Advertisement

کہاں میں کہاں مدح ذات گرامی صلی اللہ علیہ وسلم

مولانا عبدالرحمن باوا

اگر کسی ہیرے کو بادشاہ کے تاج میں لگا دیا جائے تو وہ بے حد قیمتی ہو جائے گا ۔ریت کا کوئی ذرہ خوبصورت عمارت میں کام آجائے تو دیکھنے والے اس عمارت کی تعریف کریں گے ۔اگر اپ کا قلم اپ کے الفاظ کچھ اچھا لکھنے اور کہنے کے قابل ہو جائیں تو اپ بڑے نام ور شاعر اور مصنف بن جاتے ہیں ۔ ہم صبح اور شام پنچ وقتہ نمازوں میں ایک دعا مانگتے ہیں اللہ ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جن پر تو نے اپنا انعام نازل کیا نہ کہ ان لوگوں میں جو لوگ گمراہ ہوئے ۔ اب اگر ان ساری باتوں کا جوڑ عنوان سے جوڑوں تو عنوان ہی اتنا پیارا اور محبوب کہ اللہ رب کریم کے محبوب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے جن پر ہماری جان مال عزت سب قربان ۔۔۔۔۔۔لیکن کیا یہ محبت صرف لفاظی یا عملی بھی ؟ایک شخص جو ایک ایسے فتنے کے مد مقابل کھڑا ہوتا ہے کہ بظاہر تو اس فتنے کا مقابلہ کرنا نہ ہی اتنا اسان اور ممکن نظر اتا ہے کہ جس سے وہ دبلا پتلا شخص اتنی تندہی سے لڑتا رہے اور اپنے عظم و استقلال کو اس قدر جوان رکھے کہ بڑھاپے کی نقابت بھی اس کے عذم کو نہ توڑ سکے۔یہ کوئی عام فتنہ نہ تھا اس کی جڑیں تو دنیا میں پھیلی ہوئی تھی مسیلمہ کذاب اور کتنے لعنتی اس ہستی کے مقابلے پر کھڑے ہو نے کی کوششیں کرتے رہے جو سرور کائنات ہیں وجہ وجود تخلیق کائنات ہیں رحمت اللعالمین ہے ہمارے پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کہ جن کے وجود اور ذکر کی ٹھنڈک سے ہمارے لئے رحمت ہی رحمت ہے۔

جب امام اہل سنت نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضرت مفتی احمد الرحمن رحمۃ اللہ علیہ کی نگاہ انتخاب نے حضرت مولانا عبدالرحمن باوا رحمۃ اللہ علیہ کو چنا تو پھر وہ سپہ سالار بن گئے ۔سنت صحابہ نبھائی۔ قادیانیوں سے اڑ بیٹھے اور گھمسان کی جنگ بظاہر تلواروں سے تو نہ تھی مگر اپنی جان ،سوچ مال، علم ، حکمت، تدبر تمام عمر، جوانی ،بزرگی اور اپنا قلم کہ جس قلم کا جہاد افضل بیان کر دیا گیا ۔اور جس قلم کی حرمت قران میں بیان کر دی گئی اس کے ذریعے مولانا صاحب دعوت و تبلیغ کا کام کرتے رہے۔ کئی ممالک کا دورہ کیا ۔جب مرزا کی جھوٹی قوم نے لندن میں بسیرا کیا تو اپ نے یہاں سے ہجرت کی ۔لندن گئے ،برما گۓ ،خط کتابت کرتے قادیانی لٹریچر پڑھتے اور اس کا منہ توڑ جواب دیتے کئی قانونی مراحل سے گزرنا پڑتا ہوگا ۔یہ اس سپہ سالار کی ہمت اور مجاہدہ تھا اور آپ کے بعد اپ کی جانشینی میں حضرت مولانا سہیل باوا صاحب نے اپ کے مشن کو رواں دواں رکھا پوری دنیا میں آپ کے شاگرد موجود ہیں ۔میری خوش نصیبی کہ میرا جوڑ اس قلم کی بدولت ختم نبوت اکیڈمی لندن سے ہوگیا۔یہ کوئی معمولی رابطہ نہ تھا یہ میرے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے تعلق کی مزید مضبوطی کی گواہی تھا اس سپہ سالار کی قیادت میں معمولی سپاہی بننے کا شرف تھا، روز قیامت کچھ اسباب لے جانے کا سبب تھا، انعام و اکرام کی انتہا تھی، ایک قلم کار ہونے کا حق ادا کرنے کی کوئی سہولت تھی_ روحانیت کی دنیا میں اگے بڑھنے کا ایک راستہ تھا ۔یقینا اللہ کا خاص کرم تھا وہ دن میں نہیں بھول سکتی جب مولانا عبدالرحمن باوا صاحب کی اہلیہ اور مولانا یوسف لدھیانوی کے اہل خانہ کے ساتھ مجھے اکرام ملا۔اس کے بعد جب میں دیکھتی کے قافلے حضرت مولانا سہیل باوا کے ساتھ گاہے گاہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راستوں سے گزرتے ہیں تو معلوم تھا کہ یہ ممکن نہ ہوگا لیکن ایک دعا مانگتی کہ کاش ہمیں بھی حضرت مولانا سہیل باوا صاحب کی قیادت میں یہ سفر کبھی نصیب ہو ۔بس پھر کیا تھا دعا اپنے طریقے سے قبول ہوئی پچھلے برس جب عمرے کے لیے جانا ہوا تو معلوم ہوا مولانا صاحب بھی اپنی اہلیہ اور لندن کے قافلے کے ساتھ وہاں موجود ہیں پھر اپنے بیٹے کے ساتھ مولانا صاحب کی قیادت میں مدینے کی گلیوں میں گھومے بھی اور ان کی دی گئی معلومات سے فیض یاب بھی ہوئے ۔حضرت مولانا عبدالرحمن باوا صاحب کی اہلیہ سے اکثر بات چیت ہوتی وہ عبدالرحمن باوا صاحب کی تمام خدمات کو اپ کی جدوجہد کو بے پناہ سراہتی ۔ پھر کئی سال پہلے مولانا عبدالرحمن باوا صاحب نے رنگون سے ایک رسالہ شائع کیا تھا ردقادیانت کے حوالے سے اس کی دوبارہ اشاعت میں انہوں نے میرے الفاظ اپنے اس رسالے میں شامل کیے میرے لئے خوش نصیبی پھر سے بہت بڑی تھی۔

محافظ ختم نبوت مولانا عبد الرحمن باوا کی خدمات)*
فرح مصباح
“”تحفظ ختم نبوت کے سپاہی عبد الرحمن باوا
نبی کے محافظ دستے کے سپاہی عبدالرحمن باوا
بسر کی زندگی ساری عشق رسول میں
اعلیٰ آپ نے قسمت پائی عبدالرحمن باوا
نبی کے محافظ دستے کے سپاہی عبدالرحمن باوا
قرب نبی سے عزت پائی عبدالرحمن باوا

ہجرت کی آپ نے غلامی رسول میں
دعوت حق پھیلائی عبدالرحمن باوا

نبی کے محافظ دستے کے سپاہی عبدالرحمن باوا
دین اسلام کے داعی عبد الرحمن باوا
مسلماں ہوئے بہت آپ کے فیض سے
کتنی بھلائی پھیلائی عبدالرحمن باوا
نبی کے محافظ دستے کے سپاہی عبدالرحمن باوا
عشق رسول کی لاج نبھائی عبد الرحمن باوا

ظلمت کی تاریکی میں جو ڈوبے ہوئے تھے
ان چراغوں میں شمع جلائی عبدالرحمن باوا
تحفظ ختم نبوت کے سپاہی عبدالرحمن باوا
شہر نبی سے برکت پائی عبد الرحمن باوا

رب کی خاص عنایت ہوئی آپ پر
پائی حکمت و دانائی عبد الرحمن باوا.””

اللہ رب کریم سے دعا ہے کہ حضرت مولانا عبدالرحمن باوا صاحب کے بیٹے محترم مولانا سہیل باوا صاحب، محترم زبیر عبدالرحمن باوا، محترم عثمان عبدالرحمن باوا اور ان کے اہل خانہ اس مشن کو اسی طرح اگے بڑھائیں اور اللہ ان سب کی خدمات کو مقبول فرمائے ۔دنیا بھر سے میں اور میری طرح اور کئ شاگرد اپ کے اس مشن میں اپ کے ساتھ ہیں ۔اللہ تعالی فتنہ قادیانیت کو جڑ سے ختم کرے اور ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے محافظ ختم نبوت کے سپاہیوں میں قبول فرمائے۔ امین ،

error: