Advertisement

اسلامی اقدار، مولانا مودودیؒ اور بدلتا ہوا معاشرہ

آج جب میں اپنے کالموں میں بار بار مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کا حوالہ دیتا ہوں تو بعض لوگوں کے ذہن میں فوراً یہ خیال آتا ہے کہ شاید میں کسی مخصوص جماعت کی نمائندگی کر رہا ہوں۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ مولانا مودودیؒ کسی ایک جماعت، تنظیم یا سیاسی گروہ کی جاگیر نہیں بلکہ وہ ہر اُس مسلمان کے علمی رہنما ہیں جو قرآن کو سمجھنا چاہتا ہے، جو دین کو شعور کے ساتھ اپنانا چاہتا ہے اور جس نے تفہیم القرآن کے ذریعے اسلام کی اصل روح کو جاننے کی کوشش کی۔
یہ افسوسناک رویہ بن چکا ہے کہ ہم ہر علمی شخصیت کو کسی نہ کسی سیاسی خانے میں بند کر دیتے ہیں۔ علامہ محمد اقبالؒ کسی ایک جماعت کے نہیں تھے، چودری رحمت علی صرف کسی مخصوص سوچ کے نمائندہ نہیں تھے، قائداعظم محمد علی جناح صرف ایک سیاسی پارٹی کے لیڈر نہیں تھے، اسی طرح مولانا مودودیؒ بھی پوری امتِ مسلمہ کا فکری سرمایہ ہیں۔ اگر کوئی شخص ان کا حوالہ دیتا ہے تو اس کا مقصد علم، شعور اور دینی فکر کی بات کرنا ہوتا ہے، نہ کہ کسی جماعت کی تشہیر۔
علامہ محمد اقبالؒ ایک ملی شاعر تھے۔ انہوں نے صرف شاعری نہیں کی بلکہ سوئی ہوئی امتِ مسلمہ کو جگانے کا کام کیا۔ ان کے اشعار نے غلام ذہنوں میں خودی، غیرت اور اسلامی تشخص کی آگ روشن کی۔ اقبالؒ مسلمانوں کو یہ احساس دلانا چاہتے تھے کہ وہ صرف ایک قوم نہیں بلکہ ایک نظریہ ہیں۔ ان کا درد صرف برصغیر تک محدود نہیں تھا بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے تھا۔ اسی لیے ان کے کلام میں فلسطین بھی ملتا ہے، ترکی بھی، افغانستان بھی اور اندلس کا درد بھی۔
چودھری رحمت علی نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا تصور پیش کیا۔ انہوں نے 1915 کے آس پاس دو قومی نظریے کے تصور کو واضح انداز میں اجاگر کیا اور بعد میں “پاکستان” کا نام دے کر مسلمانوں کے الگ تشخص کو ایک نئی سمت دی۔ ان کا یہ نظریہ صرف زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں تھا بلکہ مسلمانوں کے دین، تہذیب، ثقافت اور اسلامی شناخت کے تحفظ کے لیے تھا۔ بعد میں قائداعظم محمد علی جناح نے اس خواب کو سیاسی جدوجہد کے ذریعے حقیقت بنایا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان صرف اس لیے بنایا گیا تھا کہ یہاں مغربی تہذیب کی نقل ہو؟ کیا اس لیے لاکھوں لوگوں نے قربانیاں دی تھیں کہ یہاں قرآن کے واضح احکامات پر سوال اٹھائے جائیں؟ ہرگز نہیں۔ پاکستان کا قیام ایک نظریے کی بنیاد پر ہوا تھا، اور وہ نظریہ اسلام تھا۔
مولانا مودودیؒ نے اسی حقیقت کو اجاگر کیا کہ اگر مسلمانوں کے پاس اسلامی ریاست تو ہو مگر اس میں اسلامی نظام نہ ہو تو پھر صرف جغرافیہ قوموں کو عظمت نہیں دیتا۔ انہوں نے مسلمانوں کو سمجھایا کہ اسلام مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تفہیم القرآن آج بھی لاکھوں گھروں میں پڑھی جاتی ہے۔ تحریک انصاف کا کارکن بھی اسے پڑھتا ہے، مسلم لیگ نون والا بھی، پیپلز پارٹی کا جیالا بھی اور عام نوجوان بھی۔ اس لیے یہ کہنا کہ مولانا مودودیؒ صرف جماعت اسلامی کے ہیں، بہت چھوٹی سوچ ہے۔
آج ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے دین کو اپنی خواہشات کے تابع کرنا شروع کر دیا ہے۔ پہلے لوگ اپنی زندگی اسلام کے مطابق ڈھالتے تھے، اب اسلام کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مغربی تہذیب کی چمک دمک، سوشل میڈیا کی یلغار اور آزادی کے خوشنما نعروں نے نوجوان نسل کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ وہ قرآن کے واضح احکامات پر بھی سوال اٹھانے لگے ہیں۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور مشرک مردوں سے اپنی عورتوں کا نکاح نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔”
اسی طرح فرمایا گیا:
“پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں۔”
یہ آیات صرف مذہبی رسم نہیں بلکہ اسلامی معاشرے کی بنیاد ہیں۔ اسلام خاندانی نظام کو ایمان کے ستون پر قائم دیکھنا چاہتا ہے تاکہ نسلیں عقیدے کے تحفظ کے ساتھ پروان چڑھیں۔ مگر آج بعض لوگ “پرسنل چوائس” کے نام پر دین کے واضح احکامات کو بھی بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔
میں حیران ہوتا ہوں کہ ایک مسلمان معاشرے میں یہ سوال کیسے پیدا ہو گیا کہ مسلمان عورت غیر مسلم سے شادی کر سکتی ہے یا نہیں؟ قرآن تو اس بارے میں بالکل واضح ہے۔ اگر کوئی غیر مسلم اسلام قبول کر لے، کلمہ پڑھ لے اور ایمان لے آئے تو اسلام اسے خوش آمدید کہتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص اسلام قبول کیے بغیر صرف خواہش کی بنیاد پر اسلامی حدود کو توڑنا چاہے تو یہ صرف ایک فرد کا معاملہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے فکری بحران کی علامت بن جاتا ہے۔
مولانا مودودیؒ نے برسوں پہلے خبردار کیا تھا کہ مغربی تہذیب صرف لباس تبدیل نہیں کرتی بلکہ آہستہ آہستہ سوچ، عقیدہ، خاندانی نظام اور معاشرتی اقدار کو بھی بدل دیتی ہے۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ پہلے بین المذاہب شادیوں کو “روشن خیالی” کہا گیا، پھر ہم جنس پرستی کو “انسانی حقوق” قرار دیا گیا، پھر گَے میرج کو قانونی تحفظ دیا گیا۔ اب مغرب میں لوگ اپنی جنس اور شناخت تک بدلنے لگے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ مسلمان نوجوان بھی ان نظریات سے متاثر ہو رہے ہیں۔
قرآنِ مجید نے قومِ لوط کا واقعہ بیان کر کے واضح کر دیا کہ فطرت کے خلاف اعمال اللہ کے غضب کو دعوت دیتے ہیں۔ مگر آج دنیا اس کو ترقی کا نام دے رہی ہے۔
جو چیزیں کبھی شرم سمجھی جاتی تھیں، آج انہیں آزادی کہا جا رہا ہے۔ میڈیا، فلمیں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم نوجوان نسل کی سوچ کو اس تیزی سے بدل رہے ہیں کہ والدین کو خبر تک نہیں ہوتی کہ ان کے بچوں کے ذہنوں میں کیا داخل کیا جا رہا ہے۔
افسوس اس بات کا بھی ہے کہ بعض لوگ دنیاوی فائدوں کے لیے اپنا عقیدہ تک بدل لیتے ہیں۔ یورپ یا دوسرے ممالک میں سیاسی پناہ اور نیشنلٹی حاصل کرنے کے لیے بعض لوگ اپنے مذہب تک کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ کوئی قادیانی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، کوئی اسلام سے بیزاری ظاہر کرتا ہے، کوئی محض دنیاوی فائدے کے لیے ایمان کے ساتھ سودا کر لیتا ہے۔ یہ صورتحال انتہائی افسوسناک ہے۔
ایمان دنیا کی کسی شہریت، کسی ویزے یا کسی مالی فائدے سے زیادہ قیمتی ہے۔ مسلمان اگر دنیا حاصل کرنے کے لیے اپنا عقیدہ بیچ دے تو پھر اس کے پاس باقی کیا رہ جاتا ہے؟ یہی وہ خطرہ تھا جس کے بارے میں اکابرینِ امت مسلسل خبردار کرتے رہے۔ علامہ اقبالؒ نے کہا تھا:
“اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ”
اقبالؒ سمجھتے تھے کہ مسلمان کی اصل طاقت اس کا ایمان اور نظریہ ہے۔ اگر وہی کمزور ہو جائے تو پھر مسلمان صرف ہجوم بن کر رہ جاتا ہے۔ چودری رحمت علی نے بھی مسلمانوں کے لیے الگ وطن اسی لیے سوچا تھا کہ مسلمان اپنی تہذیب، اپنے عقیدے اور اپنی شناخت کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ اگر آج اسی پاکستان میں اسلامی اقدار کمزور ہونے لگیں تو پھر ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم اپنے اکابرین کے خواب کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر جماعت اور ہر تحریک کو وقت کے ساتھ تنقید کا سامنا رہتا ہے۔ بعض لوگوں کی رائے یہ ہے کہ مولانا مودودیؒ کے بعد جماعت اسلامی اپنی ابتدائی فکری روح اور انقلابی مزاج کو پوری طرح برقرار نہ رکھ سکی۔ کچھ ناقدین سمجھتے ہیں کہ مختلف ادوار میں جماعت کی قیادت کے بعض سیاسی فیصلوں نے اس کے بارے میں ایسے تاثرات پیدا کیے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھی جانے لگی۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ جماعت اسلامی میں آج بھی بہت سے مخلص، دیانت دار اور نظریاتی لوگ موجود ہیں جو خلوصِ نیت سے دین کی خدمت کر رہے ہیں۔ اس لیے تنقید اگر ہو تو وہ نظریات، پالیسیوں اور سیاسی کردار تک محدود ہونی چاہیے، پوری جماعت یا ہر فرد پر یکساں حکم لگانا مناسب نہیں۔
علمائے دین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان موضوعات پر کھل کر بات کریں۔ مساجد کے خطبات میں نوجوان نسل کے عقیدے، خاندانی نظام اور اسلامی شناخت کے تحفظ پر گفتگو ہونی چاہیے۔ اخبارات کو اداریے لکھنے چاہئیں، ٹی وی اینکرز کو ان مسائل کو سنجیدگی سے اٹھانا چاہیے اور والدین کو اپنی اولاد کی تربیت پر توجہ دینی چاہیے۔
اور ایک بات میں پھر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جب میں مولانا مودودیؒ کا حوالہ دیتا ہوں تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ میں کسی جماعت کی نمائندگی کر رہا ہوں۔ مولانا مودودیؒ ہر اُس مسلمان کے ہیں جو قرآن کو سمجھنا چاہتا ہے۔ ان کی فکر، ان کی تحریریں اور ان کی تفہیم القرآن پوری امت کا سرمایہ ہیں۔
آج وقت کا تقاضا ہے کہ مسلمان اپنے ایمان، اپنی شناخت اور اپنی تہذیب کے تحفظ کے لیے کھڑے ہوں۔ قرآن سے تعلق مضبوط کریں، اپنی اولاد کی دینی تربیت کریں اور ان فتنوں کو پہچانیں جو خوبصورت نعروں کے پردے میں ہماری بنیادیں کمزور کر رہے ہیں۔
کیونکہ قومیں صرف سرحدوں سے زندہ نہیں رہتیں، وہ اپنے نظریات، تہذیب اور عقیدے سے زندہ رہتی۔

error: