Advertisement

انفلوئنسرزکرکٹ لیگ جدہ میں ہونی چاہیے، ڈاکٹر سمیرہ عزیز کا مطالبہ

معروف سعودی خاتون کرکٹر اور میڈیا شخصیت ڈاکٹر سمیرہ عزیز نے انفلوئنسرزکرکٹ لیگ جدہ میں منعقد کرنے کی تجویز دے کر اسے ایک نیا عالمی رخ دینے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
یہ لیگ معروف سوشل میڈیا شخصیات ندیم مبارک نانی والا، سِڈ ریپر اور زرق نظیر کی جانب سے متعارف کروائی گئی ہے، جس میں یوٹیوبرز، ٹک ٹاکرز اور دیگر ڈیجیٹل انفلوئنسرز کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے گا۔ اس لیگ کا مقصد نہ صرف تفریح فراہم کرنا ہے بلکہ سوشل میڈیا کمیونٹی کے درمیان مثبت مقابلے اور ہم آہنگی کو فروغ دینا بھی ہے۔ ڈاکٹر سمیرہ عزیز، جو ’سمیرہ عزیز ایونٹس‘ کی مالکہ اور سعودی عرب کی نمایاں میڈیا شخصیت ہیں، نے اس موقع پر کہا کہ یہ لیگ صرف پاکستان تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اسے عالمی سطح پر لے جانا ضروری ہے۔
انہوں نے لیگ کے منتظم عمر رفیق کو جدہ آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں بھی کرکٹ کے فروغ کے لیے ایسے ایونٹس اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، خاص طور پر جب اس میں خواتین انفلوئنسرز کو بھی شامل کیا جائے۔ ڈاکٹر سمیرہ عزیز کرکٹ پر مبنی پہلی سعودی کتاب کی مصنفہ بھی ہیں، اور ان کی اپنی لڑکیوں کی کرکٹ ٹیم بھی ہے، جس میں وہ خود بطور کپتان کھیلتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ لیگ جدہ میں منعقد کی جاتی ہے تو یہ نہ صرف سعودی عرب میں کرکٹ کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ خواتین اور مرد دونوں کے لیے کھیل کے مواقع پیدا کرے گی، جو وژن 2030 کے اہداف سے بھی ہم آہنگ ہے۔
دوسری جانب لیگ کے منتظمین کے مطابق، ابتدائی مرحلے میں اس ٹورنامنٹ کو پاکستان کے مختلف شہروں لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔ بعد ازاں اسے بین الاقوامی سطح پر لے جانے کا ارادہ ہے، جس میں دبئی میں بھی میچز کرانے کی منصوبہ بندی شامل ہے، خصوصاً بھارت اور دیگر ممالک کے انفلوئنسرز کے ساتھ ممکنہ کولیبریشن کے تحت میچز کرانے کی منصوبہ بندی شامل ہے۔
لیگ میں ابتدائی طور پر پانچ سے چھ ٹیمیں شامل ہوں گی، جن میں سوشل میڈیا کے معروف ناموں کے علاوہ رجب بٹ ، ذوالقرنین حیدر اور زمزم برادرز جیسے انفلوئنسرز کی شرکت بھی متوقع ہے۔ منتظمین کے مطابق، ٹیموں کی تعداد مستقبل میں بڑھا کر دس تک بھی کی جا سکتی ہے، جبکہ کھلاڑیوں کے انتخاب کے لیے باقاعدہ ٹرائلز کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔ لیگ کی خاص بات یہ ہے کہ کھلاڑیوں کے انتخاب کے لیے باقاعدہ ٹرائلز کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔ لیگ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں صرف انفلوئنسرز حصہ لیں گے، جبکہ پیشہ ور کرکٹرز بطور مہمان شریک ہوں گے۔ اس ایونٹ کو مکمل پروفیشنل انداز میں منعقد کرنے کے لیے امپائرز اور دیگر آفیشلز بھی مقرر کیے جائیں گے۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ لیگ محض مالی فائدے نہیں بلکہ شوق و تفریح کے تحت شروع کی جا رہی ہے۔ اسی لیے شائقین کے لیے اسٹیڈیم میں داخلہ مفت ہوگا، جبکہ انہیں آئی فونز، نقد انعامات اور دیگر تحائف بھی دیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ میچز کی لائیو اسٹریمنگ بھی کی جائے گی۔ لیگ کے بانی ندیم مبارک نانی والا کے مطابق، سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی رقابتوں اور تنازعات کو مثبت سرگرمی میں بدلنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس لیگ کے ذریعے مختلف انفلوئنسرز کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر ایک صحت مند ماحول فراہم کیا جائے گا۔ یہ لیگ نہ صرف تفریح فراہم کرے گی بلکہ نوجوانوں میں کرکٹ کے شوق کو بھی فروغ دے گی۔ اسپانسرز کی جانب سے بھی اس ایونٹ کو بڑے پیمانے پر سپورٹ حاصل ہے، جس سے اس کے کامیاب ہونے کے امکانات مزید بڑھ گئے ہیں۔
ڈاکٹر سمیرہ عزیز کی جانب سے جدہ میں اس لیگ کے انعقاد کی تجویز نے اس منصوبے کو ایک نئی سمت دے دی ہے، اور اگر یہ تجویز عملی شکل اختیار کرتی ہے تو انفلوئنسر کرکٹ لیگ ایک علاقائی نہیں بلکہ عالمی سطح کا نمایاں ایونٹ بن سکتی ہے۔

error: