Advertisement

2026 امریکی زوال کے آغاز کاسال

سال 2025 ختم ہوچکا ہے، دوست اس موقع پر بار بار کہہ رہے تھے کہ نئے سال میں امکانات اور خدشات پر بات ضرور کی جائے۔ یہ انسانی نفسیات ہے کہ وہ جاننا چاہتا ہے کہ آنے والے وقت میں کیا ہوگا ۔ یہی انسانی نفسیات جوتشیوں اور نجومیوں کی روٹی روزی کا وسیلہ ہے ۔
نئے سال میں کیا ہونے کے امکانات ہیں ۔ اسے ہم پاکستانی لوگ دو دائروں میں دیکھ سکتے ہیں۔ پہلا دائرہ چھوٹا ہے کہ پاکستان میں کیا صورتحال رہے گی اور دوسرا دائرہ بڑا ہے کہ دنیا میں کیا کچھ اب ہونے جارہا ہے ۔ پہلا دائرہ جو پاکستان کے حوالے سے ہے مختصر ہی ہے کہ یہاں پر کمپنی بہادر کی صورتحال مستحکم ہے ۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جو لوگ انقلاب لے کر آتے ہیں ، انقلاب کے بعد برسراقتدار آنے والا سب سے پہلے ان سے ہی جان چھڑاتا ہے ۔ اور جان چھڑانے کا طریقہ بھی انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے ۔ تو یہاں تک تو طے ہے کہ اب زرداری اور شریف خاندان کی سیاست بند گلی میں جاچکی ہے ۔ دیکھنا اب صرف یہ ہے کہ منظر پر موجود کرداروں سے کب اور کس طرح سے جان چھڑا ئی جائے گی ۔ یوں آپ آئندہ برس میں کسی بھی وقت چہروں کی تبدیلی کے منتظر رہیے ۔
دوسرے دائرے یعنی عالمی صورتحال کو دیکھتے ہیں ۔ عالمی صورتحال پر گفتگو امریکا بہادر سے شروع کرتے ہیں کہ اس وقت پوری دنیا کی معیشت و سیاست کا محور امریکا ہی ہے ۔ ٹرمپ کا فرمایا ہوا ہر لفظ قانون ہے اور وہ پوری دنیا کو تہہ و بالا کرنے کی اہلیت رکھتا ہے ۔
امریکا کی طاقت اس کی کرنسی میں ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں تبادلے کی یہی کرنسی ہے ۔ آپ کچھ بھی دنیا میں خریدنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے آپ کو ڈالر درکار ہوں گے مگر اب یہ صورتحال تیزی کے ساتھ تبدیل ہورہی ہے ۔ سب سے بڑی تبدیلی سعودی عرب کے پیٹرو ڈالر کے ذریعے آئی ہے ۔ سعودی عرب نے 1974 میں امریکا کے ساتھ 50 سالہ پیٹرو ڈالر کا معاہدہ کیا تھا ۔ یعنی سعودی عرب ڈالر کے علاوہ کسی اور کرنسی میں اپنا تیل فروخت نہیں کرے گا۔ اس کے بدلے امریکا نے سعودی عرب کو اس کی سلامتی کی یقین دہانی کروائی تھی ۔ یہ معاہدہ 9 جون 2024 کو ختم ہوچکا ہے ۔ امریکا کی ہزار فرمائشوں کے باوجود ابھی تک نہ تو اس معاہدہ کی کوئی تجدید ہوئی ہے اور نہ ہونے کی اب کوئی امید ہے ۔ اس کا دنیا پر کیا اثر پڑے گا ، اس پر گفتگو ہم آخر میں کریں گے ۔
امریکا کی سلیکون ویلی ہر طرح سے بیرونی مدد کی مرہون منت تھی کہ اس میں پیسہ سعودی عرب کا لگا ہوا تھا اور انسانی دماغ ایشیا کے ہنرمندوں کا ۔ سعودی عرب نے امریکا کی سلیکون ویلی میں ایک ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا تھا جس کے لیے پبلک انوسٹمنٹ فنڈ (PIF) کا قیام عمل میں لایا گیا تھا ۔ یہ چین ، بھارت، پاکستان اور بنگلا دیش سے تعلق رکھنے والے ہی ہنر مند اور ذہین افراد تھے جنہوں نے امریکا کو دنیا بھر میں برتری دلوائی ہوئی تھی ۔ تو ان ذہین اور ہنر مند افراد کو تو مسٹر ٹرمپ نے دُرے مار کر امریکا سے HB1 ویزا ختم کرکے رخصت کرنا شروع کردیا ہے جبکہ سعودی عرب نے امریکی سلیکون ویلی سے مسلسل اپنا پیسہ چین کی جانب منتقل کرنا شروع کردیا ہے ۔ یوں امریکی سلیکون ویلی اب اپنی موت آپ مرنا شروع ہوگئی ہے ۔ عالمی اخبارات کے مطابق بیرون ملک سرمایہ کاری کے لیے سعودی عرب کے پبلک انوسٹمنٹ فنڈ (PIF) نے جس کے پاس ایک ٹریلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی صلاحیت ہے اب امریکی سلیکون ویلی سے بتدریج اپنا پیسہ نکالنا شروع کردیا ہے ۔ 2025 کی دوسری سہ ماہی میں سعودی عرب نے META ، Shopify ، PayPal ، Alibaba Group ، Nu Holding اور FedEx سے اپنا سرمایہ نکال لیا ہے اور اب ان کمپنیوں کا ایک بھی شیئر PIF کے پاس نہیں ہے ۔ ان ہی اخبارات کے مطابق 2025 کی پہلی سہ ماہی کے آخر میں PIF کی امریکی بازار حصص میں 25.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری تھی جو دوسری سہ ماہی کے آخر میں گھٹ کر 23.8 ارب ڈالر پر آگئی تھی ۔ دوسری جانب چین میں سعودی سرمایہ کاری کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف ہانگ کانگ میں سعودی عرب نے 18 نومبر 2025 کو ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ کیا ہے ۔ یہ نہ تو پہلا معاہدہ ہے اور نہ آخری۔ سعودی کمپنیاں اور حکومت روز چینی حکومت اور کمپنیوں کے ساتھ اربوں ڈالر کے منصوبوں پر دستخط کررہے ہیں۔
کچھ یہی صورتحال چین کی بھی ہے جو بتدریج امریکا سے اپنا سرمایہ باہر نکال رہا ہے اور اب امریکا میں اس کے اثاثے سات سو سے آٹھ سو ارب ڈالر کے درمیان رہ گئے ہیں جو گزشتہ 17 برسوں میں کم ترین سطح پر ہیں ۔
اب تصویر کو سمجھنے کے لیے نکات کو جوڑتے ہیں ۔ امریکا کا سعودی پیٹرو ڈالر کا معاہدہ ختم ہوچکا ہے اور وہ دنیا کے کسی بھی ملک کو کسی بھی کرنسی میں اپنا تیل فروخت کرنے کے لیے آزاد ہے ۔ وہ چین کے ساتھ چینی کرنسی میں تیل فروخت کرنے اور بھارت کے ساتھ بھارتی کرنسی میں تیل کی فروخت کے معاہدے پر بات کررہا ہے ۔ چین نے وینزویلا اور ایران کے ساتھ پہلے ہی چینی کرنسی میں تیل کو خریدنے کا معاہدہ کیا ہے ۔ پوری دنیا میں یا تو جہاز خام مال لے کر چین جارہے ہیں یا پھر تیار مال لے کر نکل رہے ہیں اور اب چین سب سے چینی کرنسی میں خرید و فروخت کی بات کررہا ہے ۔ یوں اب دنیا بھر میں امریکی ڈالر کی ضرورت ختم ہوتی جارہی ہے ۔ ایک بات اور تاریخ سے سمجھنے کی ہے کہ جنگی پھیلاؤ ہمیشہ معیشت کی تباہی کا باعث بنتا ہے۔ چین کی تاریخ ہے کہ اس نے آج تک چین سے باہر فوج کشی نہیں کی ۔ بھارت کے ساتھ سرحدی جھڑپیں اور چیز ہیں کہ بھارتی لاتوں کے بھوت ہیں ، ان کی سمجھ میں کوئی بات آتی نہیں ہے ۔ دنیا پر قبضے کے لیے چین کی پالیسی قرضوں میں جکڑنے کی ہے ۔
دوسری بات یہ سمجھنے کی ہے امریکا گزشتہ نصف صدی سے مسلسل حالت جنگ میں ہے۔ اس وقت بھی اس نے وینزویلا کا گھیراؤ کیا ہوا ہے ۔ چین کو تیل لے جانے والے آئل ٹینکر کو قبضے میں لیا ہوا ہے ۔ اب اگر امریکا وینزویلا پر حملہ کرتا ہے تو اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کلین چٹ اس لیے نہیں ملے گی کہ وہاں پر چین اور روس امریکا کے منتظر بیٹھے ہیں ۔ دوسرے وینزویلا امریکا کے لیے افغانستان کی طرح دوسرا ڈمپنگ گراؤنڈ ثابت ہوگا جہاں پر امریکی معیشت دفن ہوجائے گی ۔
تو حاصل کلام یہ ہے کہ 2026 اب امریکی بالادستی کے خاتمے کی شروعات کا سال ہے ۔ یعنی یہ دنیا بھر میں استحکام کے خاتمے اور طاقت کی امریکا سے چین کو منتقلی کا سال ہے ۔ اس کا ایک نتیجہ دنیا بھر میں زبردست کساد بازاری کی صورت میں بھی نکلے گا۔
دنیا بھر کے حالات پر نگاہ رکھیے اور دیکھیے کہ کیسے فرعون سمندر برد ہوتے ہیں ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی باخبر رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔
ہشیار باش

اگر آپ بھی ہمارے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور اپنی تحریر، تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ bisaat.mag@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔
error: