑی ذمہ داری اور اعتماد کا تقاضا کرتا ہے۔ ایک کامیاب قونصل جنرل میں لوگ کئی خوبیاں تلاش کرتے ہیں لیکن سعودی عرب میں موجود کمیونٹی کو توقع ہوتی ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے حل میں عملی کردار ادا کرنا ان کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
کمیونٹی کے ساتھ مضبوط رابطہ، تعلیمی، ثقافتی وتجارتی روابط کا فروغ اور پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنا ہی انہیں کامیاب بنائے گا۔ اس کے ساتھ نئے قونصل جنرل سے کمیونٹی اورصحافتی حلقوں میں فطری طور پر کئی امیدیں وابستہ ہو جاتی ہیں۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو عموماً جن مشکلات کا سامنا رہتا ہے، ان کے بروقت اور منصفانہ حل کے لیے قونصلیٹ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہونا چاہیے۔
مصطفیٰ ربانی وزارت خارجہ میں شامل ہونے سے قبل ابتدائی طور پر پشاور میں ایک پرائیویٹ لاء فرم سے منسلک تھے۔ بعد ازاں انہوں نے 2001-2002 تک پشاور یونیورسٹی کے فیکلٹی آف لاء میں ریسرچ کوآرڈینیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ مصطفیٰ ربانی نے 2002 میں سول سروس آف پاکستان میں شمولیت اختیار کی اور سول سروس اکیڈمی لاہور میں تربیت مکمل کرنے کے بعد اسسٹنٹ اکاؤنٹنٹ جنرل خیبر پختونخوا کے طور پر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے جنوری 2005 میں پاکستان کی فارن سروس میں شمولیت اختیار کی، جہاں انہوں نے اپنی اعلیٰ کارکردگی کے باعث وزارت خارجہ میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر (فنانس) اپنا سفارتی کیرئیر شروع کیا۔ بعد میں انہوں نے کثیرالجہتی امور اور اقوام متحدہ کے نظام میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر (یو این ڈویژن) کام کیا۔ مصطفیٰ ربانی کی بیرون ملک پہلی پوسٹنگ تہران، ایران میں اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) میں ہوئی، جہاں انہوں نے 2007-09 اسسٹنٹ ڈائریکٹر (بین الاقوامی تعلقات) کے طور پر خدمات انجام دیں۔ 2012-16 انہوں نے پاکستانی ہائی کمیشن لندن میں فرسٹ سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اسلام آباد واپسی پر ڈپٹی چیف آف پروٹوکول خیبرپختونخوا (2016-17)، ڈائریکٹر فارن سیکرٹری آفس (2017-18) اور ڈائریکٹر فارن منسٹر آفس (2018-21) کے طور پر خدمات انجام دیں۔ جدہ آمد سے قبل وہ 2021-25قطر کے دوحہ میں ڈپٹی ہیڈ آف مشن اور منسٹر (سیاسی و قونصلر امور) کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ جدہ، مکہ، ینبوع، قاسم، طائف، مدینہ اور مغربی صوبے میں مقیم پاکستانیوں نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ پاکستانی کمیونٹی ہمیشہ کی طرح قومی خدمت کے کام میں قونصل جنرل کا ساتھ دے گی۔
جدہ میں تعینات نئے قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی سے توقعات اور امیدیں
















