Advertisement

مسجد الرسولؐ : تبوک کی مقدس زیارت

غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہؐ نے 8 ہجری (630 عیسوی) میں بیس روزہ قیام کے دوران اپنا خیمہ جس جگہ پر نصب فرمایا اور تمام نمازیں ادا فرمائیں ، وہاں پر تاریخی مسجد الرسولؐ موجود ہے۔ تبوک میں 13 سال قیام کے دوران راقم الحروف کو بے شمار مرتبہ اس میں سر بسجود ہونے کا موقع ملا۔ اسی نسبت سے میرے سفرنامہ کا عنوان مسجد الرسولؐ سے مسجد نبویؐ رکھا گیا ہے۔
مسجد حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے تعمیر کروائی تھی جب وہ مدینہ کے حکمران مقرر ہوئے تھے۔ یہ مقدس مقام تبوک کا روحانی مرکز تصور کیا جاتا ہے۔ 1400 سال سے مسلمان اس جگہ سے گہری عقیدت کا تعلق رکھتے ہیں۔ یہاں آ کر انسان کو ایسی روحانی تسکین ملتی ہے جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
زائرین تاریخ کے اس دور میں پہنچ جاتے ہیں جہاں صحابہ کرامؓ کی بڑی تعداد نے 700 کلومیٹر کا دشوار گزار سفر کرکے عیسائیوں کی سپر پاور کے مقابلے میں اہم سنگ میل حاصل کیا تھا۔ اس سفر کو تاریخ میں کامیابی کی داستان کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
مسجد شام اور اردن جانے والے قدیم تجارتی راستے پر واقع ہے جہاں پر حج اور عمرے کیلئے جانے والے قافلے بھی ٹھہرتے تھے۔ یہ جگہ میٹھے پانی کے قدیم کنویں “عین السکر” کے قریب یے جہاں سے اسلامی لشکر نے پانی حاصل کیا۔ چار سو برس قبل تعمیر ہونے والا قلعہ مسجد کے قریب موجود ہے۔ لشکرکشی کے حساب سے دیکھا جائے تو یہ مقام شہر کے پرانے حصے سے قدرے بلندی پر ہے اور دور سے آنے والوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔ اس کے قرب و جوار میں چند پرانی قبریں موجود ہیں جن کی نسبت صحابہ کرام کی طرف کی جاتی ہیں لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔
مسجد الرسولؐ کا نقشہ ، عمارت اور رنگ مسجد نبوی ؐ کی طرح رکھا گیا ہے۔ مسجد کی پہلی تعمیر میں اینٹیں مٹی ، گارے اور چھت کے لئے کجھور کے تنے استعمال کئے گئے۔ عثمانی خلافت میں کئی مرتبہ اس کی مرمت کا کام کیا گیا اور اس کی چھت بدلی گئی۔ 1652 عیسوی میں بڑی توسیع کا کام عثمانی دور میں ہوا۔ آخری مرتبہ تعمیر و توسیع کا کام شاہ فیصل مرحوم کے حکم پر ہوا جب وہ ستر کی دہائی میں تبوک کے دورے پر تشریف لائے۔ یہ ایک مینار والی عمارت ہے جس میں دیدہ زیب داخلی دروازہ اور خوبصورت گنبد تعمیر کیا گیا ہے۔ اس کو مسجد توبہ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے کیونکہ یہاں قیام کے دوران سورہ توبہ نازل فرمائی گئی تھی۔ اس کی قدیم عمارت کی تصویر مسجد کی عقبی جانب کی دیوار پر دیکھی جا سکتی ہے۔
مسجد میں تین ہزار سے زائد نمازیوں کی گنجایش موجود ہے اور اس میں دبیز قالین بچھائے گئے ہیں۔ خواتین کے لئے علیحدہ کمرہ موجود ہے۔ اس کے قریب واش روم اور وضو کی بہترین سہولیات مہیا کی گئی ہیں۔ سامنے کی جانب تین اطراف میں بازار ہیں اور دکانوں کے درمیان وسیع میدان اور پارکنگ کے لئے جگہ موجود ہے۔ جیولری ، عطریات ، خوشبویات ، خیمے ، ٹین کے بکس ، کھانا پکانے کے بڑے برتن ، قدیم روائتی اشیا ، جڑی بوٹیوں ، کھانے پینے کی دکانیں اور قہوہ خانے مسجد کے اطراف میں موجود ہیں۔ تبوک کی مشہور شارع العام چند منٹ کے فاصلے پر ہے۔ پورا علاقہ مقامی باشندوں اور سیاحوں سے دن بھر اور رات گئے تک بھرا رہتا ہے۔ تبوک اس مسجد کے گردونواح میں تعمیر کیا گیا تھا لیکن اب شہر کافی پھیل چکا ہے۔
عربی اور اردو زبانوں میں درس و تدریس کا سلسلہ مسجد میں عرصہ دراز سے جاری ہے۔ آج سے 35 برس قبل ماہ رمضان المبارک کے دوران تبوک کے سینئر جج اور کبار عالم دین شیخ عبداللہ فوزان مرحوم و مغفور نے بعد نماز جمعہ ہفتہ وار لیکچر دینے شروع کئے جن کے اردو ترجمہ کی سعادت پاکستانی سکالر طارق نور الہی کے حصہ میں آئی۔ یہ سلسہ تبوک کے اسلامک سنٹر (مرکز جالیات) کے قیام کا ذریعہ بن گیا جو یہاں سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر تعمیر کیا گیا ہے۔ ام درمان میں واقع اس مرکز کو غیر عربی افراد میں دعوت و تبلیغ کے لئے قائم کیا گیا ہے اور اس میں عربی کے بجائے دیگر زبانوں میں لیکچر دئے جاتے ہیں۔ فری عمرہ سروس کا اہتمام بھی کیا جاتا رہا ہے۔ مسجد اور اسلامی مرکز میں پچھلے پچاس برسوں میں ہزاروں غیر مسلم اسلام قبول کر چکے ہیں۔ مرکز کو کامیاب بنانے میں پاکستان ، بنگلہ دیش اور انڈیا کے مسلمانوں کا اہم کردار رہا ہے۔
غزوہ تبوک اور اس کا پس منظر
تبوک کا سفر نامہ غزوہ تبوک کے تذکرے کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا ۔ مکہ کی فتح کے بعد ایک سال کے عرصے میں عرب کا کافی حصہ اسلام کے دائرے میں داخل ہو گیا۔ اس کے با وجود نبی پاک صلی للہ ہر اس چھوٹی سے چھوٹی بات سے بھی باخبر رہتے تھے جس کا اسلامی تحریک پر کچھ بھی موافق یا مخالف اثر پڑتا ہو۔ اس عرصے میں شام کی جانب عیسائیوں سے چند چھوٹی جھڑپیں ہو چکی تھیں۔ جمادی الاول 8 ہجری میں آپ صلی علیم نے تین ہزار فوج شام کی طرف بھیجی جس کا مقابلہ ایک لاکھ رومی افواج سے موتہ کے مقام پر ہوا۔ مسلمانوں نے نہایت بے جگری سے مقابلہ کیا اور حضرت خالد بن ولید مسلمان افواج کو عیسائی افواج سے بچا کر نکال لائے ۔ یہ جگہ اس وقت اردن میں عمان سے چند سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ تبوک سے یہ جگہ شمال کی جانب چند سو کلومیٹر کے فاصلے پر آتی ہے۔ میں دو دوستوں ڈاکٹر حمید حالیہ العین ، متحدہ عرب امارات ) اور ڈاکٹر طاہر (حالیہ ریاض ، سعودی عرب ) کے ساتھ ہیں برس قبل اردن کے سفر میں اس جگہ کو دیکھ چکا ہوں ۔ ہم تین لوگ عمان (اردن) سے کرایہ کی گاڑی لے کر پیٹرا کے عجائبات دیکھنے گئے تھے۔ عمان واپسی پر ڈرائیور نے ہمیں اس پہاڑی مقام کی سیر کروائی اور جنگ موتہ کے شہداء کے مزارات دکھائے۔ اردن کی حکومت نے ان جگہوں کو بہت اچھی طرح رکھا ہوا ہے اور ان سے ملحقہ بڑے کمپلیکس تعمیر کر رکھے ہیں۔ جنگ موتہ میں مسلمانوں کی ثابت قدمی نے شام ، اردن اور عراق کے نزدیکی قبائل کو اسلام کی طرف متوجہ کر دیا اور وہ ہزاروں کی تعداد میں مسلمان ہو گئے حتی کہ سلطنت روم کی عربی فوجوں کے ایک کمانڈر فروہ بن عمر و مسلمان ہو گئے جن کو قیصر روم نے سزائے موت سنائی لیکن وہ اسلام پر قائم رہے اور راہ حق میں جان دے دی۔
جنگ کی تیاریاں اور
مسلمانوں کی روانگی
و ہجری میں قیصر روم نے مسلمانوں کو جنگ موتہ کی سزا دینے کے لئے سرحد شام پر فوجی تیاریاں شروع کر دیں اور اس کے ماتحت غسانی اور دوسرے قبائل فو جیں اکٹھی کرنے لگے۔ رسول اللہ صلی ہم نے وقت ضائع کئے بغیر قیصر روم کی عظیم الشان سلطنت سے ٹکرانے کا فیصلہ کر لیا۔ مدینہ میں قحط سالی تھی، گرمی کا موسم تھا، فصلیں پکنے والی تھیں، سرمایہ کی کمی تھی۔ خدا کے نبی صلی ہم نے یہ دیکھ کر کہ یہ دعوت حق کے لئے زندگی اور موت کے فیصلے کی گھڑی ہے، اس حال میں جنگ کی تیاری کا اعلان عام کر دیا۔ پہلے تمام غزوات میں حضور صلی ﷺ کا قاعدہ یہ تھا کہ یہ نہیں بتایا جاتا تھا کہ کدھر جانا ہے اور کس سے مقابلہ ہو گا لیکن اس موقع پر آپ نے صاف صاف بتا دیا کہ روم سے مقابلہ ہے اور شام کی طرف جانا ہے۔ حضرت عثمان دنیا اور حضرت عبد الرحمن بن عوف نے بڑی بڑی رقمیں پیش کیں۔ حضرت عمر ضیا نے اپنی عمر بھر کی کمائی کا آدھا حصہ لا کر رکھ دیا۔ حضرت ابوبکر صدیق علی نے اپنی ساری پونچی نذر کر دی۔ غریب صحابہ نے مزدوری کر کے جو کمایا ، لا کر حاضر کر دیا۔ عورتوں نے اپنے زیور اتار کر دے دیے۔ ہر طرف سے رضا کاروں کے لشکر آنے شروع ہو گئے ۔
رجب 9 ہجری میں رسول اللہ صلی 30 ہزار مجاہدین کے ساتھ شام کی طرف روانہ ہوئے جن میں دس ہزار سوار تھے۔ ایک ایک اونٹ پر کئی کئی آدمی باری باری سوار ہوتے تھے۔ 700 کلومیٹر کے اس صحرائی سفر میں گرمی کی شدت ، پانی کی قلت اور ساز و سامان کی کمی کے باوجود جس عزم صادق اور عظیم الشان جذبہ کا ثبوت مسلمانوں نے دیا، اس کا پھل تبوک پہنچ کر ان کو مل گیا ۔ وہاں ان کو معلوم ہوا کہ قیصر اور اس کے حامی قبائل نے اپنی فوجیں سرحد سے ہٹا لی ہیں اور اب کوئی دشمن نہیں جس سے جنگ کی جائے۔ اس بات کو عموماً یوں بیان کیا جاتا ہے کہ وہ خبر سرے سے غلط نکلی جو آپ صلی یم کو رومی افواج کے جمع ہونے کے بارے میں ملی تھی ۔ حالانکہ دراصل واقعہ یہ تھا کہ قیصر روم نے اجتماع افواج شروع کیا تھا لیکن جب رسول اللہ سلیم اس کی تیاریاں مکمل ہونے سے پہلے ہی بڑے لشکر کے ساتھ مقابلے پر پہنچ گئے تو اس نے سرحد سے اپنی فوجیں دور لے جانے کے سوا کوئی چارہ نہ پایا۔ غزوہ موتہ میں 3 ہزار اور ایک لاکھ کے مقابلے کی جو شان وہ دیکھ چکا تھا اس میں رسول اللہ صلی علیم کی قیادت میں تمہیں ہزار فوج کے مقابلہ کی ہمت نہیں تھی۔
غزوہ تبوک کے بہترین نتائج
اور کامیابیاں
نبی پاکؐ ہم نے اس مرحلے پر اس فتح کو کافی سمجھا اور بجائے اس کے کہ تبوک سے آگے بڑھ کر سر حد شام میں داخل ہوتے ، آپ نے اس بات کو ترجیح دی کہ 20 دن یہاں ٹھہر کر چھوٹی ریاستوں کو جو تبوک کے آس پاس واقع تھیں ، فوجی دباؤ سے سلطنت اسلامی کا اطاعت گزار بنالیا۔ اس طرح دومت الجندل ، ایلہ ، مقنع ، جربا اور اذرح کے عیسائی سرداروں نے جزیہ ادا کر کے سلطنت مدینہ کی اطاعت قبول کر لی۔ میں نے تبوک میں رہائش کے دوران ان تمام علاقوں کو بار بار دیکھا ہے اور ان سب جگہوں کا ذکر اس سفرنامے میں پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔ یہ جگہیں تبوک کے چاروں جانب 250 سے لے کر 500 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔ یہ علاقے اردن ، شام ، عراق اور بحرہ احمر کے قریب واقع ہیں۔ اس طرح سے غزوہ تبوک کے براہ راست اثرات کل ایک لاکھ مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیل گئے ۔
غزوہ تبوک کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اسلامی حدود اقتدار رومی سلطنت کی سرحد تک پہنچ گیا اور خطہ عرب میں جو لوگ اسلام کے کمزور پڑنے کی آس لگائے بیٹھے تھے ان کی نا پاک امیدوں پر پانی پھر گیا۔ ان کے سامنے اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہ گیا کہ خود اسلام کے دامن میں پناہ لیں یا ان کی آئندہ نسلیں اسلام میں جذب ہو جائیں۔ جس جرات کے ساتھ آپؐ ایام اس قدر ز بر دست لشکر لے کر اتنی دور گئے ، اس نے تمام عرب پر آپ کی اور آپ کے جانثار ساتھیوں کی دھوم مچادی۔ تبوک سے واپس آتے ہی عرب کے ہر جانب سے آپ کے پاس وفد پر وفد آنے شروع ہو گئے اور وہ اسلام اور اطاعت کا اقرار کرنے لگے۔ محدثین نے جن وفود کا ذکر کیا ہے ان کی تعداد 70 تک پہنچتی ہے جو عرب کے شمال ، جنوب ، مشرق ، مغرب ، ہر علاقے سے آئے تھے۔ اس بنا پر اس سال کا نام اسلامی تاریخ میں عام الوفود ( وفود کا سال ) پڑ گیا۔
غزوہ کے بعد کے اہم اقدامات
اب چونکہ خطہ عرب کا انتظام کلی طور پر مسلمانوں کے ہاتھ میں آگیا تھا لہذا عرب کو مکمل طور پر دارالاسلام بنانے کے لئے سورہ تو بہ کی روشنی میں درج ذیل اہم فیصلے کئے گئے :
1 عرب سے شرک کو کلی مٹا دیا جائے اور اس کی کوئی نشانی یا رسم و رواج نہ چھوڑا جائے۔ اس لئے مشرکین سے برأت اور ان کے ساتھ کئے گئے معاہدوں کے اختتام کا اعلان کیا گیا۔
2 کعبہ کی حدود میں شرک اور جاہلیت کی تمام رسمیں بند کر دی گئیں ۔ مشرکین کو اس مقدس مقام کے قریب آنے تک سے بھی روک دیا گیا اور حدود حرم قائم کر کے ان کی سختی سے پابندی شروع کر دی گئی ۔
3 زمانہ جاہلیت کی رسوم اور طریقوں کو ختم کیا گیا۔ ان میں نسی کا قاعدہ عرب میں بہت مشہور تھا۔ اس پر براہ راست ضرب لگائی گئی اور مسلمانوں کو بتایا گیا کہ جاہلیت کی دوسری رسمیں کیسے ختم کرنی ہیں ۔
4 کافروں کو اس بات کا اختیار ہے کہ اگر خود گمراہ رہنا چاہتے ہیں تو رہیں بشرطیکہ جزیہ دے کر اسلامی حکومت کے اطاعت گزار رہیں۔ لیکن ان کو یہ حق حاصل نہیں کہ خدا کی زمین پر اپنا حکم جاری کریں۔
5 مدینہ میں ایک اور اہم مسئلہ منافقین کا بھی تھا، لہذا اب حکم یہ دیا گیا کہ ان کے ساتھ آئندہ نرمی نہ کی جائے۔ اسی پالیسی کے تحت تبوک سے واپس تشریف لاتے ہی رسول اللہ صلی علیم نے پہلا کام یہ کیا کہ مسجد ضرار کو ڈھانے اور اس کو جلا دینے کا حکم دیا تا کہ منافقین کو سازش کرنے کے لیے جگہ نہ مل سکے ۔
مسلمانوں کی کمزوریوں کی اصلاح
مومنین صادقین میں اب تک جو تھوڑی بہت عزم اور حوصلہ کی کمزوری باقی تھی، اس کا علاج بھی غزوہ تبوک کے بعد کیا گیا۔ اس موقع پر جن لوگوں نے سستی اور کمزوری دکھائی تھی اور جہاد سے رخصتی کی اجازت کے بغیر لشکر کے ساتھ نہیں گئے، ان کی شدت کے ساتھ ملامت کی گئی۔ ان میں سے تین صحابہ کرام ایسے تھے جن کے دل میں سچا ایمان تھا لیکن وہ اس سفر سے پیچھے رہ گئے ۔ یہ تین صحابہ کعب بن مالک علی الہ بلال بن امیہ بلایا اور مرارہ بن ربیع لی تھے اور تینوں سچے مومن تھے۔ لشکر کے مدینہ واپس آنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ کے حکم پر ان تین افراد کا پچاس روز تک معاشرتی بائیکاٹ کیا گیا۔ ان کے رشتہ داروں اور دوستوں نے اس عرصہ میں ان سے قطع تعلق کر لیا ۔ حتی کہ اللہ نے اپنی خاص رحمت سے ان کی توبہ قبول کر لی اور ان کو معافی عطا فرمائی ۔ اس معافی کا اعلان اللہ تعالیٰ نے سورہ توبہ کی آیت نمبر 118 میں فرمایا۔ اس سارے معاملے سے مسلمانوں پر یہ بات واضح ہو گئی کہ جو شخص کفار سے مقابلے کے موقع پر اسلام کے لئے جان و مال اور وقت و محنت صرف کرنے سے جی چرائے گا، اس کا ایمان ہی معتبر نہیں ہوگا۔

error: