Advertisement

قلم کی طاقت اور پاکستانی خواتین کا فکری سفر

پاکستان ایک ایسی معاصر دنیا کا حصہ ہے جہاں خواتین نے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے ہیں۔ معیشت، بینکنگ، تعلیم، تدریس، اسلام، تبلیغ، ملازمت اور گھریلو امور سمیت ہر شعبہ اب خواتین کی توانائی، بصیرت اور محنت سے روشن ہو رہا ہے۔ مگر اب بھی ایک ایسا شعبہ جس میں خواتین کی نمائندگی بھرپور طور پر نظر نہیں آتی یا پھر توقع سے بہت کم دکھائی دیتی ہے، وہ ہے کالم نگاری، صحافت اور میڈیا میں تحریری نمائندگی۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان میں میڈیا اور صحافت کے شعبے میں خواتین کی نمائندگی بہت کم ہے۔ Freedom Network اور دیگر رپورٹس کے مطابق خواتین پاکستان کے میڈیا میں تقریباً 4 فیصد ہی نمائندگی رکھتی ہیں اور ان کے حصے میں خبر کی کوریج یا اہم بڑے بیانات کم ہی آتے ہیں۔
مزید برآں رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ خواتین کی مجموعی طور پر صنفی نمائندگی خبریں بنانے میں صرف 11 فیصد ہے، جو کہ بہت کم ہے۔ خصوصاً جب ہم ایک ایسے معاشرے میں ہیں جہاں خواتین اب تعلیم یافتہ اور ہر شعبے میں سرگرم ہیں۔
اس حقیقت سے کیسے نظر چرائی جا سکتی ہے کہ خواتین تقریباً تمام شعبوں میں موجود ہوکر خوب محنت کر رہی ہیں، تاہم ابھی بھی کچھ شعبوں میں ان کی نمائندگی بڑھائی جا سکتی ہے۔ مثلاً کالم نگاری یا تحریر کے شعبے میں۔
کالم نگاری محض الفاظ کا کھیل نہیں ہے، بلکہ یہ سوچ، اقدار، نظریات اور معاشرتی تبدیلی کا اہم سرچشمہ ہے۔ کالم لکھنے والا نہ صرف اپنی رائے بیان کرتا ہے بلکہ وہ معاشرے کو سوالات، حقائق اور تنقیدی سوچ کی جانب رہنمائی بھی فراہم کرتا ہے۔
کالم نگاری وہ طاقت ہے جو براہ راست دل و دماغ تک پہنچتی ہے اور بڑے پیمانے پر سوچ کو بدلتی ہے۔ اس کے ذریعے معاشرتی ناانصافی، صنفی امتیاز، تعلیم کی کمی، حقوقِ نسواں، معاشی عدم مساوات اور متعدد دیگر مسائل پر کھل کر بات کی جا سکتی ہے۔
اگرپاکستانی خواتین بھی کالم نگاری کو ایک ذریعہ سمجھیں، تو وہ اپنے خیالات، تجربات اور نشیب و فراز کو پوری قوم تک پہنچا سکتی ہیں۔ دنیا بھر میں عظیم ترین تبدیلیاں اسی طاقت کی بدولت وقوع پذیر ہوئی ہیں۔ جب لوگوں نے اپنے خیالات کو قلم کی شکل دی۔
طالبات اور نوجوان خواتین کیلیے
کالم نگاری کیوں اہم ہے؟
کالم نگاری ایک ایسا عمل ہے جو نہ صرف تحریری صلاحیت کو بڑھاتا ہے بلکہ سوچ کو منظم اور ترتیب دینے میں بھی مدد کرتا ہے۔ ایک طالبہ جب اپنے خیالات کو سطر بہ سطر کالم میں تبدیل کرتی ہے، تو وہ خود اعتمادی، تجزیاتی سوچ، اور عالمی مسائل کو بہتر طور پر سمجھنے کی صلاحیت حاصل کرتی ہے۔
پاکستانی معاشرہ مختلف چیلنجز سے دوچار ہے: روایتی رسم و رواج، صنفی امتیاز، اقتصادی عدم مساوات اور دیگر ناقابلِ نظر مسائل۔ ایک کالم نگار خاتون ان موضوعات پر روشنی ڈال کر نہ صرف اپنا موقف پیش کر سکتی ہے بلکہ معاشرتی شعور بھی جمع کر سکتی ہے۔
کالم نگاری نہ صرف ذاتی ترقی کا ذریعہ ہے بلکہ یہ پیشہ ورانہ حیثیت بھی فراہم کر سکتی ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں بہت سی نوجوان خواتین بلاگرز، کالم نگار اور تجزیہ نگار کے طور پر ابھر رہی ہیں اور ان کی تحریریں قومی اور بین الاقوامی سطح پر مقبول ہو رہی ہیں۔
اگر آپ ایک طالبہ یا نوجوان خاتون ہیں اور سمجھتی ہیں کہ آپ کی تحریر کا وزن ہے، تو بس قلم اٹھائیے اور شروع کیجیے؛
1۔ مطالعہ اور تجزیہ کی عادت بنائیں
بہترین تحریر کے لیے ضروری ہے کہ آپ دنیا بھر میں ہونے والے واقعات، ادب، فلسفہ، سائنس، تعلیم، سماجی موضوعات اور سیاسی امور کا مطالعہ کریں۔ جتنا مطالعہ کریں گے، اتنے ہی بہتر خیالات اور تجزیے آپ کی تحریر میں نظر آئیں گے۔
2۔ روزانہ لکھنے کی عادت ڈالیں
تحریر ایک مہارت ہے جو مشق کے ساتھ بہتر ہوتی ہے۔ ہر روز کم از کم 20 منٹ لکھنے کی کوشش کریں، چاہے وہ ایک چھوٹی روداد، خیال، یا کسی واقعے پر مختصر تبصرہ ہو۔
3۔ آن لائن پلیٹ فارمز کا استعمال کریں
آج کے دور میں بلاگز، سوشل میڈیا اور مختلف تحریری پلیٹ فارمز موجود ہیں جہاں آپ اپنی تحریر شائع کر سکتی ہیں۔ اس سے آپ کو قارئین تک پہنچنے میں مدد ملے گی اور آپ کی تحریری قابلیت نمایاں ہو سکے گی۔
4۔ فیڈبیک لینے سے نہ گھبرائیں
اپنی تحریر دوسروں کو دکھائیں اور ان سے رائے لیں۔ فیڈبیک آپ کی تحریر کو بہتر بناتا ہے اور آپ کی خامیوں کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
پاکستان میں کئی خواتین ایسی ہیں جنہوں نے تحریر اور میڈیا کے شعبے میں مضبوط قدم رکھا ہے اور صحافت میں حصہ ڈال کر معاشرتی موضوعات کو ایک نئی روشنی اور جہت فراہم کی ہے۔
کالم نگاری میں خواتین کی
نمائندگی کیوں ضروری ہے؟
1۔ معاشرتی توازن اور مساوات
جب مرد اور خواتین دونوں میڈیا اور تحریر میں متوازن نمائندگی کریں گے تو معاشرتی سوچ میں بھی توازن آئے گا۔ خواتین اپنے تجربات، خیالات اور مسائل کو بہترین انداز میں بیان کر سکتی ہیں۔
2۔ معاشرتی تبدیلی کے لیے طاقتور آواز
تحریر معاشرے کو بدلنے کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے۔ خواتین جب اپنے خیالات کو الفاظ کی صورت میں پیش کریں گی تو وہ معاشرتی تبدیلی کے لیے ایک بڑی قوت بن سکتی ہیں۔
3۔ تعلیم اور شعور میں اضافہ
خواتین کی تحریری شرکت سے نوجوان طالبات اور خواتین میں تعلیم، شعور اور آگاہی بڑھتی ہے۔ جب وہ اپنے خیالات کو بہترین انداز میں پیش کریں گی تو دیگر خواتین بھی اس سے متاثر ہوں گی اور خود تحریر کے ذریعے اپنی آواز بلند کریں گے۔
خواتین تحریر کے ذریعے وہ روشنی لا سکتی ہیں جو نہ صرف خاندان اور معاشرے کو بلند کر سکتی ہے بلکہ اپنے ملک پاکستان کو بھی ایک مثبت سمت دے سکتی ہیں۔ چاہے آپ طالبہ ہوں، ملازمہ ہوں، گھریلو خاتون ہوں یا پروفیشنل وومن، کالم نگاری آپ کے خیالات کو ایک طاقتور ذریعہ فراہم کرتی ہے۔
یقین رکھیں کہ آپ کے اندر بے شمار خیالات، مثالیں، مسائل اور حل موجود ہیں، ان سب کو قلم کے ذریعے پیش کرنا سیکھیں۔ ہر لفظ جو آپ لکھتے ہیں، وہ ایک تبدیلی کی شروعات ہے۔
یاد رکھیں کہ ہر بڑی تحریر کا آغاز محض ایک خیال سے ہوتا ہے، اور ہر سوچ ایک قلم کے ذریعے زندگی پاتی ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور اپنی تحریر، تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ bisaat.mag@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔
error: