Advertisement

مئی ایک اور خوش خبری کا منتظر

مئی کا مہینہ پاکستان کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے ،اب سےاٹھائیس برس قبل اسی مہینے کی اٹھائیس تاریخ کو پاکستان نے بلوچستان میں چاغی کے مقام پر ایک ساتھ پانچ ایٹمی دھماکے کرکے بھارت کے منہ پر تمانچہ مارا، عالم اسلام میں سر فخر سے بلند کردیا اور ساتھ ہی دنیا بھر میں اپنے دشمنوں کے دلوں پر دھاک بٹھادی۔
آج پاکستان کا ازلی دشمن بھارت بھی پاکستان کی جانب بری نظر ڈالنے کی ہمت نہیں کرسکتا ،، اور اسی مہینے میں گزشتہ برس معرکہ حق اور آپریشن بنیان مرصوص نے اب بھارتی قیادت کو سر اٹھانےکے قابل بھی نہیں چھوڑا،اسی مہینے میں یکم مئی کو یوم مزدور بھی منایا جاتا ہے۔اور اس مہینے میں اس مرتبہ حج اور عید قرباں بھی آرہی ہے،گویا مئی کا مہینہ اچھی اچھی چیزوں اور خبروں کا مہینہ ہے گزشتہ ماہ اپریل سے پاکستان تیسری عالمی جنگ رکوانے میں مصروف ہے،اور امریکا چین،اور یورپ کی نظریں بھی پاکستان پر ہیں اور عرب دنیا اورایران بھی پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں، کسی بھی دن یہ خوش خبری مل سکتی ہے کہ پاکستان نےایران امریکا مذاکرات کامیاب کروادئیے اور امن معاہدے پر دستخط ہوگئے۔
یہ ساری خوشیاں ایک جانب،لیکن اگر ہمارے فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم اس قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا کارنامہ کر دکھائیں تو بہت بری خوشی قوم کو ملے گی ، آجکل جتنے بڑے بڑے کام موجودہ پاکستانی قیادت کررہی ہے ان کے سامنے عافیہ صدیقی کی وطن واپسی کوئی کام ہی نہیں ، مذاکرات کے اگلے دور کے آغاز سے قبل ہماری قیادت صرف اتنا کہہ دے کہ عافیہ کی سزا معاف کرکےاسے رہا کردیں اس کے بعد مذاکرات کرتے ہیں ،تو ہمیں یقین ہے کہ عافیہ کی رہائی اور وطن واپسی چند گھنٹوں میں ممکن ہوجائے گی۔ جس تیز رفتاری سے جے ڈی وینس پاکستان اتے ہیں، عافیہ اس بھی تیزی کے ساتھ پاکستان آسکتی ہے۔
پاکستانی قیادت سے دست بستہ درخواست ہے کہ قوم کو مئی کے مہینے میں ایک اور خوش خبری دیدے، اس کے بعد انہیں کسی رسمی نوبل انعام کی ضرورت نہیں ہوگی، وہ قوم کی آنکھوں کاتارا بن جائیں گے ، بس چند جملے ہی کہنے ہیں،کوئی بھی لمحے بھر کو تصور کرلےکہ عافیہ کی جگہ اس کی بہن ،بیٹی ہوتی تو وہ کیا کرتا، فیلڈ مارشل صاحب، وزیر اعظم صاحب اور صدر صاحب آپ یہ کہیں یا نہ کہیں لیکن عافیہ آپ کی ذمہ داری ہے ،آپ ہی کو ادا کرنی ہے۔ یاد رہے کہ عافیہ کے خلاف وہ مقدمہ بھی ثابت نہیں ہوسکا جو اس کے خلاف بیان کیا جاتا ہے، اس پر ان 23 برسوں میں جو مظالم ہوئے ہیں ان کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا،کوئی بھی یہ تصور نہیں کرسکتا کہ اس کی ماں ،بہن یا بیٹی ناکردہ گناہ پر 23 عیدیں 23 بقرعیدیں قید ناحق میں گزارے۔
اتنے یوم ازادی قید میں گزرے، عزت بار بار تار تار کی جائے، مہذب دنیا کے سرخیل ملک میں عورت پر مظالم کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ خود امریکی دانشور بول پڑا کہ انفرادی زیادتی کا اس سے بڑاشکار کوئی نہیں ہے۔ لیکن یہ بات سمجھ سے بالا ہے کہ امریکی دانشور تو عافیہ کو انفرادی زیادتی کا کیس قرار دیتاہے، امریکی وکیل کلائیو اسمتھ اس کی رہائی کی جان توڑ جدوجہد کررہا ہے اور پاکستانی حکومتی ایوانوں میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عافیہ کی رہائی کا راستہ ہی روکنے کی کوشش کی جارہی ہے، ارے ان امریکیوں ہی سے کچھ سیکھ لیں، ایک دنیا حقائق سے باخبر ہے، کچھ پتا چلنے کا خوف دل سے نکال دیں، سب سے پہلے تو حکومت عافیہ کا شناختی کارڈ بنائے، پاسپورٹ جاری کرے اس کے بعد اسے اپنے ملک کے آئے ۔

error: