6 مئی 2025 کو بھارت نے بڑے غرور کے ساتھ پاکستان کے خلاف ’’آپریشن سندور‘‘شروع کیا تھا، جس پر ہماری قومی اور عسکری قیادت نے انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور 9 مئی ، 2025کو ہماری بہادر افواج نے صرف چار گھنٹے کی مختصر مگر فیصلہ کن کاروائی کے ذریعے ماتم میں بدل کر رکھ دیا۔قوم کو دہائیوں کی مایوس کن سیاسی، سماجی اور معاشی ابتری کے بعد ایک ایسی خوشی حاصل ہوئی جس نے ہر محب وطن پاکستانی کا سر فخر سے بلند کردیا۔ طویل عرصہ سے پاکستان کی خارجہ پالیسی دبائو کا شکار تھی۔ دنیا بھر میں کہیں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا، عالمی میڈیا اس میں پاکستان کا ہاتھ تلاش کرنے لگ جاتا تھا۔ہمارے حکمران بھی ہمیشہ عالمی برادری کے سامنے دبائو میں نظر آتے تھے جس کی وجہ سے عام پاکستانی اپنے مستقبل سے مایوسی کا اظہار کرتا ہوا دکھائی دیتا تھا۔
ایسے میں اللہ کا کرم ہوا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی مت ماری گئی اور اس نے پاک افواج کے شیروں کو للکارا۔ ابتداء میں پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کا ثبوت دیتے ہوئے جنگ سے بچنے کی ہرممکن کوشش کی اور آخری حد تک صبروتحمل کامظاہرہ کیا۔ جب بات برداشت سے باہر ہوگئی تو پاک فضائیہ کے تابڑ توڑ حملوں نے کایا ہی پلٹ دی۔ پاکستان کو عالمی سطح پر سیاسی اعتبار سے جو اہمیت حاصل ہوئی اس کا کچھ عرصہ پہلے تک تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔
اس وقت عالمی منظر نامہ حیرت انگیز حد تک بدل چکا ہے۔ امریکہ اپنی بقاء کی جنگ لڑتا نظر آرہا ہے۔ ایران تقریباََ نصف صدی کی عالمی تنہائی اور پابندیوں کے باوجود خطہ میں ایک طاقت بن کر ابھرا ہے۔ ہمارا پڑوس اور مشرق وسطیٰ جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کو عزت سے سرفراز کیا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمہ کے لیے ثالثی پوری قوم کے لیے ایک اعزاز ہے۔اور وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی سفارتکاری کا ڈنکہ ایک عالم میں بج رہا ہے۔
بقول فیض، لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجئے۔۔۔اب بھی دل کش ہے ترا حسن مگر کیا کیجئے۔ پاکستان کی معاشی صورتحال کا منظر نامہ انتہائی خوفناک ہے۔ بجٹ کی ایک ایک شق کی منظوری آئی ایم ایف سے لینا پڑ رہی ہے۔ ملک اس وقت بجلی اور گیس کے بدترین بحران سے گزر ریا ہے۔ لوڈ شیڈنگ نے عام پاکستانی شہریوں کی زندگی اجیرن بنا کرکے رکھ دی۔ پینے کا پانی عوام کے لیے دستیاب نہیں ہے، خریدنے کی استطاعت وہ نہیں رکھتے، مگر واٹر ٹینکر مافیا کے لیے پانی کی کوئی کمی نہیں ہے۔تعلیم اور صحت کی سہولیات کا یہ عالم ہے کہ حکمران طبقہ اپنا علاج پاکستان میںنہیں کراتا اور ان کی اولاد کی تعلیم ملک میں دستیاب نہیں ہے۔ پارلیمنٹرینز کی مراعات کے لیے اجازت آئی ایم ایف سے قطعی درکار نہیں ہوتی ہے مگر چھوٹے گریڈ کے سرکاری ملازمین کی پنشن اور تنخواہوں میں اضافے کے وقت آئی ایم ایف دیوار چین بن کر حائل ہوجاتی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے اگر حکمرانوں، ارکان اسمبلی اور بیوروکریسی کی مراعات کے خاتمہ اور کرپشن کے سدباب کا مطالبہ کرے تواس کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہوتی ہے۔کراچی جو ملک کا معاشی حب ہے، اسے بیرونی سرمایہ کاری کو روکنے کے لیے نشان عبرت بنادیا گیا ہے، یہ بات اب ماہرین معاشیات نے کہنا شروع کردی ہے۔
چھ مئی2026 پاکستان کی تاریخ میں اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ کراچی کے ایک پوش علاقے بلاول چورنگی ، کلفٹن میں عوام نے بالآخر بیزار ہو کر سیکوریٹی پروٹوکول کو توڑ دیا۔ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے عام شہریوں کو بھی زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں،ایسا کرنے کے لیے سنجیدگی کے ساتھ کرپشن کے خاتمہ کے اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ پاکستان کا معاشی نظام بھی ناقابل تسخیر بن جائے اور کسی کو کرپشن کرنے کی جرات نہ ہو سکے ۔ ہمارے سسٹم میں ایک اور شے کی کمی بڑی شدت سے محسوس ہوتی ہے اور وہ ہے قومی غیرت۔قوم کی ایک بیٹی ڈاکٹر عافیہ23 سالوں سے امریکی قید ناحق میں ہے۔ ان کی رہائی اور انہیں وطن واپس لانے کی جدوجہد ان کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی گزشتہ دو دہائیوں سے کررہی ہیں۔ عافیہ موومنٹ نے ہمیشہ کوشش کی ہے اس جدوجہد کو ملک کے وقار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے جاری رکھا جائے۔ عافیہ رہائی موومنٹ کو ملک بھر کے عوام کی حمایت حاصل ہے۔ڈاکٹر عافیہ نے ایجوکیشن کے شعبہ میں ’’پی ایچ ڈی‘‘کی ڈگری حاصل کی ہوئی ہے۔ وہ ایجوکیشن سٹی بسانا چاہتی تھیں ، جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو بچوں میں سیکھنے کے عمل کوبڑھاوا دینے کے لئے استعمال کرنا چاہتی تھیں تاکہ ملک کا ہربچہ اپنی دلچسپی کے شعبے میں ماہر (Expert) کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کر سکے۔ پاکستان کا ایک عام شہری انتہائی محب وطن ہے ۔ عافیہ موومنٹ کے کوآرڈینیٹر کی حیثیت سے میں ان سے رابطے میں رہتا ہوں۔ وہ ملک کے اندرونی حالت سے انتہائی دکھی ہے اوراپنی بے بسی پر کُڑتا رہتا ہے۔ وہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی میں رکاوٹ ان ہی لوگوں کو سمجھتا ہے جو ملک کی ترقی کے دشمن ہیں۔ جوکرپشن کے ذریعے ملکی کی معیشت کی جڑیں کھوکھلی کررہے ہیں۔
معرکہ حق بنیان مرصوص کی کامیابی کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے۔ مگر دشمن سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے، وہ کسی بھی وقت پلٹ کر حملہ کرسکتا ہے۔ ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے کرپشن کی روک تھام اور اس کا سدباب ناگزیر ہو چکا ہے۔پاکستان کی معیشت کا دشمن ملک کے اندرہر جگہ موجود ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ وہ اہم عہدوں پر براجمان ہے۔وہ کرپشن کا مال باہر منتقل کررہا ہے۔ عام پاکستانی شہریوں کو ریلیف دینے کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ایک اور معرکہ حق کی ضرورت ہے۔
’’ایک معرکہ حق کرپشن کے خلاف بھی ‘‘
















