Advertisement

نابغہ روزگار: ادریس بختیار

ادریس بختیار سے ہماری پہلی ملاقات مارچ 1972ء میں جامعہ کراچی میں ہوئی تھی۔اس وقت وہ نیوز ایجنسی پی پی آئی میں تھے اور اسی ایجنسی کے اپنے ساتھی افضال محسن سے ملاقات کے لئے آئے تھے۔ان کے ہمراہ اسی ادارے کے فوٹوگرافر انیس ہمدانی تھے۔افضال محسن سے ہماری پرانی یاد اللہ تھی، ہمارے ساتھ اس وقت احمدسعید قریشی بھی تھے جوایک دوسرے روزنامہ میں کام کررہے تھے۔ادریس نے بتایاکہ وہ حزبِ اختلاف کی ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں شرکت کرکے آرہے تھے۔اس وقت ملک میں مارشل لالگا ہواتھا۔ملک کو تقسیم ہوئے تقریباًتین ماہ ہوئے تھے۔محلّاتی سازشوں کے نتیجہ میں سول مارشل لانافذتھااور دنیا کے واحد سول مارشل لا کا دوردورہ تھا۔ایک ہزار تین سو سے زائد سرکاری ملازمین کومارشل لاکے ایک حکم کے ذریعے ملازمت سے سبکدوش کردیا گیا تھا۔ان ملازمین کو دادوفریاد کی اجازت نہ تھی۔بس وہی قانون تھا’’حکمِ حاکم مرگِ مفاجات‘‘۔اس وقت کوئی باضابطہ حزبِ اختلاف قائم نہیں ہوئی تھی۔UDFبھی کچھ عرصے بعد بنی تھی۔ بہرحال، اس منتشر حزبِ اختلاف نے اس عجیب و غریب اعلامیہ کے خلاف ایک مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد کیا۔سبکدوش ہونے والوں کے لیے دادرسی کے سارے دروازے بند تھے،وہی جو فیض کہہ گئے ہیں۔
؎ نہ مدّعی نہ شہادت قصّہ پاک ہوا
یہ خونِ خاک نشیناں تھا رزقِ خاک ہوا
ایسے عالم میں حزبِ اختلاف اور کیا کر سکتی تھی۔خیر ادریس وہاں سے آتے ہی افضال محسن سے پوچھ بیٹھے:’’یہ پروفیسر غفور کون شخص ہے، بڑا ظالم نکلے گا‘‘۔اس وقت تک غفور صاحب بالکل معروف نہ تھے،صرف اس طور پر پہچانے جاتے تھے کہ جماعت اسلامی کے شہر سے دو کامیاب امیدواروں میں ایک ہیں۔اس دور کے بڑے بڑے جغادریوں مثلاً (ر)جسٹس لاری، کموڈور خالد جمیل، محمودالحق عثمانی وغیرہ کو شکست دے کر منتخب ہوئے تھے۔یہ کامیابی اس علاقے میں جماعت کے فلاحی کاموں کا نتیجہ قرار پائی تھی۔غفور صاحب جماعت کی چار ممبران کی پارلیمانی کمیٹی کے لیڈر نامزد کئیے گئے تھے، ان کے مقابلے میں محموداعظم فاروقی صاحب زیادہ جانے جاتے تھے اس لئے کہ وہ حزبِ اختلاف کے پلیٹ فارم سے مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے، اسمبلی میں ان کی کارکردگی بھی مقبولیت کا سبب بنی۔ادریس بختیار مسلسل غفور صاحب کی تعریف میں رطب اللسان تھے،ہم سب دم بخود تھے کہ ایسی کیا بات ہوئی کہ اتنا سینئر صحافی بھی حیران ہے۔ انھوں نے تفصیل بتائی کہ پریس کانفرنس تو حزبِ اختلاف کی تھی لیکن باقی لیڈرتو ایک دو جملے کہہ کر خاموش ہوگئے اور پوری کانفرنس اور اس کے بعد سوال وجواب کا سامنا غفور صاحب نے کیا۔اس کانفرنس میں ہر طبقہ فکرکے صحافی تھے۔سب نے اپنی نظریاتی وابستگی کے اعتبار سے بڑے تیکھے سوالات کئے لیکن اس مرد میدان نے ایسے مدلل جواب دیے کہ سب کے چھکے چھوٹ گئے ۔ پوچھا گیا کہ ایسی کیا بات ہوئی۔انھوں نے صرف ایک مثال دینے پر اکتفا کیا۔وہ کچھ اس طرح تھی:
ایک صحافی نے سوال کیا کہ ان کی جماعت نے اپنے منشور میں نظریاتی تطہیرکی بات کی تھی تو اب جو برسرِاقتدار پارٹی نے ایسا کیا تو انھیں اعتراض کیوں ہے۔جواب میں انھوں نے تسلیم کیا کہ ان کی جماعت کے منشور میں ایسا تھالیکن ساتھ ہی کہا کہ ان کی جماعت نے یہ نہیں لکھا تھا وہ مارشل لا کے تحت کسی صفائی کا موقع دیے بغیر نکال باہر کریں گے۔اپنی جماعت کا منشور بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہامنشور میں وضاحت کردی گئی تھی کہ ایسے لوگوں پر فردِ جرم عائد کی جائے گی،صفائی کا موقع دیا جائے گااور اگر عدالت نے اس کا مرتکب پایا تو پھر کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انھوں نے کہا کہ اس طرح کے بے شمار سوالات پوچھے گئے اور انھوں نے ہر ایک کا جواب اتنے اطمینان سے دیا کہ سب کے چودہ طبق روشن ہوگئے۔
یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ ان کی مردم شناسی کس قدربروقت تھی اور ایک ملاقات سے انہوں نے غفورصاحب کی صلاحیتوں کو بھانپ لیا۔پروفیسر غفور نے آئندہ کی سیاست میں کتنے کار ہائے نمایاں انجام دیے۔
ان کے انتقال سے کچھ عرصہ قبل ان سے ذکر کیا توانہوں نے کہاکہ انہیں یادنہیں،لیکن میں پہلی ملاقات کیسے بھول سکتا تھا۔
فوٹوگرافرانیس ہمدانی سابق امیرجماعت سید منورحسن کی بڑی اچھی نقل اتارتے تھے ۔منور حسن صاحب نے 1970کی انتخابی مہم کے دوران بہت سے نعرے ایجادکیے تھے۔انیس ان کی بڑی اعلیٰ نقل کرتے تھے۔اس وقت انہوں نے وہ دہرائی۔اس دورمیں انیس ایک آزاد منش اور کسی حدتک ترقی پسندی کی طرف مائل تھے،لیکن 2020 میں پریس کلب کی مسجد میں اذان دیتے ہوئے دیکھا تو بہت خوشی ہوئی۔ہمارے یاددلانے پراس نے بتایاکہ جماعت کے دفترمیں ایک مرتبہ جاناہواتومنور صاحب نے اسے دیکھ کر بلایااور اس سے اپنی نقل کرنے کوکہا،اپنی نقل کرتے ہوئے دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ہم نے کہاشکرکروکہ تم جماعت کے عہدیدارکی نقل ان کی فرمائش پر کی،کسی دوسرے لیڈر کی نقل کرتے تو وہ دوسری دنیا پہنچادیتے۔افسوسناک بات یہ ہے کہ چندسال قبل وہ بھی دنیا چھوڑگیا۔ کل من علیھا فان۔
یہ ذکر کیا جاچکا ہے کہ جب ان سے ملاقات ہوئی تو جیالوں کی حکومت کا آغاز تھا ،یہ ابتدا بھی عجیب تھی۔ملک میں تین سال سے مارشل لا نافذتھا،اس کے بعد میاں محمود علی قصوری صاحب نے جو اس وقت وزیرِ قانون تھے ایک عبوری آئین ترتیب دیا جو صدارتی اور پارلیمانی نظام دونوں کاملغوبہ تھا۔بعد کے تقریباًسوا سال بعد ملک کو ایک مستقل آئین نصیب ہوا جو 1973ء کا آئین کہلاتا ہے۔اسی سول مارشل لا کے دور میں جیالے حاکم الطاف گوہر پربہت مہربان ہوئے اور ان کی گرفتاری رہائی پھر گرفتاری اور مقدمے کے سوال و جواب سب اخبار کی زینت بنتارہا۔اس کی ساری تفصیل ادریس بختیار کی ایجنسی کے ذریعے دیگر اخبارات تک پہنچتی رہی۔وہ انگریزی میں ایم اے کرکے حیدرآباد سے آئے تھے اور شاید شارٹ ہینڈ سے بھی واقف تھے جس کی بنا پر ان کے لیے تفصیلی رپورٹنگ آسان ثابت ہوئی۔اس کارکردگی کی بنیاد پر وہ الطاف گوہر کے پسندیدہ احباب میں شامل کرلیے گئے۔آصف زرداری کی طرح الطاف گوہر صاحب کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ اپنے برے وقت کے ساتھیوں کو یاد رکھتے تھے۔ سابق مدیر روزمانہ جسارت اور ہفت روزہ تکبیر محمد صلاح الدین نے اپنی کتاب ’بنیادی حقوق‘میں اعتراف کیا ہے کہ ان کی گرفتاری کے دوران گوہر صاحب نے ان کا بہت خیال رکھا۔لیکن ہمارے ادریس صاحب ان کی عنایتوں سے دور رہے۔
جیالے وزیراعظم کا مزاج بھی عجیب تھا ،اپنے مخالفین کو ماتحت بناکر تسکین حاصل کرتے،الطاف گوہر صاحب کاان سے بھی مک مکا ہوگیا اور انھیں بہت سے کام ملے ، سب سے بڑا ٹھیکہ پکی پکائی روٹی کا تھا لیکن ادریس بختیار کے حصّہ میں کچھ نہ آیا،وہ خود بھی اس کے طلب گار نہ تھے۔
ادریس بختیار کی صحافتی زندگی کا آغاز1962میں انڈس ٹائمز حیدرآباد سے بحیثیت پروف ریڈر ہوا۔اس کے بعد پی پی آئی میں سب ایڈیٹر اور رپورٹر کی حیثیت سے وابستہ رہے۔پھر جدّہ روانہ ہوئے سعودی عرب کے پہلے انگریزی اخبار ’عرب نیوز‘ نکالنے والوں میں تھے۔ اس منصوبے میں ان کے ساتھ روح الامین، خواجہ امیر اور بعد میں نایاب حسین شامل تھے۔اول الذکر روح الامین ان کے ساتھ پی پی آئی میں بھی رہ چکے تھے۔کلکتہ کے اخبار ٹیلیگراف کے نمائندہ پاکستان رہے۔وائس آف امریکہ کے لیے بھی کام کیا۔
جیالوں کے دور میں روزنامہ جسارت پر مستقل پابندی لگی پھر حکومت ختم ہونے کے بعد ہی اس کا اجرا ہوا۔اس مرتبہ ادریس بختیار اس کے ہمرکاب تھے۔پھر ڈھائی برس بعد ’اسٹار‘ میں شمولیت اختیار کی ۔کہانی یہاں پر ختم نہیں ہوئی ،جلد ہی ڈان گروپ کے ہفت روزہ ’ہیرالڈ‘ کی جانب کوچ کیا۔وہاں ایسوسی ایٹ ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کیا۔ آخر تک جیو ٹی وی کی ایڈیٹوریل کمیٹی کے سینسر بورڈ کے سربراہ رہے اور ساتھ ہی جنگ اخبار میں کالم نگاری کا شغف اپنایا گویا
ع چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری
وہ چند سال معروف وکیل خالداسحاق کی ذاتی لائبریری کے نگراں بھی رہے اوراپنے ذوقَِ مطالعہ کواس جگہ پرپوری طرح پروان چڑھایا۔
یہ لائبریری شہر کی چند بڑے اداروں میں تھی۔جس ذاتی لائبریری کے لیے لائبریرین کا عہدہ ضروری ہو اس کی ضخامت کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔پریس کلب میں دوران گفتگو کسی نے بھی کسی کتاب کا حوالہ دیا تو نوٹ کیا گیا کہ وہ اس کا مطالعہ کرچکے ہیں۔زیادہ تر اردو ناول ، سوانح عمری اورکلاسیک ناول کو حوالہ دیا جاتا۔انگریزی ادب پر تو پہلے ہی قدرت تھی۔ایم اے انگریزی میں کیا تھا۔
یہ بیان کرنا توبھول ہی گیاکہ تقریباً بیس سال بی بی سی کے نمائندہ پاکستان کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
اس دوران کئی ایوارڈ ملے،بدقسمتی سے سب کی معلومات میسر نہیں ہے بہر حال جو ہے اس کے مطابق 1992ء میں APNSایوارڈ ملا ۔ 2012میں ’’آگہی ایوارڈ ملا Reporting Corruptionپر۔ انھیں صدارتی ایوارڈ بھی ملا ،
ان کی صحافتی سفر پر نظر ڈالی جائے تو وہ شعر یاد آجاتا ہے ؎ رو میں ہے رخشِ عمر دیکھیے کہاں تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
آخری بات جو کرنا چاہتا ہوں وہ ان کی غلطی تسلیم کرنے کی خوبی ہے ۔کچھ عرصہ قبل جنگ اخبار میں ان کا کالم شائع ہوا جس میں بیان کیا گیا تھا کہ یحییٰ ٰ خان کا انتقال بھٹو دور میں ہوا اور اس وقت کی حکومت میں اس کی پورے اعزاز سے تدفین کی۔ یہ بات درست نہیں تھی۔کالم پڑھ کر میں نے انتظار کیا کہ صحافیوں کے جاگنے کا وقت ہوجائے۔جاگنے سے مراد صرف صبح کی بیداری ہے کوئی اور مطلب نہ نکالا جائے۔ خیرمیں نے انھیں بتایا کہ یحییٰٰ خان کا انتقال اگست1980 میں ہواتھا۔اس کی تدفین پورے شان و شوکت سے نام نہاد مردِ مومن مردِ حق نے کرائی تھی۔انھیں حوالے دیے کہ Googleپر دیکھ سکتے ہیں،اس کے علاوہ عقیل عبّاس جعفری کی پاکستان کرونیکل میں بھی اس کی نشاندہی کی گئی ہے۔یہ بھی کہا کہ خود دیکھ لیں۔انھوں نے اسے بالکل نظرانداز کرتے ہوئے کہا کہ تم نے دیکھ کر ہی فون کیا ہے۔مزید کہا کہ آئندہ کالم میں تصیح کردی جائے گی۔ہم نے کہا اس کہ ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ نفس مضمون پر کوئی فرق نہیں پڑرہا ہے۔ ان کا ٹکا سا جواب تھا کہ غلطی کی ہے تو اسے تسلیم کرنا ضروری ہے ۔بعد کے کالم میں یہ اصلاح کردی گئی۔پھر جب ملاقات ہوئی تو کئی لوگوں کی موجودگی میں راقم کاشکریہ بھی ادا کیا۔ ہمارے خیال میں یہ ان کی اعلیٰ ظرفی تھی کہ غلطی تسلیم کی اور پھر تصیح بھی کی اور اس ناچیز کو جو علم و فضل میں ان کے آگے کوئی حیثیت نہیں رکھتا ،اس کا شکریہ بھی ادا کیا۔ ہم لوگ اپنے اطراف میں ایسے بے شمار لوگوں سے واقف ہیں جو اپنی ذات کے نشہ میں گم ہیں اور غلطی تسلیم کرنا کسرِ شان سمجھتے ہیں ،دنیا جہاں کے شواہد بھی پیش کردیے جائیں تو بھی اس کی توفیق نہیں ہوتی۔اسی طرح بار بار غلطی دہراتے ہیں۔
بد قسمتی سے صحافیوں میں یہ صفت بہت کم ہوتی ہے۔ہم تو اپنے دوستوں میں نکتہ چیں کے طور پر بدنام ہوچکے تھے،لہٰذا ہمارا فرض بن گیا تھا اس طرف توجّہ مبذول کراتے رہنا۔ انھوں نے صرف اتنا کہا کہ کاہلی کی بناپر یہ غلطی ہوگئی۔ اگلے کالم میں پھر تصیح کی گئی لیکن اس مرتبہ غلطی کی نشاندہی کرنے والے کا نام یعنی اس خاکسار کا نام بھی تحریر کیا۔یہ ان کی اعلیٰ ظرفی کا ایک اور مظاہرہ تھا۔ ہم نے پوچھا کہ پچھلی مرتبہ تم نے تو نام نہیں دیا تھا،اس مرتبہ کیا ضرورت پیش آئی۔ان کا جواب تھا کہ اس وقت کئی دوستوں نے توجّہ دلائی تھی لیکن اس مرتبہ یہ بات صرف تم نے نوٹ کی۔
ایک مرتبہ خاکسار نے راشد عزیز کے ساتھ پریس کلب واپسی کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ بھی راشدعزیز کے گھر کے پاس رہتے ہیں ۔انہیں بھی ساتھ لے لینا۔راستے میں پاکستان کے پہلے (قادیانی)وزیرخارجہ سر ظفراللہ خان کا زکرآیاکہ اس نے قائداعظم کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی۔ادریس بختیارنے کہا سنی تو ہے لیکن کوئی مستند بات یا کوئی حوالہ نہیں مل رہا،پھرہماری طرف اشارہ کرکے کہا یہ محمود بیٹھے ہیں،ان سے کہونگاکہ تحقیق کرکے اس دور کے کسی اہم آدمی کی تحریر کا حوالہ تلاش کریں۔اتفاق کی بات بت جلد یہ مل گیااورہم نے اسے اورکتاب کاحوالہ اسکین (Scan)کرکے ای میل کرکے بھجوادیا۔چند منٹ میںان کاشکریہ کا جواب آگیا۔
ان کی زندگی کا ایک انتہائی اہم پہلوسگریٹ نوشی تھا۔بارہا اس کی بناء پر صحت میں خرابی پیش آئی لیکن وہ اس سے بازنہ آئے۔ایسانہ تھا کہ وہ
اس کی خرابیوں سے آگاہ نہ تھے۔ لیکن وہ جو غالب کہہ گئے ہیں
؎ جانتاہوں ثوابِ طاعت وزہد پرطبیعت ادھرنہیں آتی
اکثر اس سے باز رہنے کا مشورہ دینے والے سے الجھ جاتے کہ اب زیادہ نصیحت مت کرو،اس ضد اورہٹ دھرمی کا نتیجہ بہت المناک نکلا۔
رمضان کامہینہ تھا،19مئی ،2019کی شام تھی ۔پریس کلب میں افطارپارٹی تھی۔ افطارکے بعد ان کی طبیعت خراب ہوئی،بھاگم بھاگ ہسپتال لے جایاگیا لیکن آخر وہی ہوا
ع دیکھااس بیماریٔ دل نے آخر کام تمام کیا۔
یہ بیماری دل بے حساب تمباکونوشی کانتیجہ تھی۔ہم اس وقت قطرمیں اپنے بیٹے کے ساتھ تھے۔اچانک پیغامات ملنے لگے کہ ادریس بختیار پر براوقت آگیا۔چندمنٹ بعد آخری پیغام آیاکہ وہ جاچکے ہیں۔بس اتنی سی کہانی تھی۔۔۔۔۔۔حق مغفرت کرے عجب آزاد مردتھا۔
ادریس بختیار تمام صحافی حلقوں میں مقبول تھے،نظریاتی مخالفوں سے بھی محبت اور احترام سے ملتے تھے۔ کسی سے ان کی شکایت نہیں سنی۔ سب سے ہنس کے ملتے تھے، خوش مزاجی اور بزلہ سنجی ان کا ایک وصف تھا لیکن اس میں کسی کہ تضہیک سے دوررہتے تھے۔
اپنی خدمات کے بارے میں سب کا دعویٰ بلند بانگ ہوتا ہے۔ حفیظ جالندھری کا کہنا ہے
؎ تشکیل و تکمیلِ فن میں حفیظ کا جو حصّہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔ نصف صدی کا قصّہ ہے دوچاربرس بات نہیں
ادریس بختیار کی صحافتی زندگی کی تفصیل جان کر پتہ چلا کہ ان کی صحافتی زندگی نصف صدی سے دوچار برس زیادہ ہے۔گویا
ع عمر گزری ہے اسی دشت کی سیّاہی میں
لیکن انھوں نے اس کا دعویٰ نہیں کیا ہمیشہ عاجزی اور انکسار اختیار کیا ۔ حفیظ صاحب ہی کا ایک شعر اور ہے
؎ حفیظ اہلِ زبان کب مانتے تھے بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں
ادریس بختیار کی خدمات کوئی مانے یا نہ مانے میں مانتا ہوں اور مقامِ شکر ہے کہ حکومت پاکستان نے بھی مان لیا۔
سب کچھ یادداشت کی بنیاد پر لکھا ہے کوئی غلطی ہو تو پیشگی معذرت۔

error: