ایک گروپ کی پوسٹ کے ذریعے محترم رضا علی عابدی کی علالت کا علم ہوا۔ نظرحسین صاحب نے اطلاع دی کہ وہ اپنے گھر میں گرگئے تھے، جس کی وجہ سے کولہے میں فریکچر ہوگیا ہے۔ انہوں نے عابدی صاحب کی صحت یابی کی دعائوں کی استدعا کی ہے۔ اللہ انہیں جلدازجلد افاقہ دے اور مکمل طور پر صحت یاب کرے۔
رضاعلی عابدی صاحب لمبا عرصہ بی بی سی کے پروگرام ’’سیربین‘‘ سے وابستہ رہے کہ ان کا نام سنتے ہی لفظ سیربین ذہن میں گھوم جاتا ہے۔
اس سے قبل وہ صحافت کے میدان میں رہے۔اس زمانے کے روزنامہ ’’حریّت‘‘ کے نیوز ایڈیٹر تھے۔پھر بی بی سی کوچ کرگئے اور اب تک کی زندگی وہیں بسر کر رہے ہیں۔اس اثنا میں بار بار پاکستان آتے رہے۔کبھی کسی تحقیقاتی مشن پر اور ریٹائرمنٹ کے بعد ذاتی دورہ پر۔
عابدی صاحب بنیادی طور پر صحافی تھے۔ برسوں بی بی سی میں صحافتی ذمہ داریاں انجام دیں۔ پھر اپنے رشتہ قلم و قرطاس سے جوڑا۔کئی معرکۃ آرا کتابیں تحریر کیں۔
ان کی کتاب ’’شیردریا‘‘کے فلیپ سے پتا چلا کہ عابدی صاحب یوپی کے چھوٹے سے شہر’’رڑکی‘‘ میں پیدا ہوئے۔یہ 1936ء کی بات ہے۔1950ء میں کراچی چلے گئے۔تعلیم وہیں مکمل کی،اس دوران بچوں کی کہانیاں لکھیں۔1957ء میں روزنامہ جنگ سے وابستہ ہوئے اور15سال صحافت میں گزارے۔
اسی کتاب، شیر دریا کے فلیپ پر الطاف گوہر کا تبصرہ جرنیلی سڑک پر یوں ہے’’رضا علی عابدی نے کیا کتاب لکھی ہے۔ہر صفحے پر جیسے شگوفے کھل رہے ہوں، مزاح کے، لطیف نکتوں کے اور جذب میں ڈوبے ہوئے مشاہدات کے۔کیسی سادہ زبان میں کتنی گہری باتیں کہہ گئے ہیں۔کتاب پڑھ کرمصنف کے ایک تاریخی شاہراہ سے جذباتی لگائو کا اندازہ بھی ہوا اور یوں لگا جیسے پشاورسے کلکتے تک تمام راستے زندگی بھر یادیں بھورے بادلوں کی طرح ساتھ چلی آرہی ہیں۔
شان الحق حقی فرماتے ہیں’’آپ کا عزیز تحفہ اور عظیم کارنامہ ’’جرنیلی سڑک‘‘ملا۔نہایت ممنون ہوں۔دل خوش ہوگیا۔یاد نہیں کہ حال میں بلکہ مدت سے کوئی کتاب اتنے شوق سے،اتنا لطف لے کر پڑھی ہو۔اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ پایا۔ کہ واقعی آپ کے ساتھ ساتھ جرنیلی سڑک کی سیر ہوگئی‘‘۔
ان کے دامن میں کئی کتابیں ہیں۔ ہر کتاب بڑی تحقیق کے بعد تحریر کی ہے۔ آج کل بیشتر مصنفین سفرنامہ اپنے کمرے میں اس شہر کا نقشہ آویزاں کر کے لکھ دیتے ہیں۔ ہاں! اس میں حسینوں کا ذکر کرنا نہیں بھولتے۔
عابدی صاحب اس کے برعکس خود سفر کر کے،ایک ایک بات اپنے مشاہدے کی بنیاد پر لکھتے ہیں کسی مبالغے کے بغیر۔اکثر یہ انگریزی کا سفر ثابت ہوا لیکن ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ ان کی چند کتابوں کا ذکر کرتے ہیں جو اس عاجز کے مطالعے میں آئیں۔
ان کی ایک کتاب ہے ’’نغمہ گر‘‘۔ اس میں انہوں نے فلموں اور اس کے لیے گانوں کی تفصیل بیان کی ہے۔ کس طرح نغمات فلموں میں شامل کیے گئے اور کس طرح سے پسِ پردہ موسیقی فلموں میں شامل ہوئی۔
انہوں نے ایک واقعہ کا ذکر کیا ہے۔ تقسیم سے پہلے فلم ’زینت‘ کے نغمات کے لیے جوش ملیح آبادی کا انتخاب کیا گیا۔ جوش صاحب نے ایک فحش نغمہ تحریر کیا۔
عابدی صاحب کے بقول گانے کے دیگر مصرعے اور اشعار اتنے بے ہودہ تھے کہ اس دور کی مشہور مغنیہ شمشاد بیگم نے گانے سے انکار کردیا۔ اس کے بعد اسے زہرہ انبالے والی کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے دامن میں اس طرح کے گائے ہوئے کئی نغمات تھے۔
شاہد احمد دہلوی کی جب جوش صاحب سے چپقلش ہوئی توانہوں نے اپنے رسالے’’ساقی‘‘کا جوش نمبر نکالا۔ تقریباً پانچ سو صفحات پر مشتمل تھا۔ پورے برِّ صغیر کے ادیبوں، شاعروں کے مضامین جو جوش صاحب کی خلاف بلکہ تضحیک میں تھے شامل کئے۔ اسی شمارے میں اس نغمے کو پورا شائع کردیا، جب کہ عابدی صاحب نے صرف مکھڑا لکھا تھا۔
ایک موقع پر اس عاجز کا ان سے آرٹس کونسل میں سامنا ہوا۔ ہم نے پوچھا’’کیا وہ پورا گانا آپ تک نہیں پہنچا، جس کی وجہ سے آپ نے گانا شامل نہیں کیا‘‘؟اپنی معلومات کا رعب جھاڑتے ہوئے کہا’’شاہد احمد دہلوی نے جوش نمبر میں پورا گانا شائع کیا ہے‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ان کے ذہن میں ہے (انہوں نے اس موقع پر چند مصرعے بھی دہرائے، ظاہر ہے وہ سب فحاشی کا نمونہ تھے)۔ان کا مزید کہنا تھا’’فحاشی پھیلانا ان کا مقصد نہیں رہا‘‘۔
ان کی تحریر کردہ کتاب ’’شیر دریا‘‘ہے، جو دریائے سندھ کی پوری تاریخ ہے۔ کشمیر کے جس مقام سے شروع ہوتا ہے اور جہاں بحیرۂ عرب میں مل جاتا ہے۔اس کی ایک ایک تفصیل خود بیان کی ہے۔ وہ اس دریا کے ساتھ ساتھ سفرکرتے رہے۔
ان کی تحریرکے مطابق جہاں یہ سمندر سے ملتا ہے وہاں عرب شیخ کا محل ہے۔ اس محل کے ملازمین سے کچھ معلومات حاصل کی ۔بی بی سی پر وہ تفصیل، ملازمین کے حوالے سے نشر ہونے پر ان ملازمین کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا، انہوں نے اس پر بہت افسوس کا اظہار کیا۔
ان کی ایک کتاب’ ریل کہانی‘ ہے، یہ کتاب انگریزوں کے دور میں اس کی ابتدا بیان کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریل کی پٹریاں بچھانے کا کام کوئٹہ سے شروع ہوا۔ ان کی اطلاع کے مطابق اس منصوبے کے انجینئر مرزا محمد ہادی رسوا تھے( ناول ’امرائوجان ادا‘کے مصنف)۔
’’جب ریلوے لائنیں بچھائی جارہی تھی،مرزاصاحب کی ملازمت کوئٹہ میں تھی۔وہ روڑ کی انجینئرنگ کالج سے سند لے کرآئے تھے اوراس ریلوے لائن کے سروے میں شریک تھے‘‘
ایک دلچسپ جملہ انہوں نے تحریر کیا ہے۔ ان سے کسی نے پوچھا’’اگر ہادی رسوا نہ ہوتے تو ایک شریف زادی کوٹھے تک اورہندوستان کے میدانوں کی ریل گاڑی کوئٹہ تک نہ جاتی‘‘۔
ریل کہانی کک پشت پر ان کی اس وقت کی شائع ہونے والی کتابوں کی تفصیل دی گئی ہے جس کے مطابق:
شہردریا: (دریائے سندھ کے کنارے کنارے ایک دلچسپ سفر)۔
جرنیلی سڑک …(پشاورسے کلکتہ تک جی ٹی روڈ پرسفر)ایک تاریخی شاہراہ کے بدلتے مناظر
کتب خانہ…(برِّ صغیر میں قدیم کتابیں کہاں کہاں اور کس حال میں ہیں)
جہازی بھائی…(ماریشس کا سفرنامہ)
اپنی آواز…(افسانوں کا مجموعہ)
ریل کہانی…(کوئٹہ سے کلکتہ تک ریل کہانی کا سفر)
بچوں کے لیے
مُن مُن…(جانوروں کی کہانیاں)
چمپا…(جانوروں کی کہانیاں)
پہلاتارا…(اردو سکھانے کی پہلی کتاب)
پہلی کرن…(اردوسکھانے کی دوسری کتاب)
میری امّی…(ماں کی محبت کے واقعات)
پیاری ماں…(ماں کے بارے میں بچوں کتابیں)
الٹا گھوڑا…(محمد حسین آزاد کی قدیم تحریریں از سرنو لکھی گئیں)
ظالم بھیڑیا…ڈپٹی نذیراحمد کی حکایات ہم ایک صدی بعد دہرا رہے ہیں)
ایک کا نام ہے ’’جرنیلی سڑک ‘‘۔شیرشاہ سوری کی تعمیر کردہ سڑک بنگال سے شروع ہو کرخیبر پختون خواہ(سابق صوبہ سرحد) تک جاتی ہے۔
عابدی صاحب نے اس پر ابتدا سے آخر تک سفرکیا اور ایک ایک تفصیل لکھی ہے۔کتاب کی ابتدا میں لکھتے ہیں’’کلکتے سے جرنیلی سڑک کا اپنا پندرہ سو میل کا سفر شروع کرنے کے لیے میں پشاورپہنچا‘‘۔
ایک تنازعہ اس سڑک کے شروع اور ختم ہونے کا ہے۔کلکتہ کے لوگوں کے خیال میں یہ کلکتہ سے شروع ہو کر پشاور تک جاتی ہے،جب کہ پشاور والوں کا کہنا ہے کہ یہ پشاور سے شروع ہوکر کلکتہ جاتی ہے۔عابدی صاحب نے ایک صاحب سے پوچھا’’کیوں صاحب ! کیا جی ٹی روڈ پشاور سے شروع ہوکر کلکتے تک جاتی ہے‘‘۔انہوں نے حیرت سے مجھے دیکھا اور بولے:’’ختم نہیں ہوتی۔جی ٹی روڈ یہاں سے شروع ہو کر پشاورتک جاتی ہے‘‘۔
عابدی صاحب نے حسرت موہانی کے شہر، کان پور کا دورہ بھی کیا۔وہاں ان کی ملاقات چیری ٹیبل ہسپتال کی سوسائٹی کی صدر محمودہ اشرف سے ہوئی۔ شہر میں ہر ایک نے بتایا کہ وہ خدا کبھی کبھی کسی کے دل میں بڑی نیکی ڈال دیتا ہے،ویسی ہی ایک شخصیت محمودہ اشرف صاحبہ کی ہے۔ محمودہ اشرف صاحبہ ہسپتال کے علاوہ وہاں کے مسلم یتیم خانہ جو یوپی کا سب سے بڑا یتیم خانہ ہے اس کی صدر تھیں۔اس کے علاوہ وہ ایک مسلم جوبلی گرلز کالج کی منیجر تھیں۔
محمودہ اشرف صاحبہ کی باتوں سے پتا چلا کہ کانپور کے چمڑے کے تاجر اپنی ایک سو برس کی روایت کے مطابق آج بھی غریبوں کو اٹھا کر اونچا مقام دلانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔
ان کی ایک اہم کتاب ’’جانے پہچانے‘‘ ہے جس میں انہوں نے ادیبوں،شاعروں، دانشوروں کے خاکے لکھے ہیں۔ایک مضمون مولانا ابوالاعلیٰ مودودی پربھی ہے۔مولانامودودی کی ایک تحریر کا حوالہ دیا ہے جوکہ ابھی چند دنوں قبل گزرنے والی ’’شبِ برات‘‘ کے متعلق ہے۔ ’ایک اداریے میں انہوں نے شبِ برأت کے موقع پرآتش بازی چلانے کی سخت مخالفت کی ہے اور اسے بے ہودگی اور فضول خرچی قراردیا‘
ایک جملہ ہے’’مولانا مودودی قرآن کی ایسی تفسیرلکھتے ہیں اور سلیس زبان میں ترجمہ کرتے ہیں کہ عقیدت کی جبیں جھک جھک جاتی ہے‘‘
ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے اپنی ایک پرانی امنگ کو حقیقت میں بدلا اور بچوں لیے ایک درجن سے زیادہ کتابیں لکھیں جن میں انقلابی نوعیت کے اردو قاعدے شامل ہیں ۔حال ہی میں عابدی صاحب نے تاریخ نویسی کو مقبول رنگ دینے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔انہوں نے’’ ملکہ وکٹوریہ اورمنشی عبدالکریم ‘‘کے عنوان سے کتاب مکمل کی ہے اور اب سردھنہ کی بیگم سمرہ عرف زیب النسا بیگم کی تلاش میں نکلے ہیں‘‘۔
کتاب ’جانے پہچانے ‘مرتب کرنے والی سیّدہ تحسین فاطمہ اسی میں لکھتی ہیں:’’اردو کے زعما اور اکابرین کے اعزاز میں ایسی ایسی محفلیں سجیں کہ دنیا کے دوسرے خطّوں میں لندن کو رشک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ان میں بیشتر جلسوں میں رضاعلی عابدی نے اپنے مقالے پڑھے جنہیں ہر ایک نے سراہا۔لیکن ادبی جلسوں،مباحثوں اور مذاکروں میں پڑھے گئے وہ مقالے محض ان محفلوں کے حاضرین تک محدود رہے اور برطانیہ بلکہ ان جلسہ گاہوں سے باہر بھی نہ نکل سکے۔ مگر ان کے دوستوں اورمدّاحوں کا مسلسل اصرار تھا کہ ان مقالوں کو ایک کتاب کی شکل میں محفوظ کیاجائے‘‘۔
عابدی صاحب پرہم نے اپنی اور ان کی ان کتابوں سے حاصل شدہ معلومات سے جو کچھ اخذ کیا وہ تحریرکی ہیں۔وہ یقیناً بہت طویل مضمون کے حقدار ہیں۔لیکن سنی سنائی باتوں اور کسی حوالے کے بغیر لکھنا ہماری روایت نہیں ہے اور نہ ہی شہر کا نقشہ سامنے لٹکا کر سفرنامہ تحریر کرنا ہمارا شعارہے،اس لیے اس مختصر مضمون پر اکتفا کرتے ہیں۔
عہد ساز رضاعلی عابدی
















