عملی طور پر اس وقت ہمارا معاشرہ دو بڑے طبقات میں تقسیم ہے۔ ایک طبقہ خواص (Elite Class) اور دوسرا طبقہ عوام الناس کا ہے۔ اول الذکر طبقہ کو ملک کے تمام وسائل مفت میں یا پھر انتہائی ارزاں قیمت پر دستیاب ہیں جبکہ آخرالذکر طبقہ تعلیم کی کمی کے باعث شعور سے عاری ہے اور اول الذکر طبقہ اسے زندہ باد کے نعرے لگانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے دوران ان کے لیے روضہ رسول (ﷺ) کا دروازہ کھولا گیا تھا جو کہ پاکستان میں ایک بڑی خبر بن گئی اور سوشل میڈیا پر کئی گھنٹوں تک گردش کرتی رہی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ روضہ رسول (ﷺ) کی زیارت ایک سعادت ہے جس کے لیے ہر مسلمان کا دل مچلتا ہے۔ جس کسی کے لیے یہ در وا کیا گیا بلا شبہ وہ خوش بخت ہے۔ صحابہ کرام (رضوان اللہ علہم اجمعین) کی جماعت اس وجہ سے خوش نصیب تھی کہ انہوں نے ایمان کی حالت میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت کی، ہم یہ سعادت حاصل نہیں کر سکتے مگر روضہ رسول (ﷺ) کی زیارت کی سعادت حاصل کرنے کی خواہش تو رکھ سکتے ہیں۔ یہ سعودی حکومت کی روایت ہے کہ وہ ہر مسلم حکمران کی عزت افزائی کے لیے خانہ کعبہ کا دروازہ کھول کر انہیں اندرونی حصہ میں نماز ادا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
ہمارے موجودہ وزیراعظم شہباز شریف اگر اپنی ذات اور جماعت کے مفادات سے بالاتر ہو کر عوام کی مشکلات کے حل کے لیے سوچیں اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے عملی طور پر کام بھی کریں تو پھر کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں نیک نام حکمرانوں کی صف میں شامل ہونے اور تاریخ میں امر ہونے کا سنہری موقع عطا کیا ہے۔
میرا یہ کالم صرف عام لوگوں کے بارے میں ہے اور انہیں سمجھانے اور سمجھنے کے لیے ہے کہ مملکت خداد پاکستان کے قیام کو 79 برس گزر چکے ہیں۔ عوام کو اب حکمرانوں، ریاستی حکام اور سیاست دانوں کی خالی خولی باتوں سے ہرگز متاثر نہیں ہونا ہے بلکہ ان کے کس عمل اور کن کاموں کی ستائش کرنا ہے، اب انہیں معلوم ہونا چاہئے۔
عوام کو اپنے شعور کی سطح کو بلند کرنا ہوگا۔ عوام کی آگہی اور ان کے شعور کی سطح کو بلند کرنے کے لیے معروف انقلابی شاعر حبیب جالب نے کئی معرکۃ الآراء نظمیں لکھی ہیں۔ جالب عوام کو سمجھانے کیلئے کہتے ہیں ” دس کروڑ انسانو!، زندگی سے بیگانو!، صرف چند لوگوں نے، حق تمہارا چھینا ہے، خاک ایسے جینے پر، یہ بھی کوئی جینا ہے، بے شعور بھی تم کو، بے شعور کہتے ہیں۔۔۔ اور جالب نے یہ بھی کہا کہ “میں نے اس سے یہ کہا، یہ جو دس کروڑ ہیں، جہل کا نچوڑ ہیں، ان کی فکر سو گئی، ہر امید کی کرن، ظلمتوں میں کھو گئی، یہ خبر درست ہے، ان کی موت ہو گئی، بے شعور لوگ ہیں، زندگی کا روگ ہیں۔۔۔۔۔
عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ روضہ رسول (ﷺ) کی زیارت بڑی سعادت ھے۔۔۔ یا اسوہ رسول (ﷺ) پر عمل کرنا بڑی سعادت اور مرتبہ و مقام ہے۔۔۔ آج تک کوئی مسلمان روضہ رسول (ﷺ) کی زیارت کرکے اللہ کا ولی نہیں بن سکا ہے۔ اللہ اپنا دوست اسی کو بناتا ہے جو اس کے اور اس کے رسول (ﷺ) کے احکامات پر عمل کرتا ہے۔ خود رسول اللہ ﷺ نے اسلام کی خاطر اپنا وطن مکہ مکرمہ اور بیت اللہ کو چھوڑ کر یثرب ہجرت کی تھی، جو آپ کی آمد کی برکت سے مدینہ اور دوسرا حرم بنا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ آئے روز وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جرنل عاصم منیر کی تعریف کرتے رہتے ہیں۔ امریکہ کو اپنے مفادات عزیز ہیں جو کہ ہر ملک کو ہوتے ہیں۔ پاکستان کے ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی میں ثالثی کے کردار نے ہر محب وطن وطن پاکستانی کا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔ اسلام میں امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزاکرات کا ایک دور ہو چکا ہے۔ دوسرے دور میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی شرکت متوقع ہے۔ عافیہ موومنٹ کی سربراہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے ایک مرتبہ پھر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو اپنی ہمشیرہ اور قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے خطوط لکھے ہیں۔ ان کے خط کا یہ حصہ ” یہ عافیہ کی مشکلات کو دور کرنے کا ایک بہترین لمحہ ہے – اس کی سزا کے خلاف چیلنج اور رحم کی بنیاد پر رہائی کی درخواستیں، دونوں اب نیویارک میں جج کے پاس دائر کر دی گئی ہیں، اور چونکہ امریکی حکومت کو تشویش ہے کہ یہ درخواستیں بعض شرمندگی کا باعث بننے والے درجہ بند شواہد کو ظاہر کرتی ہیں، اس لیے وہ ابھی تک عام نہیں کی گئیں۔ عافیہ کا امریکی وکیل 6 مئی کو اس معاملے کی سماعت کے لیے نیویارک جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کو ضروری نہیں (اگرچہ یہ بہت اچھا ہوگا) کہ وہ اسے معافی دیں یا رحم کریں۔ انہیں صرف امریکی اٹارنی کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ امریکا اس کی رحم کی بنیاد پر رہائی کی مخالفت نہیں کرتا۔ یہ سب کم سے کم پیچیدگی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے، اس کے ساتھ ہی قابل اعتراض مواد اس کی اپیل سے واپس لے لیا جائے گا۔
میں جانتی ہوں کہ آپ مصروف ہیں، لیکن اب اس معاملے کے جج کے سامنے آنے میں صرف تین ہفتے باقی ہیں، اس لیے یہ فوری نوعیت کا ہے۔ میں اس معاملے پر ذاتی طور پر بات چیت کے لیے جلد از جلد اسلام آباد آنے کے لیے تیار ہوں۔
آپ کو زحمت دینے کے لیے معذرت، لیکن ایسا لگتا ہے کہ آپ کی براہ راست مداخلت کے بغیر، اس اہم انسانی مسئلے پر پیش رفت رک جاتی ہے۔
عافیہ موومنٹ کے کوآرڈینٹیر اور ترجمان کی حیثیت سے مجھ سے ملک کے کونے کونے سے رابطہ کرکے قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے بارے میں تازہ ترین صورتحال جاننے کے لیے رابطہ کرتے رہتے ہیں۔ میں انہیں جب بتاتا ہوں کہ عافیہ موومنٹ نے تو اپنی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں، پاکستان کے 25 کروڑ عوام کی بھی یہ خواہش ہے، ڈاکٹر عافیہ کے وکیل کلائیو اسمتھ نے امریکی عدالت میں ڈاکٹر عافیہ کی بے گناہی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہائی کیلئے کیس دائر کردیا ہے۔ اب ہمیں اپنی حکومت اور ریاستی حکام کی مدد کی ضرورت ہے تو رابطہ کرنے والوں کی اکثریت حکمرانوں اور ریاستی حکام کے بارے میں مایوسی کا اظہار کرتی ہے۔ عافیہ کے سپورٹرز کے کچھ اس طرح کے جملے میرے دماغ میں نقش ہو گئے ہیں “اگر سچے ہوئے تو ضرور کریں گے”، “یہ تو انہی (امریکہ) کے لوگ ہیں”، “ان کو ذاتی مفاد زیادہ عزیر ہیں”، ان میں ہمت ہی نہیں ہے وغیرہ وغیرہ کچھ دیگر لوگوں کی آراء بھی اہم ہے جیسے “جب پاکستان دنیا کے بڑے تنازعات میں ثالثی کرسکتا ہے تو کیا ایک مظلوم پاکستانی بیٹی کے لیے آواز بلند نہیں کر سکتا؟ یہ وقت ہے سفارتکاری کو قوم کے درد سے جوڑنے کا” یا جیسے یہ “دنیا کا ہر ملک اپنے واضح اہداف رکٓھتا ہے، مذاکرات کے دوسرے دور میں پاکستان کے اہداف کیا ہوں گے؟ چند ڈالر، تجارت، ویزے اور ملازمتیں یا قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی” اور جیسے یہ ” ملک ایران سے فرصت مل جائے تو ملک ویران پر بھی تھوڑی توجہ دے لیں نہ عزت نہ غیرت قوم کی بیٹی عافیہ قید میں، یہ کیسی خالی سفارت کاری ہے کہ اپنی بیٹی کہ لئے خاموش تو دل کو تسکین کیسے دیں!!۔
ڈاکٹر عافیہ پاکستانی شہری ہیں، وہ بے گناہ ہیں، ان کی قیدناحق کے 23 سال مکمل ہو چکے ہیں۔۔۔ عافیہ نے 23 سالوں کے عرصہ میں انسانیت سوز تشدد برداشت کیا ہے۔ ایسی بے گناہ بیٹی کو قیدناحق سے رہا کرانا حکمرانوں اور ریاستی حکام کی آئینی ذمہ داری بھی ہے اور دینی فریضہ بھی۔۔۔ مگر انہیں نہ آئینی ذمہ داری کا احساس ہے اور نہ ہی دینی فریضہ ادا کرنے کی فکر۔
ایسے حکمرانوں کے لیے چاہے خانہ کعبہ کے دروازے کھولے جائیں یا روضہ رسول (ﷺ) عوام کو ہرگز مرعوب نہیں ہونا چاہئے۔ عوام جب اپنے حکمرانوں کو ان کی کارکردگی کی بنیاد پر پرکھیں گے اور ووٹ دے کر منتخب کریں گے جب ہی ملک اور قوم کی حالت بدلے گی۔
اب عوام کو سمجھنا ہو گا!
















