Advertisement

تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہتے

گرمیوں کی ابتدائی رُت میں ایک سہانا سا احساس چھپا ہوتا ہے خاص طور پر ڈھلتی دوپہر کے سکون میں۔۔۔۔۔۔
اس پہر کو قیمتی بنایا ماہنامہ بساط کی مدیرہ محترمہ راشدہ انجم نے ۔فکر و شعور کی گہرائی رکھنے والی معروف اسکالرز اور لکھاریوں کی ایک بزم سجا کر۔۔۔۔۔
بعنوان: عالمی حالات اور خواتین کی ذمہ داریاں۔۔۔۔
ون ڈش میٹ اپ۔۔۔اور اتنا سنجیدہ موضوع۔۔۔لیکن شعور اور درد دل رکھنے والوں کے لیے دنیا کے حالات سے غفلت برتنا ممکن نہیں۔
سب سے اہم اشو ایران امریکہ کشیدگی۔پاکستان کی ثالثی کی کامیاب کوشش اور اس کے نتیجے میں غزہ میں ظلم و ستم کا عالمی منظرنامے پر پیچھے چلے جانا۔
روس چین ترکی کا کردار اور عالمی افق پر بھارت کی بدلتی حیثیت۔۔۔
اس سارے تناظر میں پاکستان میں بدامنی۔افغانستان سے کشیدگی اور بلوچستان کی صورتحال۔۔۔۔
میٹ اپ میں خیرالنساء بلوچ، ڈاکٹر مہناز قمر، عروبہ عدنان، حور خان، رومیصاءعبدالمہیمن، عروج سعد ، ڈاکٹر عظمی علی اختر اور شگفتہ ضیاء نے خصوصی طور پر شرکت کی۔شریک نہ ہو سکنے والی ساتھیوں کی بہت کمی محسوس ہوئی۔
شرکاء کی خوش نصیبی کہ معروف محققہ اور مصنفہ ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر بھی رونق افروز تھیں جنہوں نے تمام اشوز پر سیر حاصل گفتگو کی اور ایک بے تکلف ماحول میں اپنی عالمانہ رائے سے مستفیض کیا۔
طے ہوا کہ آج کے نازک اور تیزی سے بدلتے حالات میں عالمی اور ملکی حالات سے باخبر رہنا ہر فرد کے لئیے ضروری ہے۔اس کے بغیر ہم کوئی مثبت رول ادا نہیں کر سکتے۔
فرقہ واریت اور دیگر تعصبات کو ختم کرنے کی جدوجہد آج کا اولین فرض ہے۔خواتین اپنی بہترین صلاحیتوں سے اس میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
ہمیں ہر صورت میں اسرائیل کے مقابلے میں ایران کی حمایت اور پشت پناہی کرنا ہوگی۔
غزہ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا جاسکتا۔بیت المقدس کی بازیابی اور فلسطین کی ازادی مسلم امہ کی پہلی ترجیح ہے ۔
اس فورم میں شریک خواتین اپنے قلم سے اس جہاد میں شامل رہیں گی۔
پاکستان کو جنگی محاذ اور بین الاقوامی سطح پر اللہ تعالی نے جو کامیابی دلوائی ہے وہ امید کا چراغ ہے جسے ہمیں روشن رکھنا ہے۔
اس میٹ اپ کا خاص پہلو یہ تھا کہ نگار سجاد ظیر صاحبہ نے اپنی نئی کتاب ’مزاحمت‘ سے متعارف کروایا اور ساتھیوں کو تحفتاً نوازا۔یہ یحییٰ السنوار کی مایہ ناز تاریخی کتاب ’الشوک والقرنفل‘ کا بہترین ترجمہ ہے۔
ڈاکٹر عظمی علی اختر نے بھی اپنی کتاب ’میرا یقین‘ سے روشناس کروایا اور ساتھیوں کو تحفتا پیش کی ۔
سانحہ اے پی ایس پر یہ ایک بے نظیر اور منفرد کاوش ہے۔
دلچسپ اور پر مغز گفتگو کے دوران بہترین ڈشز پر مبنی عصرانے اور راشدہ انجم اور مریم اعجاز کی میزبانی کا بھرپور لطف اٹھا کر یہ یادگار محفل اختتام پذیر ہوئی۔

error: