Advertisement

مسجد الرسولؐ تبوک سے مسجد النبویؐ مدینہ تک

میں چلا لاہور سے تبوک کی جانب:
2011 کی ایک شام ملازمت کے لئے تبوک کے نئے نویلے ایرپورٹ پر جہاز سے اترا۔ یہ میری سعودی عرب میں دوسری ملازمت تھی۔ اس سے قبل 10 برس سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور متحدہ عرب امارات کے شہر العین میں گذر چکے تھے۔ ریاض میں قیام کے دوران ایک بار تبوک کا سفر کیا تھا اور اس دوران کئی دوست بن گئے تھے جن کو اپنی آمد کی اطلاع دی۔ ملک عبدالعزیز مجھے لینے کے لئے ایرپورٹ تشریف لائے۔ اگرچہ سرکاری گاڑی اور سرکاری رہائش کا انتظام تھا لیکن دوستوں کے اصرار پر چند روز معزیلیہ کیمپ میں اشرف مانگٹ کے گھر پر رہنے کو ترجیح دی۔ انہوں نے دوسرے دوستوں کے ساتھ مل کر خوب مہمان داری کی اور لاہور سے دوری کا احساس نہیں ہونے دیا۔ وطن سے دور گھر کی پکی گرما گرم روٹی بہت بڑی نعمت ہوتی ہے۔ پاکستانیوں کا دستر خوان بریانی کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ نہاری کا چٹخارہ مل جائے تو وارے نیارے ہو جاتے ہیں۔
جون کے مہینے میں پاکستان اور سعودی عرب میں گرمی عروج پر ہوتی ہے لیکن تبوک کا درجہ حرارت سعودی عرب کے دیگر شہروں کے مقابلے میں 10 ڈگری کم ہوتا ہے۔ جون میں یہاں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک جاتا ہے۔ موسم گرما میں دوپہر میں آندھی چلتی تھی لیکن شام کو خوشگوار ہوا چلنی شروع ہو جاتی ہے۔ بارش کم ہی ہوتی ہے اور موسم بالعموم خشک رہتا ہے۔ اگر بارش ہو جائے تو یہاں کا موسم رنگین ہو جاتا ہے۔ سردیوں میں درجہ حرارت صفر ہو جاتا ہے اور شہر سے ایک سو کلومیٹر دور واقع پہاڑوں پر برف باری ہوتی ہے۔ کیمپ میں تین روز گذارنے کے بعد کنگ خالد ہسپتال کی عارضی رہائش گاہ میں منتقل ہوا اور دوستوں کی آمد و رفت کا سلسلہ بند نہیں ہوا۔ ایک دوست کچھ نقد رقم ساتھ لائے کہ دیار غیر میں ضرورت ہو تو رکھ لوں۔ میں نے شکریے کے ساتھ واپس کر دئے کہ اللہ نے اسباب مہیا کر رکھے تھے۔ ضروری کاغذات کی تیاری کے بعد ہسپتال میں ڈیوٹی شروع کر دی۔ ایک ہفتے بعد ایمرجنسی گیٹ سے باہر نکلا اور سامنے ایک مسجد نظر آئی۔ عشاء کی نماز وہاں ادا کی تو ڈاکٹر طاہر شاہ مل گئے۔ ڈاکٹر صاحب سرجن ہیں اور لاہور میں میرے ساتھ کام کر چکے تھے۔ انہوں نے مستقل رہائش کا مسئلہ حل کروا دیا۔ ان کے ایک دوست نے میرے ہسپتال کے قریب ہی ایک خالی اپارٹمنٹ پہلی منزل پر ڈھونڈ نکالا۔ فرنیچر مارکیٹ میرے گھر سے چند منٹ کے پیدل فاصلے پر تھی جہاں ہر طرح کا نیا اور پرانا گھریلو سامان اور فرنیچر موجود تھا۔ چند ہی دنوں میں رنگ و روغن ہو کر گھر تیار ہو گیا اور میرے تبوک آنے کے ایک ماہ بعد میری فیملی بھی وہاں پہنچ گئی۔
اس وقت میری رہائش گاہ کے بعد شہر کی آبادی بہت کم تھی۔ گھر کے قریب سے اردن کے دو راستے اور سمندر کے تین راستے نکلتے تھے جس کے بعد صحرائی علاقہ شروع ہو جاتا تھا۔ دوپہر کے وقت آندھی چلتی تو ہر طرف گرد و غبار پھیل جاتا۔ شہر کی بیشتر سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں۔ ان کی صفائی کا کوئی خاص انتظام نہیں تھا اور پلاسٹک کے شاپر ہر جگہ اڑتے پھرتے تھے۔ اس بنا پر میری فیملی اس وقت کے تبوک کو ڈسٹ بن کے نام سے یاد کرتی ہے۔ پچھلے پندرہ برسوں میں تبوک مکمل تبدیل ہو کر ایک سرسبز اور صاف شفاف شہر بن چکا ہے۔ اس کا شہری رقبہ اور آبادی دوگنا ہو چکی ہے۔ دس نئے پل اور کئی انڈر پاس تعمیر کئے گئے ہیں۔ بڑی شاہراہوں کے ساتھ گرین بیلٹ پر لگائے گئے خوبصورت درختوں نے شہر کا نقشہ تبدیل کر دیا ہے۔ کئی بڑے نئے پارک بنائے گئے ہیں جن میں خاندان بھر کی تفریح کا سامان موجود ہے۔ پرانی مساجد کی جگہ پر 30 بلند و بالا نئی مساجد تعمیر ہو چکی ہیں جبکہ مسجد والدین جدید طرز تعمیر کا شاہکار ہے۔ پانچ نئے ہسپتالوں پر مشتمل سرکاری میڈیکل کمپلیکس تعمیر کیا گیا ہے۔
سفرنامہ کی خاص بات
اس سفرنامے میں آپ کو تبوک کے اہم مقامات اور شہر کے تمام حصوں کی سیر کرائیں گے۔ تبوک سے مدینہ جانے والی مختلف شاہراہوں پر واقع تمام شہروں اور تاریخی مقامات کی سیر و سیاحت کریں گے۔ مدینہ کی مقدس زیارتوں ، بابرکت جگہوں اور نادر اشیا کے بارے میں اہم معلومات فراہم کی جائیں گی۔ مدینہ اور تبوک کے منطقوں کی ہزاروں سال پرانی تارہخ اور آثار قدیمہ کا تحقیقی جائزہ پیش ہو گا۔ عرب تہذیب و ثقافت کی دلچسپ چیزوں سے آگاہ کیا جائے گا۔ پچھلے پچیس برسوں میں مدینہ ، شام کو جانے والے قدیم سمندری راستے اور شمال مغربی سعودیہ میں اردن کی سرحد تک نیوم میں جو بڑی تبدیلیاں آئی ہیں ان کا تذکرہ ہوگا۔ سعودی عرب کے بارے میں کچھ بنیادی معلومات بھی آپ کو فراہم کی جائیں گی۔ اس طرح سعودی معاشرے کی ایک جھلک آپ اس سفرنامے میں دیکھ سکیں گے۔
شارع العام
تبوک شہر کا سب سے مشہور علاقہ شاہراہ العام کہلاتا ہے۔ یہاں پاکستانی ، بنگالی ، افغان اور انڈین لوگوں کی اکثریت پائی جاتی ہے۔ صرافہ بازار یہاں ہونے کی وجہ سے سعودی بھی بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ سعودیوں کی پسندیدہ خوشبویات اور عطریات کی ہول سیل مارکیٹ یہاں پر ہے۔ تمام بنکوں کی برانچیں اور پاسپورٹ آفس یہاں موجود ہیں۔ اس علاقے میں کئی مشہور تاریخی مقامات ہیں لیکن پہلے ہم یہاں کے تجارتی مقامات کی سیر کرلیتے ہیں۔ بنگالی بازار ، انڈین مارکیٹ ، افغان گلی اور فلپائن مارکیٹ کے نام سے بازار موجود ہیں۔ یہاں کے پاکستانی ریسٹورنٹ شہر بھر میں مشہور ہیں۔ جن میں اسلام آباد ہوٹل ، پنجاب ریسٹورنٹ ، لاہور ہوٹل ، شالیمار ریسٹورنٹ اور مہران ہوٹل شامل ہیں۔ رات گئے تک ان میں بیٹھنے کی جگہ نہیں ملتی۔ ہر طرح کے لذیذ کھانے یہاں ملتے ہیں۔ صبح کو ناشتے میں پائے ، نہاری اور مرغ چنے کے ساتھ ہر طرح کے نان ملتے ہیں۔ جمعہ کو چٹھی کے دن خاص ڈشیں آرڈر پر تیار کی جاتی ہیں۔ دوپہر کو بریانی اور کڑھائی کا دور چلتا ہے۔ شام کو بار بی کیو کی خوشبو فضا کو مہکا دیتی ہے۔ ہر موسم کے حساب سے کھانے پینے کی مزیدار چیزیں مل جاتی ہیں۔ شارع العام کے قریب ہی تبوک میوزیم کے پیچھے مطعم پاکستان موجود ہے جس کی مٹن کڑھائی اور خمیری روٹی لاجواب تھی۔ فیملیز کے ساتھ ساتھ لیبر کیمپوں میں رہنے والے افراد جوق در جوق یہاں آتے ہیں اور گرما گرم کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ہر طرح کی پاکستانی مٹھائی انہی ہوٹلوں پر مل جاتی ہیں۔ تازہ بسکٹ اور بیکری کی کچھ اشیا بھی یہاں دستیاب ہوتی ہیں۔ ایک مارکیٹ میں سبزی ، فروٹ اور کھانا پکانے کی چیزیں فروخت کی جاتی ہیں۔ قریبی مارکیٹوں میں الیکٹرانکس کی اشیا مناسب داموں پر مل جاتی ہیں۔ کپڑوں اور جوتوں کی دکانیں پائی جاتی ہیں جہاں عام استعمال کی سستی اشیا فروخت ہوتی ہیں۔ سعودی نوجوانوں کی دلچسپی کا خاص مرکز سپورٹس کی مارکیٹ ہیں۔ تبوک کی مرکزی موبائل مارکیٹ اس مقام کے ایک جانب موجود ہے۔ ایک سائڈ پر درزیوں کی بڑی تعداد ہے جو مختلف قومیتوں کے لباس تیار کرتے ہیں۔ جوتے مرمت کروانے کے لئے موچی بھی اس علاقے میں پائے جاتے ہیں۔ غرضیکہ آپ کی ہر ضرورت اس علاقے میں پوری ہو جاتی ہے۔ شام کے اوقات میں رش شروع ہو جاتا ہے اور پارکنگ کا مسئلہ ہوتا ہے۔ شارع العام کے اطراف میں جیولری مارکیٹ ، قدیم قلعہ ، حجاز ریلوے کا میوزیم ، دوار القلم اور غزوہ تبوک کی یادگار تاریخی مسجد الرسول (ص) موجود ہے۔
تبوک کی گولڈ مارکیٹ
شارع العام پر تبوک کی سونے اور جواہرات کی مارکیٹ موجود ہے۔ اس میں سارا سال سعودی خواتین کا رش لگا رہتا ہے۔ غیر ملکی یہاں سے رمضان میں یا اپنے ملک جانے سے قبل خریداری کرتے ہیں۔ اکثر غیر ملکی گرمیوں میں سالانہ چھٹیوں پر جاتے ہیں۔ سعودی عرب میں زیورات 21 قیراط سونے سے بنائے جاتے ہیں۔ جبکہ پاکستان اور انڈیا میں جیولری 22 قیراط سونے کی ہوتی ہے۔ دوسری اہم بات یہ کہ یہاں سونے میں ملاوٹ نہیں کی جاتی اور سونا بالکل خالص ملتا ہے۔ ہمارے خاندان کے کئی لوگوں نے یہاں سے سونا اور اس کے سیٹ ہم سے منگوائے ہیں۔ یہاں پر سنگا پور سے آئے ہوئے 18 قیراط سونے کے زیورات بھی مل جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں پر 24 قیراط سونا بھی ملتا ہے جو 50 اور 100 گرام کے ٹکڑوں کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کو یہاں پر سونے کا بسکٹ کہا جاتا ہے۔ یہ خالص ترین سونا ہوتا ہے اور اس میں ہمارے جیولرز کچھ ملا کر زیورات تیار کرتے ہیں۔ بیس برس قبل جب سونا سنتا تھا تو لوگ یہاں سے ایک کلو گرام سونے کی ڈلی بھی لے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ یہاں پر جواہرات بھی ملتے ہیں جن کو سونے میں جڑ کر مختلف ڈیزائن تیار کیے جاتے ہیں۔ جواہرات میں یا قوت اور زمرد زیادہ مشہور ہیں۔ سعودی عرب سے سونا اور جواہرات باہر لے جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ اگر آپ کے پاس 60 ہزار روپے سے زائد نقد رقم یا زیورات ہوں تو اس صورت میں ایئر پورٹ پر کسٹم حکام کو صرف اطلاع دینی ہوتی ہے۔ خواتین کے پہنے ہوئے زیورات کی چیکنگ نہیں ہوتی ۔ اس سے زیادہ سونے کی اشیاء کی خریداری کی رسید دیکھ کر آپ کو جانے دیتے ہیں۔
عثمانی دور کا تبوک کا تاریخی قلعہ
گولڈ مارکیٹ کے قریب 1559 عیسوی کا تعمیر شدہ قلعہ موجود ہے جو سیاحوں کی خاص دلچسپی کا مرکز ہے۔ ساڑھے چار سو سال پرانا قلعہ سلطان سلیمان کے دور حکومت میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد شام اور فلسطین سے مکہ ، مدینہ جانے والے قافلوں کی حفاظت اور ان کو اناقہ نام کے کنویں سے سارا سال پانی کی فراہمی کا انتظام کرنا تھا۔ یہ بہت بڑا قلعہ نہیں ہے لیکن اس کی بہت تاریخی حیثیت ہے۔ اس کے قریب ہی غزوہ تبوک میں مسلمان فوج نے پڑاؤ کیا تھا اور اللہ کے رسول صلی الم نے اناقہ نامی کنویں سے کئی دن تک پانی نوش فرمایا تھا۔ اناقہ عربی زبان میں اونٹنی کو کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ مشہور سفر نگار ابن بطوطہ نے بھی اس جگہ کا سفر کیا ہے۔ قلعہ کے اندر غزوہ تبوک کے حوالے سے قدیم مخطوطات موجود ہیں۔ قلعہ کے پیچھے شاہی خاندان کے نہانے کے لیے دو تالاب بنائے گئے تھے۔ ان میں ایک چوکور اور دوسرا مستطیل شکل میں ہے۔
قلعہ کی عمارت دو منزلوں پر مشتمل ہے۔ گراؤنڈ فلور پر کمرے ، مسجد، صحن اور کنواں موجود ہے۔ ان کمروں میں تبوک اور عثمانی سلطنت کے بارے میں تاریخی اور نادر اشیاء رکھی گئی ہیں۔ دوسری منزل پر کمرے اور مسجد بنائی گئی ہے۔ قلعہ کی حفاظت کے لیے بنائی گئی اونچی چوکیوں تک سیڑھیوں کے ذریعے جایا جا سکتا ہے۔ 1950ء، 1992ء اور 2012ء میں اس کی مرمت اور تزئین و آرائش کی گئی ہے۔ صبح 7 بجے سے شام 7 بجے تک زائرین کے لیے کھلا رہتا ہے۔ قلعہ کے دو اطراف میں عربوں کی قدیم تہذیب کی عکاسی کرنے والی نادر اشیاء کی دکانیں موجود ہیں۔ ان میں عام لوگوں کی دلچسپی کی بے شمار چیزیں مل جاتی ہیں جن کے نرخ مناسب ہوتے ہیں۔ میں نے اپنے گھر اور دوستوں کے لیے کئی چیزیں یہاں سے خریدی ہیں۔ اس کے علاوہ قلعہ کے ساتھ خیموں کی مارکیٹ ہے۔ یہاں پرٹین کے بڑے بکس مل جاتے ہیں جن میں لوگ سامان ڈال کر اپنے ملکوں میں کارگو سے بھیجتے ہیں۔ ربڑ اور پلاسٹک کے مضبوط ڈرم بھی یہاں ملتے ہیں جن میں چینی کے برتن اور نازک اشیاء بحفاظت کارگو کی جا سکتی ہیں۔ عربی طرز کے عطر خوشبوؤں اور عود کی مارکیٹ بھی قریب ہے۔ عود کی دھونی کو یہ لوگ بہت پسند کرتے ہیں اور مسجدوں میں اس کا استعمال عام طور پر کیا جاتا ہے۔
Qalam Roundabout دوار قلم
شارع العام سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر یہ گول چکر ہے۔ عربی میں گول چکر کو دوار کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں چکر ( دور ) کاٹے جاتے ہیں۔ اس گول چکر کے نام کی وجہ یہ ہے کہ اس کے درمیان میں ایک کئی سوفٹ اونچا قلم بنایا گیا ہے۔ اس جگہ پر ہمارے دوست اصغر ساجد 25 سال سے ایک فارمیسی میں کام کر رہے ہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور اپنی تحریر، تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ bisaat.mag@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔
error: