Advertisement

مذاکرات کا فری لنچ

پاکستان آجکل عالمی منظر نامے پر نہایت اہم مقام پر ہے اور ایران ،امریکا مذاکرات میں پہلا نام پاکستان ہی کا آرہا ہے ، لیکن ایک اہم پہلو پر حکومت پاکستان اور مقتدرہ کو گہری نظر رکھنی ہوگی ، اور وہ یہ ہے کہ آنے والے دنوں کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اب دنیا بدل رہی ہے ،جنگ جاری رہے یا بند ہو جائے ، کوئی معاہدہ ہوجائے یا نہ ہو دنیا میں بڑی تبدیلیاں آئیں گی، نہ امریکا ویسا رہے گا جیسا ہے اور نہ عرب ممالک اس طرح کے تعلقات رکھیں گے جیسے ماضی میں تھے،سپر پاور واحد نہیں رہے گی، “تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِ ” کے مصداق دنیا میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ ایک مسلمان ملک، اسلام کے نام پر بننے والے ملک کے حکمرانوں کو تو معلوم ہونا چاہئیے کہ اللہ ایک کو دوسرے سے کیوں ہٹاتا رہتا ہے، اور کہیں ہم تو اس لپیٹ میں نہیں آرہے ؟
پاکستان ثالثی کرارہا ہے لیکن بدلتے حالات پر متعلقہ لوگوں کو نظر رکھنی ہوگی۔ ایک عرصے تک ناٹو کے ساتھ رہنے والا امریکا آج عرب اتحادیوں کو ناٹو سے بہتر قرار دے رہا ہے،اور عرب دنیا اسرائیل کی طرف دیکھ رہی ہے۔ یہ لڑائی محض ایران امریکا کی نہیں یہ وسائل کے حصول کی لڑائی ہے۔ اور ہر ریاست کواپنے عوام کے مستقبل کے لئیے وسائل کا اہتمام کرنا چاہئیے، تو ثالثی کے ساتھ مستقبل پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے،اگر پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ سپر پاور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لاسکتا ہے تو دونوں فریقوں سے بہت کچھ حاصل کرسکتا ہے۔ یہ ڈالر ،امداد، یا قرضوں کی کوئی قسم نہیں ہونی چاہئیے بلکہ مستقبل محفوظ بنانے والا کوئی کام کرنا، ہوگا۔ آئی ایم ایف سے جان چھڑانی ہوگی، پاکستان مذاکرات میں ایران پر سے وہ پابندیاں ختم کرانے کی کوشش کرے جن کی وجہ سے ایران گیس پائپ لائن پاکستان پہنچانے سے قاصر ہے، ایرانی پیٹرول کے باضابطہ حصول کی کوشش کی جائے،بلوچستان سے معدنیات کے نکالنے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرے،اگر ایران کو کوئی اعتراض ہیں تو وہ دور کییے جائیں۔ بلوچستان پاکستان کا اہم صوبہ ہے اور حکومت اور سیکیورٹی ادارے اس کی وجہ سے مستقل پریشان ہیں، اور بھارتی سازشیں بھی کسی سے چھپی ہوئی نہیں ، ان مذاکرات کے دوران بلوچستان کو محفوظ اور پرامن بنانے کا کوئی راستہ نکال لیں، یہ بھی بڑی کامیابی ہوگی۔الغرض جس طرح ایک انگریزی محاورہ ہے کہ “کوئی فری لنچ نہیں ہوتا ” تو بھائی یہ فری میں مذاکرات کی سہولت کاری اور ایک ایک ہفتہ اسلام آباد بند کرنا کس مقصد کے لئیے ہے، دنیا کا کون سا ملک اپنے دارالحکومت کو اس طرح بار بار بند کرتا ہے، پروازیں منسوخ کرتا ہے اور عوام پر پابندیاں لگاتا ہے؟ یعنی فری لنچ۔
اس جنگی صورتحال سے فائدہ اٹھاکر پہلے سے رکھے ہوئے پیٹرول پر اربوں روپئے اضافی کمانے کا کیا مقصد ہے۔ کیا جنگی صورتحال کو بھی قدرتی آفات کی طرح آمدنی بڑھانے کا ذریعہ بنالیا گیا ہے۔ یا اس آڑ میں مزید کچھ قرضے، کچھ رعایتیں اور بس ،پاکستانی ذمہ داران کو اب دوٹوک فیصلہ کرنا ہوگا قرضوں سے نجات کا، وسائل میں اضافے کا اور فیصلوں میں خود مختاری کا ، اگر اس موقع سے فائدہ اٹھاکر یہ سب یاان میں سے کچھ حاصل نہیں کیا تو واہ واہ کی قوالی اور فوٹو سیشنز سے ملک کو کوئی فائدہ ہوگا، یہ سنجیدہ اقدامات کا وقت ہے تصویریں کھنچوانے کا نہیں، امریکا کی سنجیدگی کا اندازہ کرنا ہے تو پاکستان مذاکرات کے دوسرے دور سے قبل ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کردے، پتا چل جائے گا کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے۔

error: