Advertisement

فلاحی مملکت:انسان کی ضرورت

انسان مجموعی لحاظ سے جھگڑالو نہیں ہے بلکہ امن پسند واقع ہوا ہے۔انتشار پھیلانے والے اور تخریبی سرگرمیوں میں ملوث افراد کم ہوتے ہیں،لیکن اکثریت پر غالب آ جاتے ہیں۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ لالچی ہونے کے باوجود، منظم ہوتے ہیں۔ یہ دولت اور اختیارات سمیٹنے کے لیے،آپس میں اتحاد اور اتفاق قائم رکھتے ہیں۔اس غلط کام کے کی تکمیل کے لیے اپنا قائد اور اصول رکھتے ہیں ،جس کی سختی کے ساتھ پابندی کرتے ہیں۔ انتشار پھیلانے کے لیے وہ تمام ذرائع اورہتھیار حاصل کرتے ہیں۔جن کی بدولت یہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے قانون کچھ سقم ہیں ،کچھ چور دروازے ہیں جو ان بُرے لوگوں کو تحفظ ملتا ہے اور عوام کسی کی مدد کرنے،گواہی دینے سے گھبراتی ہے۔ان کے خوف دہشت گردی کی وجہ سے عوام لٹتی اور قتل ہوتی ہے۔ان کی دہشت سے عوام سرکاری اہل کاروں کو شکایت بھی نہیں کرتی۔جس طرح یہ لوگ بُرائی کے لیے منظم جارحیت کرتے ہیں۔اگر عوام آپس میں اچھائی کےلیے اتحاد اور تنظیم کے ساتھ اپنا دفاع کریں، توان بُرے لوگوں کو منہ کی کھانی پڑے۔
کچھ کام حکومت کے کرنے کے ہوتے ہیں۔کچھ کام عوام کے کرنے کے۔ حکومت اور عوام اپنی اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ تو ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کی رکاوٹیں دُور ہو جائیں گی۔تخریبی قوتیں ختم ہو جائیں گی یا کم ہو جائیں گی یا زیرِ زمین چلی جائیں گی۔ امن اور خوشحالی کا سفر شروع ہو جائے گا۔بشرطیکہ ہر سطح پر موجود دیمک اور جونک نما غداروں، تخریب کاروں ، دہشت گردوں اور انتشار پسند عناصر کی پوری تحقیق و تفتیش کے بعد ہٹا دیاجائے اور مٹا دیا جائے،ان سے لوٹا ہوا مال واپس لیا جائے، ان کے جرم کے مطابق انہیں سزا دی جائے۔تاکہ باقی لوگ عبرت پکڑیں۔اورملک و قوم کے ساتھ وفاداری نبھائیں۔
اس کے لیے حکمرانوں اور عوام کو اخلاق و وفادری کا درس دیا جائے، تعلیم و تربیت دی جائے،ذرائع ابلاغ اور تعلیمی اداروں کو استعمال میں لایا جائے۔تعلیم اور تربیتِ اخلاق حاصل کرنے والے ملک و قوم کے وفادار بنیں گے اور غداروں اور منافقوں کے دشمن ۔اس کے لیے نصابِ تعلیم علم و ہنر کے ساتھ اخلاقی اور وفاداری کے اصولوں پر مرتب کیا جائے۔ملک اور اس کے اداروں کے جو قانون جو غیر انسانی، غلامانہ اور ظالمانہ ہیں اس کو فوراً تبدیل کر کے اسلامی قانون یا ملک برطانیہ کا قانون جاری کیا جائے۔تاکہ ہر شہری کو ہر قسم کا تحفظ مل سکے۔جب شہریوں کو قانون تحفظ دے گا تو غداروں اور منافقوں کو اپنی سرگرمیاں بحال رکھنا مشکل بلکہ ناممکن ہو گا۔
عوام کو چاہیے کہ آپس میں اتحاد و اتفاق سے رہیں۔چوروں، لٹیروں اور ظالموں کا مل کر مقابلہ کریں۔اس کے لیے پہلا کام یہ ہے ایک گھر والے،ایک خاندان والے، ایک قبیلے والے، ایک محلے والے، ایک گاؤں والے ، ایک شہر والے مجتمع ہو جائیں۔اپنی جان ، مال، عزت، آبرو اور عصمت کی حفاظت منظم ہو کر کریں۔ درندوں، ظالموں، مکاروں، منافقوں اور نوسر بازوں سے ہوشیار رہیں اور مل جل کو اپنا دفاع کرنے کے لیے تیار رہیں۔جب عوام اپنے تحفظ کے کے لیے مجتمع ہو گی تو حکومت سے مدد لینا بھی آسان ہو گا۔حکومتی کارندے ہوں یا عوام کسی کو قانون کی خلاف ورزی زیب نہیں دیتی۔ اگر کوئی قانون کو ہاتھ میں لیتا ہے تو اس کے ساتھ سختی سے نبٹا جائے اور سخت سزا دی جائے، خواہ مجرم سرکاری اہلکار ہو یا عوام، سزا سے بچ نہ سکے۔جب ایسی صورت حال ہو گی تو ملک امن کا گہوارہ بن کر رہے گا۔
سڑکوں ، شاہراہوں، ریلوے لائنوں کے دونوں طرف کافی زمین پنجر پڑی ہے۔اس زمین میں پھلدار درخت لگائے جائیں اوران کی حفاظت کی جائے۔اس سے عوام کو روزگار ملے گا۔
ندی نالوں اور دریاؤں کی صفائی و کھدائی کروائی جائے تاکہ بارش کا پانی محفوظ ہو اور دشمن کا چھوڑا ہوا پانی سیلاب کی صورت اختیار نہ کر سکے،ان کے دونوں اطراف بھی پھلدار درخت لگائے جائیں۔ دریاؤں کے دونوں اطراف سڑک بنائی جائی جائے، تاکہ سفر کی سہولت ملے اور درخت لگائے جائیں۔ اس سے عوام کو روزگار ملے گا اور سیلاب کے نقصان سے بھی بچا جا سکے گا۔
مملکت کے ہر شہری کو رہنے کے لیے ایک مکمل گھر ملنا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے ،بے گھر شہریوں کوان کے علاقے میں پانچ مرلے کا مکان بناکر دے یا پانچ مرلہ زمین انتقال کرے اور مکان بنانے کے لیے سرمایہ مہیا کرے۔آلاٹ منٹ کرتے ہوئے ایک شرط لکھی جائے کہ وہ شہری مکان بیچ نہیں سکتا،یہ قومی ملکیت ہے۔حکومت اس سے چھین نہیں سکتی۔وہ شہری نسل در نسل اس میں رہائش رکھ سکتا ہے۔یہ اس کا حق ملکیت ہے۔
ہر علاقے میں علاج کے لیے اسپتال اور تعلیم کے لیے اسکول ، کالج اور یونیورسٹی قائم کی جائیں۔علاقے کے دیہاتوں اور شہروں کی آبادی کے تناسب سے علاج اور تعلم کے ادارے بنائے جائیں، لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے علیحدہ علیحدہ ادارے بنائے جائیں۔ ان کا عملہ بھی لڑکیوں کے لیے عورتیں اور لڑکوں کے لیے مرد استاد، ڈاکٹر ، نرسنگ اور کلیریکل سٹاف ہو۔اس طرح عوام کو تعلیم اور علاج کیسہولت ملے گی اور روزگار بھی۔
پانی کے لیے چھوٹے چھوٹے ڈیم اور تالاب بنائے جائیں تاکہ بارش کا پانی ان میں محفوظ ہو جائے نیز ان میں مچھلیاں بھی پالی جائیں،جن سے پینے کے لیے پائپ لائنیں اور فصلوں کی کاشت کے لیے نہریں نکالی جائیں۔ سرکاری زمینوں میں ذرعی فارم بنائے جائیں۔تاکہ خوراک اور پانی وافر مقدار میں میسر آ سکے اور بےروزگاری میں کمی آئے۔
حکومت ہر شہری کو روزگار دے یا وظیفہ بطور گزارہ الاؤنس ادا کرے جب تک اسے روزگار نہ مل جائے۔ روزگار کے لیے بلوچستان کے کھلے علاقے کو انڈسٹری ایریا بنایا جائے۔وہاں پر پانی اور بجلی کا انتظام کیا جائے۔انسان کی ضرورت کی جو اشیا بیرون ملک منگوائی جاتی ہیں،ان اشیا کو بنانے کے کارخانے لگائے جائیں۔ان کارخانوں میں مقامی آبادی کو روزگار دیا جائے۔ بلکہ جس علاقے میں جو ادارے،کارخانے بنائے جائی۔ وہاں پر افسر اور ورکر مقامی لوگ بھرتی کیے جائیں۔ تاکہ اس علاقے میں بے روزگاری ختم ہو اور خوشحالی آئے۔اس طرح سندھ اور خیبر پختون خوا کے ویران اور بنجر علاقوں میں پانی اور بجلی کا بندوبست کر کے وہاں کارخانے اور ذرعی فارم بنائے جائیں۔ زرعی رقبے کو رہائشی کالونی اور کارخانوں سے بچایا جائے۔وہاں زرعی فارم بنائے جائیں۔
اسی طرح ریلوے کے نظام کو درست کیا جائے۔ہر علاقے اور کارخانے اور زرعی فارم تک ریلوے کا نظام منظم کیا جائے۔ تاکہ عوام کو سستی سفری سہولت ملے اور سامان کی نقل و حرکت میں آسانی ہو۔
انسان کی ضرورت کی ہر شے پاکستان کی بنی ہوئی ہو۔ ملاوٹ، بددیانت، کھٹیا اورکمزور ناقص اشیا بنانے والوں کو سزا دی جائے۔اداروں میں افسر کم از کم اور کاریگر زیادہ سے زیادہ ہوں تاکہ پروڈکشن زیادہ سے زیادہ ہوں۔افسر اور ماتحت کی تنخواہ میں زیادہ فرق نہ ہو تاکہ ان کی ضرورتیں پوری ہو سکیں۔کس بھی سرکاری اہل کار کو مفت بجلی، مفت گیس، مفت تیل اور گاڑی نہ دی جائے۔
بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے تمام سرکاری عمارتوں، کارخانوں، دفتروں، زرعی فارموں ، اسکولوں، اسپتالوں پر سولر سسٹم لگائے جائیں۔ساحلِ سمندر کے نزدیک تمام علاقوں میں ہوا سے چلنے والی ٹربائنیں لگائی جائیں۔ تاکہ بجلی کا بحران ختم ہو ،عوام کو سستی بجلی فراہم ہو سکے۔
کوئلے کو کارامد بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال میں لاتے ہوئے،زیر زمین کوئلے کو تحلیل کر کے گیس اور تیل میں تبدیل کیا جائے۔
ملک میں موجود معدنیات اور دھاتوں کو نکال کر استعمال میں لایا جائے۔اس خام مال کو کارآمد بنانے کے لیے لیبارٹریاں اور کارخانے لگائے جائیں۔ملک میں سامان تیار ہو اور پیکنگ ہو،پھر بیرونِ ملک بیچا جائے۔خام مال کسی ملک کو نہ دیا جائے۔
دنیا کی سب سے بڑی نمک کی کان ہمارے ملک میں ہے۔ جو صاف شفاف اور صحت افزا ہے۔لیکن ہم اس سے فائدہ نہیں اٹھارہے ہیں۔ یہ برائے نام قیمت پر دوسرے ملک لے جاتے ہیں۔ اسے یس کر پیکنگ کر کے مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔ کیا ہم کارخانے لگا کر پیس کے،پیکنگ کر کے بیرونِ ملک بیچ کر زرِ مبادلہ کما نہیں سکتے،نیز ہماری وطن کے لوگ روزگار نہیں پا سکتے۔
ان تمام ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے،ملک سے بے روزگاری ختم کی جا سکتی ہے اور ملک و قوم کی آمدنی میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
جس ملک کے اپنے اثاثے اور ادارے نہ ہوں گے،وہ ملک ترقی کے بجائے غلامی سے دوچار ہو گا۔ڈاک، ریلوے، دفاع، ٹرانسپورٹ (بری بحری اور فضائیہ) کانظام اپنا نہ ہو تو دشمن آسانی سے وار کر سکتا ہے۔ سوچنے، سمجھنے اور غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ سرکاری ڈاک خانہ جات مسلسل خسارے میں جا رہا ہے۔ اس کے مقابلے غیر سرکاری ادارے منافع بخش بنتے جا رہے ہیں۔ پانچ چھ کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔جن کے ڈاکیے صحیح سالم ڈاک پہنچاتے ہیں،جن کی تنخواہ بہت کم ہے۔ان کمپنیوں میں افسر کم اور ڈاکیے زیادہ ہیں۔نیز انہیں سرکاری ڈاک بھی ملتی ہے اور پاکستان پوسٹ سرکاری ڈاک سے محروم رہتا ہے جس کی وجہ سے خسارے میں جا رہا ہے۔
ہمارے سرکاری ادارے ،کارخانے غیر منافع بخش اس لیے ہیں کہ افسر زیادہ ہیں اور کارکن کم۔جب تک ملک میں افسر شاہی رہے گی،ادارے نقصان میں رہیں گے۔پرائیویٹ اداروں کی طرح سرکاری اداروں میں افسر کم از کم ہوں اور ورکر زیادہ ہوں نیز تنخواہ میں بھی زیادہ فرق نہ ہو،تو ادارے ترقی کریں گے۔
فورسز کے اپنے زرعی فارم ہوں کہ خوراک میں خود کفیل رہیں۔
حکمرانوں کو چاہیے وہ شیر بن کر رہیں۔ملک و قوم کو مضبوط کریں اور دنیا پر حکومت کریں۔
مثالی،اصلاحی اور فلاحی مملکت کے لیے یہ چند تجاویز پیش کی گئی ہیں، مذید بھی آرا آ سکتی ہیں۔ان سب پر غور وفکر اور تدبر کر کے ایک لائحہ عمل بنایا جائے۔تاکہ ملک تعمیر و ترقی پر اپنا سفر جاری رکھ سکے۔
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنّم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
کُلیاتِ اقبال ” اُردُو“ علامہ محمد اقبالؒ،غ۔ع، صفحہ ٢٧٤

error: