جماعت اسلامی کراچی کے تحت گلبرگ ٹاؤن میں پاکستان کے پہلے ’تعلیم کارڈ‘ کے اجرا کی پروقار تقریب گلبرگ جمخانہ بلاک 10 فیڈرل بی ایریا میں منعقد ہوئی، جس کے مہمانِ خصوصی امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے گلبرگ ٹاؤن کی منتخب بلدیاتی قیادت کو اس تاریخی اقدام پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب حکومت ہر ہفتے عوام پر ’پٹرول بم‘ گرا رہی ہے، گلبرگ ٹاؤن نے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر ہزاروں طلبہ کو کورس اور تعلیمی اشیاء کی خریداری کے لیے وظائف جاری کرکے عوام دوستی کی مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی کے منتخب باقی 8 ٹاؤنز میں بھی ان شاء اللہ جلد’تعلیم کارڈ‘ جاری کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ گلبرگ ٹاؤن میں ہزاروں طلبہ میں 10 ہزار روپے مالیت کے تعلیم کارڈ تقسیم کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے طلبہ منتخب دکانوں سے کورس بکس، یونیفارم، جوتے، اسٹیشنری اور دیگر تعلیمی ضروریات خرید سکیں گے۔
چیئرمین گلبرگ ٹاؤن نصرت اللہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی اداروں کی بنیادی ذمہ داری میونسپل سروسز کی فراہمی ہے، تاہم جماعت اسلامی عوامی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے اختیارات سے بڑھ کر خدمات انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال تعلیم کارڈز کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
نصرت اللہ نے بتایا کہ اب تک گلبرگ ٹاؤن میں 8 سرکاری اسکولوں کی عمارتیں بحال کی جا چکی ہیں جبکہ 4 سرکاری اسکولوں کو ماڈل گورنمنٹ اسکول کا درجہ دیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں تعلیم اور صحت کی سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ان دونوں بنیادی شعبوں کو تجارت بنا دیا گیا ہے۔
تقریب میں اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین، فیڈرل بی ایریا ٹریڈ اینڈ انڈسٹری اور پاکستان انٹرنیشنل بزنس فورم کے نمائندوں سمیت اساتذہ، ڈاکٹروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
منتظمین کے مطابق ’تعلیم کارڈ‘ کا پورا پروگرام مکمل طور پر کیش لیس اور پیپر لیس ہے جبکہ تمام ٹرانزیکشنز موبائل ایپ کے ذریعے محفوظ اور مانیٹر کی جا رہی ہیں، جس سے شفافیت اور سہولت کو یقینی بنایا گیا ہے۔
گلبرگ ٹاؤن میں پاکستان کا پہلا ’تعلیم کارڈ‘ جاری















