Advertisement

علم تفسیر اور ردِّ شبہات: عصر حاضر کی اہم ضرورت

علم دین کا حاصل کرنا ہر دور میں باعثِ سعادت رہا ہے، مگر ہر زمانے کے اپنے تقاضے اور چیلنجز ہوتے ہیں، آج کے اس فکری انتشار کے دور میں جہاں باطل نظریات نت نئے انداز میں سامنے آ رہے ہیں، وہاں صرف علم حاصل کرنا کافی نہیں بلکہ اس علم کی حفاظت اور اس کا دفاع بھی اتنا ہی ضروری ہو چکا ہے۔
ایک موقع پر ایک طالبِ علم نے بڑے اطمینان سے کہا: ’’مجھے نو سال ہو گئے ہیں تفسیر پڑھتے ہوئے‘‘۔
یہ سن کر دل خوش ہوا کہ قرآنِ کریم کے فہم میں اس نے طویل وقت صرف کیا، مگر ساتھ ہی یہ خیال بھی آیا کہ اگر انہی نو برسوں میں مرزائی شبہات کو سمجھ کر ان کا علمی رد سیکھ لیتا تو اس کی یہ محنت کہیں زیادہ مؤثر اور امت کے لیے مفید ثابت ہوتی۔
آج مرزائی قرآنِ کریم کی آیات کی تحریفِ معنوی کر کے عوام کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں وہ الفاظ کو نہیں بدلتے، بلکہ مفہوم کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ عام آدمی حق اور باطل میں تمیز نہیں کر پاتا۔ ایسے حالات میں صرف تفسیر پڑھ لینا کافی نہیں، بلکہ ان شبہات کو پہچاننا اور ان کا مدلل جواب دینا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے .ہمیں استاتذہ ملے تحقیق فی التفسیر کے ساتھ ردالشبات کا بھی خصوصی خیال رکھتے۔
تفسیر بلا شبہ ایک عظیم اور دقیق علم ہے، جو عمیق تحقیق اور بصیرت کا متقاضی ہے، اور یہ میدان اہلِ علم کے لیے مخصوص ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ردِ شبہات بھی علماء کی ایک اہم ذمہ داری ہے، کیونکہ عوام الناس اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے انہی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
اگر علماء صرف تحقیق میں مصروف رہیں اور معاشرے میں پھیلنے والے فتنوں کا ادراک نہ کریں، تو علم کی روشنی محدود ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس، جب عالم دین نہ صرف قرآن کو سمجھتا ہے بلکہ اس کے خلاف اٹھنے والے اعتراضات کا جواب بھی دیتا ہے، تو وہ امت کے لیے ایک مضبوط قلعہ بن جاتا ہے۔
لہٰذا، عصرِ حاضر کا تقاضا یہ ہے کہ طالب علم تفسیر کے ساتھ ساتھ فتنوں کی پہچان اور ردِ شبہات کی صلاحیت بھی حاصل کریں۔ یہی وہ جامع علم ہے جو نہ صرف فرد کی اصلاح کرتا ہے بلکہ پوری امت کی فکری حفاظت کا ذریعہ بنتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ: علم کی تکمیل صرف سیکھنے میں نہیں، بلکہ حق کی حفاظت اور اس کے دفاع میں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور اپنی تحریر، تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ bisaat.mag@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔
error: