Advertisement

بچوں کے ادب میں مصنوعی ذہانت کا استعمال

شعبہ ادب اطفال دائرہ علم وادب پاکستان اور رفاہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیا سائنسز کے اشتراک سے’’بچوں کے ادب میں مصنوعی ذہانت کا استعمال‘‘ کے موضوع پر ایک سیمینار کا انعقادکیا گیا۔ اس سیمینار کا مقصد بچوں کے ادب پر مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے اثرات کا جائزہ لینا اور طلبہ میں ادبی دنیا میں جدید ٹیکنالوجی سے وابستہ مواقع اور چیلنجز کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا تھا۔
تمام معزز مہمانوں کی آمد پر ٹیم کے اراکین کی جانب سے پرتپاک استقبال کیا۔ سیمینار کا باقاعدہ آغاز جمال ناصر کی تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا۔ تلاوت کے بعد تقریب کی نظامت ایشا رحمان نے انجام دی، جنھوں نے مہمانوں، اساتذہ اور شرکا کو خوش آمدید کہا۔ سیمینار کے موضوع کے تعارف میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ بچوں کے ادب میں تخلیقی صلاحیتوں اور اخلاقی اقدار کے ساتھ تکنیکی ترقی میں توازن قائم رکھنا کس قدر اہم ہے۔
شعبہ ادب اطفال دائرہ علم وادب پاکستان کے صدر اعظم طارق کوہستانی نے نوجوان ذہنوں کی تشکیل میں ادب کی اہمیت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر مصنوعی ذہانت کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ تخلیقی صلاحیتوں اور تعلیم کے لیے ایک معاون ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔اسی طرح اُنھوں نے سوال اُٹھایا کہ اے آئی سے لکھی گئی تحریرکو کوئی قلمکار اپنی تحریر کہہ سکتا ہے؟
ان کے بعد دائرہ علم وادب پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر نے بچوں کی اخلاقی اور فکری نشوونما میں ادب کے کردار پر تفصیلی اور گفتگو کی۔ اُنھوں نے بتایا کہ AI سے تیار کردہ مواد تیزی سے عام ہوتا جا رہا ہے، لیکن ادبی تخلیقات میں انسانی جذبات، تخیل اور اصل پن کو برقرار رکھنا بے حد ضروری ہے اور ہر نئی ٹیکنالوجی سے بھاگنے کے بجائے اسے خوش آمدید کہنا چاہیے۔
رفاہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیا سائنسز کے سربراہ ڈاکٹر ریاض عادل نے مصنوعی ذہانت کے تکنیکی اور ادبی پہلوؤں پر گفتگو کی۔ اُنھوں نے وضاحت کی کہ ٹیکنالوجی نے کہانی نویسی، تعلیمی مواد کی تیاری اور بچوں کے لیے سیکھنے کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اے آئی آپ کی کہانی تو لکھ دے گا، لیکن اس کہانی میں احساس ڈالنا ایک جیتے جاگتے انسان کا کام ہے، جس کے سینے میں دل دھڑکتا ہو، روبوٹک تحریر جذبات کو تحریر میں نہیں سمو سکتی۔
رفاہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیا سائنسز کے اُستاد اور سابق ٹی وی پروڈیوسر اظہر نیاز نے جدید تعلیم میں میڈیا اور براڈکاسٹنگ کے کردار پر روشنی ڈالی۔ اُنھوں نے طلبہ کو ترغیب دی کہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور اخلاقی اقدار کو برقرار رکھتے ہوئے ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال کریں۔ اُنھوں نے طلبہ سے اصرار کیا کہ وہ اپنی زندگی میں کوئی کتاب ضرور لکھیں۔
سیمینار میں امریکا سے ڈاکٹر اسماعیل صدیقی کا ویڈیو لیکچر بھی شامل تھا۔ اگرچہ وہ ذاتی طور پر سیمینار میں شرکت نہیں کر سکے، تاہم اُنھوں نے حاضرین کے لیے خصوصی پیغام ریکارڈ کیا جس میں اُنھوں نے جدید بچوں کے ادب میں مصنوعی ذہانت اور سائنس فکشن کے اثرات پر گفتگو کی۔ ان کے پیغام کو شرکا نے بے حد سراہا۔
آخری خطاب مسٹر احمد حاطب صدیقی نے کیا، جن کے دلچسپ انداز نے حاضرین کی بھرپور توجہ حاصل کی۔ اُنھوں نے نہایت خوبصورتی سے بچوں کے ادب میں سادگی، تخیل اور اخلاقی اسباق کی اہمیت کو بیان کیا۔
پورے سیمینار کے دوران شرکا نہایت توجہ اور دلچسپی کے ساتھ شریک رہے۔
مجموعی طور پر سیمینار نہایت کامیابی اور مثبت انداز میں اختتام پذیر ہوا۔ یہ تقریب تمام شرکا کے لیے معلوماتی، حوصلہ افزا اور فکری طور پر نہایت مفید ثابت ہوئی۔ اس نے طلبہ کو ادب میں مصنوعی ذہانت کے کردار کے بارے میں گہری آگاہی فراہم کی، ساتھ ہی بچوں کی کہانی نویسی میں انسانی تخلیقی صلاحیتوں اور جذباتی وابستگی کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
سیمینار کے اختتام پر تمام معزز مہمانوں، اساتذہ، طلبہ اور منتظمین کا کامیاب تقریب کے انعقاد میں تعاون اور خدمات پر شکریہ ادا کیا گیا۔

error: